مستنصرباللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مستنصرباللہ
المستنصر باللہ الفاطمي
Calif al Mustansir Misr 1055.jpg
مستنصرباللہ کے دور کا سونے کا سکہ، مصر، 1055 عیسوی۔
سلطنت فاطمیہ کا خلیفہ
معیاد عہدہ 13 جون 1036ء10 جنوری 1094ء
پیشرو علی الظاہر
جانشین المستعلی
نسل المستعلی
الماجد
مکمل نام
کنیت: ابو تمیم
Given name: معد
لقب: المستنصر باللہ
والد علی الظاہر
والدہ ?
پیدائش 5 جولائی 1029
قاہرہ
وفات 10 جنوری 1094
(عمر 64 سال)
مصر
مذہب اہل تشیع

ابوتمیم معد المستنصرباللہ دولت فاطمیہ کا آٹھواں خلیفہ اور اسمعلیہوں کا اٹھارواں امام 427ھ تا 487ھ

مستنصر 724ھ میں نہایت کمسنی میں امام بنا، یعنی سات سال کی عمر میں یہ خلیفہ بن گیا تھا۔ اس کو بنو فاطمین میں یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کی حکومت تمام فاطمین خلیفاؤں سے زیادہ طویل یعنی ساتھ سال چار مہینے تک رہی، اس کے نام کا خطبہ بغداد اور عراق میں ایک سال تک پڑھا گیا البتہ حجاج اور یمن ان کے قبضہ میں بیس سال رہا۔ مستنصر کے عہد میں شام، صقلیہ اور بلاد مغرب سے فاطمی حکومت ختم ہو گئی تھی۔ اسی کے دور میں ناصر خسرو نے مصر کا دورہ کیا تھا۔ اس نے فاطمی دربار کی شان و شوکت اور دولت و ثروت کے چشم دید واقعات لکھے ہیں ۔

ابتداءی عہد[ترمیم]

مستنصر کی کمسنی کی وجہ سے حکومت کی باگ ڈرو اس کے وزیر علی بن احمد جر جرائی کے ہاتھ میں رہی۔ اس نے ہی لوگوں سے ظاہر کی بیعت لی۔ اس کا دور امن اور خوشحالی کا زمانہ تھا۔ 429ھ میں بنو فاطمہ اور قیصر قسطنیطنہ کے درمیان میں صلح ہوجانے سے حلب اور شام کے دوسرے شہر محفوظ ہو گئے ۔

مستنصر کی والدہ کا رسوخ[ترمیم]

436ھ میں جرجرائی کے انتقال کے بعد حسن بن علی بہ معروف ابن الانباری وزیر بنا۔ ظاہر کی والدہ ایک حبشی کنیز تھی۔ جسے ایک یہودی تاجر ابو سعد ابراہیم سے خریدا گیا تھا۔ ابن الانباری کا ابو سعید ابراہیم سے کچھ جھگڑا ہو گیا۔ یہودی تاجر نے مستنصر کی والدہ کے ذریعہ اسے معزل کرادیا اور وزارت ایک یہودی صدقہ بن یوسف فلاحی کو وزارت دلوادی۔ معزولی کے بعد بھی یہودی تاجر ابن الانباری کی تاک میں رہا۔ آخر اپنی سازش میں کامیاب ہوا اور ابن الانباری کو 440ھ میں قتل اور اس کی جائداد ضبط کروا دی گئی ۔

صدقہ ہمیشہ تاجر کے دباؤ میں رہا اور وہ تاجر کے دباؤ سے تنگ آگیا۔ اس نے چند ترکی سپاہیوں کے ذریعہ مزکور تاجر اور اس کے بھائی ابو نصر کو قتل کروا دیا۔ ان دونوں کے انتقام میں مستنْْصرکی والدہ نے صدقہ کو خود اپنے ہاتھ سے قتل کر دیا ۔

