مسعود حسین خان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مسعود حسین خان
معلومات شخصیت
پیدائش 28 جنوری 1919  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قائم گنج  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 16 اکتوبر 2010 (91 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
علی گڑھ  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات پارکنسن کی بیماری  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعداد اولاد 5   ویکی ڈیٹا پر تعداد اولاد (P1971) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ علی گڑھ
دہلی یونیورسٹی
جامعہ ملیہ اسلامیہ
پیرس یونیورسٹی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ شاعر، مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت جامعہ عثمانیہ  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ  (برائے:اقبال کی نظری و عقلی شعریات) (1984)[1]
ساہتیہ اکادمی ایوارڈ   ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مسعود حسین خان (28 جنوری 1919ء-16 اکتوبر 2010ء) ماہر لسانیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے سماجییات کے پروفیسر اوردہلی میں موجود مرکزی جامعہ جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سابق وائس چانسلر ہیں۔

16 اکتوبر 2010ء کو ان کی وفات پارکنسن کی بیماری سے ہوئی۔[2]

خاندان[ترمیم]

مسعود حسین خان کی ولادت اتر پردیش کے ضلع فرخ آباد کے قائم گنج میں ایک آفریدی پشتون خاندان میں ہوئی۔ ان کے خاندان کو وائس چانسلر کا خاندان بھی کہا جاتا ہے کیونکہ برصغیر کی چار یونیورسٹیوں کو اس خاندان وائس چانسلر دیے ہیں۔

مسعود حسین کے والد مظفر حسین خان (1893ء-1921ء) نے اپنی تعلیم اسلامیہ ہائی اسکول اٹاوہ اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے مکمل کی۔ انہوں نے حیدرآباد میں وکالت شروع کی مگر ٹی بی کی بیماری کی وجہ سے محض 28 برس کی عمر میں اللہ پو پیارے ہو گئے۔ مظفر حسین خان ان کے سب سے بڑے بھائی تھے۔ ان کے دیگر بھائی؛

مسعود حسین کی والدہ فاطمہ بیگم مندرجہ ذیل اصحات کی بڑی بہن تھیں؛

  • قدوس عالم خان، قائ گنج کے زمیندار اور مسعود حسین خان کے سسر بھی ہیں۔ قدوس عام خان کی اہلیہ اور مسعود حسین خان کی ساس بدرالدجی بیگم امارت بھیکم پور و دتاولی کے نواب محمد یوسف خان شیروانی کی صاحبزادی تھیں اور انہوں نے روس ترکی جنگ 1877ء-78ء میں سلطنت عثمانیہ کو 50,000 روپئے کی خطیر رقم بطور تحفہ دی تھی اور اس کی وجہ سے نواب فیض احمد خان کو 8 توپوں کی سلامی دی گئی تھی۔

تعلیم[ترمیم]

جامعہ ملیہ اسلامیہ سے ابتدایہ تعلیم مکمل کرنے کے بعد انہوں نے کچھ مدت ڈھاکہ میں تعلیم حاصل کی۔ ذاکر حسین کالج، دہلی یونیورسٹی سے بی اے کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے ایم اے۔ رشید احمد صدیقی کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کی اور اپنا مقالہ مقدمہ تاریخ زبان اردو کے نام سے جمع کیا جو بعد میں شائع ہوا اور ان کا شاہکار قرار پایا۔ انہوں نے ہندی اور سنسکرت بھی سیکھی۔ انہیں بنگالی اور فارسی کی بھی شدھ بدھ تھی۔ 1953ء میں جامعہ پیرس نے انہیں لسانیات میں ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری دی۔

کتابیات[ترمیم]

ان کا شاہکار مقدمہ تاریخ زبان اردو ہے جس میں انہوں نے اردو زبان کی تاریخ اور اس کے آغاز و ارتقا پر مفصل بحث کی ہے۔ اردو زبان کے آغاز کی متعدد رجحانات اور اقوال کا انہوں نے موازنہ کیا ہے اور سب پ تنقیدی بحث کی ہے۔ اس ضمن میں ان کی یہ کتاب بہت مستند مانی جاتی ہے اور اکثریت نے ان کی تھیوری کو قبول کیا ہے۔ ان کی دوسری کتاب اردو زبان و ادب ہے جو 1954ء میں شائع ہوئی اور بام عروج کو پہونچی۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. http://sahitya-akademi.gov.in/awards/akademi%20samman_suchi.jsp#URDU
  2. TwoCircles.net۔ "Ex-Jamia VC Prof. Masood Husain Khan passes away – TwoCircles.net"۔
  3. "Sahitya Akademi Award winners"۔ Sahitya Akademi Award۔ 2015۔ اخذ شدہ بتاریخ 28 مئی 2015۔
  4. Muazzam Hussain Khan۔ "Khan, Mahmud Husain"۔ بہ Sirajul Islam؛ Ahmed A. Jamal۔ Banglapedia: National Encyclopedia of Bangladesh (اشاعت Second۔)۔ Asiatic Society of Bangladesh۔ مورخہ 30 جنوری 2008 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔

بیرونی روابط[ترمیم]