مسودہ:علم قافیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

علم قافیہ ایک ایسا علم ہے جس میں قافیہ سے آگاہی ہوتی ہے۔

قافیہ کی تعریف[ترمیم]

پابندِ بحور شاعری کی درجِ ذیل اصناف پر غور کیجئے۔ سب سے نمایاں

بیت وہ صنفِ شعر ہے جس کے دو مصرعے ہوتے ہیں جو عروضی وزن میں متماثل ہوتے ہیں۔ یہاں ایک اصطلاح ’’زمین‘‘ خاص طور پر یاد رکھنے کے قابل ہیں۔ زمین کے دو عنصر ہیں: وزن اور قافیہ؛ دو یا زیادہ ابیات کو ہم زمین کہیں گے اگر ان کے تمام مصرعے ایک ہی عروضی وزن میں ہوں اور اس کے جفت مصرعے ہم قافیہ ہوں۔ ابیات یا اشعار کے ایک مجموعے میں ہر جفت مصرعے کے آخر میں قوافی سے متصل وہ الفاظ جو بہ تکرار متماثل واقع ہوں ردیف کہلاتے ہیں۔ ردیف بیت کا جزوِ لازم نہیں، تاہم ردیف اگر اختیار کر لی جائے تو اس کو پورے فن پارے میں نبھانا لازم ہو جاتا ہے۔ نواب مرزا خان داغؔ دہلوی کی یہ غزل ملاحظہ ہو:

رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
آپ سے تم، تم سے تو ہونے لگی

یہ غزل بحر رمل مسدس محذوف (فاعلاتن فاعلاتن فاعلن) میں ہے۔ اس کے پہلے دونوں مصرعوں اور پھر ہر جفت مصرع کے آخری الفاظ ہیں: گفتگو ہونے لگی، تم سے تو ہونے لگی، دو بدو ہونے لگی، کو بکو ہونے لگی، روبرو ہونے لگی، آرزو ہونے لگی، جستجو ہونے لگی، آبرو ہونے لگی۔ ’’ہونے لگی‘‘ ان سب میں مشترک الفاظ ہیں اور بالکل آخر میں واقع ہوئے ہیں۔ اصطلاحاً اس کو ردیف کہتے ہیں۔ ردیف سے پہلے الفاظ ہیں: گفتگو، تم سے تو، دو بدو، کو بکو، روبرو، آرزو، جستجو، آبرو۔ یہ الفاظ الگ الگ ہیں تاہم ان میں قدرِ مشترک اِن کے آخر کی صوتیت (واوِ معروف) ہے۔ ان کو قوافی (قافیہ کی جمع) کہا جاتا ہے۔

کلامِ اقبال سے ایک نمونہ دیکھئے:

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

یہ فن پارہ بحرِ مزدَوِج میں ہے۔ اس میں ایک مصرعے کا وزن ’’فاعلتن مفاعلن ‘‘ دو بار کے برابرہے اور مفاعلن کے مقابل مفاعلات آ سکتا ہے۔ اس فن پارے کے قوافی ہیں: الکتاب، حباب، آفتاب، بے نقاب، حجاب، اضطراب؛ یہاں ردیف نہیں لائی گئی۔

گویا، قافیہ کسی بیت کے آخر میں واقع ہونے والے وہ الفاظ ہوئے جو مشترک صوتیت رکھتے ہوں۔ ترتیب میں پہلے وہ الفاظ جن کی اختتامی اصوات متماثل ہیں (قافیہ) اور ان کے بعد وہ الفاظ جو املاء اور اصوات دونوں میں متماثل ہوں (ردیف)۔ ردیف ایک لحاظ سے قافیے ہی کی توسیع ہے۔

قافیے کا اعلان[ترمیم]

ابیات و اشعار کے اوزان اور دیگر جزئیاتِ شعری کے لئے غزل کے اشعار بہترین مواد فراہم کرتے ہیں۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ غزل کا ایک شعر (بیت) مضمون کے حوالے سے بھی آزاد اکائی ہوتا ہے، اور فنیات میں بھی۔ ایک غزل کے جملہ اشعار ایک زمین میں ہوتے ہیں۔ مطلع کے دونوں مصرعوں میں قافیہ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ در اصل ردیف اور قافیہ دونوں کا اعلان ہوتا ہے۔ مطلع کے دونوں قافیے اس انداز میں طے ہوتے ہیں جس سے عیاں ہو جائے کہ آئندہ اشعار میں قوافی پر کیا کیا پابندی عائد ہو گی۔ ردیف اختیاری ہوتی ہے تاہم مطلع کے دونوں مصرعوں میں اگر ردیف بھی شامل ہو گئی تو وہ ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں اسی املاء میں (حرف بہ حرف) شامل ہو گی۔ مناسب تر ہے کہ ردیف کو بجا اہمیت دینے کے ساتھ ساتھ قافیے کی توسیع سمجھا جائے۔

رنج کی جب گفتگو ہونے لگی
آپ سے تم، تم سے تو ہونے لگی

اس میں ’’ہونے لگی‘‘ ردیف ہے، استاد داغؔ نے ہر شعر میں اس کا اہتمام کیا ہے۔ قوافی ہیں: گفتگو، تم سے تو، دو بدو، کو بکو، روبرو، آرزو، جستجو، آبرو؛ ان سب میں صرف ایک حرف آخری واو ( واوِ معروف) حرفِ قافیہ ہے۔ گویا اس غزل کے لئے تین باتیں طے ہو گئیں: غزل کا ہر شعر ’’فاعلاتن فاعلاتن فاعلن‘‘ پر پورا اترے گا؛ حرفِ قافیہ واوِمعروف ہو گا، یعنی اس سے پہلا حرف جو بھی ہو اُس پر پیش (ضمہ) ہو گا؛ ردیف ’’ہونے لگی‘‘ کو ہر بیت کے آخر میں شامل کیا جائے گا۔

لوح بھی تو قلم بھی تو تیرا وجود الکتاب
گنبدِ آبگینہ رنگ تیرے محیط میں حباب

اس غیر مردّف فن پارے کے قوافی ہیں: الکتاب، حباب، آفتاب، بے نقاب، حجاب، اضطراب؛ جن سب کا آخر ’’اب‘‘ (الف حرفِ علت، ب ساکن) ہے۔ الف حرف علت کا خاصہ ہے کہ یہ اپنے ماقبل کو زبر (فتحہ) دیتا ہے۔ سو، یہ الف حرف قافیہ ہوا اور لفظ کے آخری حرف (ب) کو جو ہر قافیے میں موجود ہے، حرفِ قافیہ کا معاون مانا جائے۔

اپنی جولاں گاہ زیرِ آسماں سمجھا تھا میں
آب و گل کے کھیل کو اپنا جہاں سمجھا تھا میں

ردیف: ’’سمجھا تھا میں‘‘؛ قوافی: آسماں، جہاں،ہم عناں، فغاں؛ وغیرہ۔ ان قوافی میں حرفِ قافیہ وہی الف (حرفِ علت) ہے، اس پر نون غنہ وارد ہوا ہے۔ تقطیع میں نون غنہ کی حیثیت سے قطع نظر، ہمیں تسلیم کرنا ہو گا کہ اس کی وجہ سے آواز کا رُخ ناک کی طرف ہو جاتا ہے اور صوتیت بدل جاتی ہے۔ اسے ہم حرف کے خواص میں شامل کرتے ہیں۔ اور یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ حرفِ قافیہ حرفِ علت ہو تو اس میں اس کا بہ غنہ یا بغیر غنہ ہونا بھی پیشِ نظر رکھا جائے گا۔

لبوں پر ہیں تالے، نگہ پر ہیں پہرے
ہم انساں ہیں یا چلتے پھرتے کٹہرے

(منیر انور)

ردیف (کوئی نہیں)؛ قوافی: پہرے، کٹہرے، ٹھہرے، گہرے؛ وغیرہ۔ یہاں ہائے ہوز مجزوم حرفِ قافیہ ہے۔ اور اس سے پہلے حرف پر زبر (فتحہ) ہے۔ لفظ کے بقیہ حروف یہاں دو ہیں(ر ے)۔ ایک حرف کی مثال اقبال کے اشعار میں آ چکی ہے۔ لفظِ قافیہ میں حرفِ قافیہ کے بعد جو کچھ بچ رہے (یعنی اس لفظ کا بقیہ، جو ظاہر ہے حرفاً، اعراباً، صوتاً باہم متماثل ہو گا)، اس کو حرفِ قافیہ کا معاون مان لیا جائے، اس سے تفہیم آسان ہو جاتی ہے۔

حدیثِ درد کو آخر بیاں تو ہونا تھا
جو کرب دل میں چھپا تھا عیاں تو ہونا تھا

(منیر انور)

ردیف: ’’تو ہونا تھا‘‘؛ قوافی: بیاں، عیاں، وہاں، کارواں؛ وغیرہ۔ یہاں بھی الف حرفِ علت (ماقبل زبر کی خاصیت الف علت میں از خود شامل ہے) بہ غنہ کو حرفِ قافیہ مان لیا جائے؛ بقیہ ردیف ہے۔

حرفِ قافیہ سے فوراً پہلے واقع ہونے والے حروف باہم مختلف ہوتے ہوئے بھی ایک قدرِ مشترک رکھتے ہیں، وہ ہے ان کا حرفِ قافیہ سے اتصال اور اعراب یا عدم اتصال اور ان حروف کا اپنا اعراب، گویا حرفِ قافیہ سے اس کا تعلق کس نہج پر استوار ہے۔ لہٰذا ہم حرف ماقبل حرفِ قافیہ کو حرفِ قافیہ کا نقیب مانتے ہیں۔