صدقہ کے بعد ابو البرکات صفی الدین حسین بن محمد جرجرائی وزیر بنایا گیا۔ اس نے حبشیوں کو بھرتی کیا کہ ترکوں اور حبشیوں میں توازن رہے۔ لیکن یہ معزول ہوا۔ اس کا قائم مقام ابو الفضل قائم بن مسعود وزیر بنا اور تین ماہ کے بعد معطل ہوا ۔

صدقہ کے بعد ابو البرکات صفی الدین حسین بن محمد جرجرائی وزیر بنایا گیا۔ اس نے حبشیوں کو بھرتی کیا کہ ترکوں اور حبشیوں میں توازن رہے۔ لیکن یہ معزول ہوا۔ اس کا قائم مقام ابو الفضل قائم بن مسعود وزیر بنا اور تین ماہ کے بعد معطل ہوا ۔

اس کے بعد 443ھ میں یازوری وزیر مقرر رہا۔ اس کی آٹھ سالہ ( 443ھ تا 450ھ ) وزارت نہایت کامیاب رہی ۔

یاذوری اور بدر الجمالی کے درمیان میں وزیر[ترمیم]

یازوری جو زہر سے 450ھ میں فوت ہوا۔ اس کے بعد کثرت سے وزیر منتخب اور معزول ہوئے۔ بدر الجمالی تک چالیس وزیروں کا تقرر ہوا۔ یہی حال قاضیوں کا ہے، ان کی تعداد بیالیس ہے۔ بعض وزیر اور قاضیوں کا تقرر دو دو تین تین بار تقرر ہوا۔ اس کا سبب خلیفہ کی کمزوری اور دربار فوج کا باہمی اختلاف کا نتیجہ ہے۔ مستنصر معمولی اشخاص کے ہاتھوں پھنس گیا تھا اور وہ اسے تجربہ کار لوگوں سے ملنے نہیں دیتے تھے۔ ناصر خسرو جیسے داعی کو مستنصر سے ملنے کے لیے ڈیرھ سال تک انتظار کرنا پڑا ۔

بزنطین سے کشمکش[ترمیم]

یازوری کے دور میں کسانوں نے غلے کا بھاؤ بہت بڑھا دیا۔ یازوری نے سرکاری گوداموں سے محفوظ غلے کو کم قیمت پر بیچا۔ اس طرز عمل سے محصول گھٹنے سے حکومت کو نقصان ہوا۔ بدقسمتی سے 446ھ میں قحط پڑا۔ مستنصر نے قیصر تھیوڈر سے غلہ مانگا۔ تھیوڈر نے اس شرط لگائی کہ غلہ اس صورت میں دیا جائے گا کہ دشمن کے حملہ کے وقت ہماری مدد کی جائے۔ مستنصر نے یہ شرط تسلیم نہیں کی۔ تھیوڈر نے غلہ روک لیا۔ مستنصر نے روم سے لڑنے کے لیے مکن الدولہ حسن بن ملہم کو لازقیہ روانہ کیا۔ افاقیہ کے قریب چند معرکے ہوئے اور حسن کو رومی کشتیوں نے گرفتار کر لیا۔ مستنصر نے قاضی ابو عبد اللہ قضاعی کو صلح کے لیے قسطنطنیہ بھیجا۔ اسی وقت طغرل بک نے قیصر سے خواہش کی کہ جامع قسطنطنیہ میں عباسی خلیفہ ( قائم بامراللہ ) کا خطبہ پڑھایا جائے۔ رومیوں نے فاطمیوں کے مقابلے میں بنو عباس سے صلح کرنا زیادہ مناسب سمجھا۔ چنانچہ مستنصر نے کینسئہ قمامہ کا پورا خزانہ ضبط کر لیا، جس پر قسطننطیہ سے فاطمیوں کے تعلقات مزید بگڑ گئے اور رومیوں نے شام کے ساحلی شہر جو فاطمیوں کے قبضہ میں تھے ان پر قبضہ کر لیا۔ تھیوڈرا کے غلہ روکنے سے زیادہ نقصان نہیں پہنچا، اگلے سال نیل میں کافی پانی آیا اور قحط دور ہو گیا ۔

