اینی بیسنٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(مسز اینی بسنٹ سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
اینی بیسنٹ
محترمہ اینی بیسنٹ
Annie Besant
Annie Besant.JPG
پیدائش 1 اکتوبر 1847 (1847-10-01)کلیپہیم، لندن، برطانیہ
وفات 20 ستمبر 1933 (عمر 85 سال)اڈیار، مدراس، ہندوستان
وجۂ شہرت تھیاسوفسٹ، خواتین کے حقوق کی حامی، مصنفہ، اسپیکر اور محبِ وطن بھارتی خاتون
مذہب ہندو
شریک حیات فرینک بیسنٹ
(شادی 1867ء، علیحدگی 1873ء)
بچے آرتھر بیسنٹ، میبل بیسنٹ

ڈاکٹر اینی بیسنٹ (پیدائش: 1 اکتوبر 1847ء - انتقال: 20 ستمبر 1933ء) معروف انگریز تھیاسوفسٹ، حقوق نسواں کی حامی، مصنفہ، اسپیکر اور محبِ وطن بھارتی خاتون تھیں جنھوں نے ہندوستان میں قائد اعظم محمد علی جناح اور بال گنگا دھر تلک کے ساتھ انڈین ہوم رول کی تحریک چلائی۔ 1847ء میں لندن میں پیدا ہوئیں۔ وہ چارلس بریڈلا سے بہت متاثر تھیں۔ 1882ء میں مادام بلاوسکی کے رابطہ میں آئیں اور 1889ء میں‌ مادام بلاوسکی کی تعلیمات سے متاثر ہو کر تھیوسوفسٹ ہوگئیں۔ 1889ء میں لیبر کانگریس پیرس میں شامل ہوئیں، اور 1898ء میں‌ بنارس میں ویدھیک قائم کیا جو بعد میں سینٹرل ہندو کالج بن گیا۔ 1907ء میں تھیو سافیکل سوسائٹی کی صدر منتخب ہوئیں۔ 1917ء میں برطانوی حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا۔ 1917ء ہی میں وہ آل انڈیا کانگریس کی صدر بھی بنیں۔ انہوں نے موٹیگیو چیمسفورڈ اصلاحات کی حمایت اور گاندھی جی کی عدم تعاون تحریک کی مخالفت کی۔ مدراس 1927ء میں سوراج تجویز کی حمایت کی۔

انہیں ہندوستان سے دلی انس تھا۔ اور جدوجہد آزادی میں انھوں نے نہایت اہم کردار انجام دیا۔ بیس سال کی عمر میں ان کی شادی فرینک سے ہوئی مگر نظریاتی اختلاف کے باعث 1873ء میں دونوں میں علیحدگی ہوگئی۔ ہندوستان کی مستقل شہری رہیں۔ 20 ستمبر 1933ء میں 85 سال کی عمر میں اڈیار (مدراس) کے مقام پر فوت ہوئیں۔ [1]

حالاتِ زندگی[ترمیم]

