دجال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(مسیح دجال سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش

دجال یا مسیح دجال مسلمانوں کے نزدیک اس شخص کا لقب ہے جوقیامت کی بڑی علامتوں میں سے ایک اور قرب قیامت یعنی آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ امام رازی لکھتے ہیں:

" وأمّا المسيح الدجّال فإنّما سُمّي مسيحاً لأحد وجهين أولهما : لأنّه ممسوح العين اليمنى، وثانيهما : لأنّه يمسح الأرض أي يقطعها في زمن قصير لهذا قيل له: دجّال لضربه في الأرض وقطعه أكثر نواحيها، وقيل سُمّي دجّالاً من قوله : دَجَلَ الرجلُ إذا مَوَّه ولبَّس ".

— امام رازی, تفسير كبير

دجال قوم یہود سے ہوگا۔[1] ہر نبی نے اسکے فتنہ سے اپنی اپنی امتوں کو ڈرایا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فتنہ کو انتہائی وضاحت سے بیان فرمانے کے ساتھ بہت سی نشانیاں اور اس سے بچاؤ کے طریقے اپنی امت کو سمجھا دیئے ہیں۔ احادیث نبویہ میں دجال کا کوئی اصلی نام نہیں آیا، اسلامی اصطلاح میں اسکا لقب "دجال" ہے اور یہ لفظ اسکی پہچان اور علامت بن گیا ہے۔ اس کا فتنہ بہت سخت ہوگا چنانچہ رسول پاک ؐ نے فرمایا! آدم کی تخلیق سے لیکر قیامت قائم ہونے تک کوئی بھی فتنہ دجال کے فتنہ سے بڑھ کر نہیں ہے۔[2]

دجال لفظ کا مادہ[ترمیم]

دجال لفظ کا اصل مادہ د، ج، ل۔ دجال کا لفظ اس مادے سے فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ دجل کا معنی ہے ڈھانپ لینا ،لپیٹ لینا۔ دجال اس لیے کہا گیا کیونکہ اس نے حق کو باطل سےڈھانپ دیا ہے یا اس لیے کہ اس نے اپنے جھوٹ، ملمع سازی اور فریب کاری کے ذریعے اپنے کفر کو لوگوں سے چھپا لیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ اپنی فوجوں سے زمین کوڈھانپ لے گا اس لیے اسے دجا ل کہا گیا ہے اس لقب میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ (دجال اکبر بہت بڑے فتنوں والا ہے) وہ ان فتنوں کے ذریعے اپنے کفر کو ملمع سازی کیساتھ پیش کریگا اور اللہ کے بندوں کو شکوک و شبہات میں ڈال دیگا نیز یہ کہ اسکا فتنہ عالمی فتنہ ہوگا۔

"دجال" عربی زبان میں جعلساز، ملمع ساز اور فریب کار کو بھی کہتے ہیں۔ "دجل" کسی نقلی چیز پر سونے کا پانی چڑھانے کو کہتے ہیں۔ دجال کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جھوٹ اور فریب اسکی شخصیت کا نمایاں ترین وصف ہوگا۔ اس کے ہر فعل پر دھوکہ دہی اور غلط بیانی کا سایہ ہوگا۔ کوئی چیز، کوئی عمل، کوئی قول، اس شیطانی عادت کے اثرات سے خالی نہ ہوگا۔

تین عالمی مذاہب[ترمیم]

دنیا میں موجود تین بڑے آسمانی مذاہب (اسلام، یہودیت، عیسائیت) کے ماننے والے جو دنیا کی غالب اکثریت بھی ہیں ،ایک ہستی کا انتظار کر رہے ہیں جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگی اور انسانیت کے لیےنجات دہندہ اور مسیحا ثابت ہوگی۔ ہر آسمانی دین میں اس مسیح موعود کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ناموں کی ان وجوہات میں کوئی تضاد نہیں۔ اس قسم کے تمام فضائل ہی ان میں جمع تھے لہٰذا یہ تمام وجوہات اپنی جگہ درست ہیں۔

مسیح الدجال[ترمیم]

"دجال" کو احادیث میں مسیح الدجال بھی کہا گیا ہے۔[3] دجال اکبر کا نام مسیح کیوں رکھا گیا؟ بہت سے اقوال میں سے سب سے زیادہ واضح قول یہ کہ:

  • دجال کو مسیح کہنے کی وجہ یہ کہ اسکی ایک آنکھ اور ابرو نہیں ہے۔
  • بےشک دجال بالکل بند آنکھ والا ہوگا اس پر ایک موٹی پُھلی ہو گی ۔ [4][5]

دجال کے جھوٹے ہونے کی علامات[ترمیم]