ذوال شام[ترمیم]

صالح بن مدراس کا لڑکا نصیر ( شبل الدولہ ) 420ھ میں حلب پر قبضہ کر لیا۔ مستنصر نے انوشگین کو اس کی سرکوبی کے لیے مقرر کیا۔ حماہ کے قریب لڑائی میں شبل الدولہ مارا گیا اور اس کا بھائی مارا گیا شمال ابو علوان ( معز الدولہ ) بھاگ گیا ۔

433ھ سے انوشتگین شام کا والی تھا۔ اس نے عدل و انصاف سے شام کی حالت درست کردی۔ مستنصر بھی اس کی عزت کرتا تھا بازنطینی بھی اس سے ڈرتے۔ جرجرائی کو خبر ملی کہ انوشیگین کا سکریٹری انونشگین کو بنو فاطمہ سے منحرف کرنا چاہتا ہے۔ جرجرائی نے انوشگین کو حکم دیا کہ سکریٹری کو برطرف کر دے۔ انوشگین نے اس حکم کو نہیں مانا۔ جرجرائی نے انوشگین کے ساتھیوں کو اس کی مخالفت پر آمادہ کیا۔ انوشگین کے بعض لشکری تنخواہ نہ ملنے کی وجہ سے اس سے پھر گئے۔ غرض ان تمام لوگوں نے مل کر انوشگین کے محل پر چڑھائی کردی۔ انوشگین اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ مل کر بعلبک اور حماۃ کی طرف نکل گیا۔ مگر وہاں کے والیوں نے اس داخل ہونے نہ دیا۔ اس کے بعد وہ حلب چلا گیا، جہاں اس کا انتقال ہو گیا ۔

انوشگین کی جگہ جرجرائی نے ناصر الدولہ حسین بن حمدان کو اس کی جگہ مقرر کیا۔ مگر شام کی حالت خراب ہوتی گئی اور عربوں نے بغاوت کردی۔ حسان بن مفرج طائی نے فلسطین پر چڑھائی کردی اور معز الدولہ بن صالح کلابی نے حلب پر حملہ کیا۔ مستنصر نے 440ھ میں ایک لشکر حلب روانہ کیا مگر ناکام رہا ۔

معز الدولہ کو بنی کلاب نے بہت تنگ کیا، ناچار ہوکر اس نے 448ھ میں مستنصر سے صلح کرلی اور حلب کی بجائے بیروت، عکہ اور جلیل کی ولایت حاصل کرلی۔ حلب میں حسن بن علی مکین الدولہ کو والی مقرر کیا۔ بنی کلاب نے معز الدولہ کے بھتیجے محمود کو حلب پر حملہ کرنے پر آمادہ کیا۔ مکین الدولہ کو بھاگنا پڑا۔ اس کے بعد حلب پر بنو فاطمہ کا قبضہ نہیں ہو سکا اور شام کے دوسرے شہر آہستہ آہستہ ان کے قبضہ سے نکل گئے ۔

ذوال مغرب[ترمیم]

مغرب کی ولایت کا والی معز بن باولیس تھا۔ وہ خود مختیار تھا اس کے اور وزیر یاوری کے درمیان میں کچھ ناخشگوار مراسلت ہوئی۔ اس پر معز بن باویس 440ھ میں عباسی خلیفہ کے نام کا خطبہ پڑھنے لگا۔ مستنصر نے مصر سے امین الدولہ کو مغرب روانہ کیا۔ اس کے علاوہ بنو ہلال کے عربوں کو بھی بھجا۔ ان کے اور معز بن باولیس کے درمیان میں کئی لڑائیاں ہوئی۔ مگر معز بن باولیس نے مہدیہ میں اپنی خود مختیاری برقرار رکھی۔ 443ھ میں مغرب کے تمام شہر فاطمین کے قبضہ سے نکل گئے ۔