اینی بیسنٹ 1897ء میں

ڈاکٹر اینی ووُڈ بیسنٹ (Dr. Annie Wood Besant) کی پیدائش لندن شہر میں 1847ء میں ہوئی ۔ اینی کے والد پیشے سے ڈاکٹر تھے۔ والد کی ڈاکٹری پیشے کے بجائے اینی کو ریاضی اور فلسفہ میں گہری دلچسپی تھی۔ اینی ماں ایک مثالی آئرش خاتون تھیں۔ ڈاکٹر بیسنٹ کے اوپر ان کے والدین کے مذہبی خیالات کا گہرا اثر تھا، اپنے والد کی موت کے وقت ڈاکٹر بیسنٹ صرف پانچ سال کی تھی۔ والد کی موت کے بعد غربت کی وجہ ان کی ماں انہیں ہیرو لے گئی۔ جہاں دیکھیں مس میريٹ کی زیر نگرانی انہوں نے تعلیم حاصل کی۔ مس میريٹ انہیں فرانس اور جرمنی لے گئی اور ان ممالک کی زبانیں بھی سكھائی۔ 17 سال کی عمر میں اینی اپنی ماں کے پاس واپس آ گئیں۔ جوانی میں ان کا تعارف ایک نوجوان پادری سے ہوا اور1867ء میں اسی ریورینڈ فرینک سے اینی ووُڈ کی شادی بھی ہو گئی۔ شوہر کے خیالات سے عدم مساوات کی وجہ ازدواجی زندگی خوشحال نہیں رہی۔ تنگ نظر اور کٹر خیالات والا شوہر، اس غیر معمولی ذہین شخصیت اور روشن خیال خاتون کو اہنے ساتھ نہیں رکھ سکا ،1870ء تک وہ دو بچوں کی ماں بن چکی تھیں. خدا، بائبل اور عیسائی مذہب پر سے ان کی یقین ڈگمگا گیا، پادری شوہر اور اینی میں باہمی قیام مشکل ہوگیا اور انیوں نے 1874ء میں علیحدگی اختیار کرلی۔ طلاق کے بعد اینی بیسنٹ کو اقتصادی بحران کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں مضامین لکھ کر اپنی معاشی ضروریات پوری کتنی پڑی۔

اس وقت ڈاکٹر بیسنٹ کی ملاقات چارلس ویڈلا سے ہوئی ۔ اب وہ شکِ فلسفہ Scepsis کے بجائے توحید پرست Theisticہو گئیں ۔ لیکن قانون کی مدد سے ان کے شوہر دونوں بچوں کو حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے. اس واقعہ سے انہیں دلی تکلیف ہوئی۔ ڈاکٹر بیسنٹ نے برطانیہ کے قانون کی مذمت کرتے ہوئے کہا، ’’یہ انتہائی غیر انسانی قانون ہے جو بچوں کو ان کی ماں سے الگ کروا دیا ہے۔ اب میں اپنے دکھوں کا سدباب دوسروں کے دکھوں کو دور کرکے کروں گی اور سب یتیم اور بے بس بچوں کی ماں بنوں گی۔‘‘ ڈاکٹر بیسنٹ نے اپنی بات پر قائم رہتے ہوئے اپنی زیادہ تر زندگی غریبوں اور یتیموں کی خدمت میں ہی بسر کی۔

عظیم شہرت حاصل صحافی ویلین سٹيڈ سے ملاقات کے بعد اینی بیسنٹ تحریری اور اشاعتی کاموں میں زیادہ دلچسپی لینے لگیں، اپنا زیادہ تر وقت مزدوروں، قحط زدہ متاثرین اور جھگی جھونپڑیوں میں رہنے والوں کو سہولت دلانے میں بسر کرتیں۔ وہ کئی سال تک انگلینڈ کی سب سے زیادہ طاقتور عورت ٹریڈ یونین کی سیکریٹری رہیں، وہ اپنے علم اور طاقت کو سروس کے ذریعے ارد گرد پھیلانا ضروری سمجھتی تھیں۔ ان کا خیال تھا کہ بغیر آزاد روشن خیالات کے حق کی تلاش ممکن نہیں ہے۔