  1. وہ آنکھوں سے نظر آرہا ہوگا(حالانکہ تم اپنے رب کو مرنے سے پہلے نہیں دیکھ سکتے)۔
  2. وہ کانا ہوگا حالانکہ تمہارا رب کانا نہیں ہوگا۔
  3. اسکی دونوں آنکھوں کے درمیان "کافر" لکھا ہوگا جو ہر مومن پڑھ لے گا، خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔[6][7]

دجال کا شخصی خاکہ[ترمیم]

رسول مقبولؐ نے خواب میں دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں کہ اس دوران انہیں دجال دکھایا گیا۔ آپؐ نے فرمایا :

وہ بھاری بھرکم جسم، سرخ رنگت، گھنگھریالے بال اور ایک آنکھ سے نابینا ہے۔ اسکی آنکھ لٹکے ہوئے انگور کے دانے جیسی ہے۔[8]

ظہور دجال[ترمیم]

وہ شام اور عراق کے درمیان ایک راستہ پر نمودار ہوگا۔[6] تاہم احادیث کی روشنی میں کسی خاص جگہ کو دجال کے ظہور کیلئے مختص نہیں کیا گیا، جیسے ماہ رمضان کی شب قدر کی رات کا خاص تعین نہیں کیا گیا۔

دجال کا برپا کردہ فساد[ترمیم]

دجال اپنے ظہور کے بعد ہر طرف فتنہ و فساد برپا کریگا۔[9]اس کے برپا کردہ فساد کی شدت کا اندازہ حدیث کی روشنی میں واضح ہوتا ہے:

پس مسلمان شام کے جبل دخان کی طرف بھاگ جائیں گے اور دجال وہاں آکر ان کا محاصرہ کرلے گا۔ یہ محاصرہ بہت سخت ہو گا اور ان کو بہت سخت مشقت میں ڈال دے گا۔ پھر فجر کے وقت عیسیٰ ابن مریم نازل ہونگے۔ وہ مسلمانوں سے کہیں گے : “اس خبیث کذاب کی طرف نکلنے سے تمہارے لیئے کیا چیز مانع ہے؟ مسلمان کہیں گے کہ یہ شخص جن ہے لہٰذا اس کا مقابلہ مشکل ہے۔“[10]

شارحین حدیث کا فرمانا ہے کہ دجال کی شعبدہ بازی مسمریزم وغیرہ کو دیکھ کر شاید بعض مسلمانوں کو اس کے جن ہونے کا گمان ہو یا ممکن ہے مسلمان یہ بات بطورِ تشبیہ کے کہیں کہ اسکی حرکتیں اور ایذا رسانیاں جنات کی طرح ہیں۔

دجال کی دعوت[ترمیم]

دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے نبی کہے گا، پھر خدائی کا دعویٰ کریگا۔ اپنے پیدا کردہ زبردست شکوک و شبہات میں انسانیت کو پھانستا چلا جائے گا۔ اپنے آپکو دجال نہیں بلکہ خدا کہے گا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جو دجال کی خبر سن لے وہ اس سے دور رہے۔ اللہ کی قسم! آدمی اپنے آپ کو مومن سمجھ کر اس کے پاس آئے گا اور پھر اسکے پیدا کردہ شبہات میں اس کی پیروی کرے گا۔[11]

دجال کے ساتھی[ترمیم]

دجال اکیلا نہیں ہوگا بلکہ اسکے ساتھ اسکے ساتھی بھی ہونگے۔ یعنی یہ ایک عالم گیر فتنہ ہوگا۔

نبی اکرمؐ کا رشاد ہے:

دجال کے پیروکاروں کی اکثریت یہودی اور عورتیں ہوں گی۔[12]
دجال کے ساتھ اصفہان کے ستر ہزار یہودی ہوں گے جو ایرانی چادریں اوڑھے ہوئے ہونگے۔[13]

یہود کے ہاں اس مسیح کو آل داؤد میں سے مانا جاتا ہے۔ حقیقتاً یہودی جس مسیح کا انتظار کررہے ہیں وہ وہی دجال ہوگا۔

دجال کی طاقت[ترمیم]

اللہ رب العزت نے دجال کو غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا ہوا ہوگا تاہم وہ اسکا استعمال برائی اور شر پھیلانے میں کرے گا۔ دجال کی طاقتوں کا اندازہ ذیل میں موجود احادیث سے ملتا ہے۔

