مندرجات کا رخ کریں

مسجد سلطان ابو بکر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مسجد السلطان أبو بكر

 

ملک ملائیشیا   ویکی ڈیٹا پر  (P17) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جگہ جوھر بھرو [1]  ویکی ڈیٹا پر  (P131) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
انداز معماری موری طرز تعمیر [1]  ویکی ڈیٹا پر  (P149) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاسیس سال 2 فروری 1900[2]  ویکی ڈیٹا پر  (P571) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الافتتاح الرسمى 2 فروری 1900  ویکی ڈیٹا پر  (P1619) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد 2000 [3][4]  ویکی ڈیٹا پر  (P1083) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
الرمز البريدى 80000[1]  ویکی ڈیٹا پر  (P281) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
  ویکی ڈیٹا پر  (P935) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

نقشہ
إحداثيات 1°27′25″N 103°45′04″E / 1.4569555555556°N 103.75105277778°E / 1.4569555555556; 103.75105277778   ویکی ڈیٹا پر  (P625) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مسجد سلطان ابو بکر ایک مسجد ہے جو ملائیشیا کی ریاست جوہر میں واقع ہے۔ یہ مسجد "جالان سکودائی" سڑک پر، شہر جوہر بہرو میں واقع ہے۔ اس کی تعمیر 1892ء سے 1900ء کے درمیان سلطان ابو بکر کے حکم پر کی گئی۔[5]

تعمیر

[ترمیم]

اس مسجد کے معمار توان حاجی محمد عارف بن بوناک تھے۔ مسجد کی تعمیر میں انھوں نے انگریزی نوآبادیاتی طرزِ تعمیر سے اثر لیا، خاص طور پر وکٹورین فنِ تعمیر سے۔ مسجد کے میناروں کا ڈیزائن انیسویں صدی کے برطانوی کلاک ٹاور (Clock Tower) سے مشابہ ہے۔ مسجد کی عمارت میں مغربی وکٹورین طرز کے ساتھ کچھ مغربی اسلامی (مغربی/مُوری) طرزِ تعمیر کے عناصر اور ہلکے پھلکے مالائی طرز کے عناصر بھی شامل ہیں۔

تعمیراتی کام کی نگرانی توان حاجی محمد عارف بن بوناک نے سرکاری انجینئر داتو یحییٰ بن اول الدین کے ساتھ مل کر کی۔ وکٹورین برطانوی فنِ تعمیر کا اثر نہ صرف مسجد سلطان ابو بکر پر بلکہ جوہر بہرو کے کئی سرکاری عمارتوں اور محلات پر بھی نمایاں ہے۔

یہ مسجد ایک نمایاں پہاڑی پر تعمیر کی گئی ہے، جہاں سے مضیق جوہر کا خوبصورت منظر نظر آتا ہے۔ اس مسجد کا نام سلطان ابو بکر کے بیٹے، سلطان ابراہیم نے رکھا، جنھوں نے اس کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ مسجد میں بیک وقت تقریباً 2000 نمازی سما سکتے ہیں۔

تصاویر مسجد

[ترمیم]

بیرونی روابط

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]