دجال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(مسیح دجال سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

دجال یا مسیح دجال مسلمانوں کے نزدیک اس شخص کا لقب ہے جوقیامت کی بڑی علامتوں میں سے ایک اور قرب قیامت یعنی آخری زمانہ میں ظاہر ہوگا۔ امام رازی لکھتے ہیں:

" وأمّا المسيح الدجّال فإنّما سُمّي مسيحاً لأحد وجهين أولهما : لأنّه ممسوح العين اليمنى، وثانيهما : لأنّه يمسح الأرض أي يقطعها في زمن قصير لهذا قيل له: دجّال لضربه في الأرض وقطعه أكثر نواحيها، وقيل سُمّي دجّالاً من قوله : دَجَلَ الرجلُ إذا مَوَّه ولبَّس ".

— امام رازی, تفسير كبير

دجال قوم یہود سے ہوگا۔[1] ہر نبی نے اسکے فتنہ سے اپنی اپنی امتوں کو ڈرایا ہے مگر محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اس فتنہ کو انتہائی وضاحت سے بیان فرمانے کے ساتھ بہت سی نشانیاں اور اس سے بچاؤ کے طریقے اپنی امت کو سمجھا دیئے ہیں۔ احادیث نبویہ میں دجال کا کوئی اصلی نام نہیں آیا، اسلامی اصطلاح میں اسکا لقب "دجال" ہے اور یہ لفظ اسکی پہچان اور علامت بن گیا ہے۔ اس کا فتنہ بہت سخت ہوگا چنانچہ رسول پاک ؐ نے فرمایا! آدم کی تخلیق سے لیکر قیامت قائم ہونے تک کوئی بھی فتنہ دجال کے فتنہ سے بڑھ کر نہیں ہے۔[2]

دجال لفظ کا مادہ[ترمیم]

دجال لفظ کا اصل مادہ د، ج، ل۔ دجال کا لفظ اس مادے سے فعال کے وزن پر مبالغہ کا صیغہ ہے۔ دجل کا معنی ہے ڈھانپ لینا ،لپیٹ لینا۔ دجال اس لیے کہا گیا کیونکہ اس نے حق کو باطل سےڈھانپ دیا ہے یا اس لیے کہ اس نے اپنے جھوٹ، ملمع سازی اور فریب کاری کے ذریعے اپنے کفر کو لوگوں سے چھپا لیا ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ وہ اپنی فوجوں سے زمین کوڈھانپ لے گا اس لیے اسے دجا ل کہا گیا ہے اس لقب میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ (دجال اکبر بہت بڑے فتنوں والا ہے) وہ ان فتنوں کے ذریعے اپنے کفر کو ملمع سازی کیساتھ پیش کریگا اور اللہ کے بندوں کو شکوک و شبہات میں ڈال دیگا نیز یہ کہ اسکا فتنہ عالمی فتنہ ہوگا۔

"دجال" عربی زبان میں جعلساز، ملمع ساز اور فریب کار کو بھی کہتے ہیں۔ "دجل" کسی نقلی چیز پر سونے کا پانی چڑھانے کو کہتے ہیں۔ دجال کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جھوٹ اور فریب اسکی شخصیت کا نمایاں ترین وصف ہوگا۔ اس کے ہر فعل پر دھوکہ دہی اور غلط بیانی کا سایہ ہوگا۔ کوئی چیز، کوئی عمل، کوئی قول، اس شیطانی عادت کے اثرات سے خالی نہ ہوگا۔

تین عالمی مذاہب[ترمیم]

دنیا میں موجود تین بڑے آسمانی مذاہب (اسلام، یہودیت، عیسائیت) کے ماننے والے جو دنیا کی غالب اکثریت بھی ہیں ،ایک ہستی کا انتظار کر رہے ہیں جو آخری زمانہ میں ظاہر ہوگی اور انسانیت کے لیےنجات دہندہ اور مسیحا ثابت ہوگی۔ ہر آسمانی دین میں اس مسیح موعود کا وعدہ کیا گیا ہے۔

ناموں کی ان وجوہات میں کوئی تضاد نہیں۔ اس قسم کے تمام فضائل ہی ان میں جمع تھے لہٰذا یہ تمام وجوہات اپنی جگہ درست ہیں۔

اور دجال کا خروج حتمی ہے۔

عن جابر بن عبد الله قال: قال رسول الله صلى الله علیہ و آلہ و سلم: "من کذب بالدجال فقد کفر، ومن کذب بالمهدی فقد کفر" ۔(عقد الدرر فی اخبار المنتظر ، ج1 ، ص36 ۔) جس نے دجال کے وجود اور خروج کو جھٹلایا وه کافر ہے اور جس نے مہدی (عج) کو جھٹلایا وہ کافر ہے۔

مسیح الدجال[ترمیم]

"دجال" کو احادیث میں مسیح الدجال بھی کہا گیا ہے۔[3] دجال اکبر کا نام مسیح کیوں رکھا گیا؟ بہت سے اقوال میں سے سب سے زیادہ واضح قول یہ کہ:

  • دجال کو مسیح کہنے کی وجہ یہ کہ اسکی ایک آنکھ اور ابرو نہیں ہے۔
  • بےشک دجال بالکل بند آنکھ والا ہوگا اس پر ایک موٹی پُھلی ہو گی ۔ [4][5]

دجال کے جھوٹے ہونے کی علامات[ترمیم]

  1. وہ آنکھوں سے نظر آرہا ہوگا(حالانکہ تم اپنے رب کو مرنے سے پہلے نہیں دیکھ سکتے)۔
  2. وہ کانا ہوگا حالانکہ تمہارا رب کانا نہیں ہوگا۔
  3. اسکی دونوں آنکھوں کے درمیان "کافر" لکھا ہوگا جو ہر مومن پڑھ لے گا، خواہ وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو۔[6][7]

دجال کا شخصی خاکہ[ترمیم]

رسول مقبولؐ نے خواب میں دیکھا کہ وہ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے ہیں کہ اس دوران انہیں دجال دکھایا گیا۔ آپؐ نے فرمایا :

