مستانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مستانی
An artist's impression of Mastani
مستانی سے منسوب پینٹنگ

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1699  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بندیل کھنڈ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 1740ء
شوہر باجیراؤ اول
اولاد شمشیر بہادر اول
والد راجہ چھترسال  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں والد (P22) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ ارستقراطی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

مستانی مراٹھا سلطنت کے پیشوا باجیراؤ اول کی محبوبہ تھی۔ باجی راؤ نے اسے اپنی دوسری بیوی کا درجہ دیا تھا۔ مستانی بہت ہی خوبصورت ہونے کے ساتھ ساتھ گھڑ سوار، تلوار باز، جنگی پالیسیوں سے واقف، مذہبی مطالعہ اور شاعری سے دلچسپی رکھنے والی، رقاصہ اور گلوکارہ تھیں۔

مستانی باجی راؤ اول کی دوسری بیوی تھی۔ وہ مسلمان تھی اور بندیل کھنڈ سے تعلق رکھتی تھی۔ مستانی کو بندیل کھنڈ کے راجہ چھترسال کی بیٹی بھی سمجھا جاتا ہے، جبکہ بعض مورخین اس کو چھترسال کی ریاست کی ایک رقاصہ لکھتے ہیں۔ باجی راؤ اول کو محض 20 سال کی عمر میں مراٹھا سلطنت کا پیشوا مقرر کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس نے کبھی پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا اور آنے والے 20 برسوں میں تقریبا 41 سے زیادہ جنگیں لڑیں اور فتح کا پرچم لیے آگے بڑھتا رہا۔

دسمبر 1728ء میں الہ آباد کے مغل سپہ سالار محمد خان بنگش نے بندیل کھنڈ پر حملہ کیا۔ راجا چھترسال نے مدد مانگنے کے لیے باجی راؤ اول کو ایک خط لکھا۔ خط ملنے کے فورا بعد باجی راؤ اپنی فوج کے ساتھ راجا چھترسال کی مدد کے لیے روانہ ہو گیا۔ بنگش کو جنگ میں شکست ہوئی اور اسے گرفتار کر لیا گیا۔ جنگ میں باجی راؤ کی دی گئی امداد سے چھترسال باجی راؤ کے بہت شکر گزار تھے اور اسے اپنے بیٹے کے طور پر ماننے لگے تھے۔ چھترسال نے اپنی بیٹی مستانی اور باجی راؤ کی شادی کی تجویز بھی باجی راؤ کے سامنے رکھی۔

مستانی سے باجی راؤ کے یہاں ایک بیٹا بھی ہوا۔ مقامی برہمن برادری اور ہندوؤں نے مستانی کے بیٹے کو پوری طرح سے برہمن ماننے سے انکار کر دیا، کیونکہ مستانی مسلمان تھی۔ اس برادری نے باجی راؤ اور مستانی کی شادی کو بھی ماننے سے انکار کر دی۔ باجی راؤ اول کی پہلی بیوی کا نام کاشی بائی تھا۔ باجی راؤ سے شادی کے بعد کاشی بائی مراٹھا سلطنت کی ملکہ بن گئی۔ کچھ وقت بعد کاشی بائی اور مستانی نے اپنے اپنے بیٹوں کو جنم دیا، لیکن کاشی بائی کے بیٹے کی موت کم عمر میں ہو گئی۔ کاشی بائی اپنے بیٹے کے کھونے کا ماتم منا رہی تھی جبکہ مستانی کا دبدبہ بڑھتا جا رہا تھا۔ مؤرخین لکھتے ہیں کہ کاشی بائی کو مستانی کے بیٹے سے حسد تھا۔ باجی راؤ کے خاندان کی مستانی کے ساتھ بدسلوکی کی وجہ سے باجی راؤ نے مستانی کے لیے 1734ء میں كوتھرڈ میں ایک مختلف محل کی تعمیر کرائی۔ یہ مقام آج بھی كروے روڈ پر، مرتین جے مندر کے نزدیک واقع ہے۔[1]

28 اپریل، 1740ء کو باجی راؤ کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے ان کی موت ہو گئی۔ باجی راؤ کے انتقال کے کچھ دنوں بعد مستانی کی بھی موت ہو گئی۔ روایتوں کے مطابق باجی راؤ اول کی موت کی خبر سنتے ہی مستانی نے اپنی انگوٹی میں رکھا زہر پی کر خود کشی کر لی۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. THE MASTANI MYSTERY By MITALI PAREKH, Ahmedabad Mirror, 13 September 2015
  2. Jaswant Lal Mehta (1 جنوری 2005)۔ Advanced Study in the History of Modern India 1707-1813۔ Sterling Publishers Pvt. Ltd۔ صفحہ 125۔ آئی ایس بی این 978-1-932705-54-6۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