مسجد قاسم علی خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مسجد قاسم علی خان
Masjid Qasim Ali Khan
مسجد قاسم علی خان
Qasim Ali Khan Mosque.jpg
مسجد قاسم علی خان
بنیادی معلومات
مقامپشاور، پاکستان
مذہبی انتساباسلام
مکتب فکراہل سنت
ملکپاکستان
تعمیراتی تفصیلات
نوعیتِ تعمیرمغلیہ فن تعمیر
تاریخ تاسیس1842
تفصیلات
مینار4

مسجد قاسم علی خان پشاور کی ایک مسجد ہے ،یہ مسجد مغل شہنشاہ اورنگزیب عالمگیر کے دور میں قاسم علی خان نامی شخص نے تعمیر کرائی تھی جو ایک خبر نگار اور حکومتی شخصیت تھے۔ یہ مسجد قصہ خوانی بازار کے قریب واقع ہے۔

تاریخ[ترمیم]

کسی زمانے میں مولانا عبدالرحیم پوپلزئ افغانستان کے پہلے رسمی بادشاہ احمد شاہ ابدالی کیطرف سے پشاور کے قاضی تھے ـــ۔عبدالرحیم پوپلزئ کی وفات کے بعد ان کی جگہ عبدالحکیم پوپلزئ نے سنبھالی اور اس وقت کی مشہور تحریک تحریک خلافت میں بھی حصہ لیا۔بعد میں عبدالحکیم پوپلزئ خلافت کمیٹی کے سربراہ اور مسجد قاسم علی خان کے خطیب بھی رہے ــــ پھر عبدالحکیم پوپلزئ کی وفات کےبعد مفتی عبدالرحیم پوپلزئ جن کا نام ان کے دادا کے نام پہ رکھا گیا تھا وہ سامنے آئے ـــ۔وہ بچپن سے ہی تحریک خلافت سے وابستہ رہے ـــ۔عبدالرحیم ثانی نے فرنگی استعمار کے خلاف تحریک آزادی کی حمایت کی اور خود بھی اس تحریک میں شامل رہے اور تحریک آزادی کے حوالے سے سرفروش نامی ایک رسالہ بھی جاری کیا ــــــ۔جب قصہ خوانی بازار میں پشتونوں کا قتل عام ہوا اس وقت احتجاج میں بھی شامل رہے جس کی وجہ سے انہیں نوسال قید کاٹنا پڑی ـ۔عبدالرحیم پوپلزئ ثانی سرمایہ دارانہ نظام کے بدترین مخالف تھے ــ مولانا حسین احمد مدنی اور عبیدالله سندھی اور عبدالرحیم پوپلزئ ثانی ایک ہی سکول آف تھاٹ کے لوگ تھے۔ـ 1939 ء میں بنوں میں فرنگی استعمار کے خلاف احتجاج میں شامل ہوئے جس کی پاداش میں انہیں گرفتار کرکے پانچ سال کے لیے پس زندان کردیاگیا ــــــ 1944 میں ان کی وفات ہوئی۔ان کی وفات کے بعد مسجد قاسم علی خان کے امام ان کے چھوٹے بھائی عبدالقیوم پوپلزئ ٹہرے ___ مولانا عبدالقیوم کی وفات کےبعد مفتی شھاب الدین پوپلزئ مسجد قاسم علی خان کے امام قرار دیے گئے ــ۔اور ابھی تک اس منصب پہ ہیں ــــ پاکستان بننے سے بھی بہت پہلے پہلے مسجد قاسم علی خان سے اعلان کےبعد رمضان المبارک کا آغاز اور عید ہوتی تھی جو اب تک جاری ہے

مزید دیکھیے[ترمیم]