وہ بھاری بھرکم جسم، سرخ رنگت، گھنگھریالے بال اور ایک آنکھ سے نابینا ہے۔ اسکی آنکھ لٹکے ہوئے انگور کے دانے جیسی ہے۔[8]

ظہور دجال[ترمیم]

وہ شام اور عراق کے درمیان ایک راستہ پر نمودار ہوگا۔[6] تاہم احادیث کی روشنی میں کسی خاص جگہ کو دجال کے ظہور کیلئے مختص نہیں کیا گیا، جیسے ماہ رمضان کی شب قدر کی رات کا خاص تعین نہیں کیا گیا۔

دجال کا برپا کردہ فساد[ترمیم]

دجال اپنے ظہور کے بعد ہر طرف فتنہ و فساد برپا کریگا۔[9]اس کے برپا کردہ فساد کی شدت کا اندازہ حدیث کی روشنی میں واضح ہوتا ہے:

پس مسلمان شام کے جبل دخان کی طرف بھاگ جائیں گے اور دجال وہاں آکر ان کا محاصرہ کرلے گا۔ یہ محاصرہ بہت سخت ہو گا اور ان کو بہت سخت مشقت میں ڈال دے گا۔ پھر فجر کے وقت عیسیٰ ابن مریم نازل ہونگے۔ وہ مسلمانوں سے کہیں گے : “اس خبیث کذاب کی طرف نکلنے سے تمہارے لیئے کیا چیز مانع ہے؟ مسلمان کہیں گے کہ یہ شخص جن ہے لہٰذا اس کا مقابلہ مشکل ہے۔“[10]

شارحین حدیث کا فرمانا ہے کہ دجال کی شعبدہ بازی مسمریزم وغیرہ کو دیکھ کر شاید بعض مسلمانوں کو اس کے جن ہونے کا گمان ہو یا ممکن ہے مسلمان یہ بات بطورِ تشبیہ کے کہیں کہ اسکی حرکتیں اور ایذا رسانیاں جنات کی طرح ہیں۔

