مشاہیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مشاہیر (انگریزی: Celebrities) کا لفظ مشہور کی جمع ہے۔ یعنی یہ لفظ مشہور شخصیات کے لیے مستعمل ہے۔ یہ وہ لوگ یا گروہ ہیں جنہیں ذرائع ابلاغ کی جانب سے خاص توجہ دی گئی ہے، چاہے وہ حال میں ہو یا ماضی میں۔ مشہور لوگ کسی خاص کامیابی کی وجہ سے مشہور ہوتے ہیں۔ اس زمرے میں عام طور سے کھیل کے میدان سے جڑی شخصیات، سائنس دان اور مصنفین وابستہ ہو سکتے ہیں۔ جیسے کہ کرکٹ کھلاڑی ویراٹ کوہلی، مصنف پریم چند اور ڈاروین جیسا سائنس دان۔ کچھ لوگ کسی جد و جہد کی وجہ سے مشہور ہوتے ہیں۔ جنوبی افریقہ کے سیاہ فام قائد نیلسن منڈیلا اور بھارت کی آزادی کے قائد موہن داس گاندھی اس زمرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ کچھ لوگ تنازع کی وجہ سے مشہور ہوتے ہیں۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے طالب علم کنہیا کمار ایک تقریر اور حکومت سے تصادم کی وجہ سے مشہور ہوئے، اگر چیکہ وہ اب فعال سیاسی میدان کا بھی حصہ بن چکے ہیں۔ سماجی میڈیا بھی لوگوں کو اہنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع دیتا ہے۔ لوگ یہاں پر زیادہ پیرو کار بنا کر بھی بہت مشہور ہوئے ہیں، جیسے کہ ڈھنچک پوجا۔ کاروباری میدان سے بھی لوگ مشہور ہوتے ہیں، جیسے کہ نامور صنعت کار مکیش امبانی۔ تعلیمی میدان میں بھی کئی لوگ نام کمائے اور مشہور ہوئے۔ بھارت کے سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ابتدا میں اسکالرشپ کی مدد سے بیرونی تعلیم حاصل کی۔ وہ کئی سال درس و تدریس سے جڑے رہے۔ تعلیم پر اپنی صلاحیت اور معیشت کی معلومات پر پکڑ کی وجہ وہ بھارت کے یونیورسٹی گرانٹس کمیشن کے صدرنشین، ریزرو بینک کے گورنر، منصوبہ بندی کمیشن کے رکن، ملک کے وزیر خزانہ اور بالآخر وزیر اعظم بنے اور سطح پر نئی شہرت کی بلندی چھوئے۔ سیاست اور اقتدار کی وجہ سے بھی لوگ مشہور ہوتے ہیں، جیسے کہ بھارت اور پاکستان کے مختلف وزرائے اعلٰی۔ کچھ لوگ سنسنی خیز کام کر کے راتوں رات مشہور ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں میں فلمی شخصیات کافی مشہور ہیں۔ جیسے کہ شرمیلا ٹیگور ایسی پہلی سرکردہ ادا کارہ بنی جنہوں نے اپنے عروج کے زمانے میں بکنی میں تصویریں کھنچوائی، ممتا کلکرنی نے جسم کی بے باکانہ نمائش سے سرخیاں بٹور کر بالی وڈ میں کئی رول حاصل کیے۔ اکثر مشاہیر عام لوگوں کی زندگی میں کافی اثر انداز ہوتے ہیں اور کئی مشاہیر کے لوگ مداح بھی ہوتے ہیں اور انہیں نمونہ عمل بھی سمجھتے ہیں۔

ایسا بھی کئی بار دیکھا گیا ہے کہ مشاہیر کی کہی بات تاریخی اور سنگ میل کی نوعیت ثابت ہوئی ہے۔ مثلًا ایڈمنڈ برک (Edmund Burk)آئر لینڈ کے ایک ممتاز سیاست داں، فلسفی اور شعلہ بیاں مقرر تھے۔ انھوں نے 1789ء میں صحافت کو چوتھی مملکت کے بطور متعارف کروایا۔جمہوری سماج میں اس چوتھی مملکت کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ مقولہ آج بھی زبان زد عام ہے۔[1]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]