مسجد کامپونگ لاوت
| ||||
|---|---|---|---|---|
| ملک | ||||
| جگہ | کیلانتن | |||
| انداز معماری | مسلم فن تعمیر | |||
| الموقع الرسمى | باضابطہ ویب سائٹ | |||
![]() | ||||
| إحداثيات | 6°01′39″N 102°14′26″E / 6.0273733°N 102.2406248°E | |||
| درستی - ترمیم | ||||
مسجد کامپونگ لاوت ملیشیا کی قدیم ترین باقی رہنے والی اور قائم مسجد ہے جس کی تاریخ اٹھارویں صدی عیسوی کے اوائل تک پہنچتی ہے۔ یہ مسجد کیلانتن کے علاقے تومپات میں واقع ہے۔ [1]
تاریخ
[ترمیم]روایات کے مطابق مسجد کامپونگ لاوت کی تعمیر تقریباً سنہ 1400ء میں ماہی گیروں کے ایک گروہ نے کی تھی جو فطانی، جاوا اور برونائی کے ساحلی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے۔ اس کا طرزِ تعمیر مقامی روایتی طرزِ عمارت کی عکاسی کرتا ہے اور بالکل مقامی گھروں جیسا تھا۔ ابتدائی مسجد چار ستونوں اور کھجور کے پتوں سے بنے چھت پر مشتمل تھی۔ [2]
چونکہ اس کے طرزِ تعمیر میں "اجونگ دیماک" (1401ء میں تعمیر ہونے والا مسجد) سے مماثلت تھی اس لیے بعض لوگوں نے دعویٰ کیا کہ یہی وہ اصل مسجد تھی جو بعد میں یہاں منتقل کی گئی اور اسی نسبت سے اس کا نام "کامپونگ لاوت" پڑ گیا، مگر اس بات کے شواہد مضبوط نہیں۔
سلطان کلنتن (1859ء – 1900ء) کے عہد میں یہ مسجد سلاطین اور مذہبی رہنماؤں کے اجتماع کی ایک اہم جگہ بن گئی، ساتھ ہی یہ تجارتی سرگرمیوں کا بڑا مرکز بھی رہی۔ اس دور میں مسجد کو وسعت دی گئی، 20 ستون بنائے گئے، تین سطحوں پر مشتمل چھت تعمیر کی گئی، ایک بلند مینار اور پانی کا ذخیرہ بنایا گیا۔ فرش عمدہ لکڑی سے تیار کیا گیا۔ سنہ 1970ء میں مسجد کو حکومت کلنتن کے سپرد کیا گیا جو منتری بسار داتُک کی انتظامیہ کے تحت آئی۔
سیلاب
[ترمیم]مسجد کامپونگ لاوت دو بڑے سیلابوں سے محفوظ رہی:
پہلا سیلاب 1926ء میں آیا جسے "باہ ہوا میراح" کہا جاتا ہے۔
دوسرا سیلاب 1966ء میں آیا جس نے مسجد کے کئی حصے تباہ کر دیے، خاص طور پر وہ حصے جو دریا کے قریب تھے۔
مگر مقامی آبادی اور حکومت نے بعد ازاں مسجد کی مرمت اور بحالی کی اور آج بھی یہ مسجد اپنی تاریخی اور مذہبی حیثیت کے ساتھ موجود ہے۔
تصاویر
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ كيلاتانج اتراكتيف ان ماليزيا آرکائیو شدہ 2017-08-05 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ جورني ماليزيا آرکائیو شدہ 2017-07-24 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]