دجال تحریر : علامہ محمد یوسف جبریل وہ لوگ جو اس انتظار میں ہیں کہ گدھے کے ساتھ جکڑا ہوا دجال ایک جزیرے سے نکلے گا ،اس طرح کہ گدھے پر سوار ہو گا اور مخلوق اس کے پیچھے چلے گی، تو مجھے افسوس کہ وہ کبھی دجال کو دیکھ نہ سکیں گے اور قیامت کو جب دجال کو دیکھیں گے تو کہیں گے کہ یا للعجب! اس کو تو ہم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا مگر اس کو سمجھے نہ تھے، مگر افسوس کہ اس وقت کچھ نہ ہو سکے گا۔ دجال نکلا ور زمین کا چکر لگا کر ختم بھی کر چکااور زمین پر اپنے خلیفے چھوڑ گیا اور دنیا کو ابھی تک خبر بھی نہیں ہے ۔ آج دنیا میں سوائے چند گمنام بندوں کے تمام ابنائے آدم دجال کے بندے ہیں۔ خدا سے بیزار، خدائی دین سے بیزار، خدائی تعلیم سے بیزار، یاد رکھیئے! دجال کو بے پناہ قوت حاصل ہے کہ آدمی کو مار بھی سکتا ہے زندہ بھی کر سکتا ہے، جو بھی اس کے سامنے سر اٹھاتا ہے اسے مار دیتا ہے اور پھر جلا کر دنیا کو دکھاتاہے اور دیکھنے والوں کا اعتقاد اس میں ہو جاتاہے جو لوگ جدید فرہاد کی بے پناہ قوتوں سے ناآگاہ ہیں وہ بے شک اندھے ہیں وہ کبھی دجال کو دیکھ نہ سکیں گے۔ وہ اپنے اندھے دماغ کو نچوڑ نچوڑ کر دیکھیں گے حتیٰ کہ درد سر میں مبتلا ہو جائیں گے ۔ وہ سمجھ نہ سکیں گے۔ شبِ قدر ہر سال ایک دفعہ آتی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا واقعہ معراج بھی ہر سال دہرایا جاتا ہے مگر کتنے لوگ ہیں جنہوں نے شب قدر کو دیکھا ہے ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نبی آخر الزمان ہیں، جن کی بشارت انجیل نے دی ہے۔ حضرت عیسٰی علیہ السلام دنیا میں آئے اور اس دنیا میں اپنا کام سرانجام کرکے چلے گئے مگر نصاری ابھی تک انتظار میں بیٹھے ہیں کہ نبی آخر الزمان ابھی پیدا ہو گا اور آپ اگر دنیا کے ایک سرے سے ڈھونڈھنا شروع ہو جائیں اور گننا شروع ہو جائیں، تو دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک آپ تھک کر ہار جائیں گے مگر آپ کو صاحب ایمان بمشکل ملے گا۔ صاحب ایمان کی یہ علامت ہے کہ وہ اس دجالیت کے بھنور میں گرفتار نہ ہو جس کا بدن اس دنیا میں ہو اور جس کا دل عالمِ عقبی میں ہو، جسے موت یاد ہو اور جو دنیاوی ضروریات کو محض زندگی گزارنے کے لئے حاصل کرتا ہو اور جو اللہ پر توکل رکھتا ہو۔ آپ گاؤں میں رہتے ہیں تو گاؤں میں نظر دوڑایئے، کوئی صاحبِ ایمان بمشکل ملے گا، اگر آپ شہر میں ہیں تو شہر میں ڈھونڈھیئے۔ اگر آپ چین میں ہیں، جاپان میں ہیں، عرب میں ہیں، ہند میں ہیں، پاکستان میں ہیں، ایشیا میں ہیں، یورپ میں، امریکہ میں، افریقہ میں ہیں، آسٹریلیا میں، نیوزی لینڈ میں ہیں یا کسی دوسری غیر معروف بستی میں ہیں، آپ کو صاحب ایمان بمشکل نظر آئے گا، سب دنیا سارا جہان دجال کے فتنے میں مبتلا ہے۔ ساری کائنات اسی بھنور میں گرفتار ہے، جس دل کو کھول کے دیکھو ،اسی آزار میں مبتلا ہے۔ جس سر کو غور سے دیکھو اسی دشت میں سرگرداں ہے ،جس آنکھ کو دیکھو، اسی فکر میں حیران ہے، کوئی نہیں، جسے لمحہ بھر تسکین آئی ہو، کوئی نہیں، جس نے کبھی موت کو یاد کیا ہو، کوئی نہیں، جس نے کبھی انسان کے انجام پہ غور کیا ہو، ٹائی نہیں، کوٹ نہیں، پتلون نہیں، بینک بیلنس نہیں، یہی آوازیں ہیں جو کان میں آتی ہیں، یہی باتیں ہیں جو ہر سو ہر جا نظر آتی ہیں، مسجدیں ویران ہیں، سینما آباد ہیں، قبر بھولی ہوئی ہے ،موت بھولی ہوئی ہے، خدا یاد نہیں، کوئی دل عشقِ خدا، عشقِ رسول صلی اللہ علیہ و�آلہ وسلم میںیا د نہیں، ہائے اللہ کے وہ پیارے بندے، اس کی دنیا میں وہ بے چارے بندے، وہ فقیر، وہ عباد، وہ ولی ،وہ درویش ،وہ امین ،وہ خدا دوست، خدا پرست، وہ دانش مند، وہ دن دنیا میں،اور راتیں مسجدوں میں بسر کرنے والے نجیب، آج ناپید ہیں، وہ مراقبے، وہ شب زندہ داریاں، وہ بے قراریاں، وہ نالہ ہائے نیم شبی، وہ فغانیں ،وہ نالے وہ سجود، وہ خدا ترسیاں، وہ کہاں ہیں، وہ کیا ہوئیں ۔ وہ کہاں گئیں، ابنِ آدم سے وہ دولت چھن گئی۔ ہائے افسوس، وہ چاندنی رات کو قبرستانوں میں خموش بیٹھنے والے بندے، وہ اندھیری رات میں گوشہء مسجد میں بیٹھ کر خدا یاد کرنے والے بندے کہاں گئے۔ آسمان حیران آنکھوں سے زمین کو دیکھتا ہے۔ کہ ہو کیا گیا ہے۔ خاک مسکین آسمان کی طرف دیکھتی ہے کہ ہو کیاگیا ہے۔ فرشتے خاموش ہیں کہ خدایا ہوکیا گیا ہے۔ نبیﷺ ٓآزردہ ہیں کہ یا رب ہو کیاگیا ہے۔ ذاتِ باری آشفتہ و غضبناک ہے کہ اے ناشکرے انسان! اے خاک کے پتلے! ہم نے تمہیں زمین اور آسمانوں میں ممتاز کیا۔ ہم نے تمہیں حیوانات سے جنات سے ملائکہ سے ممتاز کیا ۔ہم نے تمہیں ساری کائنات سے ممتاز کیا۔ تیرے لئے ہم نے ابلیس کو مردود کیا۔ تیرے لئے ہم نے اسے اپنی بارگاہ سے راندہ درگاہ کیا۔ تیرے آگے ہم نے فرشتوں کو سجدہ کروایا۔ آج تو اسی ابلیس کے بہکاوے میں آ کر ہم سے غداری کرتاہے۔ آج تو اسی ابلیس کا مرید ہے۔ وہی ابلیس تیرا معبود ہے۔ آج تو ہم سے سرکشی کرتاہے۔ اے ناشکرے انسان! ہم تجھے اس سرکشی کی سزا دیں گے۔ یہی دنیا جس سے تجھے بہت محبت ہے ۔تجھے اس میں خوار کریں گے اور آخرت بھی ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اے کاہِ جؤ میں پڑنے والے گدھے! تجھ کو اور تیرے شیطانوں کو سرنگوں لٹکائیں گے اور تجھے کہیں گے کہ بلا اب ان شیطانوں کو! اپنی مدد کے لئے بلاؤ اور اپنی سرکشی کا مزا چکھو، آج بلیس خوش ہے کہ اپنے مقصد کو پہنچ گیا ،جس آدم کے سبب اسے جنت سے نکالا گیا۔ اس سے جنت چھین لی گئی۔ آج اسی آدم کی اولاد کو اسی خدا سے باغی کر دیا۔ جس نے اسی آدم کے لئے ابلیس کو جنت سے نکالا تھا۔ راندہ بارگاہ کر دیا تھا ۔آج دنیا میں تعلیم بہت ہے مگر عقل نام کو نہیں، آج دنیا میں زرو اناج بہت ہے مگر کوئی سیر نہیں ہوتا۔ آج خوشیوں کے سامان بہت ہیں مگر خوشی ناپید ہے۔ یوسف جبریل ، قائد اعظم سٹریٹ نوابآباد واہ کینٹ ضلع راولپنڈی یوسف جبریل فاؤنڈیشن پاکستان www.oqasa.org Back to Conversion Tool

Urdu Home

دجال کی دعوت[ترمیم]

دجال اپنے آپ کو سب سے پہلے نبی کہے گا، پھر خدائی کا دعویٰ کریگا۔ اپنے پیدا کردہ زبردست شکوک و شبہات میں انسانیت کو پھانستا چلا جائے گا۔ اپنے آپکو دجال نہیں بلکہ خدا کہے گا۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

جو دجال کی خبر سن لے وہ اس سے دور رہے۔ اللہ کی قسم! آدمی اپنے آپ کو مومن سمجھ کر اس کے پاس آئے گا اور پھر اسکے پیدا کردہ شبہات میں اس کی پیروی کرے گا۔[11]

دجال کے ساتھی[ترمیم]

دجال اکیلا نہیں ہوگا بلکہ اسکے ساتھ اسکے ساتھی بھی ہونگے۔ یعنی یہ ایک عالم گیر فتنہ ہوگا۔

نبی اکرمؐ کا رشاد ہے:

دجال کے پیروکاروں کی اکثریت یہودی اور عورتیں ہوں گی۔[12]
دجال کے ساتھ اصفہان کے ستر ہزار یہودی ہوں گے جو ایرانی چادریں اوڑھے ہوئے ہونگے۔[13]

یہود کے ہاں اس مسیح کو آل داؤد میں سے مانا جاتا ہے۔ حقیقتاً یہودی جس مسیح کا انتظار کررہے ہیں وہ وہی دجال ہوگا۔

دجال کی طاقت[ترمیم]

اللہ رب العزت نے دجال کو غیر معمولی صلاحیتوں سے نوازا ہوا ہوگا تاہم وہ اس کا استعمال برائی اور شر پھیلانے میں کرے گا۔ دجال کی طاقتوں کا اندازہ ذیل میں موجود احادیث سے ملتا ہے۔

  1. اس کے پاس آگ اور پانی ہوں گے۔ (جو) آگ (نظر آئے گی وہ) ٹھندا پانی ہوگا اور (جو) پانی (نظر آئے گا وہ) آگ (ہوگی)[14]
  2. اس (دجال) کے پاس روٹیوں کا پہاڑ اور پانی کا دریا ہوگا (مطلب یہ کہ اس کے پاس پانی اور غذا وافر مقدار میں ہوں گے)۔نبیؐ نے فرمایا ان باتوں کے لئے وہ نہایت حقیر ہے لیکن اللہ اسے اس کی اجازت دے گا (تاکہ لوگوں کو آزمایا جاسکے کہ وہ اللہ پر یقین رکھتے ہیں یا دجال پر)۔[15][16]
  3. اور پھر دجال اپنے ساتھ ایک دریا اور آگ لے کر آئے گا۔ جو اس کی آگ میں پڑے گا، اس کو یقناً اس کا صلہ ملے گا اور اس کا بوجھ کم کردیا جائے گا۔ لیکن جو اس کے دریا میں اترے گا، اس کا بوجھ برقرار رہے گا اور اس کا صلہ اس سے چھین لیا جائے گا۔ [17]
  4. ہم نے پوچھا: " یا رسول اللہ ! وہ اس زمین پر کتنی تیزی سے چلے گا؟" آپؐ نے فرمایا: "جس طرح ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔"[18][19]
  5. وہ (دجال) ایک گدھے پر سوار ہوگا۔ اس (گدھے) کے کانوں کے درمیان چالیس ہاتھوں کا فاصلہ ہوگا۔[20]
  6. اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ شیاطین کوبھیجے گاجو لوگوں کے ساتھ باتیں کریں گے۔[21]
  7. وہ ایک بدّو سے کہے گا۔ اگر میں تمہارے باپ اور ماں کو تمہارے لیئے دوبارہ زندہ کروں تو تم کیا کروگے؟ کیا تم شہادت دو گے کہ میں تمہارا خدا ہوں۔ بدّو کہے گا: ہاں! چنانچہ دو شیاطین اس بدّو کے ماں اور باپ کے روپ میں اس کے سامنے آجائیں گے اور کہیں گے: ہمارے بیٹے اس کا حکم مانو یہ تمہارا خدا ہے۔[22]
  8. الدجال آئے گا لیکن اس کے لئے مدینہ میں داخل ہونا ممنوع ہوگا۔ وہ مدینہ کے مضافات میں کسی بنجر (سیم زدہ) علاقے میں خیمہ زن ہوگا۔ اس دن بہترین آدمی یا بہترین لوگوں میں سے ایک اس کے پاس آئے گا اور کہے گا: میں تصدیق کرتا ہوں تم وہی دجال ہو جس کا حلیہ ہمیں اللہ کے نبیؐ نے بتایا تھا۔ الدجال کہے گا : اگر میں اسے قتل کردوں اور پھر زندہ کردوں تو کیا تمہیں میرے دعویٰ میں کوئی شبہ رہے گا؟ وہ کہیں گے نہیں! پھر الدجال اسے قتل کردے گا اور پھر اسے دوبارہ زندہ کر دے گا۔ وہ آدمی کہے گا اب میں تمہاری حقیقت کو پہلے سے زیادہ بہتر جان گیا ہوں۔ الدجال کہے گا: میں اسے قتل کرنا چاہتا ہوں لیکن ایسا نہیں ہوسکتا۔[23]

درج بالا احادیث کی روشنی میں

  1. اس کا قبضہ تمام زندگی بخش وسائل مثلاً پانی، آگ اور غذا پر ہوگا۔
  2. اس کے پاس بے تحاشہ دولت اور زمین کے خزانے ہونے۔
  3. اس کی دسترس تمام قدرتی وسائل پر ہوگی مثلاً "بارش، فصلیں، قحط اور خشک سالی وغیرہ"۔
  4. وہ زمین پر اس طرح چلے گا جیسے ہوا بادلوں کو اڑا لے جاتی ہے۔اس کے گدھے (سواری) کے کانوں کے درمیان 40 ہاتھ کا فاصلہ ہوگا۔
  5. وہ ایک نقلی جنت اور دوزخ اپنے ساتھ لائے گا۔
  6. اس کی اعانت و مدد شیاطین کریں گے۔ وہ مردہ لوگوں کی شکل میں بھی ظاہر ہوں گے اور لوگوں سے گفتگو کریں گے۔
  7. وہ زندگی اور موت پہ (ظاہری طور پر) قدرت رکھے گا۔
  8. زندگی اور موت پر اس کا اختیار محدود ہوگا کیونکہ وہ اس مومن کو دوبارہ نہیں مار سکے گا۔

دجال کا قیام[ترمیم]

"دجال کہاں ہے؟" یہ بات دلچسپی سے خالی نہیں کہ خود اسی حدیث شریف میں جس میں دجال کے موجودہ مقام کا تذکرہ ہے، ذکر ہے کہ آپؐ کی پیش گوئی کی تصدیق آپؐ کی حیات مبارکہ میں ہوگئی تھی جس پر آپ نے خوشی و مسرت کا اظہار فرمایا:

"جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نماز پڑھ چکے تو وہ ممبر پر تشریف فرما ہوئے اور مسکراتے ہوئے فرمایا: "تمام لوگ اپنی اپنی جگہ بیٹھے رہیں۔ پھر فرمایا: جانتے ہو میں نے تمہیں کیوں جمع کیا؟" لوگوں نے کہا:" اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں۔" آپؐ نے فرمایا: "اللہ کی قسم! میں نے تمہیں نہ تو کسی چیز کا شوق دلانے کے لئے جمع کیا ہے اور نہ کسی چیز سے ڈرانے دھمکانے کے لئے اکٹھا کیا ہے، بلکہ میں نے تمہیں یہ بتانے کیلئے جمع کیا ہے تمیم داری پہلے عیسائی تھا۔ وہ آیا۔ اس نے بیعت کی اور اسلام میں داخل ہوگیا۔ اس نے مجھے ایسا واقعہ سنایا جو ان باتوں سے تعلق رکھتا ہے جو میں تمہیں دجال کے بارے میں بتایا کرتا ہوں۔

اس نے مجھے بتایا کہ وہ لخم اور جذام قبیلہ کے تیس آدمیوں کے ہمراہ ایک بحری جہاز میں سمندر کے سفر پر روانہ ہوا۔ سمندر کی لہریں مہینہ بھر انہیں ادھر اّدھر دھکیلتی رہیں یہاں تک وہ ایک جزیرے میں پہنچ گئے۔ اس وقت سورج غروب ہورہا تھا۔ وہ ایک چھوٹی کشتی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے۔ جب وہ جزیرے میں داخل ہوئے تو انہیں ایک جانور ملا جس کے جسم پر بہت بال تھے۔ بالوں کی کثرت کی وجہ سے انہیں اس کے آگے پیچھے کچھ پتا نہ چل رہا تھا۔

انہوں نے کہا: تیرا ستیاناس ہو تو کیا چیز ہے؟

اس نے کہا کہ میں جساسہ ہوں۔

انہوں نے پوچھا: "یہ جساسہ کیا چیز ہے؟"

اس نے کہا: "اے لوگو! خانقاہ میں موجود اس آدمی کی طرف جاؤ وہ تمہاری خبریں سننے کا بڑے تجسس سے انتظار کررہا ہے۔"

بیان کرنے والا بتاتا ہے جب اس نے آدمی کا ہم سے ذکر کیا تو ہمیں خوف لاحق ہوا کہ یہ جانور شیطان نہ ہو۔ پھر ہم تیزی سے چلے اور خانقاہ میں داخل ہوگئے۔ وہاں ہم نے بھاری بھرکم قدکاٹھ کا ایک آدمی دیکھا جس کے گھٹنوں سے ٹخنوں تک بندھی ایک لوہے کی زنجیر تھی اور اس کے ہاتھ اس کی گردن کے ساتھ بندھے تھے۔

ہم نے پوچھا "تیرا ستیا ناس ہو تو کیا چیز ہے؟"

اس نے کہا: "میرا پتا تمہیں جلد چل جائے گا۔ یہ بتاؤ کہ تم کون ہو؟"

ہم نے کہا کہ ہم عرب سے آئے ہیں۔ ہم جہاز میں سوار ہوئے۔ سمندر میں طوفان آگیا۔ مہینہ بھر لہریں ہمیں دھکیلتی رہیں۔ یہاں تک کہ اس جزیرے کے کنارے لے آئیں۔ ہم کشتی میں بیٹھ کر جزیرے میں داخل ہوئے۔ یہاں ہمیں ایک جانور ملا جس کے بدن پر بہت بال تھے۔ بالوں کی کثرت کی وجہ سے اسطکے آگے پیچھے کا کچھ پتا نہیں چل رہا تھا۔ ہم نے اس سے پوچھا: "تیرا ستیاناس ہو، تو کیا چیز ہے؟" اس نے کہا: "میں جساسہ ہوں۔" ہم نے پوچھا: "یہ جساسہ کیا چیز ہے؟" اس نے کہ: "خانقاہ میں موجود اس آدمی کی طرف جاؤ وہ تمہاری خبریں سننے کا بہت شوق سے انتظار کررہا ہے۔ ہم تیزی سے تمہاری طرف آئے ہیں۔ اس ڈر سے کہ کہیں یہ شیطان نہ ہو۔"

اس نے کہا: "مجھے بیسان کے نخلستان کا حال بتاؤ۔"

ہم نے کہا: اس نخلستان کے بارے میں کون سی بات پوچھنا چاہتے ہو؟

اس نے کہا: "میں جاننا چاہتاہوں کہ کیا اس کے درختوں پر پھل آتے ہیں یا نہیں؟"

ہم نے کہا: "ہاں آتے ہیں!"

اس نے کہا: "وہ زمانہ قریب ہے جب ان درختوں پر پھل نہیں آئیں گے"

اس نے پوچھا: "مجھے طبریہ کی جھیل کے باے میں بتاؤ۔"

ہم نے پوچھا: "اس کی کون سی بات جاننا چاہتے ہو؟"

اس نے کہا: "کہا اس میں پانی ہے؟"

ہم نے کہا: "ہاں! اس میں بہت پانی ہے۔"

وہ بولا: "اس کا پانی بہت جلد ختم ہوجائے گا۔"

پھر اس نے کہا: "مجھے زغر کے چشمہ کے بارے میں بتاؤ۔"

ہم نے پوچھا: "کون سی بات معلوم کرنا چاہتے ہو؟"

زنجیر میں جکڑے آدمی نے کہا: "کیا چشمہ میں پانی ہے اور لوگ اس پانی سے کھیتوں کو سیراب کرتے ہیں؟"

ہم نے کہا: "اس میں بہت پانی اور شہر کے رہنے والے اس سے کھیتوں کی آبیاری کرتے ہیں۔"

پھر اس نے پوچھا: "مجھے نبی الامیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے بارے میں بتاؤ۔ اس نے کیا کیا ہے؟"

ہم نے کہا : "وہ مکہ سے نکل کر یثرب(مدینہ) میں آگئے ہیں۔"

اس نے پوچھا: "کیا عربوں نے اس کے ساتھ جنگ کی؟"

ہم نے کہا: " ہاں!" اس نے پوچھا : "اس نے ان کے ساتھ کیا کیا؟"

ہم نے بتایا کہ وہ اردگرد کے عربوں پر غالب آچکے ہیں اور انہوں نے ان کی اطاعت قبول کرلی ہے۔

اس پر اس نے کہا: "کیا واقعی ایسا ہوچکا ہے؟"

ہم نے کہا: "ہاں!"