ہوا ہے اُس پہ چاہت کا اثر آہستہ آہستہ
شفق اتری تو ہے رخسار پر آہستہ آہستہ

(منیر انور)

ردیف: ’’آہستہ آہستہ‘‘؛ قوافی: اثر، پر، نظر؛ وغیرہ۔ اس میں رائے مجزوم حرفِ قافیہ ہے اور اس کے نقیب پر زبر (فتحہ) ہے۔

سرمئی شام ہی اتری ہے ابھی وادی میں
رات حائل ہے ابھی صبح کی تابانی میں

(محمد یعقوب آسی)

ردیف: ’’میں‘‘؛ قوافی: وادی، تابانی، بستی، آگاہی، پیراکی؛ وغیرہ۔ اس غزل میں ی (یائے معروف) حرفِ قافیہ ہے۔ یاد رہے کہ یائے معروف وہ یائے مجزوم ہے جس کے ماقبل پر زیر (کسرہ ) ہو۔ یہاں د، ن وغیرہ نقیب ہیں۔

پھر سے طاری ہے زندگی پہ جمود
اور نایاب رہگزارِ کشود

(محمد یعقوب آسی)

ردیف (کوئی نہیں)؛ قوافی: جمود، کشود، شہود، سجود، بے سود، ناموجود، مسعود؛ وغیرہ۔ ان اشعار میں واوِ معروف (واوِ مجزوم جس کے ماقبل پر پیش یعنی ضمہ ہے) حرفِ قافیہ ہے، اور ’’د‘‘ اس کا معاون ہے، جب کہ ج، ک نقیب ہیں۔

کیسا ماحول ساز گار ہوا
دل زدوں میں مرا شمار ہوا

(محمد یعقوب آسی)

ردیف: ’’ہوا‘‘؛ قوافی: سازگار، شمار، سوار، آب دار، غبار؛ وغیرہ ؛ الف علت حرفِ قافیہ اور ’’ر‘‘ اس کا معاون ہے۔ گ، م نقیب ہیں۔ قریب الصوت قوافی

قوافی کو عرفِ عام میں ہم قافیہ الفاظ کہا جاتا ہے۔ حرکات اور نون غنہ کے اشتراک کے حوالے سے بات ہو چکی، ہم یہاں حرفِ قافیہ کو مخارج کے حوالے سے دیکھیں گے۔ یہاں احبابِ علم کی آراء تقسیم ہو چکی ہیں۔ ایک مکتبِ فکر کا کہنا ہے کہ حرفِ قافیہ کو قطعی ہونا چاہئے یعنی قریب المخارج اصوات کی بھی گنجائش نہیں۔ تاہم بہت قریب المخارج حروف قافیہ میں ایک دوسرے کے مقابل لائے جاتے ہیں۔ ت کے ساتھ تھ کا قافیہ بہت عام ہے۔ غلام محمد قاصر کا یہ شعر:

اکیلا دن ہے کوئی اور نہ تنہا رات ہوتی ہے
میں جس پل سے گزرتا ہوں محبت ساتھ ہوتی ہے

ہمارے مطالعہ میں ایسی غزلیں بھی آئی ہیں جن کے قوافی میں ذ، ز، ض، ظ کو؛ اور الف اور عین کومقابل لایا گیا ہے۔

موجہء گل کو ہم آواز نہیں کر سکتے
دِن ترے نام سے آغاز نہیں کر سکتے
عشق میں یہ بھی کھلا ہے کہ اٹھانا غم کا
کارِ دشوار ہے اور بعض نہیں کر سکتے

(پروین شاکر)

آ رہا ہے ڈر مجھے انجام کا آغاز سے
ابتدا سے ہی نظر آتے ہیں وہ ناراض سے
خصلت و عادات سے ہی امتیازِ نسل ہے
ورنہ صورت چیل کی بھی ہے مشابہ باز سے

(وحید ناشاد)

پنجابی شاعری میں البتہ قابلِ قبول حروفِ قافیہ کے مندرجہ ذیل گروہ عام طور پر معروف ہیں: (ب، پ)، (ت، تھ)، (ت، ٹ)، (ث، س، ص)، (ح، ہ)، (خ، ک، کھ)، (د، ڈ، ڈھ)، (ر، ڑ، ڑھ)، (ذ، ز، ض، ظ)، (ا، ع، ہ)، (ق، ک)، (گ، غ)، (ن، ں)، (ف، پھ)۔

نقیب (ماقبل حرفِ قافیہ)[ترمیم]

نقیب کا مختصر ذکر پہلے ہو چکا، کچھ امور کی وضاحت ہو جائے۔

اول: بعض فن پاروں کی قوافی کی کچھ ایسی صورت پیش آتی ہے: (مِلا، سِلا، صلہ، گِلا، دِلا؛ بَلا، جَلا، گَلا، چَلا؛ رُلا، سُلا، تُلا) ان میں لام اپنے ماقبل کے ساتھ مجزوم نہیں، مگر سب قوافی میں موجود ہے؛ حرف ماقبل لام متحرک ہے مگر حرکات متماثل نہیں ہیں۔ ہمارے نزدیک یہ قوافی کے تین الگ الگ گروہ ہیں: حرف ما قبل لام پر زبر (بَلا، جَلا، گَلا، چَلا)؛ حرف ماقبل لام پر زیر ( مِلا، سِلا، صلہ، گِلا)؛ حرفِ ماقبل لام پر پیش (رُلا، سُلا، تُلا)؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔

دوم: یہ بھی ہوتا ہے کہ لام الف مثل مندرجہ بالا ہوں اور اس سے پہلے سبب خفیف واقع ہو۔ مثلاً: اگلا، پچھلا، نچلا،جھُولا، تولا، تھَیلا، گِیلا، میلہ، پتلا، منجھلا، سنبھلا، کچلا، نکلا؛ وغیرہ۔ ان میں حرفِ قافیہ لام سے فوراً پہلے حرف ناطق مجزوم واقع ہیں (اگلا، پچھلا، نچلا، منجھلا، سنبھلا، کچلا، نکلا)۔ یا پھر حرفِ علت جو ایک دوسرے سے عرف (الف، واو، یاے؛ معروف، مجہول، لین ہونے) میں متماثل نہیں ہیں: جھولا، تھیلا، گیلا، میلہ۔ ان میں حرفِ قافیہ کی صوتیت اپنے ماقبل سے آزاد ہو جاتی ہے۔ سفارش: ایسے قوافی میں حرفِ قافیہ سے پہلا حرف(نقیب) اگر متحرک ہے تو اس کو ’’پہلی صورت‘‘ کے تحت دیکھا جائے، اگر ساکن غیر مجزوم ہے تو اس کے سکون کو زبر پر قیاس کیا جائے ۔

سوم: حرف ماقبل لام (نقیب) پچھلے لفظ کا آخری اور ساکن حرف ہے: بات لا، کام لا، جام لا، ہاتھ لا، آگ لا، پات لا، خاص لا، آج لا، باز لا؛ وغیرہ۔ ایسے میں لا حرفِ معاون یا ردیف کا جزو ہوا۔مزید متنوع صورتیں بھی ممکن ہیں (خاص طور پر تراکیب اور لاحقوں سے سبب سے): ہوا دار، نمودار، خریدار، طرح دار، بیدار، زَردار؛ ستم گری، توَنگری، کارگری، بخیہ گری، دریوزہ گری، سیم گری؛ حق گو، خوش گو، نغز گو، غزل گو، قصہ گو، دروغ گو، یاوہ گو، نظم گو؛ وغیرہ۔

چہارم: زیرِ اضافت و توصیف کو زیر پر قیاس کیا جائے ، اور ایسا زیراگر (بہ شرطِ بحر) بقدر ’’ے‘‘ طویل ہو جاتا ہے تواسے یائے مجہول پر قیاس کیا جائے۔ واوِ عطف کو اگر وہ گر رہا ہے تو پیش پر، اور اگر نہیں کر رہا تو اسے واوِ مجہول پر قیاس کیا جائے۔

عابد سیال کی ایک غزل ملاحظہ ہو (اس کا مطلع دستیاب نہیں):

اک شمع سی ہر شام جلا رکھتے ہیں دل میں
اک آس پہ ہر روز سنورتا ہے یہ رستہ
اے موجِ غمِ یار! گزر دل کی گلی سے
مدت سے مسافر کو ترستا ہے یہ رستہ
ہم چل تو پڑے تیرے اشارے کے سہارے
اب دیکھیے کس سمت نکلتا ہے یہ رستہ
جتنا میں سنبھل جانے کی کوشش میں ہوں عابد
اتنا مرے پیروں سے الجھتا ہے یہ رستہ

اس غزل کے قوافی ہیں: سنورتا، ترستا، نکلتا، گزرتا، الجھتا۔ یہاں ہم یہ سفارش کرتے ہیں کہ حرفِ قافیہ (ت) ہے اور نقیب مجزوم ہے۔ دخیل اور اساس وغیرہ کی بحث یہاں ضروری نہیں رہتی۔

عابد سیال ہی کی ایک اور غزل کے قوافی: مطلع میں (چمکنے، ملنے) اور باقی اشعار میں (دھرنے، بدلنے، بگڑنے، جلنے)۔ اس میں بھی یہی صورت کار فرما ہے۔ مطلع میں اگر قوافی (عامل، کامل) واقع ہوں جیسی کہ اساس اور دخیل کی مدوں میں مثال دی جاتی ہے تو اس میں بلا توقف الف علت کو حرفِ قافیہ سمجھا جانا چاہئے اور (م ل) معاونین ہیں ۔

قوافی کی درجہ بندی[ترمیم]

