مصادر یہودیت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اس مضمون میں پہلے ہزاریے   قبل مسیح  کے دوران یہودیت کی تاریخی جڑوں پر بحث ہے۔ جدید دور کے یہودیت مذہب کے ماخذ کے لیے  ، مصادررہبانی یہودیت   دیکھیں.

تاریخی حوالوں سے ماخذ یہودیت  کانسی دور  کے مشرکانہ قدیم سامی مذاہب  کی جڑوں میں پایا گیا ہے ، خاص طور پر کنعانی مذہب ، جو ایک ملغوبہ تھا   کسدیوں کے مذہب اور یہواہ  کی عبادت کے عناصر کا جیسا کہ اولین  عبرانی  بائبل  میں   الہامی کتابوں  کے حوالوں سے پتہ چلتا ہے ۔ جبکہ  آہنی دور میں ، اسرائیلی مذہب دیگر کنعانی مذاہب سے تجدیدِ توحید ہوجانے ( خاص یہواہ کی عبادت کرنے) کیوجہ سے پھر سے منفرد اور ممتاز  ہوا ۔

 بابل کی اسیری  6ویں اور 5ویں صدی قبل مسیح (آہنی دوم دور) کے دوران ،  جلاوطن بابل کے یہود  کے  بعض حلقوں نے توحید, انتخاب و  نبوت , قانون الہی اور شریعت کے بارے میں پہلے سے موجود خیالات میں تحقیق و تجدید کی اور  ایک سخت وحدانی عقیدہ  رائج کیاجس نے سابق یہوداہ کی مملکت پر آنے والی صدیوں میں پر غلبہ حاصل کیا۔[1] 5ویں صدی قبل مسیح  سے 70 عیسوی تک ، اسرائیلی مذہب   دوسرا ہیکل یہودیت کے مختلف مذہبی عقائد پر مبنی  مذہب بنا ،  جلا وطنی کے دور کے  یونانی یہودیت  کے علاوہ دوسرے ہیکل یہودیت کو ، نمایاں طور پر زرتشتیت یا مجوسیّت نے متاثر کیا تھا۔ عبرانی بائبل کے  متن میں موجود    (تحریف سے تجدید ) پر نظر ثانی کی گئی اور اس کی پرانی شکل میں شکل میں لایا گیا اور ممکنہ طور پر   مقدس  درجہ بھی دیا گیا۔

ربیائ یہودیت 3 اور 6 صدی کے دوران مسلم دورِنبوت اور خلافت کے دوران پروان چڑھی۔ بائبل کے عہد نامہ مَسورا اور تالمود کی تدوین اسی زمانے میں کی گئی۔مَسورا کی طرز میں لکھی گئی قدیم ترین مخطوطات و قلمی نسخہ جات 10ویں اور 11ویں عیسوی صدیوں میں وجود میں آئیں ، یعنی مخطوطہِ حلب کی شکل میں 10ویں صدی کے اخائر میں اورمخطوطہِ لینن گراڈ کی شکل میں مورخہ 1009–1008 عیسوی میں وجود میں آئی- قرون وسطی کے یورپ میں ربیائی ادب کے مختلف متن جلانے اور دبانے کی وجہ سے بچے ہوئے صحائف اور تحاریر اپنے دور کے اخائر میں منظر عام پر آئیں۔ قدیم ترین بابلی تالمود کی بچ رہنے والی نقل کی تاریخ 1342عیسوی ہے۔

جائزہ[ترمیم]

یہودیت کی تاریخ مملکت یہوداہ ، دوسری ہیکل اور آہنی دور سے شروع ہوتی ہے اس کےتین لازمی اور متعلقہ عناصر ہیں۔[2] لکھی گئی تورات کا مطالعہ (کتاب پیدائش، کتاب خروج،کتاب احبار، کتاب گنتی اورکتاب استثنا ) ،تسلیم اسرائیل ( کہ بنی اسرئیلی ابراہیم اور ان کے پوتے یعقوب کی نسل سے ہیں) اور یہ کہ یہی وہ منتخب لوگ ہیں جنہیں اللہ نے کوہ طور پر احکام و شریعت دی اور جنہیں اللہ نے چْنا کہ وہ تورات کے احکامات کے مطابق زندگی گزاریں۔

 یہودیت کا  شاہی دور[ترمیم]