اس پر اس نے کہا: "ان کے لئے یہی بہتر ہے کہ وہ اس کی اطاعت قبول کرلیں۔ اب میں تمہیں اپنے بارے میں بتاتاہوں۔ میں دجال ہوں۔ مجھے عنقریب خروج کی اجازت مل جائے گی"[24]

یہ واقعہ سنانے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عصا (لاٹھی) منبر پر مار کر فرمایا:

یہ ہے طیبہ۔یہ ہے طیبہ(یعنی مدینہ منورہ)" پھر آپؐ نے فرمایا : "میں تم کو یہی بتایا کرتا تھا۔ جان لو کہ دجال شام کے سمندر (بحیرہ روم) میں ہے یا یمن کے سمندر (بحر عرب) میں ہے۔ نہیں! وہ مشرق میں ہے! مشرق میں! اور اللہ کے نبیؐ نے اپنے ہاتھ سے مشرق کی طرف اشارہ کیا۔[25]

احتیاطی تدابیر[ترمیم]

اپنی امت کو نبی آخرزماںؐ نے فتنہ دجال سے بچنے کی احتیاطی تدابیر سکھلائی ہیں۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا:

فتنوں کے درمیان سب سے زیادہ خوش نصیب وہ ہوگا جو چھپا رہے اور پاک و صاف رہے۔ اگر سامنے آئے تو کوئی اسے پہچان نہ سکے اور اگر سامنے نہ ہوتو کوئی اس کا حال احوال نہ پوچھے۔ اور لوگوں میں سب زیادہ بدنصیب وہ خطیب ہوگا جو بلند آواز سے فصیح و بلیغ خطبہ دے گا۔ اور وہ سوار ہوگا جو سواری کو تیز دوڑنے پر مجبور کرے گا۔ ان فتنوں کے شر سے وہی نجات پائے گا جو سمندر میں ڈوبنے والے کی طرح خلوص سے دعا مانگے گا۔[26]

حضرت ابوسعید خدری کی روایت ہے:

ایک وقت آئے گا مسلمان کا بہترین مال وہ بھیڑ بکریاں ہوں گی جن کو لے کر وہ پہاڑ کی چوٹی اور بارش کے مقامات پر چلا جائے گا تاکہ وہ اپنے دین کو لے کر فتنوں سے بھاگ جائے۔[27]

اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے علامہ ابن حجر نے اپنی مشہور تصنیف "فتح الباری" میں لکھا ہے:

سلف الصالحین میں اس بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے کہ فتنوں کے زمانے میں صاحب ایمان آدمی عام لوگوں سے کنارہ کش ہوکر علیحدگی اختیار کرے یا نہ؟ بعض حضرات ایمان بچانے کیلئے گوشہ نشینی یا پہاڑوں میں نکل جانے کی اجازت دیتے ہیں اور بعض فرماتے ہیں کہ شہروں میں رہ کر فتنوں کے خلاف ڈٹ جانا چاہئے۔۔۔۔ لیکن یہ اختلاف اس صورت میں ہے جب فتنہ عام نہ ہو، لیکن اگر فتنہ عام ہوجائے تو پھر فتنہ زدہ لوگوں سے علیحدگی اور تنہائی کو ترجیح دی گئی ہے۔[28]

حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا:

"اے عبداللہ بن عمرو! اگر تو ادنیٰ درجہ کے لوگوں کے درمیان رہ گیا تو پھر کیا کرے گا؟۔۔۔۔ یہ وہ لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے عہدو پیمان اور امانتوں کو ضائع کردیا، پھر وہ ایسے ہوگئے۔" اور آپؐ نے ہاتھوں سے اشارہ کرتے ہوئے اپنی انگلیوں کو آپس میں پیوست کرلیا۔ انہوں نے پوچھا: "ایسے وقت میرے لئے کیا حکم ہے؟" آپؐ نے فرمایا: ۔۔۔۔ "عام لوگوں کو چھوڑ کر خاص لوگوں کے ساتھ مل جانا"[29][30][31][32]

درج بالا احادیث کی روشنی میں یہ باتیں معلوم ہوتی ہیں کہ:

  1. اللہ پر توکل کرکے پورے عزم اور حوصلے کے ساتھ دجال کی اعلانیہ بغاوت کی جائے۔
  2. فتنوں کے وقت گوشہ نشنی (یعنی تنہائی) کو ترجیح دی جائے۔
  3. اللہ والوں کے زیادہ قریب ہوجائے۔ تاکہ فتنوں سے محفوظ ہو۔

سورۃ الکہف کی تلاوت[ترمیم]

دجال کے فتنوں سے جو محفوظ رہنا چاہتا ہو اس کو چاہئے کہ سورۃ الکہف کی ابتدائی یا آخری دس آیات کی تلاوت کرے۔ اس کی تلاوت دجال کے فتنے میں مبتلا ہونے بچالیتی ہے۔

[33][34]

آپؐ کا ارشاد ہے کہ:

تم میں سے جس کسی کے سامنے دجال آجائے تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کے منہ پر تھوک دے اور سورۃ الکہف کی ابتدائی آیات پڑھے۔

[35][36][37]

فتنوں کے وقت مومن کی خوراک[ترمیم]

حدیث کا راوی کہتا ہے کہ ابو امامہ رضی اللہ عنہ نے آپؐ سے پوچھا:

"اے اللہ کے رسولؐ! ان دنوں کون سی چیز لوگوں کیلئے حیات بخش ہوگی!" آپؐ نے فرمایا : "تسبیح (سبحان اللہ کہنا)، تحمید (الحمدللہ) کہنا، تکبیر (اللہ اکبر) کہنا، کھانے پینے کی جگہ ان کے اندر سرایت کر جائے گی۔"

[38]

دجال کی رسائی[ترمیم]

نعیم بن حماد نے کتاب الفتن میں روایت کی ہے کہ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا :

بے شک دجال چار مسجدوں، مسجد الحرام، مسجد نبوی، مسجد طور سینا اور مسجد اقصیٰ کے سوا ہر گھاٹ پر پہنچے گا۔[39][40]

مدینہ کا محاصرہ[ترمیم]

حضرت محجن ابن ادرع فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے (ایک دن) لوگوں سے خطاب کیا چنانچہ تین مرتبہ (یہ) فرمایا یوم الخلاص و ما یوم الخلاص یوم الخلاص و ما یوم الخلاص۔ کسی نے پوچھا یہ یوم الخلاص کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا دجال آئے گا اور احد پہاڑ پر چڑھے گا پھر اپنے دوستوں سے کہے گا کیا اس قصر ابیض (سفید محل) کو دیکھ رہے ہو؟ یہ احمد کی مسجد ہے۔ پھر مدینہ منورہ کی جانب آئے گا تو اس کے ہر راستے پر ہاتھ میں ننگی تلوار لئے ایک فرشتہ کو مقرر پائے گا۔ چنانچہ سبخۃ الجرف کی جانب آئے گا اور اپنے خیمے پر ضرب لگائے گا۔ پھر مدینہ منورہ کو تین جھٹکے لگیں گے۔ جس کے نتیجے میں ہر منافق مرد و عورت اور فاسق مرد و عورت مدینہ سے نکل کر اس کے ساتھ چلے جائیں گے۔ اس طرح مدیبہ (گناہ گاروں سے) پاک ہوجائے گا۔ اور یہی یوم الخلاص (چھٹکارے یا نجات کا دن) ہے۔

[41]

دجال کے ہاتھوں مرنے والوں کا رتبہ[ترمیم]

نعیم بن حماد کی روایات ہیں کہ:

  • جو لوگ دجال کے یا اس کے لوگوں کے ہاتھوں شہید ہوں گے، ان کی قبریں تاریک اندھیری راتوں میں چمک رہی ہونگی۔[42]
  • ایک اور روایت ہے کہ ان کا شمار افضل ترین شہدا میں ہوگا۔[43]

دجال کا خاتمہ[ترمیم]

آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دجال کی ابتدا سے انتہا تک کے بارے امت کی مکمل رہنمائی کی ہے۔ دجال چالیس دن حکومت کرکے عیسیٰؑ ابن مریمؑ کے ہاتھوں قتل ہوگا۔ مسلمانوں کے ہاں انہی کو مسیح موعود کا درجہ حاصل ہے۔

وہ آخری بار اردن کے علاقے میں "افیق" نامی گھاٹی پر نمودار ہوگا۔  (مسلمانوں اور دجالی لشکروں کے درمیان جنگ ہوگی جس میں) وہ ایک تہائی مسلمانوں کو قتل کردے گا۔ ایک تہائی کو شکست دے کر بھگا دے گا اور ایک تہائی کو باقی چھوڑے گا۔ رات ہوجائے گی توبعض مومنین بعض سے کہیں گے کہ تمہیں اپنے رب کی خواشنودی کے لئے اپنے (شہید) بھائیوں سے جا ملنے (شہید ہوجانے) میں اب کس چیز کا انتظار ہے؟ جس کے پاس کھانے کی کوئی چیز زائد ہووہ اپنے (مسلمان)  بھائی کو دے دے۔ تم فجر ہوتے ہی (عام معمول کی بہ نسبت) جلدی نماز پڑھ لینا، پھر دشمن سے جنگ پر روانہ ہوجانا۔

پس جب یہ لوگ نماز کے لیے اٹھیں گے تو عیسیٰ علیہ السلام ان کے سامنے نازل ہوں گے اور نماز ان کے ساتھ پڑھیں گے۔ نماز سے فارغ ہوکر وہ(ہاتھ سے) اشارہ کرتے ہوئے فرمائیں گے :

میرے اور دشمن خدا (دجال) کے درمیان سے ہٹ جاؤ (تاکہ مجھے دیکھ لے)

ابوحازم (جو اس حدیث کے راویوں میں سے ایک ہیں) کہتے ہیں کہ ابوہریرہ نے فرمایا کہ :

دجال (حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو دیکھتے ہی) ایسا پگھلےگا جیسے دھوپ میں چکنائی پگھلتی ہے۔

اس کے علاوہ عبداللہ بن عمرو نے یہ فرمایا کہ:

(ایسا گھل جائے گا) جیسے نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دجال کے خاتمے کو واضح طور پر بیان کیا کہ:

عیسیٰ ابن مریم نازل ہوں گے۔ پس لوگوں کی ٹانگوں اور آنکھوں کے درمیان سے تاریکی ہٹ جائے گی (یعنی اتنی روشنی ہوجائے گی کہ لوگ ٹانگوں تک دیکھ سکیں گے) اس وقت عیسیٰ علیہ السلام کے جسم پر ایک زرہ ہوگی۔ پس لوگ ان سے پوچھیں گے کہ آپ کون ہیں؟ وہ فرمائیں گے: میں عیسیٰ ابن مریم اللہ کا بندہ اور رسول ہوں اور اس کی (پیدا کردہ) جان اور اس کا کلمہ ہوں (یعنی باپ کے بغیر محض اس کے کلمہ "کُن" سے پیدا ہوا ہوں) تم تین صورتوں میں سے ایک کو اختیار کرلو:
  1. اللہ دجال اور اس کی فوجوں پر بڑا عذاب آسمان سے نازل کر دے۔
  2. ان کو زمین میں دھنسا دے۔
  3. ان کے اوپر تمہارے اسلحہ کو مسلط کر دے اور ان کے ہتھیاروں کو تم سے روک دے۔