  1. اسکے پاس آگ اور پانی ہوں گے۔ (جو) آگ (نظر آئے گی وہ) ٹھندا پانی ہوگا اور (جو) پانی (نظر آئے گا وہ) آگ (ہوگی)[14]
  2. اس (دجال) کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا (مطلب یہ کہ اسکے پاس پانی اور غذا وافر مقدار میں ہونگے)۔نبیؐ نے فرمایا ان باتوں کیلئے وہ نہایت حقیر ہے لیکن اللہ اسے اسکی اجازت دے گا (تاکہ لوگوں کو آزمایا جاسکے کہ وہ اللہ پر یقین رکھتے ہیں یا دجال پر)۔[15][16]
  3. اور پھر دجال اپنے ساتھ ایک دریا اور آگ لیکر آئے گا۔ جو اسکی آگ میں پڑے گا، اس کو یقناً اسکا صلہ ملے گا اور اسکا بوجھ کم کردیا جائے گا۔ لیکن جو اسکے دریا میں اترے گا، اسکا بوجھ برقرار رہے گا اور اسکا صلہ اس سے چھین لیا جائے گا۔ [17]
  4. ہم نے پوچھا: " یا رسول اللہ ! وہ اس زمین پر کتنی تیزی سے چلے گا؟" آپؐ نے فرمایا: "جس طرح ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔"[18][19]
  5. وہ (دجال) ایک گدھے پر سوار ہوگا۔ اس (گدھے) کے کانوں کے درمیان چالیس ہاتھوں کا فاصلہ ہوگا۔[20]
  6. اللہ تعالیٰ اسکے ساتھ شیاطین کوبھیجے گاجو لوگوں کے ساتھ باتیں کریں گے۔[21]
  7. وہ ایک بدّو سے کہے گا۔ اگر میں تمہارے باپ اور ماں کو تمہارے لیئے دوبارہ زندہ کروں تو تم کی کروگے؟ کیا تم شہادت دو گے کہ میں تمہارا خدا ہوں۔ بدّو کہے گا: ہاں! چنانچہ دو شیاطین اس بدّو کے ماں اور باپ کے روپ میں اسکے سامنے آجائیں گے اور کہیں گے: ہمارے بیٹے اسکا حکم مانو یہ تمہارا خدا ہے۔[22]
  8. الدجال آئے گا لیکن اس کے لیئے مدینہ میں داخل ہونا ممنوع ہوگا۔ وہ مدینہ کے مضافات میں کسی بنجر (سیم زدہ) علاقے میں خیمہ زن ہوگا۔ اس دن بہترین آدمی یا بہترین لوگوں میں سے ایک اس کے پاس آئے گا اور کہے گا: میں تصدیق کرتا ہوں تم وہی دجال ہو جسکا حلیہ ہمیں اللہ کے نبیؐ نے بتایا تھا۔ الدجال کہے گا : اگر میں اسے قتل کردوں اور پھر زندہ کردوں تو کیا تمہیں میرے دعویٰ میں کوئی شبہ رہے گا؟ وہ کہیں گے نہیں! پھر الدجال اسے قتل کردے گا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کر دے گا۔ وہ آدمی کہے گا اب میں تمہاری حقیقت کو پہلے سے ذیادہ بہتر جان گیا ہوں۔ الدجال کہے گا: میں اسے قتل کرنا چاہتا ہوں لیکن ایسا نہیں ہوسکتا۔[23]

درج بالا احادیث کی روشنی میں

  1. اسکا قبضہ تمام زندگی بخش وسائل مثلاً پانی، آگ اور غذا پر ہوگا۔
  2. اسکے پاس بے تحاشہ دولت اور زمین کے خزانے ہونے۔
  3. اسکی دسترس تمام قدرتی وسائل پر ہوگی مثلاً "بارش، فصلیں، قحط اور خشک سالی وغیرہ"۔
  4. وہ زمین پر اسطرح چلے گا جیسے ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔اسکے گدھے (سواری) کے کانوں کے درمیان 40 ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔
  5. وہ ایک نقلی جنت اور دوزخ اپنے ساتھ لائے گا۔
  6. اسکی اعانت و مدد شیاطین کریں گے۔ وہ مردہ لوگوں کی شکل میں بھی ظاہر ہونگے اور لوگوں سے گفتگو کریں گے۔
  7. وہ زندگی اور موت پہ (ظاہری طور پر) قدرت رکھے گا۔
  8. زندگی اور موت پر اسکا اختیار محدود ہوگا کیونکہ وہ اس مومن کو دوبارہ نہیں مار سکے گا۔

دجال کا قیام[ترمیم]

"دجال کہاں ہے؟" یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ خود اسی حدیث شریف میں جس میں دجال کے موجودہ مقام کا تذکرہ ہے، ذکر ہے کہ آپؐ کی پیش گوئی کی تصدیق آپؐ کی حیات مبارکہ میں ہوگئی تھی جس پر آپ نے خوشی و مسرت کا اظہار فرمایا:

"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ چکے تو وہ ممبر پر تشریف فرما ہوئے اور مسکراتے ہوئے فرمایا: "تمام لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہے۔ پھر فرمایا: جانتے ہو میں نے تمہیں کیوں جمع کیا؟" لوگوں نے کہا:" اللہ اور اسکا رسول بہتر جانتے ہیں۔" آپؐ نے فرمایا: "اللہ کی قسم! میں نے تمہیں نہ تو کسی چیز کا شوق دلانے کیلئے جمع کیا ہے اور نہ کسی چیز سے ڈرانے دھمکانے کیلئے اکٹھا کیا ہے، بلکہ میں نے تمہیں یہ بتانے کیلئے جمع کیا ہے تمیم داری پہلے عیسائی تھا۔ وہ آیا۔ اس نے بیعت کی اور اسلام میں داخل ہوگیا۔ اس نے مجھے ایسا واقعہ سنایا جو ان باتوں سے تعلق رکھتا ہے جو میں تمہیں دجال کے بارے میں بتایا کرتا ہوں۔

اس نے مجھے بتایا کہ وہ لخم اور جذام قبیلہ کے تیس آدمیوں کے ہمراہ ایک بحری جہاز میں سمندر کے سفر پر روانہ ہوا۔ سمندر کی لہریں مہینہ بھر انہیں ادھر اّدھر دھکیلتی رہیں یہاں تک وہ ایک جزیرے میں پہنچ گئے۔ اسوقت سورج غروب ہورہا تھا۔ وہ ایک چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے۔ جب وہ جذیرے میں داخل ہوئے تو انہیں ایک جانور ملا جس کے جسم پر بہت بال تھے۔ بالوں کی کثرت کی وجہ سے انہیں اس کے آگے پیچھے کچھ پتا نہ چل رہا تھا۔ انہوں نے کہا: تیرا ستیاناس ہو تو کیا چیز ہے؟ اس نے کہا کہ میں جساسہ ہوں۔ انہوں نے پوچھا: "یہ جساسہ کیا چیز ہے؟" اس نے کہا: "ائے لوگو! خانقاہ میں موجود اس آدمی کی طرف جاؤ وہ تمہاری خبریں سننے کا بڑے تجسس سے انتظار کررہا ہے۔" بیان کرنے والا بتاتا ہے جب اس نے آدمی کا ہم سے ذکر کیا تا ہمیں خوف لاحق ہوا کہ یہ جانور شیطان نہ ہو۔ پھر ہم تیزی سے چلے اور خانقاہ مین داخل ہوگئے۔ وہاں ہم نے بھاری بھرکم قدکاٹھ کا ایک آدمی دیکھا جس کے گھٹنوں سے ٹخنوں تک بندھی ایک لوہے کی زنجیر تھی اور اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھے تھے۔ ہم نے پوچھا "تیرا ناس ہو تو کیا چیز ہے؟" اس نے کہا: "میرا پتا تمہیں جلد چل جائے گا۔ یہ بتاؤ کہ تم کون ہو؟" ہم نے کہا کہ ہم عرب سے آئے ہیں۔ ہم جہاز میں سوار ہوئے۔ سمندر میں طوفان آگیا۔ مہینہ بھر لہریں ہمیں دھکیلتی رہیں۔ یہاں تک کہ اس جزیرے کے کنارے لے آئیں۔ ہم کشتی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے۔ یہاں ہمیں ایک جانور ملا جسکے بدن پر بہت بال تھے۔ بالون کی کثرت کی وجہ سے اسکے آگے پیچھے کا کچھ پتا نہیں چل رہاتا۔ ہم نے اس سے پوچھا: "تیرا ناس ہو، تو کیا چیز ہے؟" اس نے کہا: "میں جساسہ ہوں۔" ہم نے پوچھا: "یہ جساسہ کیا چیز ہے؟" اس نے کہ: "خانقاہ میں موجود اس آدمی کی طرف جاؤ وہ تمہاری خبریں سننے کا بہت شوق سے انتظار کررہا ہے۔ ہم تیزی سے تمہاری طرف آئے ہیں۔ اس ڈر سے کہ کہیں یہ شیطان نہ ہو۔"

