مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ملک کی ترقی میں طلبہ بنیادی کردار ادا کرتے ہیں انہیں تشدد اور غیر اخلاقی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنے اور ان کے جذبات کو مثبت راہیں فراہم کرنے کے لیے مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ کے نام سے طلبہ تنظیم مصروف عمل ہے جو طلبہ کی فلاح و بہبود محفوظ اور روشن مستقبل کے لیے ملک گیر سطح پر یونیورسٹیز، کالجز، اسکولوں اور دینی مدارس میں سرگرم عمل ہے۔ ملک سے جہالت کے خاتمے اور علم کا نور عام کرنے، منشیات کے استعمال کی حوصلہ شکنی، بے راہ روی، فحاشی، عریانی اور مغربی تہذیب و ثقافت کے فروغ پزیر رجحانات کو ختم کرنے اور طلبہ کی توجہ تشددانہ رویوں سے ہٹا کر تعلیمی، ملی اور قومی مقاصد کی جانب مبذول کرانا، موومنٹ کی بنیادی ذمہ داری ہے مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے زیرسایہ 6 اکتوبر 1994ء میں قائم ہوئی۔

قیام کا مقصد[ترمیم]

طلبہ کو اللہ رب العزت اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت و اطاعت کی ایسی تعلیم دینا جو انہیں مصطفوی کردار کا حامل اور انقلاب آشنا کر دے۔

طلبہ میں تزکیہ نفس، تصفیہ باطن، ذوق عبادت و تقویٰ کے فروغ اور وحدت کردار کے لیے جدوجہد کرنا۔

طلبہ کی انقلابی تربیت کے ذریعے ایک تعلیم یافتہ، باشعور، محب وطن اور غیور قوم کی تعمیر کرنا۔

قوم کی شرح خواندگی میں غیر معمولی اضافے اور تعلیمی معیار کو بلند کرنے کے لیے نہ صرف عملی جدوجہد کرنا بلکہ اس مقصدعظیم میں مصروف مخلص قوتوں کی بھرپور تائید و معاونت کرنا تاکہ ملک میں تعلیمی اور سماجی انقلاب کی راہ ہموار کی جا سکے ۔

طلبہ کی توجہ روایتی طلبہ سیاست سے ہٹا کر تعلیمی، قومی اور ملی مقاصد کی جانب مبذول کروانا۔

طلبہ میں موجود نسلی، مذہبی، فرقہ وارانہ اور لسانی کدورتوں کو اسلام کی محبت کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کرنا۔

طلبہ میں موجود پوشیدہ صلاحیتوں کو بیدار کر کے مثبت اور تعمیری کاموں کے لیے استعمال کرنا۔

طلبہ کے عمومی مسائل کے حل اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی جدوجہد کرنا۔

طلبہ کے حقوق کی پاسداری اور ان کا حل پیش کرنا۔

اہداف[ترمیم]

پانچ بنیادی برائیوں کا خاتمہ:

  1. طبقاتیت اور فرقہ واریت کا خاتمہ
  2. انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ
  3. سماجی ومعاشی استحصال کا خاتمہ
  4. اخلاقی اور جنسی بے راہ روی کا خاتمہ
  5. منشیات اور شراب نوشی کا خاتمہ

پانچ بنیادی مسائل کا حل:

  1. طلبہ کے ذہنی انتشار اور نفسیاتی دباؤ کا حل
  2. جہالت اور ناخواندگی کا حل
  3. بے مقصدیت کا حل
  4. صحت مند تعلیمی ماحول کا فروغ
  5. خواتین کے حقوق کا تحفظ

طلبہ کی شخصیت کی مثبت تعمیر کے لیے پانچ بنیادی اقدامات:

  1. طلبہ کی معاشی ترقی کے لیے اقدامات
  2. سماجی وماحولیاتی صحت کا فروغ
  3. معیار زندگی کی بہتری کے لیے اقدامات
  4. سماجی تہذیبی اور ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے کے لیے موثر اقدامات

طلبہ کی کامیابی کے پانچ لوازمات :

  1. حصول علم کی تگ ودو
  2. والدین اساتذہ اور سینئرز کی تعظیم وتکریم
  3. اخلاقیات کار
  4. سماجی ومعاشرتی ہم آہنگی
  5. آفاقی شعور کا حصول

پروگرامز[ترمیم]

  • ریسرچ اینڈ گائیڈینس کونسل کے تحت کوچنگ سنٹرز، سائنس کلبز، ریسرچ سوسائٹیز اور لائبریرز کا قیام اور طلبہ کی مناسب رہنمائی کے لیے مخصوص مواد کی اشاعت
  • ویلفیئرکونسل کے تحت طلبہ کی بہبود کے لیے بک بینکس، بلڈڈونیشن سوسائیٹز اور سیلف ایمپالائمنٹ سکیموں کا اجرا
  • سپورٹس کونسل کے تحت جسمانی نشو و نما، صحت مند ماحول اور کھیلوں کی فروغ کا اہتمام کرنا۔
  • کلچرل کونسل کے تحت طلبہ کے ذوق جمالیات کی تسکین اور تخلیقی صلاحیتوں کے فروغ کے لیے قرات فورم، نعت فورم، سپیکرز فورم اور لٹریری سوسائیٹیر کا قیام۔