مسلمان کہیں گے: "ائے اللہ کے رسول! یہ (آخری) صورت ہمارے لئے اور ہمارے قلوب کے لئے زیادہ طمانینیت کا باعث ہے۔چنانچہ اس روز تم بہت کھانے پینے والے (اور) ڈیل ڈول والے یہودی کو (بھی) دیکھو گے کہ ہیبت کی وجہ سے اس کا ہاتھ تلوار نہ اٹھا سکے گا۔ پس مسلمان (پہاڑ سے) اتر کر ان کے اوپر مسلط ہوجائیں گے اور دجال جب (عیسیٰ) ابن مریم کو دیکھے گا تو سیسہ کی طرح پگھلنے لگے گا حتیٰ کہ عیسیٰ علیہ السلام اسے جا لیں گے اور قتل کر دیں گے۔"

[44]

اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے دجال اور اس کے لشکر پر مسلمانوں کو مسلط کردے گا۔ چنانچہ وہ ان سب کو قتل کردیں گے۔ حتیٰ کہ شجرو حجر بھی پکاریں گے کہ اے اللہ کے بندے! اے رحمٰن کے بندے! اے مسلمان! یہ یہودی ہے۔ اسے قتل کردے۔ غرض اللہ تعالیٰ ان سب کو فنا کر دے گا اور مسلمان فتح یاب ہوں گے۔ پس مسلمان صلیب کو توڑدیں گے، خنزیر کو قتل کریں گے اور جزیہ بند کردیں گے۔

نگار خانہ[ترمیم]

انگریزی ویکی پیڈیا پر[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال و صفہ وما معہ، حدیث نمبر : 2937
  2. صحیح مسلم جلد سوم:حدیث نمبر 2872
  3. بخاری، حدیث نمبر: 84
  4. صحیح مسلم:جلد سوم:حدیث نمبر 2866
  5. مسلم، کتاب الفتن واشراط الساعۃ، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر : 2934
  6. ^ 6.0 6.1 ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ الدجال و خروج عیسیٰ ،حدیث نمبر : 4077
  7. الحاکم، حدیث نمبر : 8768
  8. صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر: 6709
  9. مستدرک حاکم، حدیث نمبر : 8768
  10. مسند احمد ، مسند جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر : 14954
  11. سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، حدیث نمبر : 321
  12. مسند احمد، مسند شامیین، حدیث نمبر : 17226
  13. صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب فی بقیہ احادیث الدجال، حدیث نمبر : 2944
  14. صحیح البخاری ، کتاب الانبیاء، باب ماذکر عن بنی اسرائیل، حدیث نمبر : 3266
  15. صحیح المسلم، کتاب الآداب، باب جواز قولہ لغیر ابنہ، حدیث نمبر : 2152
  16. صحیح بخاری، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر : 6705
  17. ابو داؤد، کتاب الفتن، باب ذکر الفتن ودلائلھا، حدیث نمبر : 4246
  18. صحیح مسلم، کتاب الفتن، باب ذکر الدجال، حدیث نمبر : 2937
  19. ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ دجال و خروج عیسیٰ، حدیث نمبر : 4075
  20. مسند احمد، مسند جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ، حدیث نمبر : 4954
  21. الماخذ المذکور تحت رقم : 86
  22. ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنہ دجال، حدیث نمبر : 4077
  23. صحیح البخاری، کتاب الحج، ابواب فضائل المدینہ، باب لاید خل الدجال المدینۃ، حدیث نمبر : 1783
  24. صحیح مسلم، کتاب الفتن و اشراط الساعۃ، باب قصۃ الجساسہ، حدیث نمبر : 2942
  25. نعیم بن حماد، الفتن، باب خروج الدجال و سیرۃ، حدیث نمبر: 1527
  26. نعیم بن حماد، الفتن، بدایۃ الجزء الرابع، حدیث نمبر : 720
  27. صحیح البخاری، کتاب الفتن، باب التعرب فی الفتنہ، حدیث نمبر : 667
  28. فتح الباری، کتاب الفتن، باب التعرب فی فتنہ، تحت حدیث رقم : 6677
  29. سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب الامر ونہی، حدیث نمبر : 4344
  30. مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند عبداللہ بن عمرو وضی اللہ عنھما، حدیث نمبر : 7049
  31. مسند احمد، مسند المکثرین من الصحابہ، مسند عبداللہ بن عمرو وضی اللہ عنھما، حدیث نمبر : 7063
  32. ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب التثبت فی الفتنہ، حدیث نمبر : 3957
  33. سنن ابی داؤد، کتاب الملاحم، باب خروج الدجال، حدیث نمبر : 4323
  34. صحیح مسلم، باب فضائل القرآن و مایتعلق بہٖ، باب فضائل سورۃ الکہف و آیت الکرسی، حدیث نمبر : 809
  35. المستدرک للحاکم، حدیث نمبر : 8768
  36. طبرانی، حدیث نمبر : 7529
  37. المعجم الکبیر للطبرانی، باب ص، حدیث نمبر : 7644
  38. ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب فتنۃ الدجال۔۔۔۔ ، حدیث نمبر : 4077
  39. نعیم بن حماد، الفتن، باب المعقل من الدجال، حدیث نمبر : 1578
  40. مسند احمد، حدیث رجل من اصحاب النبیؐ، حدیث نمبر : 23684
  41. علیٰ الصحیحین، ج 4، صفحہ نمبر : 546
  42. نعیم بن حماد، الفتن، باب ما بقی من الاعماق و فتح القسطنطینیہ، الجزو 2، حدیث نمبر: 1382
  43. نعیم بن حماد، الفتن، باب ما بقی من الاعماق و فتح القسطنطینیہ، الجزو 1، حدیث نمبر: 1252
  44. مصنف عبدالرزاق، کتاب الجامع، للامام معمر، باب الدجال، حدیث نمبر : 20834

بیرونی روابط[ترمیم]