مندرجات کا رخ کریں

مسروق بن ابرہہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مسروق بن ابرہہ

معلومات شخصیت
وفات سنہ 570ء   ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
حضرموت   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قاتل وہرز   ویکی ڈیٹا پر  (P157) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
طرز وفات لڑائی میں ہلاک   ویکی ڈیٹا پر  (P1196) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت مملکت اکسوم   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والد ابرہہ   ویکی ڈیٹا پر  (P22) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دیگر معلومات
پیشہ گورنر   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

 

مسروق بن ابرہہ (وفات: 572ء) یمن پر حبشی قبضے کے آخری بادشاہ تھے۔ ان کے دور کے خاتمے کے ساتھ یمن میں حبشی اقتدار، جو تقریباً چالیس برس سے زائد عرصے تک قائم رہا، ختم ہو گیا۔ عربی تاریخی مصادر کے مطابق مسروق اپنے والد ابرہہ حبشی کے بعد اپنے بھائی اکسوم بن ابرہہ کے جانشین بنے۔ اکسوم اپنے والد کی وفات کے فوراً بعد حکمران بنے تھے، لیکن زیادہ عرصہ زندہ نہ رہے۔ اس بارے میں عبید بن شریہ روایت کرتے ہیں:

پھر ابرہہ کا دل پھٹ گیا اور وہ مر گیا۔ حبشیوں نے لشکر پر اکسوم بن ابرہہ کو بادشاہ مقرر کیا، لیکن وہ زیادہ دیر زندہ نہ رہا، پھر اس کی جگہ مسروق بن ابرہہ حکمران بنا۔

اسی روایت کی تائید ابن اسحاق اور ہشام کلبی نے بھی کی ہے۔ [1].[2]

ساسانی حملہ اور حکومت کا خاتمہ

[ترمیم]

بازنطینی مصادر کے مطابق فارس کے بادشاہ خسرو اول انوشیروان نے، ایک ایسے دور میں جب اس کے رومیوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات تھے، اپنے سپہ سالار میرانِس کو یمن روانہ کیا۔ اس نے یمن پر حملہ کیا، وہاں کے حکمران کو گرفتار کر لیا، شہر کو لوٹا اور باشندوں کو غلام بنا لیا۔ محققین کے مطابق بازنطینی مصادر میں مذکور حکمران Sanaturces دراصل مسروق بن ابرہہ ہی تھے۔ یہ واقعہ غالباً 572ء یا 571ء کے اواخر میں پیش آیا۔ اس رائے کی تائید فرانسیسی مؤرخ انطوان جودو اور محقق چارلس لی بو نے بھی کی ہے۔ عربی روایات کے مطابق سیف بن ذی یزن نے ساسانیوں کی مدد سے حبشی اقتدار کا خاتمہ کیا۔ ابو زرعہ بن سیف بن ذی یزن کی روایت کے مطابق ان کے والد نے حبشیوں کو رسول اللہ محمد کی ولادت کے تقریباً دو سال بعد یمن سے نکالا۔ یہی روایت عبد اللہ بن عباس سے بھی منقول ہے۔ عربی مصادر کے مطابق جب یمن میں حبشی اقتدار بہت مضبوط ہو گیا تو سیف بن ذی یزن مدد کی تلاش میں انطاکیہ گئے، جہاں اس وقت رومی شہنشاہ (قیصر) مقیم تھا۔ انھوں نے یمن پر حبشی تسلط اور اہلِ یمن کی حالتِ زار بیان کی، لیکن قیصر نے ان کی درخواست پر کوئی توجہ نہ دی۔ [3] والمراد بـ (Sanaturces) مسروق بن أبرهة،[4] .[5][6] [7].[8][9]

اس کے بعد سیف بن ذی یزن نعمان بن منذر کے پاس گئے، جو عرب علاقوں میں خسرو اول انوشیروان کا عامل تھا۔ نعمان نے انھیں ساسانی بادشاہ خسرو اول کے دربار تک پہنچایا۔ سیف نے خسرو کے سامنے یمن کی صورت حال بیان کی اور مدد کی درخواست کی۔ خسرو نے ان کے ساتھ تقریباً آٹھ سو افراد روانہ کیے، جو اس کی جیلوں میں قید تھے۔ ان کی قیادت ایک ایرانی سردار وہرز (Vahriz) کے سپرد کی گئی۔ عبید بن شریہ کی روایت میں اس کا نام خرزاد آیا ہے۔ یہ لشکر ابلہ سے روانہ ہوا، سمندری راستے سے عدن کے ساحل پر پہنچا، جہاں اہلِ یمن کی ایک بڑی تعداد ان کے ساتھ مل گئی۔ بعد ازاں انھوں نے حبشی افواج کا مقابلہ کیا اور جنگ میں حبشی حکمران مسروق بن ابرہہ مارا گیا۔ فتح کے بعد ساسانی لشکر صنعاء میں داخل ہوا اور کامیابی کی اطلاع خسرو اول کو بھیجی گئی۔ اس کے نتیجے میں یمن ساسانی سلطنت کے زیرِ اثر آ گیا، جبکہ سیف بن ذی یزن کو یمن کا حکمران مقرر کر دیا گیا اور ملکی امور کی نگرانی ان کے سپرد کر دی گئی۔ [10][11]

حوالہ جات

[ترمیم]