نقیب (ماقبل حرف قافیہ) کی بنیاد پر ہم قوافی کی درجہ بندی بڑی سہولت سے کر سکتے ہیں۔ یہاں مجوزہ سب قوافی کو بشرطِ بحر تصور کیا جائے۔

قافیہ موصول: (درجہ اول) جہاں نقیب متحرک ہو، اور حرکت میں متماثل ہو۔ مثلاً: (مَست، ہَست، الست، در و بست، شکست) ؛ (مِیر، تِیر، نظِیر، گرہ گیر، تصویر، بشیر،منِیر)؛ (شِدت، حِدت، جِدت)؛ (جَلا، مَلا، تَلا، گَلا، برملا، بلا)؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔ نقیب ساکن غیر مجزوم ہو تو متحرک زبر کے حکم میں آتا ہے۔

قافیہ مفروق: (درجہ دوم) نقیب مجزوم (غیر مشدد) ہو، اور اس سے پہلے حرفِ علت یا ماقبل کی حرکت متماثل ہو۔ (درجہ سوم) نقیب مجزوم (غیر مشدد ) ہو، اور اس سے پہلے حرفِ علت یا ماقبل کی حرکت غیر متماثل ہو۔ مثالیں قوافی کے عملی مطالعے میں ملاحظہ ہوں۔

رویف اور قافیہ کا تداخل[ترمیم]

غزل کی ایک خاص بات اس کی فضا ہوتی ہے۔ یوں تو غزل کا ہر شعر اپنی جگہ ایک مکمل مفہوم رکھتا ہے اور کسی بھی جگہ بیان بھی ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ جسے فضا کہا گیا، یہ غزل کی خوبی ہے کہ جملہ اشعار اپنی الگ اور انفرادی حیثیت کے باوجود کسی نہ کسی وحدت میں پروئے ہوئے لگیں۔ ہم اسے غزل کی زیریں رَو بھی کہہ سکتے ہیں۔ یہ رَومعنوی بھی ہو سکتی ہے، تاثراتی بھی، لسانیاتی بھی، صوتیاتی بھی؛ اس میں کوئیایک اختصاص نہیں ہو سکتا۔ ردیف ایک فضا مہیا کرتی ہے اور قوافی مضامین سجھاتے ہیں۔ فنی اہمیت قافیے کی ہے، سو ہم بہت سہولت کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ ردیف در اصل قافیے ہی کی توسیع ہے۔ بسا اوقات ردیف اور قافیے کے الفاظ بھی یوں مل جاتے ہیں کہ ان کو الگ کرنے کی کوشش میں شعر ضائع ہو سکتا ہے۔ قافیہ بھی ایک سے زیادہ الفاظ پر مشتمل ہو سکتا ہے۔ اس بات پر کوئی اختلاف نہیں کہ حرفِ قافیہ اس کے معاونین اور توسیع (ردیف) میں حروف اور ان کی حرکات و سکنات ایک فن پارے میں مستقل ہوتی ہیں۔ سو، بجائے اس حساب میں پڑے رہنے کے کہ قافیے کا کون سالفظ ٹوٹا، کتنا ٹوٹا اور اس سے حروفِ قافیہ میں کیا کیا اصطلاحاتی تبدیلیاں واقع ہوئیں، اس مظہر کو اگر وہ سلیقے کے ساتھ آیا ہے تو بلا تفریق قبول کر لینا چاہئے۔

یہ جان کر ہی تو منزل یہاں بنا لی ہے
کہ اس سے آگے زمیں راستوں سے خالی ہے
فلک پہ عکس ہے قوسوں میں سات رنگوں کا
ہوا میں اس نے کہیں اوڑھنی اچھالی ہے
بہت ہے کور ہنر عہد کی گرانی میں
ذرا سی دل نے جو تابندگی بچا لی ہے

(عابد سیال)

سب آزمائے نئے کیا پرانے حیلے بھی
نہ کارگر ہوئے پرکھے ہوئے وسیلے بھی
عطائے دنیا پہ یوں انحصار کیا مرے دل
جو تیرے حصے کی ہے بڑھ کے وہ خوشی لے بھی
یہ بام و در بھی اداسی کا پیرہن بدلیں
ہے ایسی رُت کہ ہرے ہو رہے ہیں پیلے بھی

(عابد سیال)

لحد میں چین سے رہنے نہ دے گی یاد اس غم کی
بچھاؤ تم نہ بزمِ ناز میں صف میرے ماتم کی
الٰہی خیر، ہوتا ہے مجھے تلوار کا دھوکا
وہ قاتل کی کمر میں دیکھنا بجلی سی کیا چمکی
گو لاکھ جفائیں ہوں ادھر سے
نکلے نہ صدائے اف جگر سے
لازم نہیں ابرِ اشک برسے
پوچھے کوئی دیدہ ہائے تر سے

(فانی بدایونی)

جرم انکار کی سزا ہی دے
میرے حق میں بھی کچھ سنا ہی دے
شوق میں ہم نہیں زیادہ طلب
جو ترا نازِ کم نگاہی دے
تو نے بنجر زمیں کو پھول دئے
مجھ کو اک زخم دل کشا ہی دے

(ناصر کاظمی)

الف مقصورہ، الف اور ہائے ہوز مقابل[ترمیم]

اساتذہ کے ہاں بھی اور متداول شاعری میں بھی الف مقصورہ، الف اور ہائے ہوز کو بطور حرفِ قافیہ مقابل لانا بلا اکراہ درست مانا گیا ہے۔ مثالیں ملاحظہ ہوں:

اپنی دھن میں رہتا ہوں
میں بھی تیرے جیسا ہوں
مجھ سے آنکھ ملائے کون
میں تیرا آئینہ ہوں

(ناصر کاظمی)

نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں
آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں
شام بھی ہو گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری
بھولنے والے میں کب تک ترا رستہ دیکھوں
پھول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کھل جائے
پنکھڑی پنکھڑی ان ہونٹوں کا سایہ دیکھوں
ٹوٹ جائیں کہ پگھل جائیں مرے کچے گھڑے
تجھ کو میں دیکھوں کہ یہ آگ کا دریا دیکھوں

(پروین شاکر)

اک دیا دل میں جلانا بھی بجھا بھی دینا
یاد کرنا بھی اسے روز بھلا بھی دینا
صورتِ نقشِ قدم دشت میں رہنا محسن
اپنے ہونے سے نہ ہونے کا پتہ بھی دینا

(محسن نقوی)

الف مقصورہ اصلاً عربی اسماء سے خاص ہے۔ اور دو صورتوں میں لکھا جاتا ہے۔ بصورت واو: جیسے زکوٰۃ، صلوٰۃ میں ہے (صوتیت بالترتیب: زکات، صلات)۔ اور بصورت یاء: جیسے موسیٰ، عیسیٰ، لُبنیٰ، اعلیٰ، ادنیٰ میں ہے (صوتیت بالترتیب: مُوسا، عیسا، لُبنا، اعلا، ادنا)۔ قاعدہ یہی ہے کہ ایسے الفاظ کی املاء میں یاء، واو کو برقرار رکھا جائے، صوتیت کچھ بھی ہو۔

ہمزہ اور یائے غیر متلو[ترمیم]

یہاں عربی فارسی اصل کے کچھ ایسے اسماء نقل کئے جاتے ہیں، جن کی جمع کی صورت میں یا کسی ترکیب کی صورت میں، آخری حرف متحرک ہونے کی بجائے وہاں یائے یا ہمزہ شامل کیا جاتا ہے۔ مثلاً: خدا، خدائے واحد، خدایانِ بحر و بر، خداؤ، خدائی؛ ہوا، ہواؤں، ہوائی، ہوائیں؛ بلا، بلائے جان؛ ردا، ردائے سبز؛ نوا، نوائے سوختہ، ہم نوایان، بے نوائی؛ خوشبو، بوئے گل، خوشبویات؛ رُو، رُوئے سخن، ترش رُوئی؛ خوبی، خوبیء کردار؛ شومی، شومیء قسمت؛ انبیا، انبیائے کرام، اولیاء اللہ؛ قضا، قضائے مبرم؛ جام و سبو، سبوی و جام؛محاورہ بین خدای و انسان؛ وغیرہ۔ ایسے اسماء کا آخری حرف یائے مستور یا ہمزہ ہوتا ہے جس کو کبھی لکھتے ہی نہیں، کبھی لکھتے ہیں تو بولتے نہیں اور کبھی لکھتے بھی ہیں بولتے بھی ہیں۔

بصری قافیہ[ترمیم]