اس نے کہا: "مجھے بیسان کے نخلستان کا حال بتاؤ۔" ہم نے کہا: اس نخلستان کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتے ہو؟ اس نے کہا: "میں جاننا چاہتاہوں کہ کیا اسکے درختوں پر پھل آتے ہیں یا نہیں؟" ہم نے کہا: "ہاں آتے ہیں!" اس نے کہا: "وہ زمانہ قریب ہے جب ان درختوں پر پھل نہیں آئیں گے" اسنے پوچھا: "مجھے طبریہ کی جھیل کے باے میں بتاؤ۔" ہم نے پوچھا: "اسکی کون سی بات جاننا چاہتے ہو؟" اس نے کہا: "کہا اس میں پانی ہے؟" ہم نے کہا: "ہاں! اس میں بہت پانی ہے۔" وہ بولا: "اسکا پانی بہت جلد ختم ہوجائے گا۔" پھر اس نے کہا: "مجھے زغر کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ۔" ہم نے پوچھا: "کون سی بات معلوم کرنا چاہتے ہو؟" زنجیر میں جکڑے آدمی نے کہا: "کیا چشمہ میں پانی ہے اور لوگ اس پانی سے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں؟" ہم نے کہا: "اس میں بہت پانی اور شہر کے رہنے والے اس سے کھیتوں کی آبیاری کرتے ہیں۔" پھر اس نے پوچھا: "مجھے نبی الامیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں بتاؤ۔ اس نے کیا کیا ہے؟" ہم نے کہا : "وہ مکہ سے نکل کر یثرب(مدینہ) میں آگئے ہیں۔" اس نے پوچھا: "کیا عربوں نے اسکے ساتھ جنگ کی؟" ہم نے کہا: " ہاں!" اس نے پوچھا : "اس نے انکے ساتھ کیا کیا؟" ہم نے بتایا کہ وہ اردگرد کے عربوں پر غالب آچکے ہیں اور انہوں نے انکی اطاعت قبول کرلی ہے۔ اس پر اس نے کہا: "کیا واقعی ایسا ہوچکا ہے؟" ہم نے کہا: "ہاں!" اس پر اس نے کہا: "انکے لیئےیہی بہتر ہے کہ وہ اسکی اطاعت قبول کرلیں۔ اب میں تمہیں اپنے بارے میں بتاتاہوں۔ میں دجال ہوں۔ مجھے عنقریب خروج کی اجازت مل جائے گی"[24]

یہ واقعہ سنانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصا (لاٹھی) ممبر پر مار کر فرمایا:

یہ ہے طیبہ۔یہ ہے طیبہ(یعنی مدینہ منورہ)" پھر آپؐ نے فرمایا : "میں تم کو یہی بتایا کرتا تھا۔ جان لو کہ دجال شام کے سمندر (بحیرہ روم) میں ہے یا یمن کے سمندر (بحر عرب) میں ہے۔ نہیں! وہ مشرق میں ہے! مشرق میں! اور اللہ کے نبیؐ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔[25]

احتیاطی تدابیر[ترمیم]

اپنی امت کو نبی آخرزماںؐ نے فتنہ دجال سے بچنے کی احتیاطی تدابیر سکھلائی ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا:

فتنوں کے درمیان سب سے ذیادہ خوش نصیب وہ ہوگا جو چھپا رہے اور پاک و صاف رہے۔ اگر سامنے آئے تو کوئی اسے پہچان نہ سکے اور اگر سامنے نہ ہوتو کوئی اس کا حال احوال نہ پوچھے۔ اور لوگوں میں سب ذیادہ بدنصیب وہ خطیب ہوگا جو بلند آواز سے فصیح و بلیغ خطبہ دے گا۔ اور وہ سوار ہوگا جو سواری کو تیز دوڑنے پر مجبور کرے گا۔ ان فتنوں کے شر سے وہی نجات پائے گا جو سمندر میں ڈوبنے والے کی طرح خلوص سے دعا مانگے گا۔[26]

حضرت ابوسعید خدری کی روایت ہے:

ایک وقت آئے گا مسلمان کا بہترین مال وہ بھیڑ بکریاں ہونگی جنکو لے کر وہ پہاڑ کی چوٹی اور بارش کے مقامات پر چلا جائے گا تاکہ وہ اپنے دین کو لے کر فتنوں سے بھاگ جائے۔[27]

اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے علامہ ابن حجر نے اپنی مشہور تصنیف "فتح الباری" میں لکھا ہے:

سلف الصالحین میں اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ فتنوں کے زمانے میں صاحب ایمان آدمی عام لوگوں سے کنارہ کش ہوکر علیدگی اختیار کرے یا نہ؟ بعض حضرات ایمان بچانے کیلئے گوشہ نشینی یا پہاڑوں میں نکل جانے کی اجازت دیتے ہیں اور بعض فرماتے ہیں کہ شہروں میں رہ کر فتنوں کے خلاف ڈٹ جانا چاہئے۔۔۔۔۔۔ لیکن یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب فتنہ عام نہ ہو، لیکن اگر فتنہ عام ہوجائے تو پھر فتنہ زدہ لوگوں سے علیدگی اور تنہائی کو ترجیح دی گئی ہے۔[28]