آہنی دور کی   مملکتِ اسرائیل (سماریہ) اور یہوداہ پہلے پہل  9 ویں صدی قبل مسیح میں  جلوہ گر ہوئیں۔[3][4]دونوں مملکتوں کا یہوواہ  قومی  معبود تھا  اور اسی وجہ سے ان مملکتوں کو یہواہیت  کی ریاستیں کہا جاتا ہے ، جبکہ ان کی ہمسایہ ریاستوں کے  معبود   کے نام   مختلف تھے جیسے ، موآبیوں کا معبود کھیموش کہلاتا تھا ، عمون کے لوگوں کا  مولوکھ، ادومیوں کا قاؤس اور یونہی ہر ریاست کا  حکمران اپنے معبود کا زمینی نائب الملک ہوا کرتا[5][6][7]مختلف قومی معبود کم و بیش متوازی تھے جو ظاہر کرتا ہے کہ یہ ریاستیں خود بھی تقریباً ایک سی تھیں اور ہر ریاست میں ایک مقدس جوڑا ہوا کرتا تھا جو قومی  خدا اور اس کی دیوی ہوتے  جیسے یہوواہ اور عشیرہ  جنہوں نے اسرائیل اور یہوداہ  کے چھوٹے خداؤں کی سرداری کی۔

8ویں صدی تک  مملکت یہوداہ اور مملکت اسرائیل دونوں اشوریہ  کی جاگیر بن  چکے تھے ، حاکم و محکوم دونوں وفاداری اور تحفظ کے معاہدوں کی پابند تھیں ۔ تاہم اسرائیل نے 722 قبل مسیح میں بغاوت کی اور تباہ ہوا اور اس کے پناہ گزین فرار ہو کر یہوداہ گئے اور یہ عقیدہ ساتھ لے گئے کہ یہواہ (جسے پہلے سے ہی یہوداہ میں پہچانا جاتا تھا ) نہ صرف سب سے اکبر معبود ہے بلکہ وہی واحد معبود ہے جس کی عبادت اور خدمت کی جانی چاہیے۔ یہ نظریہ مملکت یہوداہ کے بااثر لوگوں نے اپنایا  جو بعد میں انتہائی طاقتور ہوئے اور اگلی صدی میں اعلی اشرافیہ  کے  حلقوں تک پہنچ گئے پھر انہوں نے آٹھ سالہ یوسیاہ(609-641 ق م) کو تخت نشیں کیا ۔یوسیاہ کے دور حکومت میں اسوری راج اچانک منہدم ہوا تو بدیسی حکام اعلی سے آزادی اور یہواہ سے وفاداری (کہ وہی بنی  اسرائیل کا واحد معبود ہے ) کی تحاریک زور پکڑتی گئی۔ یوسیاہ کی حمایت یافتہ  ’’ صرف یہواہ ‘‘ کی تحریک نے   عبادات اور (یہوداہ اور یہواہ کے درمیان معاہدہ یعنی شریعت یا آئین) میں مکمل اصلاحات  کا آغاز  کیا جس نے مملکت یہوداہ اور اشوریہ کے درمیان قائم معاہدے کی جگہ لی ۔

جب یہ  سب ہو رہا تھا تب تک ، یہواہ کی آہستہ آہستہ دوسرے دیوتاؤں اور دیویوں کی نسبت مثبت خصوصیات اجاگر کی گئیں ، تصحیح کا یہ عمل  ایک ضروری قدم تھا جس کے نتیجے میں یہودیت کا سب سے زیادہ قابل ذکر پہلو ابھرا ، وہ اس کا اٹل ومحکم   توحید  پر یقین ہے یہی مقامِ تجدیدِ یہودیت ہے ۔ [8]  تاہم اس سے قبل قدیم اسرائیل اور یہوداہ کے لوگ موجودہ یہودیت کے پیروکار نہیں تھے ، وہ مشرکانہ ثقافت پر عمل پیرا تھے اور بہت سے خداؤں کو مانتے تھےجن کا تعلق  تحریری توریت ، وسیع تر عبادات و طہارت کے قوانین یا خصوصی اور قومی معبودکے بجائے تولیدگی ، مقامی مزارات اور داستانوں سے تھا  ۔

ہیکل دوم کے بعد کی یہودیت[ترمیم]

