مسجد اقصٰی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
حرم قدسی کے جنوبی حصے میں واقع مسجد اقصیٰ

مسجد اقصی کی قریبی سنہری گنبد والی عمارت کے لئے دیکھئے قبۃ الصخرۃ

مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلہ اول اور خانہ کعبہ اور مسجد نبوی کے بعد تیسرا مقدس ترین مقام ہے۔

مقامی مسلمان اسے المسجد الاقصیٰ یا حرم قدسی شریف (عربی: الحرم القدسی الشریف) کہتے ہیں۔ یہ مشرقی یروشلم میں واقع ہے جس پر اسرائیل کا قبضہ ہے۔ یہ یروشلم کی سب سے بڑی مسجد ہے جس میں 5 ہزار نمازیوں کی گنجائش ہے جبکہ مسجد کے صحن میں بھی ہزاروں افراد نماز ادا کرسکتے ہیں۔ 2000ء میں الاقصیٰ انتفاضہ کے آغاز کے بعد سے یہاں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے۔

اہمیت[ترمیم]

بسلسلۂ
مساجد

اہم مساجد
طرز تعمیر
اندازِ طرز تعمیر
دنیا بھر کی مساجد


حضرت محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سفر معراج کے دوران مسجد حرام سے یہاں پہنچے تھے اور مسجد اقصیٰ میں تمام انبیاء کی نماز کی امامت کرنے کے بعد براق کے ذریعے سات آسمانوں کے سفر پر روانہ ہوئے۔

قرآن مجید کی سورہ الاسراء میں اللہ تعالٰی نے اس مسجد کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے:

پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کورات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصی لے گئی جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائيں یقینا اللہ تعالٰی ہی خوب سننے والا اوردیکھنے والا ہے (سورہ الاسراء آیت نمبر 1)

احادیث کے مطابق دنیا میں صرف تین مسجدوں کی جانب سفر کرنا باعث برکت ہے جن میں مسجد حرام، مسجد اقصٰی اور مسجد نبوی شامل ہیں۔

حضرت ابوذر سے حدیث مروی ہے کہ

میں نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے پوچھا کہ زمین میں سب سے پہلے کون سی مسجد بنائی گئی؟

تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا : مسجد حرام ( بیت اللہ ) تو میں نے کہا کہ اس کے بعد کونسی ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم فرمانے لگے : مسجد اقصیٰ ، میں نے سوال کیا کہ ان دونوں کے درمیان کتنا عرصہ ہے ؟ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ چالیس سال، پھرجہاں بھی تمہیں نماز کا وقت آجائے نماز پڑھ لو کیونکہ اسی میں فضیلت ہے ۔ (صحیح بخاری حدیث نمبر 3366، صحیح مسلم حدیث نمبر 520)

مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے اور معراج میں نماز کی فرضیت 16 سے 17 ماہ تک مسلمان مسجد اقصٰی کی جانب رخ کرکے ہی نماز ادا کرتے تھے پھر تحویل قبلہ کا حکم آنے کے بعد مسلمانوں کا قبلہ خانہ کعبہ ہوگیا۔

مسلم تعمیرات[ترمیم]

جب حضرت عمر فاروق کے دور میں مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو حضرت عمر نے شہر سے روانگی کے وقت صخرہ اور براق باندھنے کی جگہ کے قریب مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا جہاں انہوں نے اپنے ہمراہیوں سمیت نماز ادا کی تھی۔ مسجد اقصسانچہ:ٰای سے بالکل قریب ہونے کی وجہ سے یہی مسجد بعد میں مسجد اقصٰی کہلائی کیونکہ قرآن مجید کی سورہ بنی اسرائیل کے آغاز میں اس مقام کو مسجد اقصٰی کہا گیا ہے۔ اس دور میں بہت سے صحابہ نے تبلیغ اسلام اور اشاعت دین کی خاطر بیت المقدس میں اقامت اختیار کی۔ خلیفہ عبد الملک بن مروان نے مسجد اقصٰی کی تعمیر شروع کرائی اور خلیفہ ولید بن عبد الملک نے اس کی تعمیر مکمل کی اور اس کی تزئین و آرائش کی۔ عباسی خلیفہ ابو جعفر منصور نے بھی اس مسجد کی مرمت کرائی۔ پہلی صلیبی جنگ کے بعد جب عیسائیوں کا بیت المقدس پر قبضہ ہو گیا تو انہوں نے مسجد اقصٰی میں بہت رد و بدل کیا۔ انہوں نے مسجد میں رہنے کے لیے کئی کمرے بنا لیے اور اس کا نام معبد سلیمان رکھا، نیز متعدد دیگر عمارتوں کا اضافہ کیا جو بطور جائے ضرورت اور اناج کی کوٹھیوں کے استعمال ہوتی تھیں۔ انہوں نے مسجد کے اندر اور مسجد کے ساتھ ساتھ گرجا بھی بنا لیا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187ء میں فتح بیت المقدس کے بعد مسجد اقصٰی کو عیسائیوں کے تمام نشانات سے پاک کیا اور محراب اور مسجد کو دوبارہ تعمیر کیا۔