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:

"ائے عبداللہ بن عمرو! اگر تو ادنیٰ درجہ کے لوگوں کے درمیان رہ گیا تو پھر کیا کرے گا؟۔۔۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے عہدو پیمان اور امانتوں کو ضائع کردیا، پھر وہ ایسے ہوگئے۔" اور آپؐ نے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے اپنی انگلیوں کو آپس میں پیوست کرلیا۔ انہوں نے پوچھا: "ایسے وقت میرے لیئے کیا حکم ہے؟" آپؐ نے فرمایا: ۔۔۔۔۔۔ "عام لوگوں کو چھوڑ کر خاص لوگوں کے ساتھ مل جانا"[29][30][31][32]

درج بالا احادیث کی روشنی میں یہ باتیں معلوم ہوتی ہیں کہ:

  1. اللہ پر توکل کرکے پورے عزم اور حوصلے کیساتھ دجال کی اعلانیہ بغاوت کی جائے۔
  2. فتنوں کے وقت گوشہ نشنی (یعنی تنہائی) کو ترجیح دی جائے۔
  3. اللہ والوں کے ذیادہ قریب ہوجائے۔ تاکہ فتنوں سے محفوظ ہو۔

سورۃ الکہف کی تلاوت[ترمیم]

دجال کے فتنوں سے جو محفوظ رہنا چاہتا ہو اسکو چاہئے کہ سورۃ الکہف کی ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کرے۔ اسکی تلاوت دجال کے فتنے میں مبتلا ہونے بچالیتی ہے۔

[33][34]

آپؐ کا ارشاد ہے کہ:

تم میں سے جس کسی کے سامنے دجال آجائے تو اسکو چاہیے کہ وہ اس کے منہ پر تھوک دے اور سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔

[35][36][37]

فتنوں کے وقت مومن کی خوراک[ترمیم]

حدیث کا راوی کہتا ہے کہ ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے آپؐ سے پوچھا:

"اے اللہ کے رسولؐ! ان دنوں کون سی چیز لوگوں کیلئے حیات بخش ہوگی!" آپؐ نے فرمایا : "تسبیح (سبحان اللہ کہنا)، تحمید (الحمدللہ) کہنا، تکبیر (اللہ اکبر) کہنا، کھانے ہینے کی جگہ انکے اندر سرایت کر جائے گی۔"

[38]

دجال کی رسائی[ترمیم]

نعیم بن حماد نے کتاب الفتن میں روایت کی ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا :

بے شک دجال چار مسجدوں، مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد طور سینا اور مسجد اقصیٰ کے سوا ہر گھاٹ پر پہنچے گا۔[39][40]

مدینہ کا محاصرہ[ترمیم]

حضرت محجن ابن ادرع فرماتے ہیں:

رسول اللہﷺ نے (ایک دن) لوگوں سے خطاب کیا چنانچہ تین مرتبہ (یہ) فرمایا ہوم الخلاص وما یوم الخلاص یوم الخلاص وما یوم الخلاص۔ کسی نے پوچھا یہ یوم الخلاص کیا ہے؟ آپﷺ نے فرمایا دجال آئے گا اور احد پہاڑ پر چڑھے گا پھر اپنے دوستوں سے کہے گا کیا اس قصر ابیض (سفید محل) کو دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد کی مسجد ہے۔ پھر مدینہ منورہ کی جانب آئے گا تو اس کے ہر راستے پر ہاتھ میں ننگی تلوار لئے ایک فرشتہ کو مقرر پائے گا۔ چنانچہ سبخۃ الجرف کی جانب آئے گا اور اپنے خیمے پر ضرب لگائے گا۔ پھر مدینہ منورہ کو تین جھٹکے لگیں گے۔ جسکے نتیجے میں ہر منافق مرد و عورت اور فاسق مرد و عورت مدینہ سے نکل کر اسکے ساتھ چلے جائیں گے۔ اس طرح مدیبہ (گناہ گاروں سے) پاک ہوجائے گا۔ اور یہی یوم الخلاص (چھٹکارے یا نجات کا دن) ہے۔

[41]

دجال کے ہاتھوں مرنے والوں کا رتبہ[ترمیم]

نعیم بن حماد کی روایات ہیں کہ:

  • جو لوگ دجال کے یا اسکے لوگوں کے ہاتھوں شہید ہونگے، انکی قبریں تاریک اندھیری راتوں میں چمک رہی ہونگی۔[42]
  • ایک اور روایت ہے کہ انکا شمار افضل ترین شہدا میں ہوگا۔[43]