مزید معلومات: ھلنیستی یہودیت اور یہوہ

586 قبل مسیح میں یروشلم کو   بابلیوں  نے  تباہ کیا اور یہودی اشرافیہ شاہی خاندان ، کاہنوں ، فقیہوں اور دیگر ارکان  اشرافیہ کو بابل قید میں لے جایا گیا ۔ وہ  اقلیتی آبادی کی نمائندگی کرتے تھے , اور یہوداہ  جنگ کےفوری  اثر سے  سنبھلنے  کے  بعد  ایک ایسی زندگی جاری رکھی جو پہلے  سے زیادہ مختلف نہ تھی۔  539 قبل مسیح میں ، فارسیوں کے ہاتھوں سقوط بابل ہوا تو انہوں نے بابلی جلاوطنی ختم کی ایک بڑی تعداد کو واپس یروشلم بھیجا ، لیکن تمام ہرگز نہیں لوٹے بلکہ  ایک بڑا گروہ وہیں رہ گیا۔ اسیری سے لوٹنے  والے اصل جلاوطنوں کی  اولاد تھے ، جو کبھی یہوداہ میں نہیں رہے تھے; بہر حال بائبل کے  ادب کے مصنفوں کی رائے میں  , جلاوطن , "مملکت اسرائیل"کے تھے نا کہ وہ جو یہوداہ کی زمین میں میں رہ گئے تھے .[9] یہودا ، جسے اب یہود کہا جاتا تھا ایک فارسی صوبہ بن چکا تھا, اوراسیری سے واپس لوٹنے والوں کا اس پر تسلط تھا ،جن کا بابل میں فارس سے  تعلق تھا۔وہ پرانی "صرف یہواہ " کی تحریک کے بانیوں کی نسل کی نمائیندگی کرتے تھے , لیکن انہوں جو مذہب قائم کیا وہ نمایاں طور پر  دونوں شاہی یہواہیت [9] اور ُاس وقت کی جدید یہودیت سے مختلف تھا۔ یہ اختلافات رہبانیت کے نئے تصورات  ، تحریری قانون اور  کتاب پر نئی مرکوزِ توجہ  اور تحفظِ طہارتِ نسل کے لیے نئے اسرائیل کی برادری سے باہر ازدواج پر پابندی جیسے اختلافات  پر مشتمل تھے۔[10]

"صرف یہواہ" والاگروہ کورش  کی فتحِ بابل کے بعد یروشلم واپس گیا اور یہود کے حکمران اور اشرافیہ بن گیا۔انہوں نے  بہت سا عبرانی بائبل   بشمول   تورات (کتب  پیدائش , خروج, احبار, تعداد, اور استثنا) جو زیادہ تر پیشن گوئیوں اور حکمت ادب پر مشتمل ہے ،  5ویں صدی قبل مسیح میں جمع کیا اسپر نظر ثانی کی اور اس میں ترمیم و تحریف کی, جو ایک تاریخی کام ہے۔[11][12] بائبل 7ویں صدی قبل مسیح میں ہیکل میں ایک قانونی کتاب کی دریافت کے بارے بیان کرتا ہے ، جسے جمہور علما کتاب استثنا کی کوئی قسم مانتے ہیں  اور   اسے  اس کتاب کی ترقی کا محور گردانتے ہیں ۔ مصر میں رہنے والے تارکین وطن یہودیوں نے  ھلنیستی دورمیں بڑھتا ہوا مجموعہ کتب کا ترجمہ یونانی میں کیا ، جبکہ بابل کے یہودیوں نے کتاب دانیال کے عدالتی قصے (ابواب 6-1 اصل تھے جبکہ ابواب 12-7 بعدکی شاملات تھے)،   کتاب طوبیاہ  اور کتاب  آستر وجود میں لائے۔[11]

دیگر علماکون؟] اصرار کرتے ہیں کہ  سخت توحید کا ارتقا فارسیوں اور عبرانیوں   کے   ثقافتی پھیلاؤ  کا ایک کا نتیجہ تھا  ۔ جبکہ (عملی طور پر) ثنویاتی , زرتشتیت    مِعادیاتی توحید( یعنی آخرت میں ایک ہی خدا ہوگا ) پر یقین رکھتا تھا ۔ کچھ کی رائے  ہے کہ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ  مِعادیاتی توحید کا زرتشتی ڈھانچہ اور استثنائی   مورخین  کا کٹر  وحدانی انداز   ابتدائی طور پہ فارس کے بابل کو زیر کرنے کی مدت کے بعد آپس میں  ہم آہنگ ہوئے۔[13]

