مسجد شب بھر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مسجد شب بھر
Shab Bhar Mosque
Masjid Shab Bhar 2.jpg
مسجد شب بھر
بنیادی معلومات
مقام

لاہور، پنجاب، پاکستان

پاکستان Flag of پاکستان
متناسقات 31°34′31″N 74°19′03″E / 31.5753°N 74.3176°E / 31.5753; 74.3176متناسقات: 31°34′31″N 74°19′03″E / 31.5753°N 74.3176°E / 31.5753; 74.3176
مذہبی انتساب اہل سنت
ملک پاکستان
تعمیراتی تفصیلات
نوعیتِ تعمیر مسجد
طرز تعمیر ہند-اسلامی طرز تعمیر، مغلیہ طرز تعمیر
سنہ تکمیل 1917 عام زمانہ
تفصیلات
گنبد 1
مینار 4
مواد اینٹ، سنگ مرمر

مسجد شب بھر شہر لاہور میں شاہ عالمی دروازہ سے بہت پہلے شاہ عالم مارکیٹ کے آغاز پر ایک مندر کے سامنے واقع ہے۔ اسے قیام پاکستان سے قبل مسلمانوں نے ایک رات میں تعمیر کرایا۔ مندر نے سڑک کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔
اسی مسجد کے بارے میں علامہ اقبال نے یہ شعر موزوں کیا تھا:

مسجد تو بنادی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا

ایک رات میں مسجد کی تعمیر کا دلچسپ واقعہ[ترمیم]

لاہور کے شاہ عالم چوک میں ایک ایسی مسجد واقع ہے جسے ایک رات میں تعمیر کیا گیا تھا- اس مسجد کی اتنے قلیل وقت میں تعمیر کی وجہ اور واقعہ بھی انتہائی دلچسپ اور ایمان افروز ہے-

تاریخ بتاتی ہے کہ انگریزوں کے دور میں اس مقام سے ایک مسافر کا گزر ہوا اور اس نے یہاں نماز ادا کی جبکہ یہ علاقہ اس وقت ہندوؤں کی اکثریت کا حامل تھا- ہندوؤں کو یہ برداشت نہ ہوا اور اور انہوں نے ہنگامہ آرائی شروع کردی-

معاملہ عدالت تک جا پہنچا اور وہاں ہندوؤں کا مؤقف تھا کہ اس جگہ پر مندر تعمیر ہوگا جبکہ مسلمان یہاں مسجد تعمیر کرنا چاہتے تھے- اس موقع پر مسلمانوں کے وکیل نے انہیں تجویز دی کہ اگر وہ یہاں صبح فجر سے پہلے مسجد تعمیر کرلیتے ہیں تو کیس کا فیصلہ ان کے حق میں ہو جائے گا- مسلمانوں کی جانب سے اس کیس کی پیروی قائد اعظم محمد علی جناح کر رہے تھے-

یہ سننا تھا کہ مسلمانوں نے گاماں پہلوان کی قیادت میں راتوں رات مسجد تعمیر کرنے کا فیصلہ کیا اور جس مسلمان کے پاس جو سامان تھا اس نے وہ مسجد کی تعمیر کے لیے وقف کر دیا۔ یہاں تک کہ خواتین رات بھر اپنے سروں پر پانی رکھ کر لاتی رہیں تاکہ مسجد کی تعمیر ممکن ہو سکے-

دوسری جانب مسجد کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد عدالت نے بھی مسلمانوں کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔

یہ مسجد 1917ء میں تعمیر کی گئی اور اس کا نام “مسجد شب بھر“ رکھا گیا- یہ مسجد 3 مرلے کے رقبے پر تعمیر ہے-

علامہ اقبال کو جب تیسرے روز اس مسجد کی تعمیر کا پتہ چلا تو آپ یہاں تشریف لائے اور بہت خوش ہوئے اور یہی وہ موقع تھا جب انہوں نے یہ مشہور شعر کہا:

مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی تھا برسوں میں نمازی بن نہ سکا

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]