بعض اساتذہ ’’بصری قافیہ‘‘ بھی لائے۔ اس میں مقفیٰ قرار دئے گئے الفاظ، بلحاظ املاء بظاہر مماثل نظر آتے ہیں صوتیت میں چاہے مختلف ہوں۔ مثال کے طور پر: مصفیٰ، معافی، مقفیٰ، معلیٰ، معرِی، معریٰ، معانی، منافی، جوانی؛ وغیرہ کو ایک ہی فن پارے میں جمع کرنا۔ قافیہ کے لئے بنیادی شرط آواز (صوتیت) ہے، لفظ کی املائی شکل جیسی بھی ہو۔ اگر ہم الف مقصورہ والے منقولہ الفاظ کو مصفٰے، مقفٰے، معلٰے، معرٰے لکھیں (دونوں طرح درست ہیں) تو کیا اس کے بصری قوافی نرالے، ہمارے، وسیلے، لطیفے وغیرہ ہوں گے؟ لہٰذا ہمارے نزدیک ’’بصری قافیہ‘‘ درخورِاعتنا نہیں ہے۔ فی زمانہ اس کا رجحان بھی نہیں رہا، کوئی صاحبِ فن طبع آزمائی کر لے تو اس کی اپنی صواب دید پر ہے، لازم نہیں کہ پذیرائی ہی ہو گی۔ اس کے مقابل ایک اصطلاح بولی جاتی ہے: سمعی قافیہ۔ یعنی لفظ کی صورت جیسی بھی ہو، اس کی اصوات بلحاظ قافیہ متماثل ہوں؛ مثلاً : صلوٰۃ، زکوٰۃ، رماۃ، رواۃ، حیات، ممات، صفات، دوات، برات وغیرہ کو ایک فن پارے میں جمع کرنا۔ سامنے کی بات ہے کہ جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں، فلاں الفاظ ہم قافیہ ہیں، تو ان سب میں اولین مماثلت ہوتی ہی اصوات کی ہے۔ لہٰذا ہمارے نزدیک ’’سمعی قافیہ‘‘ وہی عمومی قافیہ قرار پاتا ہے، اس کے لئے کسی خاص اصطلاح کی ضرورت نہیں۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہو چکا، الف اور ہائے ہوز کا باہم قافیہ اردو کے لئے درست مانا گیا ہے جبکہ فارسی میں ایسا نہیں ہے؛ وہاں اشارہ اور خدا را ہم قافیہ نہیں ہیں (اشارہ فارسی اصوات کے مطابق اشارِہ ہے)۔ فارسی میں ایسے اسماء کثیر تعداد میں ہیں جن کا آخر ہائے ہوز اور ماقبل مکسور پر ہوتا ہے۔ کچھ اسماء (فارسی تلفظ میں) نقل کئے جاتے ہیں: شہزادِہ، بچِہ، بیضِہ (عربی میں: بیضَۃ)، اشارِہ (عربی میں: اشارَۃ)، ستارِہ، شمارِہ، پرندِہ، خانوادِہ، سفینِہ؛ وغیرہ۔ مزید تفصیلات ’’زبانِ یارِ من‘‘ میں دستیاب ہیں۔ ظاہر ہے ہم اردو میں اس تلفظ سے مانوس نہیں ہیں، لہٰذا ستارہ، ہمارا، گزارہ، گزارا، خدارا، سنوارا، نکھارا، اشارہ؛ کو ہم قافیہ تسلیم کرتے ہیں۔ تنوین (دو زبر، دو زیر، دو پیش) نون مجزوم ماقبل متحرک کی مثل ہے۔ کھڑا زبر، کھڑا زیر، الٹا پیش مثل اپنے اپنے حرفِ علت معروف (بالترتیب: الف، یائے، واو) کے ہیں۔

امالہ : اردو اسلوب کی ایک خاص بات[ترمیم]

اردو میں امالہ وہ صفت ہے جس میں کسی اسم کی جمعی حیثیت (وحدت و جمع) تبدیل ہوئے بغیر اس کے آخری حروف میں تبدیلی واقع ہو جائے۔ یہ تبدیلی چھ حروفِ جار (میں، سے، کو، پر، تک)؛ ایک حرفِ عامل (نے) اور تین حروفِ اضافت (کا، کے، کی) ؛ کل دس میں سے کسی ایک کے زیرِ اثر واقع ہوتی ہے۔ مثالیں: ۱۔ وہ دو لڑکے جا رہے ہیں (جمع)؛نیلی قمیص والے لڑکے کا نام کیا ہے (واحد)۔ الف اور یے کا فرق۔ ۲۔ کائنات میں تو بے شمار دنیائیں ہیں ، ہمیں تمام دنیاؤں کا علم کہاں! (جمع) ؤں اور ئیں کا فرق۔ ۳۔ چند نبی ہیں جن کے حالات کتاب اللہ میں مذکور ہیں، زیادہ نبیوں کے تو نام تک نہیں آئے۔ (جمع) ؤں کا اضافہ۔ ۴۔ ان چابیوں سے اپنی چابیاں نکال لو (جمع) وں اور اں کا فرق۔ ۵۔ یہ سارے درخت بیچ دیجئے، ان سب درختوں کو بیچ دیجئے۔ (جمع) وں کا اضافہ۔ ۶۔خبریں دیکھیں یار، خبروں میں کیا رکھا ہے؟ (جمع) یں اور وں کا فرق؛ و علیٰ ہٰذا القیاس۔

کتاب اللہ میں امالہ کی ایک مثال دستیا ب ہے۔ ’’بسم اللہ مجرٖیھا و مُرسٰھا‘‘ (اس سواری کا چلنا اور رکنا، اللہ کے نام سے) اس کو ’’مجرے ہا‘‘ (یائے مجہول کے ساتھ) پڑھتے ہیں۔ علمائے لسانیات نے اردو میں امالہ کی تعریف یوں کی ہے: ’’اسم واحد کے آخری الف کو یائے مجہول میں بدلنا‘‘۔ ہم نے اسی کو پھیلا کر امالہ والے اسماء کی واحد اور جمع دونوں کو امالہ میں شامل کر لیا ہے۔ اس طرح اردو میں امالہ کے چھ گروہ اور چھ تراتیب بنتی ہیں: اول (مذکر): ا (ے)، ے (وں)، ہ (ے)، اول (مؤنث): ا (ائیں)، ہ (ائیں)، ئیں (ؤں)، دوم (مذکر): ی (یوں)، دوم (مؤنث): ی (یاں)، یا (یاں)، یاں (یوں) اور سوم (مذکر): ... (وں)؛ سوم (مؤنث): ... (یں)، یں (وں)۔

ایک متداول مسئلہ[ترمیم]

بعض اہلِ قافیہ یہ تقاضا کرتے ہیں کہ حروفِ امالہ (ا، ے، یں، وں، ئیں، ؤں) والے الفاظ دیگر ہم صوت مختتم الفاظ مثلاً: چلیں، رکے، تھمے، پرے، کہیں؛ وغیرہ سے ہم قافیہ نہیں ہو سکتے۔ یہ تصور اردو سے زیادہ فارسی نظامِ اصوات پر ترتیب دئے گئے قواعد پر مبنی ہے۔ کہا یہ جاتا ہے کہ (مثال کے طور پر) درختوں، کتابوں، ہواؤں، رفیقوں، دلیلوں، فرشتوں، اشاروں ہم قافیہ نہیں ہیں، اور دلیل دی جاتی ہے کہ ان میں (وں) تو علامتِ جمع (یا ہماری لغت کے مطابق) حروفِ امالہ ہیں، ان کو منہا کرکے باقی بچنے والے الفاظ ہم قافیہ ہونے چاہئیں۔ عربی میں جمع سالم کی اصولاً تین (لفظاً دو) صورتیں ہیں: عالمون، عالمین؛ نبیون، نبیین؛ سابقون، سابقین؛ سوال یہ ہے کہ آیا عربی میں علامتِ جمع کو قافیے میں نظر انداز کیا جاتا ہے؟ یا منہا کر دیا جاتا ہے؟ یقیناًایسا نہیں ہے۔ کتاب ہا، قلم ہا، گل ہا، غنچہ ہا وغیرہ میں علامتِ جمع ’’ہا‘‘ ایک الگ لفظ کے طور پر آتا ہے، اس پر قدغن لگتی ہے تو لگائیے، مگر اردو میں (وں، یں) کو لفظ کا حصہ سمجھئے اور اس کے مطابق قوافی کا فیصلہ کیجئے۔

اشکالاتِ قوافی اور حرفِ روی[ترمیم]

امالہ کے علاوہ بھی کچھ مسائل ہیں جہاں قوافی کو ناموافق قرار دے دیا جاتا ہے۔ علمائے قوافی بسا اوقات افعال کے صیغے کے ساتھ غیر افعال قوافی پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے مثلاً: دیکھوں، سوچوں، بوجھوں کے ساتھ جیجوں، اکنوں، ہمچوں، بیروں کے قوافی پر بھی یہی اعتراض ہوتا ہے کہ ..وں علامتِ صیغہ ہے سو اسے ہٹا کر دیکھیں تو قوافی موافق نہیں رہتے۔ بعض علمائے قافیہ تو اس سے بھی زیادہ سختی کے قائل ہیں؛ ان کا مؤقف ہے کہ حروفِ مکرر کو لفظ سے منہا کریں تو باقی با معنی لفظ بچنا چاہئے۔ لفظ کی صرفی نحوی حیثیت کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ عمومی توقع ایک شاعر سے وابستہ کی جاتی ہے کہ وہ لفظی، معنوی، صوتی ہر اعتبار سے متماثل قوافی لے کر آئے، ورنہ یہ عیب ہے۔

حمید اللہ ہاشمی کا کہنا ہے کہ:’’قافیے کا آخری حرف روی کہلاتا ہے۔ اس سے پہلے جو حرف یا حروف ساکن ہوں گے ، وہ اور ان سے پہلے کی حرکت ہا قافیے میں بار بار لانی پڑے گی۔ مثلاً ’’حور‘‘ کا قافیہ ’’نور‘‘ اور ’’طور‘‘ صحیح ہے لیکن ’’اور‘‘ غلط ہے۔ اس لئے کہ ’’ر‘‘ حرفِ روی ہے۔ اس سے پہلے حرف واو ساکن ہے اور اس سے پہلے پیش ہے نہ کہ زبر۔ پس اگر پیش کی بجائے زبر لائیں گے تو قافیہ غلط ہو جائے گا۔ تخت کا قافیہ سخت اور بخت صحیح ہے لیکن وقت غلط ہے۔ اس لئے کہ وقت میں ’’ت‘‘ سے پہلے ’’ق‘‘ ہے اور اوپر کے قافیوں میں ’’ت‘‘ سے پہلے ’’خ‘‘ ہے۔ روی وہ حرف ہے ہر ایک قافیہ میں مکرر آتا ہے اور اسی کے نام سے قافیہ موسوم ہوتا ہے۔ جیسے دِل، بگِل کا لام‘‘۔ یعنی اصوات یعنی اصوات کا التزام و اعتبار کرنا پڑے گا، نہیں تو قافیہ غلط ہو جائے گا‘‘۔

