مسعودی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مسعودی
(عربی میں: المسعودي خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 896  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
بغداد  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 956 (59–60 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
قاہرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Black flag.svg خلافت عباسیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ جغرافیہ دان،  مؤرخ،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان عربی[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
شعبۂ عمل تاریخ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شعبۂ عمل (P101) ویکی ڈیٹا پر
P islam.svg باب اسلام

ابو الحسن علی بن حسین بن علی مسعودی شہرت مسعودی (پیدائش: 896ء– وفات: ستمبر 956ء) [3] مشہور مسلم مؤرخ، جغرافیہ دان اور سیاح تھے۔ وہ بغداد کے رہنے والے تھے۔

سیر و سیاحت[ترمیم]

اس عظیم سیاح نے اپنے شہر سے پہلا سفر ایران کا کیا اور پھر وہاں سے ہندوستان (موجودہ پاکستان) کے علاقوں کا سفر کیا۔ انہوں نے یہاں سندھ اور ملتان کی سیر کی اور پھر ہندوستان کے مغربی ساحلوں کے ساتھ ساتھ کوکن اور مالابار کے علاقوں سے ہوتے ہوئے لنکا پہنچے۔ یہاں وہ ایک تجارتی قافلے کے ساتھ چین گئے۔ چین سے واپسی پر انہوں نے زنجبار کا رخ کیا اور مشرقی افریقہ کے ساحلوں کی سیر کرتے ہوئے مڈغاسکر تک پہنچے۔ یہاں سے جنوب عرب اور عمان ہوتے ہوئے اپنے شہر بغداد واپس پہنچے۔ اس کے علاوہ خراسان، سجستان (جنوبی افغانستان)، کرمان، فارس، جرجان، طبرستان، جبال (میڈیا)، خوزستان، عراق (میسوپوٹیمیا کا نصف جنوب) اور جزیدہ (میسوپوٹیمیا کا نصف شمال) کی سیاحت کی۔ 941ء اور956ء کے درمیانی عرصہ میں انہوں نے شام، یمن، حضرموت، شحر اور مصر کا سفر کیا۔ انہوں نے سندھ، ہند اور مشرقی افریقہ کا سفر بھی کیا اور بحیرۂ خزر، بحیرۂ احمر، بحیرۂ روم اور بحیرۂ عرب کے پانیوں کی سیر بھی کی ایسے زمانے میں جب سفر بے انتہا کٹھن اور مشکل ہوتا تھا اس بہادر سیاح کا تمام خطرات کو مول لے کر اور جان ہتھیلی پر رکھ کر دنیا کے ایک بڑے حصے کی سیر کرنا ایک عجوبہ لگتا ہے۔ انہوں نے نہ صرف ان علاقوں کی سیر کی بلکہ ان ممالک کے حالات لکھ کر ان کے تہذیب و تمدن سے آگاہی بخشی۔

بغداد واپس پہنچنے کے بعد مسعودی کو پھر شوقِ سفر نے بے چین کیا۔ اب انہوں نے ایشیائے کوچک کا رخ کیا اور وہاں سے شام اور فلسطین کی سیر کرتے ہوئے مصر پہنچے۔ شاید وہ اندلس اور شمالی افریقہ کی جانب مزید سفر کرتے لیکن زندگی نے وفا نہ کی اور فسطاط مصر(قاہرہ قدیم) میں ان کا انتقال ہو گیا۔

المسعودی کا تیار کردہ دنیاء کا نقشہ- زمانہ غالباً دسویں صدی عیسوی کا تیسرا عشرہ 921ء سے 956ء کا وسطی زمانہ
مروج الذہب و معادن الجواہر کا سرورق جسے دارالکتب العلمیہ، بیروت، لبنان نے شائع کیا۔

تصنیفات[ترمیم]

اس عظیم سیاح و جغرافیہ دان نے کم و بیش 37 کتابیں تحریر کیں جن میں سے کچھ کے نام یہ ہیں

مسعودی کی کتابوں کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے مطالعے سے چوتھی صدی ہجری کی زندگی آئینے کی طرح سامنے آ جاتی ہے اور اس زمانے کی تہذیب و تمدن کا نقشہ کھینچ جاتا ہے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12015979m — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb12015979m — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  3. الاعلام الزركلی