مصر کا انتیسواں شاہی سلسلہ
| مصر کا انتیسواں شاہی سلسلہ | |
|---|---|
| انتظامی تقسیم | |
| ملک | قدیم مصر |
| قابل ذکر | |
| درستی - ترمیم | |
مصر کا انتیسواں خاندان عموماً قدیم مصر کے متاخر دور (Late Period) کا چوتھا خاندان شمار کیا جاتا ہے۔ یہ خاندان آمیرتائوس کی معزولی کے بعد قائم ہوا، جو اٹھائیسویں خاندان کا واحد حکمران تھا۔ یہ خاندان نفریتس اول نے 398 قبل مسیح میں قائم کیا اور اس کا خاتمہ 380 قبل مسیح میں نفریتس دوم کی معزولی کے ساتھ ہوا۔ اس طرح اس خاندان کا دور تقریباً 18 سال پر محیط رہا۔ [1][2]
تاریخ
[ترمیم]نفرائٹس اول نے امیرتائوس کو کھلی جنگ میں شکست دے کر اس خاندان کی بنیاد رکھی اور بعد میں اسے ممفیس میں قتل کر دیا۔ اس نے اپنی راجدھانی مندیس (موجودہ تل الربع) میں قائم کی۔ نفرائٹس اول کی وفات کے بعد تخت کے لیے خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ ایک گروہ اس کے بیٹے موتھیس کی حمایت کرتا تھا، جبکہ دوسرا گروہ ایک دعویدار بساموتیس کی پشت پر تھا۔ آخرکار بساموتیس کامیاب ہوا لیکن صرف ایک سال حکومت کر سکا۔[3]
بعد ازاں اسے ہاکور نے معزول کر دیا، جس نے خود کو نفریتس اول کا پوتا قرار دیا۔ ہاکور نے فارسی حملوں کے خلاف مزاحمت کی اور اسے ایتھنز اور قبرص کے حکمران ایواگوراس اول کی حمایت بھی حاصل تھی۔
اگرچہ بعد میں اس کا بیٹا نفرائٹس دوم تخت نشین ہوا، لیکن وہ بھی اقتدار برقرار نہ رکھ سکا اور اس خاندان کا خاتمہ ہو گیا۔[4]
مصر کے انتیسواں خاندان کے بادشاہ
[ترمیم]| نمبر | نام | تختی نام | دورِ حکومت |
|---|---|---|---|
| 1 | نفریتس اول | Baenre | 399–393 قبل مسیح |
| 2 | ہاکور | Khenemmaatre | تقریباً 392–391 قبل مسیح |
| 3 | بساموثيس | — | تقریباً 391 قبل مسیح |
| 4 | ہاکور | Khenemmaatre | تقریباً 390–379 قبل مسیح |
| 5 | نفریتس دوم | — | تقریباً 379 قبل مسیح |
معرضِ تصاویر
[ترمیم]- آمیرتائوس کی پانچویں حکومت کے سال (400 قبل مسیح) سے متعلق الفنتین سے ملنے والی آرامی پاپائرس
- نفریتس اول کا ابو ہول مجسمہ، لوور میوزیم
- ہاکور کے مجسمے کا اوپری حصہ، مصری عجائب گھر
- بساموتیس کا مجسمہ
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ Clarysse, Willy (1974), "Nephorites, Founder of the 29th Dynasty and His Name", Chronique d'Égypte: Bulletin Périodique de la Fondation égyptologique Reine Élisabeth, 69: 215–217.
- ↑ Lloyd, Alan Brian (2000), "The Late Period (664–332 BC)", in Shaw, Ian (ed.), The Oxford History of Ancient Egypt, Oxford and New York: Oxford University Press, pp. 369–394, ISBN 0-8109-1020-9.
- ↑ Myśliwiec, Karol (2000), The Twilight of Ancient Egypt: First Millennium B.C.E, Ithaca and London: Cornell University Press, ISBN 0-8014-8630-0. Translated by David Lorton.
- ↑ Ray, John D. (1986), "Psammuthis and Hakoris", Journal of Egyptian Archaeology, Egypt Exploration Society, 72: 149–158, doi:10.2307/3821486, JSTOR 3821486.