ایک طرف تو یہ کہا جاتا ہے کہ حرفِ روی قافیہ کا آخری حرف ہوتا ہے۔ دوسری طرف یہ کہا جاتا ہے کہ حرفِ روی کے بعد چار حروف ہو سکتے ہیں، ان کے اصطلاحی نام بھی منقول ہیں۔ حرفِ روی سے پہلے چار حروف کو بھی قافیہ کا حصہ مانا جاتا ہے۔توجہ طلب بات ہے کہ اگر حرفِ روی قافیے کا آخری حرف ہے تو بعد والے چار حروف قافیے کا حصہ کیوں کر ہو گئے؟اس پر مزید: حرفِ روی مقید، حرفِ روی مطلق، حرفِ روی اصلی، حرفِ روی زائد، حرفِ روی مضاعف؟ حرفِ روی سے پہلے چار حروف ہیں بلکہ مذکور عیوبِ قافیہ میں اکثر کا تعلق انہی چار حرفوں سے ہے۔ ایسے میں مثال کے طور پر اِس شعر کو کیا کہیں گے جس میں مصرع کا آخری حرف حرفِ علت ہے؟ متذکرہ بالا پابندیوں کے پیشِ نظر ایک ہی صورت بچتی ہے کہ اس کو معریٰ یا بلاقافیہ قرار دے دیا جائے:

ہے یہی میری نماز، ہے یہی میرا وضو
میری نواؤں میں ہے میرے جگر کا لہو

(اقبال)

سو گئی شہر کی اک ایک گلی
اب تو آجا کہ رات بھیگ چلی
کوئی جھونکا چلا تو دل دھڑکا
دل دھڑکتے ہی تیری یاد آئی
کون ہے تو کہاں سے آیا ہے
کہیں دیکھا ہے تجھ کو پہلے بھی

(ناصر کاظمی)

یہ دس شعروں کی غزل ہے۔ ایک محترم عالمِ قوافی نے اس کے مطلع میں حرفِ روی (ل، ی) دونوں کو قرار دیا اور کہا کہ شاعر ان دونوں میں سے کسی ایک کو استعمال کر سکتا ہے:’’یعنی مطلع کے ایک مصرع میں قافیے کے روی اصلی کو دوسرے مصرعے کے قافیے کے روی زائد کے ساتھ ملا کر کسی ایک لفظ کو روی ٹھہرایا جاتا ہے۔ عام طور پر علم قافیہ کو پڑھنے والے یہاں آ کر متردد ہو جاتے ہیں اور اکثر شعرا ایسا کرنا غلط ہی سمجھتے ہیں۔اساتذہ کے ہاں بھی ایسی مثالیں گو کہ کم ملتی ہیں مگر ملتی ضرور ہیں‘‘۔ اور یہ کہ: ’’اس غزل میں رِدف تو سرے سے موجود ہی نہیں، اس لئے یہاں صرف حرف روی کا اعتبار ہے۔ ’لام کو مکرر کیوں نہیں کیا گیا‘ یہ اعتراض صوتیات کے حوالے سے تو کیا جا سکتا ہے، لیکن اس میں علمِ قافیہ کا کوئی اصول نہیں ٹوٹ رہا‘‘۔ یعنی؟ قوافی کا صوتیات سے کوئی علاقہ نہیں؟ تو پھر ہم قافیہ الفاظ کس بنا پر ہم قافیہ ہوئے؟ روی اصلی اور روی زائد پر کہتے ہیں کہ: ’’یہ تھوڑا پیچیدہ سا اصول ہے جسے میں نے اپنے ایک مضمون میں بھی لکھا تھا‘‘۔ نتیجہ انہوں نے یہ اخذ کیا کہ: ’’مطلع میں اعتبار ’’تعدادِ مشترک حروف‘‘ کا نہیں اعتبار در اصل حروفِ قافیہ کا ہی ہے۔ اس کے علاوہ کسی چیز کی پابندی بھی لازمی نہیں‘‘۔

ادھر حرفِ وصل اور حرفِ قید کی تخصیص کر دی گئی کہ یہ مذکورہ فہرستوں میں شامل کئے گئے حروف کے علاوہ نہیں ہو سکتے۔ یہ فہرستیں بھی نہ صرف یہ کہ باہم متماثل نہیں ہیں، بلکہ ان میں اردو کے وہ حروف بھی شامل نہیں جو عربی یا فارسی سے نہیں آئے، ہائے مخلوط (دو چشمی ھ) والا کوئی حرف (بھ، پھ، تھ، ٹھ ..) بھی ان فہرستوں میں نہیں ہے۔ ایسے میں اردو کا شاعر کیا کرے؟ حرفِ روی، حروف ماقبل اور مابعد، اور فن پارے کی بحر کے تناظر میں کسی خاص حرف کا مستعمل ہونا نہ ہونا بالکل الگ بات ہے اور شاعر کی استعداد پر منحصر ہے۔ حروف پر کوئی خصوصی قدغن نہیں لگائی جانی چاہئے۔

آسان علمِ قافیہ کے خدوخال[ترمیم]

ہمیں علمِ قافیہ کے مروجہ نظام اور تعریفات میں متعدد ترامیم کرنی ہوں گی۔ مقاصدمختصراً یہ ہیں: (۱) قافیہ کی تعیین اور اعلان کو یقینی بنانا۔ (۲) حرفِ روی اور اس کے متعلقات کو سادہ کرنا۔ (۳) ممکنہ حد تک حتمیت پیدا کرنا۔ (۴) اصطلاحات کی فہرست کو جامع اور مختصر کرنا۔ (۵) زمین (وزن، قافیہ اور ردیف) میں مطابقت پیدا کرنا۔ (۶) قوافی کی گروہ بندی عیوب کی بجائے محاسن کی بنیاد پر کرنا۔ (۷) اردو میں رائج اصوات کو اہمیت دینا۔ (۸) علم قافیہ کی تفہیم کو آسان بنانا۔سو، ہم یہ سفارش کرتے ہیں کہ اول: عالمِ قوافی کو شاعر کے لئے ممتحن کی بجائے اتالیق کا کا کردار ادا کرنا چاہئے۔ دوم: قوافی کی درجہ بندی عیوب یا نقائص کی بجائے محاسن کی بنیاد پر کی جائے۔

تجاویز[ترمیم]

اول: غزل، قطعہ وغیرہ کے مطلع دونوں مصرعوں میں واقع ہونے والے قافیوں اور ردیف کو ’’قوافی کا اعلان‘‘ سمجھا جانا چاہئے۔ اور شاعر کو بھی اپنے اعلان کا پاس کرنا چاہئے۔ جہاں مطلع دستیاب نہ ہو وہاں فن پارے میں وارد ہوئے تین چار پانچ قوافی کے مشترک مترتب حروف کو اعلان کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔

دوم: ردیف کو الگ حیثیت میں دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کو قافیے کی توسیع کا درجہ دیا جائے تو قافیہ اور ردیف کے تداخل کے مسائل و مباحث کی ضرورت نہیں رہتی۔

سوم: حرفِ روی کی جگہ حرفِ قافیہ کا تعین کرنے سے تفہیم آسان ہو جاتی ہے۔ اور موجودہ علمِ قوافی کی مروجہ اصطلاحات سے مشاکلہ بھی نہیں ہوتا۔

چہارم: حرفِ علت بھی حرف قافیہ ہو سکتا ہے (اگر اسے گرایا نہ گیا ہو)۔ نقیب کا متحرک یا علت ہونا حسن ہے۔ یاد رہے کہ حروفِ علت (الف، واو، یاے) پر جب کوئی حرکت واقع ہو یہ حرفِ ناطق کے حکم میں آتے ہیں، اور جب یہ خود اپنے ماقبل کو حرکت دیں تو یہ حروف علت ہوتے ہیں۔

پنجم: دو، دو حرفِ روی (حرفِ روی زائد، حرف روی مضاعف) کا تصور مستحسن نہیں ہے۔ حرفِ قافیہ ایک ہی ہو، اور قطعی طور پر متعین ہو۔ قافیہ مکرر بالکل الگ چیز ہے۔

ششم: حرفِ قافیہ پر واقع ہونے والی حرکت، علت اور نون غنہ وغیرہ کو حرفِ قافیہ کے خواص کے طور پر لیا جائے اور فن پارے کے اندر ان خواص کا بھی پاس کیا جائے۔

ہفتم: قوافی یا ہم قافیہ الفاظ پر بات کرتے ہوئے یا تو کہہ دیا جائے یا کم از کم ذہن میں رہے کہ ان کا زیرِ بحث مصرعے کی بحر میں ہونا لزومِ اول ہے۔ مباحث میں بھی کہیں اگر قوافی بلالحاظ نقل کئے جائیں تو انہیں ’’بشرطِ بحر‘‘ تصور کیا جائے۔

اصطلاحات[ترمیم]

بحر اور زمین: زمین کے دو عنصر ہیں، وزن اور قافیہ۔ وزن کا حوالہ بحر ہے۔

نظمِ معریٰ اور نظمِ مقفیٰ: جس نظم میں قافیہ کا اہتمام نہ ہو وہ نظمِ معریٰ ہے؛ جس میں قافیے کا اہتمام ہو وہ مقفیٰ ہے۔

قافیہ اور ردیف: قافیہ زمین کا لازمی جزو ہے۔ قافیہ کی توسیع ردیف ہے جو لازمی نہیں تاہم اختیار کر لی جائے لازم ہو جاتی ہے۔