ہیکل دوم کی یہودیت  بڑے فرقوں میں   فریسیوں اور سدوکیوں  کے مذہبی دھڑوں میں تقسیم تھا ،  ان کے  علاوہ متعدد چھوٹے فرقے  ایسینیوں, مسیحی  تحاریک جیسے ابتدائی عیسائیت وغیرہ میں منقسم تھا اور گہرے تعلق کی روایات جیسے سآمریت  (جس میں ہمیں سامری تورات  کی شکل میں تصدیق کرتا مسودہ ملتا  ہے جس میں توریت مسوراتی متن  سے مبرا ہے) ۔دوسری سے پہلے صدی قبل مسیح میں جب یہودیہ سلوقی اور پھر رومی  راج کے تحت تھا  الہامی ادب کا طرز مقبول ہوا ، اس روایت میں سب سے زیادہ قابل ذکر کام  کتاب دانیال میں ہے ۔

ربیائی یہودیت کا ارتقا[ترمیم]

کتاب آستر کے مناظر دیورا یوروپوس کنیسہ کو سجاتے ہوئے- 244 عیسوی میں
مزید معلومات: تنائیم، امورائم، اور تلمود

صدیوں تک ، روایتی طور پر یہ سمجھا گیا ہے کہ یہودیت عیسائیت سے پہلے آئی اور مسیحیت سے ہیکل دوم کی تباہی کے کچھ وقت بعد 70 عیسوی میں الگ ہوئی ۔  20ویں صدی کے دوسرے حصہ کے آخر میں بعض علما نے یہ بحث شروع کی کہ تاریخی تصویر اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے [14][15] پہلی صدی میں بہت سے یہودی فرقے ایک دوسرے سے مقابلے میں تھے  دیکھیں   ہیکل دوم یہودیت.تمام فرقے بالاخر ربیائی یہودیت اور ابتدائی عیسائیت میں ظم ہوئے. کچھ دانشوروں نے  یہ  خاکہ  تجویز کرنا شروع کر دیا ہے  جو تصور دیتا ہےکہ  عیسائیت اور یہودیت نے جڑواں طور پر پیدائش پائی نہ کہ علاحدہ علاحدہ ۔ مثال کے طور پر, رابرٹ گولڈنبرگ (2002) کا اصرار ہے جو تیزی سے دانشور قبول کر رہے ہیں کہ پہلی صدی کے آخر میں "یہودیت" اور "مسیحیت" دو الگ مذاہب کے طور پر موجود نہیں تھے ۔ [16] ڈینیل بویاریں(2002) نے نظر ثانی شدہ تجویز پیش کی کہ ابتدائی عیسائیت اور نوخیز راہبانہ یہودیت  3 اور 6 صدی کے دوران  ایک دوسرے پر اثر انداز ہوتے رہے جس کے خیالات  کے مطابق یہ دو مذاہب اس پورے عرصے میں شدت کیساتھ خلط ملط رہے ہیں۔ امورائیم 3 اور 6 صدی کے یہودی علما تھے  جنہوں نے بائبل کی نصوص  اور قانون کو  تدوین اور اس پر  تبصرہ کیا. 6ویں صدی عیسوی میں تالمود پر نظر ثانی کی گئی اوراسکو حتمی شکل  دی گئی   سبور کھلانے والے علما کرام کی طرف سے . راہبانہ یہودیت  یہ مرحلہ کھذل دور اور راہبانہ یہودیت کو کے اختتام پزیر کرتا ہے

حوالہ جات[ترمیم]

اقتباسات[ترمیم]

  1. Robert Karl Gnuse۔ No Other Gods: Emergent Monotheism in Israel۔ Sheffield Academic Press۔ آئی ایس بی این 1-85075-657-0۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  2. Neusner 1992، صفحہ۔ 3.
  3. Schniedewind 2013.
  4. Smith 2010.
  5. Hackett 2001.
  6. Davies 2010.
  7. Miller 2000.
  8. Anderson 2015.
  9. ^ ا ب Moore & Kelle 2011.
  10. Moore & Kelle 2011، صفحہ۔ 402.
  11. ^ ا ب Coogan et al. 2007.
  12. Berquist 2007.
  13. http://www.jewishencyclopedia.com/articles/15283-zoroastrianism
  14. Becker & Reed 2007.
  15. James D. G. Dunn (ویکی نویس.)۔ Jews and Christians: the parting of the ways A.D. 70 to 135۔ William B Eerdmans Publishing Company۔
  16. Goldenberg، Robert (2002). "Reviewed Work: Dying for God: Martyrdom and the Making of Christianity and Judaism by Daniel Boyarin". The Jewish Quarterly Review 92 (3/4): 586–588. doi:10.2307/1455460.