مسجد عتبان بن مالک

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مسجد عتبان بن مالکمدینہ منورہ میں دور نبوی کی ایک مسجد ہے

وجہ تسمیہ[ترمیم]

عتبان بن مالک بن عمرو بن عجلان خزر جی سالمی انصاری نے جلیل القدر بدری صحابی ہے؟ امیر معاویہ عنہ کے دورحکومت میں 50ھ میں وفات پائی نبی اکرم صلى اللہ عليہ وسلم نے حضرت عتبان کے گھر کے ایک کونے میں نماز ادا فرمائی۔ حضرت عتبان نے اس جگہ کو نماز کے لیے خصوص کر لیا ہیں یہ مسجد ہے۔ [1]

محل وقوع[ترمیم]

مسجد جمعہ کے شمالی دروازے کے سامنے سڑک سے ملحقہ چار دیواری کے اندر یہ مسجد واقع تھی۔[2] یہ ا یک مربع زمین کا ٹکڑا ہے جس کے گرد چاردیواری تھی کے 1417ھ میں اس کا وجود ختم ہو گیا۔

نبی اکرم ﷺ کا نماز ادا کرنا[ترمیم]

بخاری نے محمود بن ربیع انصاری سے روایت کی ہے کہ حضرت عتبان انصاری صحابی ہیں اور جنگ بدر میں شریک ہوئے وہ رسول اکرم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: میری نظر کمزور ہو گئی ہے اور میں اپنی قوم کونماز پڑھاتا ہوں، جب بارش ہوجائے تو وادی بہنے لگتی ہے جو میرے اور ان کے درمیان میں ہے۔ اور میں انہیں جا کر نماز نہیں پڑھا سکتا۔ یا رسول اللہ ﷺ میرادل چاہتا ہے آپ میرے ہاں تشریف لا کر میرے گھر نماز ادا فرمائیں اور میں اس جگہ کو اپنی نماز کے لیے مخصوص کر لوں۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : انشاء اللہ میں عنقریب ایسے کروں گا حضرت عتبان یہ کہتے ہیں ایک دن جب سورج بلند ہو گیا تو آپ حضرت ابوبکر کو لیکرتشریف لائے اور اجازت طلب فرمائی میں نے اجازت دی تو بیٹھے نہیں بلکہ گھر میں داخل ہو کر فرمایا: تو کون سی جگہ پسند کرتا ہے کہ میں وہاں نماز ادا کروں۔ میں نے مکان کے ایک کونے کی طرف اشارہ کیا توآپ نے کھڑے ہو کر تکبیر کہی ہیں، ہم نے بھی آپ کے پیچھے صف بنالی آپنے دورکعت ادا کر کے سلام پھیر دیا۔ [3]

تاریخی ادوار[ترمیم]

این شبہ متوفی 212 ھ نے ان مساجد کے ضمن میں اس مسجد کا ذکر کیا جن میں رسول اکرم ﷺ نے نماز ادا فرمائی۔[4] مطری متوفی 741ھ کہتے ہیں کہ مسجد جمعہ کے شمال میں ایک کھنڈر ہے جسے مزدلف اطم عتبان بن مالک کہتے ہیں اور وہ وادی کے اندر ہے، جہاں ایک چھوٹی سی مسجد ہے وہ پتھروں کی چاردیواری ہے جو نصف قامت کے برابر ہے۔ اور یہ وہی ہے کہ سیلاب جب آتا تو ان کے اور عتبان کے درمیان میں حائل ہو جاتا۔ [5] سمہودی متوفی 911ھ نے اسے ان مساجد کے ضمن میں ذکر کیا ہے جن کی جہت تو معلوم ہو گئی لیکن اصل مقام نہ مل سکا۔ [6] گیارہویں صدی ہجری میں احمد عباسی نے انکشاف کیا کہ مسجد عتبان بن مالک مزدلف کے اندر بنی سالم بن خزرج کے گھر میں ہے جو مالک بن عجلان کا کھنڈر ہے اور مسجد جمعہ کے جانب شام مشرقی وادی کے کنارے کے پاس ہے۔ اس مسجد کا بہت لوگوں نے ذکر کیا ہے لیکن یہ مسجد چھپ چکی تھی اور اس کا اصل مقام گم ہو چکا تھا۔ اور متاخرین مورخین اس کی اصل جگہ معلوم نہ کر سکے تھے میں نے اسے معلوم و معین کرنے کی جدوجہد کی تو اللہ تعالی نے اسے مجھ پر واضح کر دیا لہذا میں نے اسے اس باب میں شامل کیا جنہیں معین کرنے کی اللہ تعالی نے مجھے توفیق بخشی۔ یہ مسجد عتبان بن مالک کے گھر میں ہے ہم نے اس کی تجدید پہلی بنیادوں پر کر دی یہ 1036ھ میں ہوا۔ لمبائی بارہ ہاتھ اور چوڑائی چھ ہاتھ ہے۔ [7]1076ھ کے سفر میں ابو سالم عیاشی نے بیان کیا ہے کہ مسجد جمعہ کے شمال میں ایک کھنڈر کی ٹیکری ہے جو عتبان بن مالک کا گھر بتلایا جا تا ہے۔ اس میں چھوٹی سی غیر مسقف مسجد کا نشان ہے کہتے ہیں کہ یہ وہ جگہ ہے جہاں عتبان کے گھر میں رسول اللہ نے نماز ادا فرمائی تھی۔ اور مسجد جمعہ اس وادی کے اندر ہے جو بہتے وقت عتبان اور اس کی قوم کے درمیان میں حائل ہو جاتی تھی۔ اس کی قوم کے گھر وادی کے مغرب میں حرہ کے راستہ پر تھے۔ [8]

مؤرخین کی رائے[ترمیم]

مورخین کے ان اقوال سے معلوم ہوا کہ وہ ان نکات پرمتفق ہیں :

  • مسجد حضرت عتبان کے گھر میں مزدلف کے اندرتھی۔ © مزدلف سے مراد حضرت عتبان کے والد مالک بن عجلان کا ٹیلہ نما ( کھنڈر) ہے۔
  • یہ کھنڈر مسجد جمعہ کے شمالی جانب ہے۔
  • اس سے معلوم ہو گیا کہ مسجد جمعہ کی جانب شام جو چھوٹی سی مسجد ہے وہی مسجد عتبان بن مالک ہے اور اس پر یہ تینوں باتیں صادق آتی ہیں۔[9]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اسدالغابہ
  2. المدينة بين الماضي والحاضرص102۔103
  3. البخاری کتاب الصلوۃ باب المساجد في البيوت
  4. تاریخ المدينة المنورة لابن شبہ
  5. التعريف بما انست الہجر ہ ص44-45
  6. وفاء الوفا - 878٫/3
  7. عمدة الاخبارص 207
  8. المدینہ المنورة في رحلة العیا شی ص 110
  9. مدینہ منورہ کی تاریخی مساجد ص 34ڈاکٹر محمد الیاس عبد الغنی