نقیب، حروفِ معاون اور توسیع: قافیہ کی بنیاد حرفِ قافیہ ہے۔ حرفِ قافیہ سے پہلے واقع ہونے والا حرف نقیب اور بعد واقع ہونے والے حروف حروفِ معاون ہیں، ان کی توسیع ردیف ہے۔ غیر مردف: وہ بیت جس میں ردیف نہ ہو۔

قافیہ مکرر: بسا اوقات ایک شعر میں ایک سے زیادہ ہم قافیہ الفاظ کسی نہ کسی معینہ ترتیب میں لائے جاتے ہیں۔ یہ مکرر قافیہ ہے۔

قافیہ موصول اور مفروق (ساختیاتی تقسیم): نقیب اپنے ماقبل سے حرکت یا حرفِ علت کی بدولت جڑا ہوا ہو تو وہ قافیہ موصول ہے۔ اگر نہ جڑا ہوا ہو تو وہ قافیہ مفروق ہے۔ موصول یا مفروق کو حسن و قبح سے مشروط نہ کیا جائے۔

شذرہ: قافیہ مفروق کی ایک مثال حرفِ قافیہ متحرک کے بعد پیش کی جا چکی ہے۔ عابد سیال کی بغیر مطلع کی غزل کے قوافی ہیں: سنورتا، ترستا، نکلتا، گزرتا، الجھتا۔ ان میں نقیب (ت) اور حرفِ قافیہ (الف علت) مل کر سبب خفیف بناتے ہیں ۔ ماقبل بقیات (سنور، ترس، نکل، گزر، الجھ) میں آخری حرف مجزوم ہے۔ یہ وصف زیرِ نظر غزل میں اس اعتبار سے حسن ہے کہ اس میں الفاظ ساختیاتی اعتبار سے آزاد ہوتے ہوئے بھی قافیہ خفیف پر پورے اتر رہے ہیں۔ قوافی کی درجہ بندی اور مثالیں گزشتہ مباحث میں آ چکی ہیں، کچھ مزید مثالیں عملی مطالعہ میں پیش کی جا رہی ہیں۔

قوافی کا عملی مطالعہ[ترمیم]

میں نوائے سوختہ در گلو، تو پریدہ رنگ رمیدہ بو
میں حکایتِ غمِ آرزو، تو حدیث ماتمِ دلبری
مرا عیش غم مرا شہد سم مری بود ہم نفسِ عدم
ترا دل حرم، گروِ عجم، ترا دیں خریدۂ کافری

(اقبال)

بحر: متفاعلن چار بار (بحرِ کامل مثمن سالم)؛ قوافی: دلبری، کافری، قلندری، آذری۔ حرفِ قافیہ: ر؛ نقیب: بَ، فَ، دَ، ذَ؛ حرفِ معاون: یائے معروف؛ یہ غیر مردف ہے اس میں سب قوافی خفیف ہیں۔ مکرر قوافی: گلو، بو، آرزو، سم، عدم، عجم۔

بڑی باریک نظر رکھتے ہیں اچھے پاگل
پاگلو! بات کی تہ کو نہیں پہنچے پاگل
ہم نے دیکھے ہیں تری شہر میں ایسے پاگل
اپنے اطوار سے قطعاً نہیں لگتے پاگل
جس کو سوچے تو خرد خود ہی پریشاں ہو جائے
اس کے دیوانے کو ہم تو نہیں کہتے پاگل

(محمد یعقوب آسی)

بحر: فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتن ؍مفعولن (بحرِ ارمولہ)؛ قوافی: اچھے، پہنچے، ایسے، لگتے، کہتے۔ حرفِ قافیہ: یائے مجہول؛ نقیب: چھ، چ، س، ت، ت؛حرفِ معاون ندارد؛ ردیف: پاگل ( اس میں سب قوافی خفیف ہیں)؛مکرر قوافی ندارد۔

چہرہ افروز ہوئی پہلی جھڑی ہم نفسو شکر کرو
دل کی افسردگی کچھ کم تو ہوئی ہم نفسو شکر کرو
آج پھر دیر کی سوئی ہوئی ندی میں نئی لہر آئی
دیر کے بعد کوئی ناؤ چلی ہم نفسو شکر کرو
آسماں لالۂ خونیں کی نواؤں سے جگر چاک ہوا
قصرِ پندار کی دیوار گری ہم نفسو شکر کرو

(ناصر کاظمی)

بحر: فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتن فاعلتن ؍مفعولن (بحرِ ارمولہ معشر)؛ قوافی:جھڑی، ہوئی، چلی، گری۔ حرفِ قافیہ: یائے معروف؛ نقیب: ڑ، ء، ل، ر ؛حروفِ معاون ندارد؛ ردیف: ہم نفسو شکر کرو( اس میں سب قوافی خفیف ہیں)؛ مکرر قوافی ندارد۔

گل نہیں مے نہیں پیالہ نہیں
کوئی بھی یاد گارِ رفتہ نہیں
فرصتِ شوق بن گئی دیوار
اب کہیں بھاگنے کا رستہ نہیں
راکھ کا ڈھیر ہے وہ دل ناصر
جس کی دھڑکن صدائے تیشہ نہیں

(ناصر کاظمی)

بحر:فاعلن فاعلات فاعلتن؍مفعولن (بحر خفیف مسدس؍بحر مدرکہ)؛ قوافی:نہیں۔ حرفِ قافیہ:ن؛ نقیب:ل، ت، ت، ش ؛حروفِ معاون: ہ ی ں؛ ردیف ندارد( اس میں سب قوافی خفیف ہیں)؛ مکرر قوافی ندارد۔

ڈھلکے ڈھلکے، آنسو ڈھلکے
چھلکے چھلکے ساغر چھلکے
ان کی تمنا ان کی محبت
دیکھو سنبھل کے دیکھو سنبھل کے

(ادا جعفری)

بحر:فعلن فعلن فعلن فعلن (بحرزمزمہ)؛ قوافی:ڈھلکے، چھلکے، سنبھل کے؛ حرفِ قافیہ:ڈھ، چھ، بھ؛ نقیب:س، ر، واوِ مجہول ؛حروفِ معاون: ل ک ے؛ ردیف ندارد( اس میں سب قوافی خفیف ہیں)؛ مکرر قوافی:( مطلع میں)ڈھلکے، چھلکے۔

نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں
آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں
شام بھی ہو گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری
بھولنے والے میں کب تک ترا رستہ دیکھوں
پھول کی طرح مرے جسم کا ہر لب کھل جائے
پنکھڑی پنکھڑی ان ہونٹوں کا سایہ دیکھوں

(پروین شاکر)

بحر:فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتن؍مفعولن (بحرِ ارمولہ)؛ قوافی:برپا، صحرا، رستہ، سایہ، دریا؛ حرفِ قافیہ:الف، ہ (جائز)؛ نقیب:پ، ر، ت، ی، ی ؛حروفِ معاون:ندارد؛ ردیف:دیکھوں( اس میں سب قوافی خفیف ہیں)؛ مکرر قوافی:ندارد۔

اک دیا دل میں جلانا بھی بجھا بھی دینا
یاد کرنا بھی اسے روز بھلا بھی دینا
صورتِ نقشِ قدم دشت میں رہنا محسن
اپنے ہونے سے نہ ہونے کا پتہ بھی دینا

(محسن نقوی)

بحر:فاعلن فاعلتن فاعلتن فاعلتن؍مفعولن (بحرِ ارمولہ)؛ قوافی:بجھا، بھلا، پتہ؛ حرفِ قافیہ:الف علت، (ہ: جائز)؛ نقیب:جھ، ل، ی؛حروفِ معاون:ندارد؛ ردیف:بھی دینا( اس میں سب قوافی خفیف ہیں)؛ مکرر قوافی:ندارد۔

عکسِ ردائے سرخ سے چہرہ گلاب تھا
چہرہ وہ کیا تھا زیرِ شفق آفتاب تھا
پلکوں تلے وہ کیسی غضب روشنی سی تھی
روشن پسِ حجابِ نظر کس کا خواب تھا

(طارق اقبال بٹ)

بحر:مفعول فاعلات مفاعیل فاعلن (بحرِ مضارع مثمن)؛ قوافی:گلاب، آفتاب، خواب؛ حرفِ قافیہ:الف علت؛ نقیب:ل، ت، خ (واوِ معدولہ کے ساتھ)؛حروفِ معاون:ب؛ ردیف:تھا( اس میں سب قوافی خفیف ہیں)؛ مکرر قوافی:ندارد۔

لبوں پر ہیں تالے، نگہ پر ہیں پہرے
ہم انساں ہیں یا چلتے پھرتے کٹہرے
سہے زندگی کے ستم جن کی خاطر
لو آج ان کی خوشیوں کے قاتل بھی ٹھہرے
انہیں بھرتے بھرتے زمانہ لگے گا
کہ زخمِ سخن دل پہ لگتے ہیں گہرے

(طارق اقبال بٹ)

بحر: فعولن فعولن فعولن فعولن (بحر متقارب مثمن سالم)؛ قوافی:پہرے، کٹہرے، ٹھہرے، گہرے؛ حرفِ قافیہ: ہ مجزوم؛ نقیب:پ، ٹ، ٹھ، گ؛حروفِ معاون:ر ے؛ ردیف: ندارد ( اس میں سب قوافی خفیفہیں)؛ مکرر قوافی:ندارد۔

پھر سے طاری ہے زندگی پہ جمود
اور نایاب رہگزارِ کشود
ہو جو بے لذتِ حضور و شہود
کاہشِ ناصیہ ہے کارِ سجود
جو بگولوں کو کہہ رہے ہیں نسیم
ان سے کہئے بھی کیا کہ ہے بے سود
اب کے اس رنگ میں کھلی ہے بہار
رنگ موجود، باس ناموجود
کوئی تنویر! دیدۂ یعقوب!
کیجئے کوئی کاوشِ مسعود

