مسجد کتبیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مسجد کتبیہ
Koutbia.jpg
مسجد کا رات کے وقت منظر
بنیادی معلومات
مقام مراکش, مراکش
مذہبی انتساب اسلام
ضلع مراکش
علاقہ مراکش
ملک مراکش
سنہ تقدیس 1184–1199
مذہبی یا تنظیمی حالت In use
حیثیت فعال
سربراہی عبدالمومن
تعمیراتی تفصیلات
معمار خلافت ابو یوسف یعقوب المنصور
نوعیتِ تعمیر مسجد
طرز تعمیر دولت موحدین
سنہ تکمیل بارہویں صدی کے اخیر پر
تفصیلات
مینار ایک
مینار کی بلندی 77 میٹر
مخروطہ ایک
مخروطہ کی بلندی 8 میٹر
مواد اینٹیں، بھربھرا پتھر، خزافی ٹائلوں
جامع کتبیہ

مسجد کتبیہ یا جامع کتبیہ (عربی: جامع الكتبية) مراکش کے شہر مراکش کی سب سے بڑی مسجد ہے۔ اس مسجد کا مینار موحدین کے خلیفہ یعقوب المنصور (1184ء تا 1199ء) کے دور حکومت میں مکمل ہوا۔

یہ مسجد کتبیہ اس لیے کہلاتی ہے کیونکہ اس کے نیچے کتابوں کی دکانیں تھیں۔ اس زمانے میں مراکش میں لکھنے پڑھنے کا شوق انتہا درجے تک پہنچا ہوا تھا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ کتابوں کی ان دکانوں کی تعداد ڈھائی سو تھی۔

اس مسجد کا مینار 69 میٹر (221 فٹ) بلند ہے۔ یہ مینار طرز تعمیر میں اپنے ہم عصر میناروں اشبیلیہ کے جیرالڈ اور رباط کے برج الحسان کے جیسا ہے کیونکہ یہ تینوں یعقوب المنصور کے عہد میں ہی تعمیر ہوئے۔ جیرالڈا اشبیلیہ کی جامع مسجد کا مینار ہے جبکہ برج الحسان یعقوب کے نامکمل منصوبوں میں سے ایک ہے۔ یعقوب نے رباط میں دنیا کی سب سے بڑی مسجد کی تعمیر شروع کروائی لیکن اس کی تکمیل سے قبل ہی انتقال کر گیا جس کے باعث یہ منصوبہ ادھورا رہ گیا اور صرف برج حسان اور بنیادی تعمیر ہی مکمل ہو سکی جو آج تک موجود ہے۔

جامع کتبیہ کی ایک دلچسپ چیز اس کا مقصورہ ہے۔ معماروں نے یہ مقصورہ اس طرح بنایا تھا کہ منصور کے مسجد میں داخل ہوتے ہی نمودار ہوجاتا اور جب وہ واپس چلا جاتا تو مقصورہ غائب ہوجاتا اور مسجد کی دیوار پہلے کی طرح برابر ہوجاتی۔