مسجد جمکران

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

قم شہر سے 6 کلومیٹر کے فاصلے پر کاشان روڈ پر واقع ایک گاؤں میں ایک عظیم الشان مسجد کا نام ہے جو شیعہ نظریہ کے مطابق بارہوں امام، حضرت مہدی کے حکم سے تعمیر کی گئی۔ شیعہ محدث اور فقیہ مرزا حسین نوری نے ایک شخص بنام حسن بن مثلہ جمکرانی سے نقل کیا ہے کہ امام مہدی سے ان کی ملاقات ہوئی جس میں انہوں نے مجھے اس جمکران نامی گاؤں میں مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔ امام مہدی شیعہ عقیدہ کے مطابق بارہویں اور آخری امام ہیں۔ جو 255 ہجری میں پیدا ہوئے اور پانچ سال کے بعد غیبت میں تشریف لے گئے اور ان کی غیبت کو غیبت صغری اور غیبت کبری میں تقسیم کیا گیا۔ شیعہ نظریہ کے مطابق امام مہدی سے ان کی غیبت کبری میں ملاقات ہوسکتی ہے۔ شیخ عباس قمی، محدث نوری اور دیگر علما اور محققین نے اس بات کی تصدیق کی ہے اور کئی واقعات اپنی کتابوں میں درج کیے ہیں۔

حسن بن مثلہ کی امام مہدی سے ملاقات اور مسجد کی تعمیر کا حکم[ترمیم]

مسجد جمکران شیعہ مسلمانوں کے ہاں ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتی ہے، چونکہ اسے امام مہدی کے حکم سے تعمیر کیا گیاہے۔ حسن بن مثلہ کی روایت کے مطابق 17 ماہ رمضان المبارک 373 ہجری(22 فروری، 984 عیسوی)کو جب وہ اپنے گھر سویا ہوا تھا تو ایک گروہ نے اسے آکر بیدار کیا اور کہا : اپنے مولا وآقا، امام مہدی کی نداء پر لبیک کہو۔
حسن بن مثلہ جمکرانی کہتاہے:میں اپنے گھر سے اس جگہ پر آیا جہاں پر ابھی مسجد جمکران موجود ہے وہاں پر میرے ملاقات ایک 33 سالہ جوان اور ایک بوڑھے شخص سے ہوئی، وہ 33 سالہ جوان امام مہدی اور وہ بوڑھا شخص حضرت خضر تھے جنہوں نے مجھے بیٹھنے کو کہا۔ اس کے بعد امام مہدی نے مجھے اس جگہ پر مسجد تعمیر کرنے کا حکم دیا۔

مسجد جمکران موجودہ دور میں[ترمیم]

موجودہ دور میں مسجد جمکران ایک عظیم الشان عمارت پر مشتمل ہے۔ جہاں لاکھوں کی تعداد میں زائرین نماز اور اپنی حاجات طلب کرتے ہیں۔ اور امام مہدی کی ولادت 15 شعبان کی شب جشن ماننے کی خاطر لاکھوں کی تعداد میں شیعہ مسلمان جمع ہوتے ہیں۔ اور دعاء ونماز میں شب گزارتے ہیں۔

مسجد جمکران کی نماز[ترمیم]

مسجد جمکران میں چار رکعت نماز پڑھی جاتی ہے دو رکعت نماز تحیت مسجد اور دو رکعت نماز خاص کیفیت کے ساتھ پڑھی جاتی ہے جسے نماز امام مہدی کہا جاتاہے۔