مستنصر حسين تارڑ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مستنصر حسین تارڑ یکم مارچ 1939 کو لاہور میں پیدا ہوئے۔ اُن کے والد، رحمت خان تارڑ گجرات کے ایک کاشت کار گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ مستنصر صاحب نے اپنے والد سے گہرا اثر قبول کیا۔ بیڈن روڈ پر واقع لکشمی مینشن میں اُن کا بچپن گزرا۔ سعادت حسن منٹو پڑوس میں رہتے تھے۔ وہ مشن ہائی اسکول، رنگ محل اور مسلم ماڈل ہائی اسکول کے طالب علم رہے۔ میٹرک کے بعد گورنمنٹ کالج میں داخلہ لے لیا۔ ایف اے کے بعد برطانیہ کا رخ کیا، جہاں فلم، تھیٹر اور ادب کو نئے زاویے سے سمجھنے، پرکھنے اور برتنے کا موقع ملا۔ پانچ چھے برس وہاں گزرے۔ 1957 میں شوق آوارگی انھیں ماسکو، روس میں ہونے والے یوتھ فیسٹول لے گیا۔ اُس سفر کی روداد 1959 میں ہفت روزہ قندیل میں شایع ہوئی۔ یہ قلمی سفر کا باقاعدہ آغاز تھا۔ پاکستان لوٹنے کے بعد جب اندر کا اداکار جاگا، تو انھوں نے پی ٹی وی کا رخ کیا۔ پہلی بار بہ طور اداکار ”پرانی باتیں“ نامی ڈرامے میں نظر آئے۔ ”آدھی رات کا سورج“ بہ طور مصنف پہلا ڈراما تھا، جو 74ءمیں نشر ہوا۔ آنے والے برسوں میں مختلف حیثیتوں سے ٹی وی سے منسلک رہے۔ جہاں کئی یادگار ڈرامے لکھے، وہیں سیکڑوں بار بہ طور اداکار کیمرے کا سامنا کیا۔ پاکستان میں صبح کی نشریات کو اوج بخشنے والے میزبانوں میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ بچوں کے چاچا جی کے طور پر معروف ہوئے۔ 1969 میں وہ یورپی ممالک کی سیاحت پر روانہ ہوئے، واپسی پر ”نکلے تری تلاش میں“ کے نام سے سفرنامہ لکھا۔ یہ 71ءمیں شایع ہوا۔ قارئین اور ناقدین دونوں ہی نے اسے ہاتھوں ہاتھ لیا۔ اِسے پڑھنے کے بعد محمد خالد اختر نے لکھا تھا:”اُس نے مروجہ ترکیب کے تاروپود بکھیر ڈالے ہیں!“ اِس کتاب کو ملنے والی پذیرائی کے بعد انھوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ اگلا سفر نامہ ”اندلس میں اجنبی“ تھا، جسے پڑھ کر شفیق الرحمان نے کہا: ”تارڑ کے سفرنامے قدیم اور جدید سفرناموں کا سنگم ہیں!“ بیالیس برسوں میں تیس سفرنامے شایع ہوئے۔ بارہ صرف پاکستان کے شمالی علاقوں کے بارے میں ہیں۔ پاکستان کی بلند ترین چوٹی ”کے ٹو“ پر ان کا سفرنامہ اس قدر مقبول ہوا کہ دو ہفتے میں پہلا ایڈیشن ختم ہوگیا۔ اِس علاقے سے اُن کے گہرے تعلق کی بنا پر وہاں کی ایک جھیل کو ”تارڑ جھیل“ کا نام دیا گیا۔ چند نمایاں سفرناموں کے نام یہ ہیں: خانہ بدوش، نانگا پربت، نیپال نگری، سفرشمال کے، اسنولیک، کالاش، پتلی پیکنگ کی، ماسکو کی سفید راتیں، یاک سرائے، ہیلو ہالینڈ اور الاسکا ہائی وے۔ سفرنامے کے میدان میں اپنا سکا جما کر ناول نگاری کی جانب آگئے۔ اولین ناول ”پیار کا پہلا شہر“ ہی بیسٹ سیلر ثابت ہوا۔ اب تک اِس کے پچاس سے زاید ایڈیشن شایع ہوچکے ہیں۔ یوں تو ہر ناول مقبول ٹھہرا، البتہ ”راکھ“ اور ”بہاﺅ“ کا معاملہ مختلف ہے۔ خصوصاً ”بہاﺅ“ میں اُن کا فن اپنے اوج پر نظر آتا ہے، پڑھنے والوں نے خود کو حیرت کے دریا میں بہتا محسوس کیا۔ اِس ناول میں تارڑ صاحب نے تخیل کے زور پر ایک قدیم تہذیب میں نئی روح پھونک دی۔ ”بہاﺅ“ میں ایک قدیم دریا سرسوتی کے معدوم اور خشک ہوجانے کا بیان ہے، جس سے پوری تہذیب فنا کے گھاٹ اتر جاتی ہے۔ ”راکھ“ کو 1999 میںبہترین ناول کے زمرے میں وزیر اعظم ادبی ایوارڈ کا مستحق گردانا گیا، جس کا بنیادی موضوع سقوط ڈھاکا اور بعد کے برسوں میں کراچی میں جنم لینے والے حالات ہیں۔ ”قلعہ جنگی“ نائن الیون کے بعد افغانستان پر امریکی حملے کے پس منظر میں لکھا گیا۔ اردو کے ساتھ پنجابی میں بھی ناول نگاری کا کام یاب تجربہ کیا۔ اس سفر میں افسانے بھی لکھے۔ ان کی شناخت کا ایک حوالہ کالم نگاری بھی ہے، جس میں ان کا اسلوب سب سے جداگانہ ہے۔ مطالعے کی عادت جتنی پختہ ہے، اتنی ہی پرانی۔ اردو میں قرة العین ان کی پسندیدہ لکھاری ہیں۔ اُن کا ناول ”آخری شب کے ہمسفر“ اچھا لگا۔ ٹالسٹائی اور دوستوفسکی کے مداح ہیں۔ ”برادرز کرامازوف“ کو دنیا کا سب سے بڑا ناول خیال کرتے ہیں۔ شفیق الرحمان کی کتاب ”برساتی کوے“ کو اپنے سفرنامے ”نکلے تری تلاش میں“ کی ماں قرار دیتے ہیں۔ کرنل محمد خان کی ”بجنگ آمد“ کو اردو کا بہترین نثری سرمایہ سمجھتے ہیں۔ غیرملکی ادیبوں میں رسول حمزہ توف کی ”میرا داغستان“ اور آندرے ژید کی خودنوشت اچھی لگیں۔ کافکا اور سارتر بھی پسند ہیں۔ ترک ادیب، یاشر کمال اور اورحان پامک کے مداح ہیں۔ مارکیز اور ہوسے سارا ماگو کو بھی ڈوب کر پڑھا۔ ممتاز ادیب، محمد سلیم الرحمان کی تنقیدی بصیرت کے قائل ہیں۔ اپنی تخلیقات کے تعلق سے ان سے مشورہ ضرور کرتے ہیں۔ نوبیل انعام یافتگان کی تخلیقات پر بھی گہری نظر ہے۔ ان کی کتب خصوصی توجہ سے پڑھتے ہیں، اور بہ قول ان کے، جو پسند آتا ہے، اس سے اثر بھی لیتے ہیں۔ مستنصر حسین تارڑ اردو ادب کے ایک معروف لکھاری ہیں .. پاکستان میں ان کی کتابیں بہت زیادہ خریدی اور پڑھی جاتی ہیں..مستنصر صاحب اب تک تقریباً پچاس کے لگ بھگ کتابیں لکھ چکے ہیں...ان کی وجہ شہرت سفر ناموں کے ساتھ ان کی ناول نگاری بھی ہے ..ان کے نوولز جنہوں نے سب سے زیادہ ادبی حلقوں میں پزیرائی حاصل کی ان میں سرفہرست "بہاؤ"کا نام آتا ہے جو قدیمی سندھ کے معاشرتی طرز اور اطوار کو واضح کرتا ہے..اردو ادب کے مشہور ناول نگار عبدللہ حسین بھاؤ کے بارے میں لکھتے ہیں "اس تحریر کی پشت پر جس قدر تخیلاتی ریسرچ پائی جاتی ہے اس کا اندازہ کر کے حیرت ہوتی ہے-رسمی لحاظ سے سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کے اگر یہ ناول کسی ترقی یافتہ ملک میں لکھا جاتا تو چند سال کے اندر مصنف کو کسی یونیورسٹی کی جانب سے علم بشریا ت کی اعزازی ڈگری پیش کی جاتی.."عبداللہ حسین کے ان الفاظ سے بہاؤ کی ادبی حیثیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے..اس کے علاوہ "راکھ ،خس و خاشاک زمانے کو بھی شاہکار نہ کہنا نہ انصافی ہوگی..تقسیم برصغیر کے بارے میں لکھ گئے یہ ناولز ان تاریخی حقائق کو بیان کرتے ہیں جن پی اب تک بات کرنا پسند نہیں کی جاتی ہے.."خس و خا شا ک زمانے"کو تو پاکستان کی ایک ایسی دستاویز کہا جاسکتا ہے جو پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی اقدار اور اس کے بدلتے رویوں کو بیان کرتی ہے.." جب کے "پیار کا پہلا شہر اور قربت مرگ" میں محبت مقبول عام ہیں..