مستنصر حسين تارڑ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

مستنصر حسین تارڑ اردو ادب کے ایک معروف لکھاری ہیں .. پاکستان میں ان کی کتابیں بہت زیادہ خریدی اور پڑھی جاتی ہیں..مستنصر صاحب اب تک تقریباً پچاس کے لگ بھگ کتابیں لکھ چکے ہیں...ان کی وجہ شہرت سفر ناموں کے ساتھ ان کی ناول نگاری بھی ہے ..ان کے نوولز جنہوں نے سب سے زیادہ ادبی حلقوں میں پزیرائی حاصل کی ان میں سرفہرست "بہاؤ"کا نام آتا ہے جو قدیمی سندھ کے معاشرتی طرز اور اطوار کو واضح کرتا ہے..اردو ادب کے مشہور ناول نگار عبدللہ حسین بھاؤ کے بارے میں لکھتے ہیں "اس تحریر کی پشت پر جس قدر تخیلاتی ریسرچ پائی جاتی ہے اس کا اندازہ کر کے حیرت ہوتی ہے-رسمی لحاظ سے سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کے اگر یہ ناول کسی ترقی یافتہ ملک میں لکھا جاتا تو چند سال کے اندر مصنف کو کسی یونیورسٹی کی جانب سے علم بشریا ت کی اعزازی ڈگری پیش کی جاتی.."عبداللہ حسین کے ان الفاظ سے بہاؤ کی ادبی حیثیت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے..اس کے علاوہ "راکھ ،خس و خاشاک زمانے کو بھی شاہکار نہ کہنا نہ انصافی ہوگی..تقسیم برصغیر کے بارے میں لکھ گئے یہ ناولز ان تاریخی حقائق کو بیان کرتے ہیں جن پی اب تک بات کرنا پسند نہیں کی جاتی ہے.."خس و خا شا ک زمانے"کو تو پاکستان کی ایک ایسی دستاویز کہا جاسکتا ہے جو پاکستانی معاشرے کی اخلاقی اور تہذیبی اقدار اور اس کے بدلتے رویوں کو بیان کرتی ہے.." جب کے "پیار کا پہلا شہر اور قربت مرگ" میں محبت مقبول عام ہیں..ادب سے لگاؤ رکھنے والا شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس نے پیار کا پہلا شہرپڑھ نہ رکھا ہو...اس کے علاوہ ڈاکیہ اور جولاہا،سیاہ آنکھ میں تصویر،جپسی،اے غزال شب،قلعہ جنگی ،فاختہ کے نام بھی ان کے نوولز میں شمار ہوتے ہیں..ناولز کے علاوہ ان کے لکھ گئے سفرنامے بھی اردو ادب کا حصہ خاص بن چکے ہیں.اوائلی عمر میں سوویت یونین کے سفرنامے سے انہوں نے سفر ناموں کی ابتدا کی..اس کے بعد نکلے "تیری تلاش میں" سے انہوں نے اردو ادب میں سفرنامہ لکھنےکے لیےایک ایسا انداز متعارف کروایا جس کی اقتدا میں کئی سفرنامے لکھ گئے..انہوں نے سفرنامہ کو دلچسب،پر مزاح ،آسان اور سہل تحریر سے ادب میں سفرناموں کے قارئین کی ایک کثیر تعداد پیدا کی..منظر نگاری کرتے ہوۓ وہ لفظوں کی ایسی جادوئی بنت کرتے ہیں کے پڑھنے والا اس مقام و منظر سے بھرپور واقفیت حاصل کرلیتا ہے.."نکلے تیری تلاش کے بعد انہوں نے مڑ کر نہیں دیکھا اور "اندلس میں اجنبی،خانہ بدوش،کے ٹو کہانی،نانگا پربت،یا ک سراۓ ،رتی گلی،سنو لیک،چترال داستان ،ہنزہ داستان،سفر شما ل کے ناموں سے ایسے سفرنامے تحریر کیے جن کو پڑھ کر کئی لوگ آوارہ گرد بن کر ان مقاموں کو دیکھنے ان جگہوں تک جا پنہچے.. .."غار حرا میں ایک رات اور منہ ول کعبہ شریف" ان کے وہ سفر نامے ہیں جوحجاز مقدس کے بارے میں تحریر کے گئے ہیں..."نیو یارک کے سو رنگ،ماسکو کی سفید راتیں،پتلی پیکنگ کی،سنہری الو کا شہر بھی یادگارسفر نامے کہے جا .سکتے ہیں.ناولز اور سفرناموں کے علاوہ مستنصر صاحب نے ڈرامے بھی تحریر کیے ..جن میں شہپر ،ہزاروں راستے،پرندے،سورج کے ساتھ ساتھ،ایک حقیقت ایک افسانہ،کیلاش اور فریب شامل ہیں..اس کے علاوہ تارڑ صاحب کالم نگاری بھی کرتے رہے ہیں ..ان کے کالموں کے مجموعہ بھی چک چک،الو ہمارے بھائی ہیں،گدھے ہمارے بھائی ہیں، کے نام سے آچکے ہیں..آجکل روزنامہ نئی بات اور ہفتہ وار اخبار جہاں میں بھی باقائدگی سے کالم نگاری جاری رکھے ہوے ہیں.. انکی کتب زیادہ تر سفر نامے ہيں اور یہ یورپ مشرق وسطی اور شمالی پاکستان کی سیاحت پر مشتمل ہیں۔

مستنصر کا آبائی تعلق گجرات سے ہے لیکن اس وقت لاہور میں رہتے ہیں۔ ٹی وی ڈراموں میں کام بھی کیا ہے۔ آجکل اخبار جہاں میں ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔اس کے علاوہ ناول کے حوالے سے بھی وہ ایک اہم نام ہے۔ انہوں نے بہاؤ اور راکھ جیسے شہر آفاق ناول تخلیق کیے۔ اس کے علاوہ ٹی پروگراموں کی میزبانی بھی کرتے ہیں۔ پی ٹی وی نے جب پہلی مرتبہ صبح کی نشریات آج کے نام سے شروع کی تو مستنصر حسین تارڑ نے ان نشریات کی کئی سال تک میزبانی کے فرائض سرانجام دئیے۔

کتابیں[ترمیم]

  • خانہ بدوش
  • جپسی
  • اندلس ميں اجنبی
  • پیار کا پہلا شہر
  • نانگا پربت
  • ہنزہ داستان
  • شمشال بے مثال
  • شاہگوری
  • سفر شمال کے
  • گدھے ہمارے دوست ہیں
  • کالاش
  • یاک سراۓ
  • دیو سائی
  • چترال داستان
  • کاروان سراۓ
  • الّو ہمارے بھائی ہیں

نکلے تيری تلاش مین راکھ بہاؤ خس و خاشاک زمانے اے غزال شب قربت مرگ میں محبت پکھیرو سنو لیک نیپال نگری پتلی پیکنگ کی یاک سراۓ دس ہوے پردیس سیاہ آنکھ میں تصویر