ذوال صقیلہ[ترمیم]

مستنصر کے زمانے میں صقیلہ کے مسلمانوں کی حالت خراب ہو گئی۔ اس وقت مسلمانوں کے دو گروہ ہو گئے، جو آپس میں لڑتے رہتے تھے۔ فرنگیوں نے اس خانہ جنگیوں سے فائدہ اٹھایا اور 453ھ میں صقیلہ پر قبضہ کر لیا ۔

حجاز یمن اور عراق میں بنو فاطمہ کی حکومت[ترمیم]

حجاز اور یمن میں اسمعیلی دعوت کو کامیابی ہوئی اور یہاں بیس سال تک بنو فاطمہ کا خطبہ پڑھا جاتا رہا۔ عیراق میں الپ ارلسلان بساسیری نے ایک سال تک بنو فاطمیہ کا خطبہ پڑھایا ۔

ترکی اور حبشیوں کی لڑائی[ترمیم]

453ھ میں معمولی بات ترکی اور حبشی فوجوں میں لڑائی چھڑ گئی۔ مستنصر کی والدہ نے درپردہ کثیر تعداد میں حبشیوں بلایا اور پیسے اور اسلحہ سے حبشیوں کی مدد کر رہی تھی۔ یہ خبر ترکوں کو ہو گئی وہ ناصر الدولہ کی سردگی میں جمع ہو گئی اور حبشیوں سے لڑائی چھڑ گئی اور کئی لڑائیوں کے بعد حبشیوں کی 240ھ میں بالکل کمر توڑ دی گئی اور اس وجہ سے ترکوں کا اثر بہت بڑھ گیا ۔

ناصر الدولہ کا استبداد[ترمیم]

ترک سالار ناصر الدولہ مستنصر سے فوج کی تنخواہ میں اضافہ کے علاوہ جابجا مطالبات کرنے لگا۔ اس کے مطالبات پورے کرنے کے لیے مستنصر بیش قیمت ذخیرے کو کوڑیوں کے مول بیچنے پر مجبور گیا۔ ناصر الدولہ نے جب مال دولت خود ہضم کرنا چاہا تو اس کے ساتھیوں میں پھوٹ پڑ گئی اور اس کے مقابلے کے لیے مستنصر کو خود میدان میں ّآنا پڑا، 462ھ ناصر الدولہ کو شکست ہوئی اور وہ بجرہ چلا گیا۔ ان لڑائیوں سے ملک کی حالت خراب ہو گئی اور مصر حالت دن بدن تک ابتر ہوتی گئی ۔

