مشت زنی اور اسلام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مشت زنی (عربی: استمناء باليد) کے حکم کے سلسلہ میں اہل سنت کے فقہا کا اختلاف ہے جبکہ اہل تشیع کے یہاں یہ بالاتفاق حرام ہے۔[1] سنی فقہا کی بڑی تعداد اس عمل کو حرام قرار دیتی ہے۔ نیز ان کے نزدیک مشت زنی سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے لیکن کفارہ واجب نہیں ہوتا۔[2] تاہم اس کی حرمت پر قرآن و سنت میں کوئی صریح دلیل نہیں ملتی۔ چنانچہ ابن حزم، جابر بن زید،[3] شوکانی، صنعانی اور البانی[4] نے اسے مکارم اخلاق کے منافی اور محض مکروہ بتایا ہے۔ تیسری رائے یہ ہے کہ بلا ضرورت مشت زنی حرام ہے، البتہ جب شہوت کا غلبہ ہو اور زنا، مرض یا کسی فتنہ میں مبتلا ہو جانے کا اندیشہ ہو تو یہ عمل جائز ہے۔ یہ بعض حنابلہ اور حنفیہ کا قول ہے۔ مذکورہ تمام آرا مرد و خواتین دونوں پر منطبق ہوتی ہیں۔ ذیل میں مشت زنی کے متعلق فقہا کے مختلف نظریات کی تفصیل درج ہے۔[5]

فقہ مالکی و شافعی

سنی مالکی اور شافعی فقہ کے مطابق یہ فعل حرام (ممنوع) ہے۔[6][7][8][9]

فقہ جعفری

یہ عملاہل تشیع کے نزدیک بھی حرام سمجھا جاتا ہے۔[10]

فقہ حنفی

’’مشت زنی فعل نا پاک حرام و ناجائز ہے حدیث شریف میں ہے:جلق لگانے والا(یعنی مشت زنی کرنے والا)پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہے(امالی ابن بشران ،حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ) صفحہ 244 پر فرماتے ہیں:حشر میں ایسوں کی ہتھیلیاں گابھن(یعنی حاملہ)اٹھیں گی جس سے مجمع اعظم میں ان کی رسوائی ہوگی‘‘۔

  • ایک جگہ ہے
  • اما الاستمناء فحرام الا عند شروط ثلثۃ ان یکون عزب وبہ شبق وفرط شہوۃ (بحیث لو لم یفعل ذٰلک لحملتہ شدۃ الشہوۃ علی الزناء اواللواط والشرط الثالث ان یرید بہ تکسین الشہوۃ لاقضائھا۔ مشت زنی حرام ہے مگر تین شرائط کے ساتھ جواز کی گنجائش ہے
  • مجرد ہو اور غلبہ شہوت ہو
  • شہوت اس قدر غالب ہو کہ بدکاری زناء یالونڈے بازی وغیرہ کا اندیشہ ہو
  • تیسری شرط یہ ہے کہ اس سے محض تکسین شہوت مقصود ہو نہ کہ حصول لذت۔[11]

امام اعظم امام ابو حنیفہ( نعمان بن ثابت ) کے نزدیک گناہ سے بچنے کے لیے بوقت ضرورت کی جا سکتی ہے اور خدا معاف فرمادے گا۔[12][13][14]

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. Muhammad Rizvi (1994)۔ "3. The Islamic Sexual Morality (2) Its Structure"۔ Marriage and Morals in Islam۔ Scarborough, ON, Canada: Islamic Education and Information Center۔
  2. "المحلى" 6 / 175 - 177 و 205
  3. مصنف عبد الرزاق » كِتَابُ الطَّلَاقِ » بَابُ : الاسْتِمْنَاءِ، رقم الحديث: 13213 - 13154 (حديث مقطوع) عَنِ الثَّوْرِيِّ، عَنْ عَبَّادٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، أَبِي الشَّعْثَاءِ، قَالَ : " هُوَ مَاؤُكَ فَأَهْرِقْهُ " ويعني الاستمناء.
  4. تمام المنة في التعليق على فقه السنة، المؤلف : محمد ناصر الدين الألباني، الناشر : المكتبة الإسلامية، دار الراية للنشر، الطبعة : الثالثة - 1409، عدد الأجزاء : 1، (1/418)
  5. استمناء المرأة المطلقة أون إسلام، الدكتور محمد سعدي نسخہ محفوظہ 24 ستمبر 2015 در وے بیک مشین
  6. The Lawful And The Prohibited In Islam, Yusuf Al-Qardawi – 1997
  7. The New Arab Man: Emergent Masculinities, Technologies, and Islam in the Middle East, p 168, Marcia C. Inhorn – 2012
  8. سیکس ایجوکیشن(سب کے لیے)/رہنمائے نوجوانی صفحہ نمبر 67/34 مصنف:پروفیسر ارشد جاوید
  9. Sex Education
  10. Muhammad Rizvi (1994)۔ "3. The Islamic Sexual Morality (2) Its Structure"۔ Marriage and Morals in Islam۔ Scarborough, ON, Canada: Islamic Education and Information Center۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  11. فتاویٰ رضویہ جلد 22 صفحہ 202، شاہ احمد رضا خان
  12. درمختار جلد اول صفحہ 1٠9 مکمل نام کتاب:رد المحتار علی الدُّرالمختار یا فتاوٰی شامی مصنف:سید ابن عابدین شامی الدمشقی
  13. کتاب:سیکس ایجوکیشن (سب کے لے)/رهنمائے نوجوانی صفحہ نمبر 67/34 مصنف:پروفیسر ارشد جاوید https://archive.org/stream/SexEducation_201609/Sex-Education#page/n0/mode/1up
  14. کتاب:سیکس ایجوکیشن (سب کے لے)/رهنمائے نوجوانی صفحہ نمبر 67/34 مصنف:پروفیسر ارشد جاوید http://docdro.id/5TKrNxf