مندرجات کا رخ کریں

مسلم شاور

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ایک مسلم شاور جو ایک ہوٹل کے غسل خانے میں نصب ہے (ہلسنکی، فن لینڈ)

مسلم شاور یا ہینڈ شاور یا جیٹ اسپرے جو طہارتی آلہ بھی کہا جا سکتا ہے اور جسے عالم عرب میں شطافہ (عربی: شَطَّافَة) کہا جاتا ہے، ایک دستی ٹونٹی ہوتی ہے جسے بیت الخلا کے قریب نصب کیا جاتا ہے۔ اس ٹونٹی سے پانی کا چھڑکاؤ ہوتا ہے جسے گو اور بول کے بعد شرمگاہ اور مقعد کی صفائی کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ آلہ باورچی خانہ کے آب گیر (بیسن) کے چھڑکاؤ کرنے والے آلہ سے مشابہت رکھتا ہے۔[1]

تفصیل

[ترمیم]

مسلم شاور ان افراد کے لیے پانی کا ذریعہ ہے جو ٹوائلٹ کے بعد صفائی کے لیے پانی کا استعمال ترجیح دیتے ہیں۔ یہ روایتی طریقوں جیسے بیڈے (Bidet)، لوٹا، ڈول اور مگ کے مقابلے میں زیادہ جدید، صاف اور کارآمد ہے۔ مسلم شاور کے استعمال میں پانی کے چھڑکاؤ اور استعمال شدہ بہنے والے پانی کے درمیان کوئی براہ راست رابطہ نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے یہ زیادہ حفظان صحت کے مطابق سمجھا جاتا ہے۔[2]

استعمال

[ترمیم]

مسلم شاور استعمال کرنے والا شخص ٹونٹی کو شرمگاہ یا مقعد کی طرف رکھ کر پانی کے تیز چھڑکاؤ سے صفائی کرتا ہے۔ صفائی کے بعد ٹوائلٹ پیپر یا تولیہ خشک کرنے کے لیے استعمال ہو سکتا ہے۔ استعمال کے بعد مسلم شاور کو جراثیم کش وائپس، جراثیم کش اسپرے یا دیگر صفائی کے طریقوں سے صاف کیا جاتا ہے۔

عمومی استعمال

[ترمیم]

مسلم شاور بنیادی طور پر مشرق وسطی، جنوبی ایشیا، جنوب مشرقی ایشیا، جنوبی امریکا، شمالی افریقا اور دیگر خطوں میں استعمال ہوتا ہے، جہاں فضلے اور پیشاب کے بعد صفائی کے لیے پانی کو ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ان ممالک میں شامل ہیں: الجزائر، بنگلہ دیش، برازیل، کمبوڈیا، مصر، بھارت، انڈونیشیا، ایران، عراق، ملائیشیا، مالدیپ، نیپال، پاکستان، فلپائن، سنگاپور، سعودی عرب، سری لنکا، تھائی لینڈ، متحدہ عرب امارات، ویتنام وغیرہ۔ ان ممالک میں مسلم شاور اکثر مغربی طرز کے بیت الخلا کے ساتھ نصب کیا جاتا ہے۔

پاکستان، ہندوستان، تھائی لینڈ اور جزیرہ نما عرب میں مسلم شاور مغربی طرز کے بیت الخلا اور ڈبلیو سی والے بیت الخلا دونوں میں عام ہے۔ اس قدر مقبولیت کی وجہ سے، مثال کے طور پر تھائی لینڈ کی پارلیمان کے اراکین نئے پارلیمانی عمارت میں مسلم شاور نہ ہونے پر سخت برہم ہوئے۔[3]

مذہبی اور ثقافتی پہلو

[ترمیم]

مسلم شاور مسلمانوں کے درمیان اسلامی طہارت کے اصولوں کے تحت استعمال ہوتا ہے، جہاں پانی کے ذریعے صفائی کو انتہائی اہم سمجھا جاتا ہے۔[4] عربی زبان میں اسے "شطافہ" کہا جاتا ہے۔

مسلم شاور کا استعمال صرف مسلمانوں تک محدود نہیں بلکہ کئی مسیحی ممالک جیسے فن لینڈ اور یونان میں بھی مقبول ہے، جہاں پانی کے ذریعے صفائی کو بائبل کے اصولوں کے مطابق اہم سمجھا جاتا ہے۔[5]

نگارخانہ

[ترمیم]

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Stella-maris Ewudolu (6 ستمبر 2018)۔ "And now, a movie about the humble 'bum gun' (video)"۔ AEC News Today۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-08-15
  2. Leslie Nguyen-Okwu (9 مئی 2016)۔ "Trade the Toilet Paper for a Bum Gun"۔ Yahoo News۔ اخذ شدہ بتاریخ 2019-08-15
  3. Tappanai Boonbandit (15 Aug 2019). "MPs dump on parliament's lack of ass-blasters in toilets". Khaosod (بزبان انگریزی). Bangkok. Retrieved 2019-08-17.
  4. Arab Cultural Awareness:58 Factsheets (PDF)۔ Fort Leavenworth, کنساس, ریاست ہائے متحدہ۔ جنوری 2006۔ ص 16۔ 2014-08-24 کو اصل (PDF) سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2024-12-22 {{حوالہ کتاب}}: |کاوش= تُجوهل (معاونت)اسلوب حوالہ 1 کا انتظام: مقام بدون ناشر (link)
  5. Mary E. Clark (2006)۔ Contemporary Biology: Concepts and Implications۔ University of Michigan Press۔ ISBN:978-0-7216-2597-3