1878ء میں ہی انہوں نے پہلی بار ہندوستان کے بارے میں اپنے خیالات ظاہر کیا ۔ ان مضامین اور خیالات نے ہندوستانیوں کے دل میں ان کے لیے محبت پیدا کر دی۔ اب وہ ہندوستانیوں کے درمیان کام کرنے کے بارے میں دن رات سوچنے لگیں۔ 1883ء میں وہ سماج وادی نظریہ کی طرف متوجہ ہوئیں۔ وہ 'سوشلسٹ ڈیفنس تنظیم' نام کے ادارے سے جڑگئیں۔ اس ادارے میں ان کی خدمات نے انہیں کافی احترام دیا۔ اس ادارے نے ان مزدوروں کو سزا ملنے سے تحفظ فراہم کیا جو لندن کی سڑکوں پر نکلنے والے جلوس میں حصہ لیتے تھے۔ 1889ء میں اینی بیسنٹ تھياسوفی نظریات سے متاثر ہوئیں، ان کے اندر ایک طاقتور منفرد اور واحد تقریر کا فن موجود تھا۔ اس لئے بہت جلد انہوں نے اپنے لئے تھياسوفیكل سوسائٹی کی ایک اہم اسپیکر کے طور پر اہم مقام بنا لیا۔ انہوں نے تمام دنیا کو تھياسوفی کے اصولوں کے ذریعے اتحاد کے فارمولے میں باندھنے کی عمر بھر کوشش کی۔ بڑے ہی خوش قسمتی کی بات یہ ہوئی کہ انہوں نے ہندوستان کو تھياسوفی کی سرگرمیوں کا مرکز بنایا۔ چنانچہ ان کی ہندوستان آمد 1893ء میں ہوئی ۔ سن 1906ء تک ان کا زیادہ تر وقت بنارس میں گزرا، 1907ء میں وہ تھياسوفیکل سوسائٹی کی صدر منتخب ہوئیں۔

1917ء میں برطانوی حکومت نے انہیں گرفتار کر لیا۔ 1917ء ہی میں وہ انڈین نیشنل کانگریس کی صدر بھی بنیں۔

انہوں نے مغربی مادی تہذیب کی سخت تنقید کرتے ہوئے قدیم ہندو تہذیب کو بہترین ثابت کیا۔ مذہبی، تعلیمی، سماجی اور سیاسی میدان میں انہوں نے قومی نشاۃ ثانیہ کا کام شروع کیا۔ بھارت کے لئے سیاسی آزادی ضروری ہے اس مقصد کی وصولی کے لئے انہوں نے 'ہوم رول تحریک' منظم کرکے اس کی قیادت کی۔ انہوں نے موٹیگیو چیمفورڈ کے اصلاح کی حمایت کی اور گاندھی جی کے غیر تعاون تحریک کی مخالفت۔ مدراس 1927ء میں سوراج تجویز کی حمایت۔ انہیں ہندوستان سے دلی انس تھا۔ اور جدوجہد آزادی میں انھوں نے نہایت اہم کردار سرانجام دیا۔

نظریات[ترمیم]

ڈاکٹر بیسنٹ کی زندگی کا ایک ہی عقیدہ تھا ’’اعمال‘‘۔ وہ جس اصول پر یقین کرتیں اسے اپنی زندگی میں اتار کر تبلیغ دیتیں۔ وہ بھارت کو اپنے وطن سمجھتی تھیں۔ وہ پیدائش سے آئرش تھیں ، شادی انگریز سے کی اور بھارت کو اپنا لینے کی وجہ سے بھارتی طگی تھیں۔ بال گنگا دھر تلک، محمد علی جناح اور مہاتما گاندھی تک نے ان کی شخصیت کی تعریف کی ہے ۔ وہ ہندوستان کی آزادی کے نام پر قربان ہونے کے لیے ہمیشہ تیار رہتی تھیں۔ وہ بھارتی حروف نظام کی پرستار تھیں۔ لیکن ان کے سامنے مسئلہ تھا کہ اسے عملی کس طرح بنایا جائے تاکہ سماجی کشیدگی کم ہو۔ ان کی منظوری تھی کہ تعلیم کا مناسب مینیجنگ ہونا چاہئے۔ تعلیم میں مذہبی تعلیم کی شمولیت ہو۔ ایسی تعلیم دینے کے لئے انہوں نے 1898ء میں بنارس میں سینٹرل ہندو اسکول قائم کیا، سماجی برائیوں جیسے بچوں کی شادی، ذات پات کے نظام، بیوہ کی شادی ، بیرون ملک سفر وغیرہ کو دور کرنے کے لئے انہوں نے 'برادران آف سروس' نامی ادارے کی تنظیم کی، اس ادارے کی رکنیت کے لئے ضروری تھا کہ اسے نیچے لکھے عہد نامہ پر دستخط کرنا پڑتا تھا -