ادب سے لگاؤ رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس نے پیار کا پہلا شہرپڑھ نہ رکھا ہو...اس کے علاوہ ڈاکیہ اور جولاہا،سیاہ آنکھ میں تصویر،جپسی،اے غزال شب،قلعہ جنگی ،فاختہ کے نام بھی ان کے نوولز میں شمار ہوتے ہیں..ناولز کے علاوہ ان کے لکھ گئے سفرنامے بھی اردو ادب کا حصہ خاص بن چکے ہیں.اوائلی عمر میں سوویت یونین کے سفرنامے سے انہوں نے سفر ناموں کی ابتدا کی..اس کے بعد نکلے "تیری تلاش میں" سے انہوں نے اردو ادب میں سفرنامہ لکھنےکے لیےایک ایسا انداز متعارف کروایا جس کی اقتدا میں کئی سفرنامے لکھ گئے..انہوں نے سفرنامہ کو دلچسب،پر مزاح ،آسان اور سہل تحریر سے ادب میں سفرناموں کے قارئین کی ایک کثیر تعداد پیدا کی..منظر نگاری کرتے ہوۓ وہ لفظوں کی ایسی جادوئی بنت کرتے ہیں کے پڑھنے والا اس مقام و منظر سے بھرپور واقفیت حاصل کرلیتا ہے.."نکلے تیری تلاش کے بعد انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا اور "اندلس میں اجنبی،خانہ بدوش،کے ٹو کہانی،نانگا پربت،یا ک سراۓ ،رتی گلی،سنو لیک،چترال داستان ،ہنزہ داستان،سفر شما ل کے ناموں سے ایسے سفرنامے تحریر کیے جن کو پڑھ کر کئی لوگ آوارہ گرد بن کر ان مقاموں کو دیکھنے ان جگہوں تک جا پنہچے.. .."غار حرا میں ایک رات اور منہ ول کعبہ شریف" ان کے وہ سفر نامے ہیں جوحجاز مقدس کے بارے میں تحریر کے گئے ہیں..."نیو یارک کے سو رنگ،ماسکو کی سفید راتیں،پتلی پیکنگ کی،سنہری الو کا شہر بھی یادگارسفر نامے کہے جا .سکتے ہیں.ناولز اور سفرناموں کے علاوہ مستنصر صاحب نے ڈرامے بھی تحریر کیے ..جن میں شہپر ،ہزاروں راستے،پرندے،سورج کے ساتھ ساتھ،ایک حقیقت ایک افسانہ،کیلاش اور فریب شامل ہیں..اس کے علاوہ تارڑ صاحب کالم نگاری بھی کرتے رہے ہیں ..ان کے کالموں کے مجموعہ بھی چک چک،الو ہمارے بھائی ہیں،گدھے ہمارے بھائی ہیں، کے نام سے آچکے ہیں..آجکل روزنامہ نئی بات اور ہفتہ وار اخبار جہاں میں بھی باقائدگی سے کالم نگاری جاری رکھے ہوے ہیں.. انکی کتب زیادہ تر سفر نامے ہيں اور یہ یورپ مشرق وسطی اور شمالی پاکستان کی سیاحت پر مشتمل ہیں۔

مستنصر کا آبائی تعلق گجرات سے ہے لیکن اس وقت لاہور میں رہتے ہیں۔ ٹی وی ڈراموں میں کام بھی کیا ہے۔ آجکل اخبار جہاں میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔اس کے علاوہ ناول کے حوالے سے بھی وہ ایک اہم نام ہے۔ انہوں نے بہاؤ اور راکھ جیسے شہر آفاق ناول تخلیق کیے۔ اس کے علاوہ ٹی پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔ پی ٹی وی نے جب پہلی مرتبہ صبح کی نشریات آج کے نام سے شروع کی تو مستنصر حسین تارڑ نے ان نشریات کی کئی سال تک میزبانی کے فرائض سرانجام دئیے۔

کتابیں[ترمیم]

  • خانہ بدوش
  • جپسی
  • اندلس ميں اجنبی
  • پیار کا پہلا شہر
  • نانگا پربت
  • ہنزہ داستان
  • شمشال بے مثال
  • شاہگوری
  • سفر شمال کے
  • گدھے ہمارے دوست ہیں
  • کالاش
  • یاک سراۓ
  • دیو سائی
  • چترال داستان
  • کاروان سراۓ
  • الّو ہمارے بھائی ہیں

نکلے تيری تلاش مین راکھ بہاؤ خس و خاشاک زمانے اے غزال شب قربت مرگ میں محبت پکھیرو سنو لیک نیپال نگری پتلی پیکنگ کی یاک سراۓ دس ہوے پردیس سیاہ آنکھ میں تصویر