مسرت کلانچوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
پروفیسر مسرت کلانچوی
Musarat Kalanchvi.jpeg
پیدائش 10 نومبر 1956ء (عمر 62 سال)
بہاولپور، پاکستان
قلمی نام مسرت کلانچوی
پیشہ ڈراما نویس، افسانہ نگار، پروفیسر
زبان سرائیکی،اردو
قومیت Flag of پاکستانپاکستانی
نسل سرائیکی
شہریت Flag of پاکستانپاکستانی
تعلیم ایم اے (تاریخ)
مادر علمی اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور
اصناف ڈراما، افسانہ، تدریس
نمایاں کام اچی دھرتی جھکا اسمان
ڈکھن کنیں دیاں والیاں
تھل مارو دا پینڈا
اہم اعزازات قومی سیرت ایوارڈ
قومی ادبی انعام (اکادمی ادبیات پاکستان)
نیشنل بک فاؤنڈیشن ایوارڈ
ستارہ بہاولپور
شریک حیات اسلم ملک

مسرت کلانچوی (پیدائش: 10 نومبر، 1956ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والی سرائیکی زبان کی نامور افسانہ نگار، تاریخ کی سابق پروفیسر اور سرائیکی، اردو اور پنجابی کی ڈراما نویس ہیں۔ وہ ممتاز سرائیکی ادیب پروفیسر دلشاد کلانچوی کی دختر ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

مسرت کلانچوی 10 نومبر 1956ء کو بہاولپور، پاکستان میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد پروفیسر دلشاد کلانچوی سرائیکی زبان و ادب کے نامور محقق، نقاد، ناول نگار اور پروفیسر تھے۔ مسرت کو بچپن ہی سے علمی اور ادبی ماحول ملا۔ انہوں نے میٹرک کا امتحان گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول بہاولپور سے پاس کیا۔ پھر ایف اے اور بی اے صادق کالج فار گرلز بہاولپور سے پاس کرنے کے بعد ایم اے (تاریخ) کی ڈگری اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے حاصل کی۔[1][2]

ملازمت[ترمیم]

مسرت کلانچوی 1983ء میں گورنمنٹ کالج برائے خواتین حاصل پور میں لیکچرر مقرر ہوئیں۔ بعد ازاں ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے گورنمنٹ فاطمہ جناح کالج برائے خواتین لاہور میں شعبہ تاریخ کی صدر اور ویمن اسٹڈیز ڈپارٹمنٹ کی انچارج رہیں۔ بعد ازاں گورنمنٹ کالج برائے خواتین گلشن راوی لاہور کی پرنسپل کے طور پر 10 نومبر 2016ء کو ریٹائرڈ ہوئیں۔ اس کے علاوہ وہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کے بورڈ آف اسٹڈیز (سرائیکی) کی رکن بھی رہیں[2]۔ انہیں متعدد قومی ادبی انعامات کے کے لیے جیوری کا رکن بننے کا اعزاز بھی حاصل ہے جن میں پاکستان کا سب سے بڑا ادبی انعام کمال فن ادب انعام بھی شامل ہے۔

ادبی خدمات[ترمیم]

علم و ادب کے دلدادہ والد نے گھر میں بہترین لائبریری بنا رکھی تھی۔ بچوں کے اکثر رسائل وہاں آتے تھے جنہیں مسرت شوق سے پڑھتی تھیں۔ انہوں نے پہلی کہانی اس وقت لکھی جب وہ پانچویں جماعت کی طالب علم تھیں۔ ان کی یہ کہانی امروز میں شائع ہوئی۔ والد کے کہنے پر انہوں نے سرائیکی میں افسانے لکھے جو سرائیکی بہاولپور اور سرائیکی ادب ملتان میں چھپنے لگے[1]۔ انہیں یہ اعزاز حاصل ہے کہ سرائیکی زبان میں افسانوں کا سب سے پہلا مجموعہ اُچی دھرتی جھکا آسمان انہیں کا تحریر کردہ ہے جو 1976ء میں شائع ہوا، اسی وجہ سے انہیں سرائیکی ادب کی خاتون اول کہا جاتا ہے۔[2]

1975ء میں ریڈیو پاکستان بہاولپور کا آغاز ہوا تو مسرت اس کی اولین ٹیم کا حصہ تھیں۔ انہوں نے اس کے لیے پہلا فیچر پیکیاں دی نوکرانی لکھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے کئی پروگراموں کے کے لیے اسکرپٹ لکھے اور کمپئیرنگ کی، بطور معاون پروڈیوسر ذمہ داریاں نبھائیں اور صدا کاری بھی کی۔ 1985ء میں مسرت کی شادی سینئر صحافی اسلم ملک سے ہو گئی جو ان کے والد کے قریبی دوست کے بیٹے ہیں۔ شادی کے بعد مسرت لاہور مننتقل ہوگئیں۔[1]

مسرت نے اپنی تحریروں میں ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جو طبقاتی اونچ نیچ، خاندانی رسومات و روایات اور رویوں کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں سرائیکی علاقے کی عورت کی محرومیوں اور فرسودہ رسوم و رواج کے خلاف احتجاج جا بجا نظر آتا ہے۔ انسانی نفسیات، احساسات، جذبات اور معاشرتی رویوں کا باریک بین جائزہ مسرت کلانچوی کے افسانوں کی نمایاں خصوصیات ہیں۔ ان کی تصانیف میں اُچی دھرتی جھکا آسمان (افسانے)، ڈکھن کنیں دیاں والیاں (افسانے)، تھل مارو دا پینڈا (افسانے)، وڈیاں دا آدر (طویل کہانی)، سنجھہ صبا حیں (ڈرامے)، مکی مدنی (سیر ت)، اپنا گھر (اردو ڈراما)، حضورؐ کابچپن اور لڑکپن (سیرت) کے نام سے کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ انہیں نے طویل دورانیے کے ٹیلی وژن ڈرامے ایک منٹ، ورثہ اور دشتِ تنہائی میں اور ٹیلی وژن ڈراما سیریلز ریگ زار (اردو)، مسافت (اردو)، دھوپ سائبان (اردو)، پربت (اردو)، رت بدلے گی (اردو)، صحرا (اردو)، نور نظر (اردو)اور بوہے تے باریاں (پنجابی)، مٹی رنگے لوگ (پنجابی) اور پارت (سرائیکی) بھی لکھے۔ وہ پہلی ڈراما نویس ہیں جن کے تین زبانوں میں ڈراما سیریلز ٹیلی کاسٹ ہوئے۔[1]

تصانیف[ترمیم]

  • اچی دھرتی جھکا اسمان (افسانے)
  • ڈکھن کنیں دیاں والیاں (افسانے)
  • تھل مارو دا پینڈا (افسانے)
  • وڈیاں دا آدر (طویل کہانی)
  • مکی مدنی (سیرت)
  • حضورؐ کا بچپن اور لڑکپن
  • سنجھ صباحیں (ڈرامے)

اعزازات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب پ ت ڈراما 'دریا' اور ڈراما 'ریگزار' کا تقابلی مطالعہ (چولستان کے تناظر میں ) (مقالہ برائے ایم فل)، مقالہ نگار سلامت علی، نیشنل کالج آف بزنس ایڈمنسٹریشن اینڈ اکنامکس رحیم یار خان کیمپس، سیشن 2014-2016
  2. ^ ا ب پ سرائیکی ادب کی خاتون اول مسرت کلانچوی، انٹرویو فرزانہ چودھری، روزنامہ نوائے وقت سنڈے میگزین، صفحہ 9، 12 فروری، 2017ء