  1. میں ذات پات پر مبنی چھوت چھات نہیں کروں گا۔
  2. میں نے اپنے بیٹوں کی شادی 18 سال سے پہلے نہیں کروں گا۔
  3. میں اپنی بیٹیوں کی شادی 16 سال سے پہلے نہیں کروں گا۔
  4. میں بیوی، بیٹیوں اور رشتہ دار کی دیگر عورتوں کو تعلیم دلاؤں گا اور عورتوں کہ تعلیم کی تشہیر کروں گا۔ عورتوں کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کروں گا۔
  5. میں ہر خاص و عام میں تعلیم کی تشہیر کروں گا۔
  6. میں سماجی اور سیاسی زندگی میں ذات پات کی بنیاد پر تفریق کو مٹانے کی کوشش کروں گا۔
  7. میں فعال طور پر ان سماجی بندشوں کی مخالفت کروں گا جو بیوہ، خواتین کے سامنے آتے ہیں تو وہ دوبارہ شادی کرتی ہیں۔
  8. میں کارکنوں میں روحانی تعلیم اور سماجی اور سیاسی ترقی کے شعبے میں اتحاد لانے کی کوشش بھارتی قومی کانگریس کی قیادت اور ہدایت میں کروں گا۔

ڈاکٹر اینی بیسنٹ کی منظوری تھی کہ بغیر سیاسی آزادی کے ان تمام مشکلات کا حل ممکن نہیں ہے۔

ڈاکٹر اینی بیسنٹ مذہبی رجحان کی خاتون تھیں. ان کے سیاسی خیالات کی بنیاد تھی ان کے روحانی اور اخلاقی اقدار۔ ان کا خیال تھا کہ نیکی کے راستے کا تعین کیے بغیر روحانیت کے ممکن نہیں۔ فلاحی زندگی حاصل کرنے کے لئے انسان کی خواہشات کو الہی خواہش کے تحت ہونا چاہیے۔

تصانیف[ترمیم]

مصنفہ اور آزاد مفکر ہونے کے ناطے محترمہ اینی بیسنٹ نے قریباً 220 کتابوں اور مضامین تحریر اور اجیكس کے قلمی نام سے بھی کتابیں لکھیں ۔

تھیاسوفیكل کتابوں اور مضامین کی تعداد تقریبا 105 ہے۔ 1893ء میں انہوں نے اپنی سوانح عمری شائع کی تھی۔ مزید سوانح عمریوں پر تصانیف کی تعداد 6 ہے۔ انہوں نے صرف ایک سال کے اندر 1895ء میں سولہ کتابیں اور کئی پمفلیٹ شائع کئے جو900 سے بھی زیادہ صفحات بنتے ہیں۔ اینی بیسنٹ نے بھگودگيتا کا انگریزی ترجمہ کیا اور دیگر تخلیقات کے لئے پرستاوناے بھی لکھے. ان کے دیئے گئے لیکچر کی تعداد 20 ہوگی۔ بھارتی ثقافت، تعلیم اور سماجی اصلاحات پر 48 نصوص اور پمفلیٹ تخلیق کیے۔ . بھارتی سیاست پر تقریبا 77 اور بنیادی حقوق سے منتخب تقریبا 28 نصوص لکھے ۔ وقت وقت پر 'لوسیفر'، 'دی كامنويل' اور 'نیو انڈیا' کی ترمیم بھی اینی بیسنٹ نے کی۔ ان مشہور کتاب مندرجہ ذیل ہیں:

  • The Political Status of Women (1874)
  • Christianity: Its Evidences, Its Origin, Its Morality, Its History (1876)
  • The Law of Population (1877)
  • My Path to Atheism (1878, 3rd ed 1885)
  • Marriage, As It Was, As It Is, And As It Should Be: A Plea for Reform (1878)
  • The Atheistic Platform: 12 Lectures One by Besant (1884)
  • Autobiographical Sketches (1885)
  • Why I am a Socialist (1886)
  • Why I became a Theosophist (1889)
  • The Seven Principles of Man (1892)
  • Bhagavad Gita (translated as The Lord's Song) (1895)
  • The Ancient Wisdom (1898)
  • Thought Forms (1901)
  • The Religious Problem in India (1901)
  • Thought Power: Its Control and Culture (1901)
  • Esoteric Christianity (1905 2nd ed)
  • A Study in Consciousness: A contribution to the science of psychology. (ca 1907, rpt 1918)
  • An Introduction to Yoga (1908)
  • Australian Lectures(1908)
  • Annie Besant: An Autobiography (1908 2nd ed)
  • The Religious Problem in India Lectures on Islam, Jainism, Sikhism, Theosophy (1909)
  • Man and His Bodies (1896, rpt 1911)
  • Initiation: The Perfecting of Man (1912)
  • Man's Life in This and Other Worlds (1913)
  • Man: Whence, How and Whither with C. W. Leadbeater (1913)
  • Occult Chemistry with C. W. Leadbeater (1919)
  • The Doctrine of the Heart (1920)
  • The Future of Indian Politics 1922
  • The Life and Teaching of Muhammad (1932)
  • Memory and Its Nature (1935)
  • Various writings regarding Helena Blavatsky (1889–1910)

اینی بیسنٹ کے لکھے مختلف پمفلٹ

  • "Sin and Crime" (1885)
  • "God's Views on Marriage" (1890)
  • "A World Without God" (1885)
  • "Life, Death, and Immortality" (1886)
  • "The World and Its God" (1886)
  • "Atheism and Its Bearing on Morals" (1887)
  • "On Eternal Torture" (n.d.)
  • "The Fruits of Christianity" (n.d.)
  • "The Jesus of the Gospels and the Influence of Christianity" (n.d.)
  • "The Gospel of Christianity and the Gospel of Freethought" (1883)
  • "Sins of the Church: Threatenings and Slaughters" (n.d.)
  • "For the Crown and Against the Nation" (1886)
  • "Christian Progress" (1890)
  • "Why I Do Not Believe in God" (1887)
  • "The Myth of the Resurrection" (1886)
  • "The Teachings of Christianity" (1887)

محمد ﷺ کے متعلق تاثرات[ترمیم]

مسز اینی بیسنٹ اپنی کتاب میں لکھتی ہیں:

کسی بھی ایسے شخص کے لئے جس نے عرب کے عظیم پیغمبر کی زندگی اور آپ کے کردار کے بارے میں پڑھا ہو یہ نا ممکن ہے کہ وہ اپنے دل میں ان عظیم پیغمبر کے لیے انتہائی احترام کے علاوہ کچھ اور محسوس کرے۔ خود میں جب بھی ان عظیم پیغمبر کے بارے میں پڑھتی ہوں تو ان عظیم استاد کے لیے تعریف و توصیف کی ایک نئی لہر میرے اندر اٹھتی ہے اور احترام کا ایک نیا جذبہ اُبھرتا ہے۔[2][3]

وفات[ترمیم]

20 ستمبر 1933ء وہ ادھیار مدراس میں 85 برس کی عمر میں انتقال کرگئیں ۔ تا عمر بنارس کو ہی دل سے اپنا گھر ماننے والی اینی بیسنٹ کی استھیاں بنارس لائی گئیں اور باعزت طریقے سے انہیں دریائے گنگا میں وقف کر دیا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انڈین نیشنل کانگریس "بیرونی ربط"، http://aicc.org.in/languages/ur/Smt.%20Any%20Besent.php. 
  2. اینی بیسنٹ – کتاب ”محمد کی زندگی اور انکی تعلیمات‘‘ The Life And Teachings Of Muhammad –مطبوعہ مدراس 1932 – صفحہ 4
  3. ایک عالم ہے ثناخواں آپ کا "روحانی ڈائجسٹ"، http://roohanidigest.net/?p=781.