مسجد اقصیٰ و قبۃ الصخرۃ[ترمیم]

مسجد اقصی کے نام کا اطلاق پورے حرم قدسی پر ہوتا تھا جس میں سب عمارتیں جن میں اہم ترین قبۃ الصخرۃ ہے جواسلامی طرز تعمیر کے شاندار نمونوں میں شامل ہے ۔ تاہم آجکل یہ نام حرم کے جنوبی جانب والی بڑی مسجد کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔

وہ مسجد جو کہ نماز کی جگہ ہے وہ قبۃ الصخرۃ نہیں، لیکن آج کل قبہ کی تصاویر پھیلنے کی بنا پر اکثر مسلمان اسے ہی مسجد اقصیٰ خیال کرتے ہيں حالانکہ فی الواقع ایسی کوئی بات نہیں مسجد تو بڑے صحن کے جنوبی حصہ میں اور قبہ صحن کے وسط میں ایک اونچی جگہ پر واقع ہے۔

زمانہ قدیم میں مسجد کا اطلاق پورے صحن پرہو تا تھا اور اس کی تائيد امام ابن تیمیہ کے اس بیان سے بھی ہوتی ہے کہ:

مسجد اقصی اس ساری مسجد کا نام ہے جسے سليمان علیہ السلام نے تعمیر کیا تھا اور بعض لوگ اس مصلی یعنی نماز پڑھنے کی جگہ کو جسے عمر بن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ نےاس کی اگلی جانب تعمیر کیا تھا اقصی کا نام دینے لگے ہیں ، اس جگہ میں جسے عمربن خطاب رضي اللہ تعالٰی عنہ نے تعمیر کیا تھا نمازپڑھنا باقی ساری مسجد میں نماز پڑھنے سے افضل ہے۔

سانحہ بیت المقدس[ترمیم]

21 اگست 1969ء کو ایک آسٹریلوی یہودی ڈینس مائیکل روحان نے قبلۂ اول کو آگ لگا دی جس سے مسجد اقصیٰ تین گھنٹے تک آگ کی لپیٹ میں رہی اور جنوب مشرقی جانب عین قبلہ کی طرف کا بڑا حصہ گر پڑا۔ محراب میں موجود منبر بھی نذر آتش ہوگیا جسے صلاح الدین ایوبی نے فتح بیت المقدس کے بعد نصب گیا تھا۔ صلاح الدین ایوبی نے قبلہ اول کی آزادی کے لئے تقریبا 16 جنگیں لڑیں اور ہر جنگ کے دوران وہ اس منبر کو اپنے ساتھ رکھتے تھے تا کہ فتح ہونے کے بعد اس کو مسجد میں نصب کریں۔

اس المناک واقعہ کے بعد خواب غفلت میں ڈوبی ہوئی امت مسلمہ کی آنکھ ایک لمحے کے لئے بیدار ہوئی اور سانحے کے تقریبا ایک ہفتے بعد اسلامی ممالک نے موتمر عالم اسلامی (او آئی سی) قائم کر دی۔ تاہم 1973ء میں پاکستان کے شہر لاہور میں ہونے والے دوسرے اجلاس کے بعد سے 56 اسلامی ممالک کی یہ تنظیم غیر فعال ہوگئی۔

