مسابقتی چہل قدمی

مسابقتی چہل قدمی یا دوڑ نما چہل قدمی (انگریزی: Race walking) ایتھلیٹکس کا ایک طویل فاصلے کا مقابلہ جاتی کھیل ہے۔ اگرچہ یہ ایک قسم کی دوڑ ہے، تاہم یہ عام دوڑ سے مختلف ہوتی ہے کیونکہ اس میں کھلاڑی کے لیے ضروری ہے کہ ہر وقت کم از کم ایک پاؤں زمین سے رابطے میں دکھائی دے۔ اس اصول کی پابندی کو یقینی بنانے کے لیے مقابلوں میں ریفریوں اور ججوں کی جانب سے شرکاء کا مسلسل مشاہدہ کیا جاتا ہے۔
مسابقتی چہل قدمی کے مقابلے عموماً سڑکوں یا ایتھلیٹکس کے دوڑنے والے ٹریکوں پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ اس کھیل میں مختلف فاصلے رائج ہیں، جن میں 3,000 میٹر (1.9 میل) سے لے کر 100 کلومیٹر (62.1 میل) تک کی دوڑیں شامل ہیں۔ ریس واکنگ میں رفتار کے ساتھ ساتھ مخصوص تکنیک کی پابندی بھی انتہائی اہم ہوتی ہے اور قواعد کی خلاف ورزی کرنے والے کھلاڑیوں کو انتباہ یا نااہلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بر صغیر سے تعلق رکھنے والے افراد کی دل چسپی
[ترمیم]بھارت کی مسابقتی چہل قدمی نے 2025ء میں انسبرک، آسٹریلیا کے مقام پر اس مقابلے کی آسٹریلوی چیمپئن شپ میں شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ پرینکا گوسوامی نے خواتین کی دس کلومیٹر کے مقابلے میں سونے کا تمغا حاصل کیا۔ یہ اس سیزن کی ان کی پہلی جیت درج کی گئی تھی۔دوسری جانب، مردوں کے 35 کلومیٹر زمرے میں سندیپ کمار نے چاندی کا جب کہ رام بابو نے کانسے کا تمغا جیتا۔ جبکہ چیک جمہوریہ کے جارو میر موراویک ( Jaromir-Moravek) نے دو گھنٹے 34 منٹ اور 41 سیکنڈ میں مقابلے کی مسافت کو سب سے پہلے مکمل کرتے ہوئے سونے کا تمغا جیتا۔[1]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "آسٹرین ریس واکنگ چمپئن شپ میں بھارت کی پریانکا گوسوامی نے طلائی تمغا جیتا"۔ آکاش وانی نیوز (News on AIR)۔ Prasar Bharati۔ 10 جون 2025۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-06-24