مصطفٰی خان شیفتہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مصطفٰی خان شیفتہ
معلومات شخصیت
پیدائش 27 دسمبر 1809  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 11 جولا‎ئی 1869 (60 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
دہلی  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ شاعر، نقاد  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

مصطفٰی خان شیفتہ جہانگیر آباد کے جاگیردار، اردو فارسی نے باذوق شاعر اور نقاد تھے۔ انھی نے الطاف حسین حالی کو مرزا غالب سے متعارف کروایا تھا۔ دہلی میں ایک بہت بڑی لائبریری ان کی ملکیت تھی جسے 1857 میں باغیوں کے لوٹا اور آگ لگا دی تھی۔ انگریزوں نے بغاوت کی شبہ میں سات سال قید سنائی لیکن ہندوستان کے نام ور عالم نواب صدیق حسن خان کی سفارش سے ان کا "جرم" معاف ہو گیا اور پنشن مقرر ہوئی۔

نواب مصطفی خان شیفتہ کی اولاد[ترمیم]

نواب مصطفی خان شیفتہ کی اولاد میں نواب اسحاق خان بیٹے اور نواب محمد اسماعیل خان پوتے تھے۔ جو 1883ء میں آگرہ میں پیدا ہوئے۔ اس کے بعد کیمبرج یونیورسٹی انگلستان سے بار ایٹ لا کیا اور وطن واپس آ گئے۔ نواب محمد اسماعیل خان تحریک خلافت میں بھی شریک رہے اور یو پی خلافت کانفرنس کے چیف آرگنائزر کی حیثیت سے نمایاں خدمات انجام دیں۔[1]

تصانیف[ترمیم]

  • گلشنِ بے خار
  • تقریظ: غالب پر تعریفی تنقید

حوالہ جات[ترمیم]