یہودی اس مسجد کو ہیکل سلیمانی کی جگہ تعمیر کردہ عبادت گاہ سمجھتے ہیں اور اسے گرا کر دوبارہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا چاہتے ہیں حالانکہ وہ کبھی بھی بذریعہ دلیل اس کو ثابت نہیں کرسکے کہ ہیکل سلیمانی یہیں تعمیر تھا۔

بیرونی روابط[ترمیم]

مسجد کا 360 ڈگری زاویے پر منظر

مسجد اقصی، یروشلم

مسلم فوٹوز ڈاٹ نیٹ پر مسجد اقصی

حوالہ جات[ترمیم]

درجہ نام مقام گنجائش رقبہ (مربع میٹر) سال فرقہ
1 مسجد الحرام سعودی عرب کا پرچم مکہ، سعودی عرب 4,000,000 400,800 638ء ـــ
2 مسجد نبوی سعودی عرب کا پرچم مدینہ منورہ، سعودی عرب 1,000,000 400,500 622ء ـــ
3 مزار امام علی رضا ایران کا پرچم مشہد، خراسان، ایران 700,000 598,657 818ء اہل تشیع
4 جامع الصالح یمن کا پرچم صنعاء، یمن 45,000 224,831 2008ء اہل سنت
5 مسجد اقصٰی Palestine کا پرچم یروشلم، فلسطین 250,000 144,000 ـــ
6 مسجد استقلال Indonesia کا پرچم جکارتہ، انڈونیشیا 120,000 95,000 1978ء اہل سنت
7 مسجد حسن ثانی مراکش کا پرچم دار البیضاء، مراکش 105,000 90,000 1993ء اہل سنت
8 فیصل مسجد پاکستان کا پرچم اسلام آباد، پاکستان 74,000 43,295 1986ء ـــ
9 بادشاہی مسجد پاکستان کا پرچم لاہور، پنجاب (ضد ابہام)، پاکستان 110,000 29,867 1678ء ـــ
10 جامع مسجد دہلی India کا پرچم دہلی، بھارت 85,000 1656ء اہل سنت
11 جامع مسجد شیخ زايد متحدہ عرب امارات کا پرچم ابوظبی (شہر)، متحدہ عرب امارات 40,000 22,000 2007ء اہل سنت
12 بیت المکرم مسجد، ڈھاکہ Bangladesh کا پرچم ڈھاکہ، بنگلہ دیش 30,000 1960ء اہل سنت
13 جامع الراجحي سعودی عرب کا پرچم ریاض، سعودی عرب 20,500 13,260 2004ء اہل سنت
14 مسجد قباء سعودی عرب کا پرچم مدینہ منورہ، سعودی عرب 20,000 13,500 622ء اہل سنت
15 جامع السلطان قابوس الأكبر سلطنت عمان کا پرچم مسقط، عمان 20,000 416,000 2001ء اباضیہ
16 مسجد عیدگاه چین کا پرچم کاشغر، سنکیانگ، چین 20,000 16,800 1442ء
17 يوسف بي جامع روس کا پرچم ماخاچکالا، داغستان، روس 17,000 1996ء اہل سنت
18 مسجد نغارا Malaysia کا پرچم کوالالمپور، ملائیشیا 15,000 1965ء اہل سنت
19 المسجد الكبير کویت کا پرچم کویت شہر، کویت 13,000 20,000 1986ء
20 مسجد اقصی پاکستان کا پرچم ربوہ، پاکستان 12,000 1972ء احمدی
21 مکہ مسجد (حیدرآباد دکن) بھارت کا پرچم حیدرآباد، دکن، آندھرا پردیش، بھارت 10,000 1694ء اہل سنت
22 مسجد بيت الفتوح برطانیہ کا پرچم لندن، برطانیہ 30,000 2003ء احمدی
23 سلطان احمد مسجد ترکی کا پرچم استنبول، ترکی 10,000 4,608 1616ء اہل سنت
24 مسجد الفاتح بحرین کا پرچم منامہ، بحرین 7,000 1987ء اہل سنت
25 مسجد سيدي إبراهيم الدسوقي مصر کا پرچم دسوق، مصر 25,000 7,000 1277ء اہل سنت

حوالہ جات[ترمیم]