مسلسل بالاولیہ (اصطلاح حدیث)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

علم حدیث میں اس سے مراد وہ حدیث ہے جس میں ہر راوی روایت کرنے سے پہلے کوئی قول یا فعل پیش کرے جیسے مجھے فلاں نے یہ حدیث بیان کی جبکہ یہ حدیث میں نے سب سے پہلے سنی۔ یایہ کہے کہ اس نے پہلے یہ الفاظ کہے انی احبک یہ حدیث قولی کہلائے گی یا یہ کہے جب اس نے روایت بیان کی وہ کجھور کھا رہا تھا یا اس نے اپنی داڑھی پر ہاتھ رکھا ہوا تھا یہ حدیث فعلی کی مثال ہے۔ یا کوئی نقص یا عیب بیان ہو اور وہ نقص ابتدا سے آخر تک تسلسل سے بیان ہو رہا ہو جیسے ایک حدیث سفیان بن عیینہ سے صرف روایت ہے اور ابتدا سے انتہا تک یہ الفاظ ملتے ہیں کہ فقد وھم(انہیں وہم ہوا )[1] حديث المسلسل بالأوليۃ کی مثال [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. اليواقيت والدرر في شرح نخبة ابن حجر،عبد الرؤوف المناوي القاهري
  2. مباحث في الحديث المسلسل ،المؤلف: أحمد أيوب محمد عبد الله الفياض،الناشر: الكتب العلمية، بيروت - لبنان