(محمد یعقوب آسی)

بحر: فاعلن فاعلات فاعلتان؍مفعولات (بحر خفیف مسدس غضنفر)؛ قوافی: جمود، کشود، شہود، سجود، سود،نا موجود، مسعود؛ حرفِ قافیہ:واوِ معروف؛ نقیب:م، ش، ہ، ج، س، ج، ع؛حروفِ معاون:د؛ ردیف:ندار( اس میں سب قوافی خفیفہیں)؛ مکرر قوافی:ندارد۔

کیسا ماحول ساز گار ہوا
دل زدوں میں مرا شمار ہوا
لفظ تو تیز دھار تھے، سو تھے
اس کا لہجہ بھی آب دار ہوا
آگہی آگ ہی تو ہوتی ہے
کوئی کندن کوئی غبار ہوا

(محمد یعقوب آسی)

بحر: فاعلن فاعلات فاعلتن ؍ مفعولن (بحرخفیف مسدس غضنفر)؛ قوافی: سازگار، شمار، سوار، آب دار، غبار؛ حرفِ قافیہ:الف علت؛ نقیب:گ، م، و، د، ب؛حروفِ معاون:ر؛ ردیف:ہوا( قوافی خفیف)؛ مکرر قوافی: ندارد۔

مقفیٰ نظم، معریٰ نظم اور آزاد نظم[ترمیم]

قافیہ کے حوالے سے نظم کا مطالعہ دو اعتبار سے کیا جاتا ہے۔ اول مقفٰی اور دوم معرٰی۔ یہ دونوں صورتیں اوزان کی پابند ہوتی ہیں۔ مقفیٰ نظم کی ہیئت کے تعین میں قوافی کی اہمیت بنیادی ہوتی ہے۔ معرٰی نظم میں قافیہ نہیں ہوتا (ردیف بھی نہیں ہوتی) تاہم اس کے تمام مصرعے ہم وزن ہوتے ہیں۔ قافیہ نہ ہونے کی وجہ سے اس میں بیت کی تخصیص نہیں ہوتی یعنی مصرعوں کی تعداد طاق بھی ہو سکتی ہے۔

نظمِ مقفٰی کی سب سے معروف صورت بیت ہے۔ ایک بیت دو مصرعوں کا ہوتا ہے، دونوں ہم وزن ہوتے ہیں۔ دوسرے مصرعے میں قافیہ کا اہتمام ہوتا ہے۔ عام طور پر دو مصرعوں میں مضمون مکمل بیان ہو جاتا ہے۔ تاہم جہاں ضروری ہو، ایک مضمون ایک سے زیادہ ابیات میں بھی مکمل کر لیتے ہیں۔ اس کو قطعہ کہا جاتا ہے۔ غزل ایسے ہم وزن اور ہم قافیہ ابیات کا مجموعہ ہوتی ہے جن میں ہر بیت اپنا انفرادی مضمون رکھتا ہے تاہم ان میں ایک محسوس تعلق پایا جاتا ہے۔ قطعہ غزل کے اندر بھی واقع ہو سکتا ہے۔ غزل کی مثالیں مباحث میں پیش کی جا چکی ہیں۔

اندازِ بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں ہے
شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات
یا وسعتِ افلاک میں تکبیرِ مسلسل
یا خاک کے آغوش میں تسبیح و مناجات
وہ مذہبِ مردانِ خود آگاہ و خدا مست
یہ مذہبِ ملا و جمادات و نباتات

(علامہ اقبال)

مثنوی: جیسا کہ نام سے ظاہر ہے، ایسی نظم مسلسل ہے جس میں دو دو مصرعے ہم قافیہ واقع ہوتے چلے جاتے ہیں۔ واقعات نگاری اور داستان کے لئے یہ صنف بہت موزوں ہے۔ اردو کی معروف طویل مثنویوں میں مثنوی سحرالبیان، مثنوی گلزارِ نسیم کی بنیاد داستان پر ہے، اقبال کی مثنوی ساقی نامہ فکری اور موضوعاتی حوالوں سے خاص ہے۔ والدہ مرحومہ کی یاد میں موضوع کے اعتبار سے مرثیہ ہے۔ بعض اہلِ فن کا کہنا ہے کہ مثنوی کے نو یا دس مخصوص اوزان ہیں اور طوالت لازمی ہے۔ ان خواص کو ہم مثنوی کی خوبی تو کہہ سکتے ہیں، لازم قرار نہیں دے سکتے۔ مثنوی کسی بحر میں بھی کہی جا سکتی ہے، اشعار کی تعداد کوئی بھی ہو سکتی ہے۔

ہر اک منتظر تیری یلغار کا
تری شوخیء فکر و کردار کا
یہ ہے مقصدِ گردشِ روزگار
کہ تیری خودی تجھ پہ ہو آشکار
تو ہے فاتحِ عالمِ خوب و زِشت
تجھے کیا بتاؤں تری سرنوشت
حقیقت پہ ہے جامۂِ حرف تنگ
فروزاں ہے سینے میں شمعِ نفس
مگر تابِ گفتار کہتی ہے، بس!
’اگر یک سرِ موے برتر پرَم
فروغِ تجلی بسوزد پرَم‘

ساقی نامہ (علامہ اقبال)

ثلاثی، رباعی، خماسی اور سباعی نے نام مصرعوں کی تعداد کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان کے لئے کہا جاتا ہے کہ یہ رباعی کی معروف بحر میں ہونے چاہئیں،اگر بحر ماسوا میں ہوں تو ان کو مثلث، مربع، مخمس، مسبع کہا جائے گا۔ ایک رباعی میں چوبیس مخصوص بحروں میں سے کوئی ایک دو تین یا چار بحریں جمع کی جا سکتی ہیں۔ اس میں پہلا دوسرا اور چوتھا مصرعہ ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ تیسرے مصرعے کا مختلف قافیے میں ہونا اچھا لگتا ہے،لازمی شرط نہیں۔

وافر جو مجھے درد ملا، سب کو ملے
دولت جو ہوئی مجھ کو عطا، سب کو ملے
کیوں میں ہیں سزاوارِ عنایات رہوں
جو مجھ کو ملا، میرے خدا سب کو ملے

(محمد یعقوب آسی)

مخمس بھی طویل مضامین کے لئے بہت موزوں صنفِ شعر شمار ہوتی ہے۔ اس میں ایک بند پانچ مصرعوں کا ہوتا ہے؛ پہلے چار مصرعے ہم قافیہ اور پانچواں الگ قافیے میں؛ اس پابندی کے ساتھ کہ جملہ پانچویں مصرعے ہم قافیہ ہوتے ہیں۔ نظیر اکبر آبادی نے آدمی نامہ اور بنجارہ نامہ میں پانچواں مصرع مستقل رکھا ہے جو ہر بند کے بعد مکرر آتا ہے۔ مخمس کسی بھی بحر میں کہی جا سکتی ہے۔

تو بدھیا لادے بیل بھرے تو پورب پچھم جاوے گا
یا سود بڑھا کر لاوے گا یا ٹوٹا گھاٹا کھاوے گا
قزاق اجل کا رستے میں جب بھالا مار گراوے گا
دھن دولت ناتی پوتا کیا، اک کنبہ کام نہ آوے گا
سب ٹھاٹھ پڑا رہ جاوے گا جب لاد چلے گا بنجارہ

(نظیر اکبر آبادی)

مسدس کے ایک بند میں چھ مصرعے ہوتے ہیں؛ پہلے چار ہم قافیہ اور پھر دو ہم قافیہ۔ مسدس بھی طویل مضامین اور موضوعات کے لئے بہت مناسب صنف ہے۔ حالی کی مد و جذرِ اسلام، اقبال کی شکوہ، اور جواب شکوہ، میر ببر علی انیس اورمیرزا دبیر کے مراثی اردو مسدس کا عظیم سرمایہ ہیں۔

بیس برس سے کھڑے تھے جو اس گاتی نہر کے دوار
جھومتے کھیتوں کی سرحد پر بانکے پہرے دار
گھنے سہانے چھاؤں چھڑکتے بور لدے چھتنار
بیس ہزار میں بک گئے سارے برے بھرے اشجار
جن کی سانس کا ہر جھونکا تھا ایک عجیب طلسم
قاتل تیشے چیر گئے ان ساونتوں کے جسم
گری دھڑام سے گھائل پیڑوں کی نیچی دیوار
کٹتے ہیکل، جھڑتے پنجر چھٹتے برگ و بار
سہی دھوپ کے زرد کفن میں لاشوں کے انبار
آج کھڑا میں سوچتا ہوں ان گاتی نہر کے دوار
اس مقتل میں صرف اک میری سوچ لہکتی ڈال
مجھ پر بھی اب کاری ضرب اک اے آدم کی آل

توسیعِ شہر (مجید امجد)

مسبع کا ایک بند سات مصرعوں کا ہوتا ہے۔ اس میں قوافی کی متنوع تراتیب ملتی ہیں۔ کسی نے پہلا، چوتھا، ساتواں مصرع ہم قافیہ رکھے اور بیچ کے دو دو مصرعے ہم قافیہ، کسی نے چار، دو ایک کی ترتیب رکھی، کسی نے تین ایک تین کی، و علیٰ ہٰذا القیاس تاہم قوافی کا تعین کسی نہ کسی انداز میں ضرور کیا گیا۔

