مسجد ادھم بے
ظاہری ہیئت

ادھم بے البانیا کے دار الحکومت تیرانا کے مرکز میں واقع ایک مسجد ہے۔ اس مسجد کی تعمیر کا آغاز 1789ء میں ملا بے نے کیا اور اس کی تکمیل سلیمان پاشا کے پوتے حاجی ادھم بے کے ہاتھوں 1823ء میں ہوئی۔ البانیہ میں اشتراکی دور میں یہ مسجد بند کر دی گئی اور طویل بندش کے بعد 18 جنوری 1991ء کو اسے کھول دیا گیا۔ مسجد کے دوبارہ کھولے جانے پر اشتراکی حکام کی شدید مخالفت کے باوجود دس ہزار افراد پرچم ہاتھوں میں لیے مسجد پہنچے اور یہ واقعہ البانیہ میں اشتراکیت کے زوال کا نقطہ آغاز ثابت ہوا۔ اس مسجد میں کی خاص بات اس میں کیا گیا مصوری کا کام ہے جس میں نباتات، آبشاروں اور پلوں وغیرہ کی تصاویر بنائی گئی ہیں جو اسلامی فن تعمیر میں کہیں نہیں دیکھا گیا۔ مسجد سیاحت کے لیے تو ہر وقت کھلی رہتی ہے تاہم اس کے اندر نماز ادا نہیں کی جاتی۔
| ویکی ذخائر پر Et'hem Bey Mosque سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
نگار خانہ
[ترمیم]زمرہ جات:
- البانیہ کی مساجد
- مساجد بلحاظ ملک
- عثمانی معماری
- سلطنت عثمانیہ میں 1819ء کی تاسیسات
- عثمانی مساجد
- 1810ء کی دہائی میں مکمل ہونے والی مساجد
- ترانہ میں مساجد
- 1819ء میں مکمل ہونے والی مذہبی عمارات
- 1819ء میں مکمل ہونے والی مساجد
- 1823ء میں مکمل ہونے والی مساجد
- تیرانا
- 1823کی معماری
- انیسویں صدی کی مساجد
- 1790ء کی دہائی کی معماری
- 1800ء کی دہائی کی معماری
- 1810ء کی دہائی کی معماری
- 1820ء کی دہائی کی معماری