463ھ میں مستنصر نے ایک لشکر ناصر الدولہ کے مقابلے کے لیے بھیجا، بدقسمتی سے اس لشکر کو شکست ہو گئی اور لشکر تمام مال دولت ناصر الدولہ کے قبضہ میں آگیا۔ جس کی وجہ سے وہ بہت طاقت ور ہو گیا اور اکثر ساحلی مقامات مثلاً اسکندریہ اور دمیاط وغیرہ میں اس نے اسماعیلی خطبہ موقوف کر کے عباسی خلیفہ کا خطبہ جاری کیا۔ اس کے علاوہ اس نے مصر میں جو غلہ جاتا تھا وہ روک لیا۔ مصری دوہری مصیبت میں مبتلا ہو گئے، مصر پہلے ہی لڑائیوں کا شکار تھا اور اب غلہ بھی رک گیا۔ اس مصر قحط کا شکار ہو گیا اور ہزاروں لوگ موت کا شکار ہو گئے۔ مصری فوج کو تنخواہ نہیں ملی تو اس نے شاہی محل کو لوٹ لیا۔ اس طرح مستنصر کا تمام اقتدار جاتا رہا۔ لہذا مستنصر کو ناصر الدولہ سے صلح کرنی پڑی۔ اس شرط پر صلح ہوئی کہ ناصرالدولہ بجیرہ میں ہی ٹہرے اور اس کو ایک مقرہ رقم دی جائے گئی۔ اس کے مصر میں غلے کی آمد ہوئی۔ لیکن ایک مہنہ نہیں گزرا ناصرا لدولہ نے پھر قاہرہ کا محاصرہ کر لیا، اس دفعہ مستنصر کے لشکر نے ناصر الدولہ کو بھگا دیا۔ پھر وہ بجیرہ وا پس چلا گیا اور عباسی خلیفہ کا خطبہ جاری کرا دیا۔ مستنصر کی حالت خراب ہوچکی تھی اس کا محل لوٹ لیا گیا۔ مستنصر کو محل میں پناہ لینی پڑی۔ فاطمیوں کی ساری شان و شوکت جاتی رہی اس کے پاس اتنا پیسہ نہیں رہا کہ خانگی زندگی بسر کرتا۔ ایسے عالم میں اس کے ایک امیر کی لڑکی روزانہ دو روٹیاں بھجواتی تھی۔ ناصر الدولہ نے جب اپنا ایلچی بھیجا کہ مستنصر سے پیسہ وصول کرے، اس نے دیکھا کہ مستنصر ایک چٹائی پر بے بسی کی حالت میں بیٹھا تھا اور محل میں تین نوکروں کے سوائے کوئی نہ تھا۔ ایلچی نے مستنصر کا حال بتایا تو ناصر الدو لہ نے اس کے لے ے وظیفہ مقرر کر دیا اور مستنصر کو قید کر کے خود مصر کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی۔ مگر کچھ عرصہ کے بعد ناصر الدولہ قتل ہو گیا ۔

شام پر سلجوقیوں کا قبضہ[ترمیم]

461ھ میں شام پر سلجوقیوں کا قبضہ ہو گیا اور 467ھ میں انہوں نے بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت خلافت فاطمیہ کی حالت ایسی خراب تھی کہ میں سلجوقی زرا ہمت کرتے تو دولت فاطمیہ سو سال پہلے ختم ہوجاتی ۔

بدر الجمالی کی مصر میں آمد[ترمیم]

خلافت کی حالت خراب ہو گئی کہ مصر میں کوئی اس قابل نہیں رہا کہ خلافت کی حالت درست کرے۔ اس لیے مستنصر نے بدر الجمالی کو شام سے مصر طلب کیا جو شام کا والی تھا۔ بدر الجمالی 466ھ میں مصر پہنچا اور مصر کی حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی اور اس نے بڑے بڑے فتنہ پروازوں کو قتل کر وا دیا۔ بدرالجمالی نے ملک میں امن و امان قائم کیا اور کچھ مدت کے دولت فاطمیہ کی بنیاد مستحکم ہو گئی ۔

فرقہ نزاریہ[ترمیم]

462ھ میں حسن بن صباح مصر پہنچا۔ حسن بن صباح کا بیان ہے کہ اس نے مستنصر سے پوچھا آپ کے بعد امام کون ہوگا۔ اس پر مستنصر نے کہا کہ نزار۔ جب کہ بدر الجمالی چاہتا تھا مستعلی کو امامت ملے۔ اس لیے اس نے اس نے اس کو مستنصر سے ملاقات سے روک دیا اور زبردستی اسے شام روانہ کر دیا ۔

وفات[ترمیم]

مستنصر نے ساتھ سال چار مہینے حکومت کرنے کے بعد 487ھ زہر سے وفات پائی ۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ڈاکٹر زاہد علی۔ تاریخ فاطمین مصر
مستنصرباللہ
پیدائش: 5 جولائی 1029 وفات: 10 جنوری 1094
شاہی القاب
ماقبل 
علی الظاہر
خلفیہ فاطمی سلطنت
13 جون 1036ء10 جنوری 1094ء
مابعد 
المستعلی باللہ