پابند نظم میں شاعر کے پاس انتہائی اختیار یہ ہے کہ وہ صرف بحر کی پابندی کرے، قافیہ ردیف وغیرہ کی نہیں۔ شاعر اس کو کسی متعینہ صنف یعنی مسدس، مخمس، مسبع، ترجیع بند، قطعہ وغیرہ کی صورت نہیں دیتا تو یہ نظم معرٰی ہے۔ شاعر اپنی اپج کے مطابق مکرر قوافی لا بھی سکتا ہے۔ اس میں مصرعوں کا جوڑا جوڑا ہونا بھی ضروری نہیں۔

زندگی کی کڑی مسافت ہے
کرب کا بے کراں سمندر ہے
آرزو کے سراب ہیں ہم ہیں
ہم قدم ہے ہماری تنہائی
موت کا رقص ہے بگولے ہیں
پاؤں کے نیچے آبلوں کے پھول
اور تشنہ زبان پر کانٹے
جسم ہے اور ہیں تھکن کے زخم
دھوپ کی برچھیوں کا مرہم ہے
اس سے پہلے کہ تیرگی چھا جائے
اور صحرا بھی آنکھ میں نہ رہے
اس سے پہلے کہ سانس تھم جائے
وقت کی نبض بے صدا ہو جائے
آؤ کچھ کام ایسا کر جائیں
جو زمانے کو یاد رہ جائے

’’ٹمٹماتے ہوئے چراغ کی لَو‘‘ (محمد یعقوب آسی)

آزاد نظم میں ہم وزن مصرعوں کی شرط بھی نہیں رہتی، لہٰذا ان کو مصرعوں کی بجائے سطریں کہا جاتا ہے۔ آزاد نظم کی خاص بات یہ ہے کہ سطروں کی ضخامت کا تعین متن کے بہاؤ اور نفسِ مضمون کے مطابق ہوتا ہے یعنی کوئی سطر بڑی، کوئی چھوٹی۔ یہ صنف پیراگرافوں میں بٹی ہوئی بھی ہو سکتی ہے۔ اس میں عروضی وزن کا تصور کسی قدر تبدیلی کے ساتھ موجود ہے۔ آزاد نظم میں کسی ایک رکن یا مجموعۂ ارکان کی ترتیب وار دہراتے رہتے ہیں۔ عمدہ آزاد نظم وہ ہے جس میں ایک رکن کی تکرار ہو اور وہ کہیں نہ ٹوٹے۔

وہ آدمی عجیب تھا
ملا تو جیسے اجنبی
رہا تو جیسے اجنبی
گیا تو جیسے اجنبی
عجیب تھا وہ آدمی
وہ آدمی عجیب تھا
عجیب کم نصیب تھا
نہ وہ کسی کا ہو سکا
نہ کوئی اس کا ہو سکا
رہا وہ قید اپنی ذات کے حصار میں سدا
جو ایک بے صدا جہاں کا شخص تھا
کسی سے اس نے دل کی بات کب کہی
کسی کے دل کی بات اس نے کب سنی
نہ اس کی زندگی کسی کے کام کی
نہ اس کی موت سے جہاں میں کچھ خلل
وہ اپنی ذات کے لئے بِتا رہا تھا زندگی
جو مر گیا تو کیا ہوا
نہ مر سکا تو کیا ہوا
جہانِ بے کراں میں بے شمار لوگ اور ہیں
کہ جن کے سارے روز و شب میں
ایک سا سکوت ہے
سکوت بھی عجیب سا
کہ جیسے موت کی صدا
کہ جس کے کان میں پڑی
جہاں سے وہ گزر گیا
وہ آدمی عجیب سا
وہ میرے جیسا آدمی

نظم بہ عنوان ’’ادراک‘‘ (محمد یعقوب آسی)

اس نظم میں رکن ’’مفاعلن‘‘ کی تکرار ہے۔ آزاد نظم میں قافیہ اور ردیف نہیں ہوتا، تاہم زیرِ نظر فن پارے میں کہیں کہیں لفظی اور صوتی تکرار سے قوافی کا سا تاثر ملتا ہے۔

خفیف، ثقیل، دقیق، تنافر[ترمیم]

جمالیات ادبی زبان کا خاصہ ہے، وہ کہانی ہو، افسانہ ہو، مضمون ہو، تعارفیہ ہو، مقالہ ہو یا کوئی اور نثری تحریر ہو۔ شعر میں اس کی اہمیت دو چند ہے اور غزل خاص طور پر ملائمت کی متقاضی ہے۔ مترتب کلام میں حرف و صوت کے مخارج ایک دوسرے سے کسی قدر دور ہوں اور متواتر تبدیل ہوتے رہیں تو پڑھنا اور ادا کرنا آسان بھی ہوتا ہے، اور بھلا بھی لگتا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسا ہر ہر مقام پر ممکن نہیں ہوتا۔ بعض الفاظ اور تراکیب ایسی بھی آن پڑتی ہیں جنہیں عرفِ عام میں گراں کہا جاتا ہے۔ مخارج کے قرب و بُعد شائقینِ ادب کے لئے کوئی نیا تصور نہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ ذ، ز، ض، ظ ہم آواز ہیں؛ ک، ق کی صوتیت ملتی جلتی ہے؛ ہ، ح بولنے میں بہت قریب ہیں؛ وغیرہ تو ہم حروف کے مخارج کے باہم قریب قریب یا ہم مخرج ہونے کی بات کر رہے ہوتے ہیں۔

ملائمت اور روانی کا مطلب یہ ہے کہ متسلسل حروف و اصوات کے مخارج میں کم از کم اتنا فاصلہ ضرور ہے کہ ایک ساکن حرف کے بعد ایک متحرک حرف بولنے میں کوئی ایسی چیز حائل نہیں ہوتی جو کلام کی ملائمت میں رکاوٹ یا گرہ بن سکے۔ ایک حرف پہلے ساکن اور پھر متحرک واقع ہو، کلام ملائم میں ایسا شاذ ہوتا ہے۔ ایسی صورت کو خفت (ہلکا پن) اور ادائے اصوات کو خفیف کہتے ہیں۔ کوئی بھی حرف فی نفسہٖ خفیف، ثقیل یا دقیق نہیں ہوتا، معاملہ صرف ترتیت اصوات کا ہے۔

ایک ساکن حرف کے بعد اس کے قریب الصوت حرف متحرک واقع ہو تو اسے ادا کرنے میں ذرا سے بوجھل پن کا احساس ہوتا ہے، تاہم اس احساس کا ناگوار ہونا ضروری نہیں۔ مثال کے طور پر: سیماب پا، چالاک قوم، اسباق کا، دلیل لانا، خود ترسی؛ وغیرہ۔ ذرا سی توجہ دیں تو کھل جاتا ہے کہ پہلا حرف ساکن ہوتا ہے مگر کسی سببِ خفیف کا حصہ نہیں ہوتا اور دوسرا متحرک ہوتا ہے اور کسی سببِ خفیف کا حصہ ہوتا ہے؛ دونوں حرف بہت قریب المخارج یا ہم مخرج ہوتے ہیں۔ ہم نے ایسی ترتیب کو ثقیل اور اس خاصیت کو ثقالت کا نام دیا ہے۔

تیسری صورت یوں بنتی ہے کہ ایک حرف یا اس کا کوئی قریب المخارج حرف متواتر آتے ہیں، جب کہ پہلا ساکن اور دوسرا متحرک ہوتا ہے اور دونوں میں کوئی بھی کسی سبب خفیف کا حصہ نہیں ہوتا۔ مثلاً: یاد دلانا، باندھ دیا ہے، ساتھ تمھارا، بعد دعا کے؛ وغیرہ۔ ایسے الفاظ کو بولتے ہوئے ایک گرہ سی پڑتی ہے اور حرفِ مکرر کو درست ادا کرنے میں دقت پیش آتی ہے۔ ان کو ہم نے دقیق کا نام دیا ہے۔

عرف عام میں ان گرانیوں کو عیبِ تنافر کہتے ہیں۔ تنافر کے معانی ہیں: الگ الگ رکھنا اور مراد ہے مخارجِ حروف کا الگ الگ ہونا؛ تنافر کی بدولت شعر میں ملائمت پیدا ہوتی ہے، سو تنافر ایک خوبی ہے نہ کہ خامی یا نقص۔کہیں یہ خوبی کسی طور متاثر ہو رہی ہو تو اسے عیبِ تنافر کہا جانا چاہئے نہ کہ تنافر۔ عیبِ تنافر کا قافیے، ردیف میں واقع ہونا خاص طور پر گراں گزرتا ہے۔ اور فن پارے کی لسانی جمالیات کو نقصان پہنچاتا ہے۔

یاد رہے کہ اگر ترکیبی ضرورت کے مطابق ایسے مکرر ہم مخرج یا قریب المخارج حروف میں پہلا حرف کسی طور متحرک ہو مثلاً: گردابِ بلا، داد و دہش، اقلیمِ محبت، تخت و تاج، تاخت و تاراج وغیرہ؛ تو نہ کوئی ثقالت باقی رہتی ہے نہ دقت۔تشدید کی صورت بھی ثقالت یا دقت کی ذیل میں نہیں آتی کہ وہاں وہی حرف پہلے مجزوم یعنی کسی سبب خفیف کا جزوِ ثانی ہوتا ہے اور بعد میں متحرک، چاہے کسی سبب خفیف کا حصہ رہا ہو، یا نہ رہا ہو۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

یہ سارے کا سارا آرٹیکل یعقوب آسی صاحب کی ویب سائٹ سے اٹھایا گیا ہےا ور ان کا نام تک نہیں دیا گیا ۔ یہ بہت بڑی علمی بد دیانتی ہے یعقوب آسی ۔ http://yaqubassy.blogspot.com/2015/06/blog-post_84.html