دجال کا خاتمہ[ترمیم]

آپؐ نے دجال کی ابتدا سے انتہا تک امت کی مکمل رہنمائی کی ہے۔ دجال چالیس دن حکومت کرکے عیسیٰؑ ابن مریمؑ کے ہاتھوں قتل ہوگا۔ مسلمانوں کے ہاں انہی کو مسیح موعود کا درجہ حاصل ہے۔

وہ آخری بار اردن کے علاقے میں "افیق" نامی گھاٹی پر نمودار ہوگا۔  (مسلمانوں اور دجالی لشکروں کے درمیان جنگ ہوگی جس میں) وہ ایک تہائی مسلمانوں کو قتل کردے گا۔ ایک تہائی کو شکست دے کر بگھا دے گا اور ایک تہائی کو باقی چھوڑے گا۔ رات ہوجائے گی توبعض مومنین بعض سے کہیں گے کہ تمہیں اپنے رب کی خواشنودی کے لیئے اپنے (شہید) بھائیوں سے جا ملنے (شہید ہوجانے) میں اب کس چیز کا انتظار ہے؟ جس کے پاس کھانے کی کوئی چیز زائد ہووہ اپنے (مسلمان)  بھائی کو دے دے۔ تم فجر ہوتے ہی (عام معمول کی بہ نسبت) جلدی نماز پڑھ لینا، پھر دشمن پر روانہ ہوجانا۔

پس جب یہ لوگ نماز کے لیے اٹھیں گے تو عیسیٰ علیہ السلام ان کے سامنے نازل ہوں گے اور نماز ان کے ساتھ پڑھیں گے۔ نماز سے فارغ ہوکر وہ(ہاتھ سے) اشارہ کرتے ہوئے فرمائیں گے :

میرے اور دشمن خدا (دجال) کے درمیان سے ہٹ جاؤ (تاکہ مجھے دیکھ لے)

ابوحازم (جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک ہیں) کہتے ہیں کہ ابوہریرہ  نے فرمایا کہ :

دجال (حضرت عیسیٰؑ کو دیکھتے ہی) ایسا پگھلےگا جیسے دھوپ میں چکنائی پگھلتی ہے۔

اسکے علاوہ عبداللہ بن عمرو نے یہ فرمایا کہ:

(ایسا گھلے گا) جیسے نمک پانی میں گھلتا ہے۔

نبی اکرمؐ نے دجال کے خاتمے کو واضح طور پر بیان کیا کہ:

عیسیٰ ابن مریم نازل ہونگے۔ پس لوگوں کی تانگوں اور آنکھوں کے درمیان سے تاریکی ہٹ جائے گی (یعنی اتنی روشنی ہوجائے گی کہ لوگ ٹانگوں تک دیکھ سکیں گے) اس وقت عیسیٰؑ کے جسم پر ایک زرہ ہوگی۔ پس لوگ ان سے پوچھیں گے کہ آپ کون ہیں؟ وہ فرمائیں گے: میں عیسیٰ ابن مریم اللہ کا بندہ اور رسول ہوں اور اسکی (پیدا کردہ) جان اور اسکا کلمہ ہوں (یعنی باپ کے بغیر محض اس کے کلمہ "کُن" سے پیدا ہوا ہوں) تم تین صورتوں میں سے ایک کو اختیار کرلو:
  1. اللہ دجال اور اسکی فوجوں پر بڑا عذاب آسمان سے نازل کردے۔
  2. ان کو زمین میں دھنسا دے۔
  3. ان کے اوپر تمہارے اسلحہ کو مسلط کردے اور ان کے ہتھیاروں کو تم سے روک دے۔

مسلمان کہیں گے: "ائے اللہ کے رسول! یہ (آخری) صورت ہمارے لیئے اور ہمارے قلوب کیلئے ذیادہ طمانیت کا باعث ہے۔چنانچہ اس روز تم بہت کھانے پینے والے (اور) ڈیل ڈول والے یہودی کو (بھی) دیکھو گے کہ ہیبت کی وجہ سے اس کا ہاتھ تلوار نہ اٹھا سکے گا۔ پس مسلمان (پہاڑ سے) اتر کر انکے اوپر مسلط ہوجائیں گے اور دجال جب (عیسیٰ) ابن مریم کو دیکھے گا تو سیسہ کی طرح پگھلنے لگے گا حتیٰ کہ عیسیٰ علیہ السلام اسے جا لیں گے اور قتل کر دیں گے۔"

[44]

اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے دجال اور اسکے لشکر پر مسلمانوں کو مسلط کردے گا۔ چنانچہ وہ ان سب کو قتل کردیں گے۔ حتیٰ کہ شجرو حجر بھی پکاریں گے کہ ائے اللہ کے بندے! ائے رحمٰن کے بندے! ائے مسلمان! یہ یہودی ہے۔ اسے قتل کردے۔ غرض اللہ تعالیٰ ان سب کو فنا کردے گا اور مسلمان فتح یاب ہوں گے۔ پس مسلمان صلیب کو توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ بند کردیں گے۔

نگار خانہ[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ صحیح مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال و صفہ وما معہ، حدیث نمبر : 2937
  2. ^ صحیح مسلم جلد سوم:حدیث نمبر 2872
  3. ^ بخاری، حدیث نمبر: 84
  4. ^ صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2866
  5. ^ مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر : 2934
  6. ^ 6.0 6.1 ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ الدجال و خروج عیسیٰ ،حدیث نمبر : 4077
  7. ^ الحاکم، حدیث نمبر : 8768
  8. ^ صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر: 6709
  9. ^ مستدرک حاکم، حدیث نمبر : 8768
  10. ^ مسند احمد ، مسند جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر : 14954
  11. ^ سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، حدیث نمبر : 321
  12. ^ مسند احمد، مسند شامیین، حدیث نمبر : 17226
  13. ^ صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب فی بقیہ احادیث الدجال، حدیث نمبر : 2944
  14. ^ صحیح البخاری ، کتاب الانبیاء، باب ماذکر عن بنی اسرائیل، حدیث نمبر : 3266
  15. ^ صحیح المسلم، کتاب الآداب، باب جواز قولہ لغیر ابنہ، حدیث نمبر : 2152
  16. ^ صحیح بخاری، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر : 6705
  17. ^ ابو داؤد، کتاب الفتن، باب ذکر الفتن ودلائلھا، حدیث نمبر : 4246
  18. ^ صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر : 2937
  19. ^ ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ دجال و خروج عیسیٰ، حدیث نمبر : 4075
  20. ^ مسند احمد، مسند جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر : 4954
  21. ^ الماخذ المذکور تحت رقم : 86
  22. ^ ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ دجال، حدیث نمبر : 4077
  23. ^ صحیح البخاری، کتاب الحج، ابواب فضائل المدینہ، باب لاید خل الدجال المدینۃ، حدیث نمبر : 1783
  24. ^ صحیح مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ، باب قصۃ الجساسہ، حدیث نمبر : 2942
  25. ^ نعیم بن حماد، الفتن، باب خروج الدجال و سیرۃ، حدیث نمبر: 1527
  26. ^ نعیم بن حماد، الفتن، بدایۃ الجزء الرابع، حدیث نمبر : 720
  27. ^ صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب التعرب فی الفتنہ، حدیث نمبر : 667
  28. ^ فتح الباری، کتاب الفتن، باب التعرب فی فتنہ، تحت حدیث رقم : 6677
  29. ^ سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب الامر ونہی، حدیث نمبر : 4344
  30. ^ مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند عبداللہ بن عمرو وضی اللہ عنھما، حدیث نمبر : 7049
  31. ^ مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند عبداللہ بن عمرو وضی اللہ عنھما، حدیث نمبر : 7063
  32. ^ ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب التثبت فی الفتنہ، حدیث نمبر : 3957
  33. ^ سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، حدیث نمبر : 4323
  34. ^ صحیح مسلم، باب فضائل القرآن و مایتعلق بہٖ، باب فضائل سورۃ الکہف و آیت الکرسی، حدیث نمبر : 809
  35. ^ المستدرک للحاکم، حدیث نمبر : 8768
  36. ^ طبرانی، حدیث نمبر : 7529
  37. ^ المعجم الکبیر للطبرانی، باب ص، حدیث نمبر : 7644
  38. ^ ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال۔۔۔۔ ، حدیث نمبر : 4077
  39. ^ نعیم بن حماد، الفتن، باب المعقل من الدجال، حدیث نمبر : 1578
  40. ^ مسند احمد، حدیث رجل من اصحاب النبیؐ، حدیث نمبر : 23684
  41. ^ علیٰ الصحیحین، ج 4، صفحہ نمبر : 546
  42. ^ نعیم بن حماد، الفتن، باب ما بقی من الاعماق و فتح القسطنطینیہ، الجزو 2، حدیث نمبر: 1382
  43. ^ نعیم بن حماد، الفتن، باب ما بقی من الاعماق و فتح القسطنطینیہ، الجزو 1، حدیث نمبر: 1252
  44. ^ مصنف عبدالرزاق، کتاب الجامع، للامام معمر، باب الدجال، حدیث نمبر : 20834

بیرونی روابط[ترمیم]