مسجد ابان
| مسجد ابان | |
|---|---|
| انتظامی تقسیم | |
| ملک | |
| متناسقات | 12°46′53″N 45°02′09″E / 12.7813°N 45.0357°E |
| قابل ذکر | |
![]() |
|
| درستی - ترمیم | |
مسجد ابان صوبہ عدن کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ اس کی تعمیر کو حکم بن ابان عدنی کے والد یا خود حکم کی طرف منسوب کیا جاتا ہے، جن کا انتقال 154ھ میں ہوا۔ اس مسجد کی کئی مرتبہ مرمت کی گئی، جن میں آخری مرمت 1419ھ (1998ء) میں ہوئی۔ .[1]
تاریخ
[ترمیم]یہ مسجد جزیرۂ عرب خصوصاً شہر عدن کی اولین مساجد میں شمار ہوتی ہے۔ بعض مؤرخین کے مطابق اسے ابان عدنی (حکم کے والد) نے تعمیر کیا، جبکہ بعض نے کہا کہ اسے حکم بن ابان نے خود تعمیر کیا۔
الجندی لکھتے ہیں: "عدن کے اہلِ علم میں سے ایک جماعت تھی، جن میں ابو مروان حکم بن ابان بن عفان بن حکم بن عثمان عدنی بھی شامل تھے۔ انھوں نے ابن طاؤوس سے علم حاصل کیا اور ابن جوزی نے صفة الصفوة میں ان کا ذکر کرتے ہوئے کہا: وہ یمن کے سرداروں میں شمار ہوتے تھے۔ راتوں کو نماز میں مشغول رہتے اور جب نیند غالب آتی تو خود کو سمندر میں ڈال دیتے اور کہتے: میں مچھلیوں کے ساتھ اللہ کی تسبیح کرتا ہوں۔
انھوں نے عکرمہ وغیرہ سے روایت کی اور عدن کے قاضی کے طور پر آزمائے گئے۔ وہ اپنی سخاوت کے لیے مشہور تھے۔ ان کا نماز پڑھنے کا مقام ان کے والد کی مسجد تھی، جو آج اہلِ عدن میں مسجد ابان کے نام سے معروف ہے اور یہ عدن کی ان مشہور مساجد میں سے ہے جو برکت اور دعاؤں کی قبولیت کے لیے مشہور ہیں۔ امام احمد بن حنبل جب عدن آئے تو انھوں نے اس مسجد میں قیام کیا تاکہ حکم بن ابان کے پوتے ابراہیم بن حکم سے علم حاصل کریں۔"[2]
تاریخی اہمیت
[ترمیم]تمام مؤرخین اس بات پر متفق ہیں کہ یہ عدن کی سب سے پہلی مسجد ہے اور دنیا کی قدیم ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ مسجد أبان اسلامی ابتدائی صدیوں کے سادہ طرزِ تعمیر کی مثال ہے۔ کئی بار اس کی مرمت کی گئی اور آخرکار 1998ء میں اسے مکمل طور پر ازسرِنو تعمیر کیا گیا، لیکن اس عمل میں اس کی تمام قدیم علامتیں مٹ گئیں۔
تاریخی روایات کے مطابق امام احمد بن حنبل نے 170ھ میں عدن کا سفر کیا تاکہ ابراہیم بن الحکم (أبان کے پوتے) سے علم حاصل کریں اور اسی دوران انھوں نے مسجد أبان میں قیام فرمایا۔ اس وقت مسجد میں نہ کوئی مینار (مئذنة) تھا، نہ قبہ۔ دروازوں، ستونوں اور کھڑکیوں پر نہایت سادہ نقش و نگار تھے۔ بعد میں مسجد کو ترکی طرزِ تعمیر کے قریب جدید انداز میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔[1]
موجودہ حیثیت
[ترمیم]آج بھی مسجد ابان عدن شہر کی اہم ترین اور مشہور ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ یہاں سے نمازِ جمعہ براہِ راست ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر نشر کی جاتی ہے۔ مسجد میں قرآنِ کریم کی تعلیمات کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہتا ہے اور ماہِ رمضان کی راتوں میں سینکڑوں افراد یہاں تراویح اور قیام اللیل میں شریک ہوتے ہیں۔
مسجد کا جلایا جانا
[ترمیم]اپریل 2015ء میں مسلح گروہوں نے اس مسجد میں آگ لگا دی، جس سے مسجد کو نقصان پہنچا۔ [3][4]
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب السلوك في طبقات العلماء والملوك (1/135)، رابط ويب على المكتبة الشاملة https://al-maktaba.org/book/6668/78 آرکائیو شدہ 2021-08-24 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ "مسجد 'أبان'.. مركز إشعاع ديني وقبلة المتهجدين في عدن اليمنية"۔ 4 سبتمبر 2021 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2021-09-04
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ مفكرة الإسلام : صورة.. مليشيات الحوثي تحرق أحد أقدم الم آرکائیو شدہ 2015-08-05 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ منتدى المنبر الإعلامي الجهادي آرکائیو شدہ 2015-04-08 بذریعہ وے بیک مشین

