مصطفیٰ العقاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مصطفیٰ العقاد

Moustapha Al Akkad

(عربی میں: مصطفى العقادخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
مصطفیٰ العقاد

معلومات شخصیت
پیدائش 1 جولا‎ئی 1930[1][2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
حلب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 11 نومبر 2005 (75 سال)[3][4][1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عمان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت Syrian American
مذہب اسلام
زوجہ پیٹریسیا العقاد (طاق یافتہ)،
سوچا ایسچا العقاد
اولاد پیٹریسیا سے
ریما العقاد مونلا (فوت شدہ)، طارق العقاد، ملک العقاد
سوچا سے
زید العقاد
عملی زندگی
مادر علمی University of California at Los Angeles،
University of Southern California
پیشہ فلمی ہدایت کار
تصنیفی زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
دور فعالیت 19762005
ویب سائٹ
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

مصطفیٰ العقاد ہالی وڈ فلم پروڈیوسر۔’ہیلووین فلمز‘ کے ایگزیکٹو پروڈیوسر۔ شام میں پیدا ہوئے۔انہوں نے ہیلووین، پیغام (دی میسج) اور صحرا کا شیر جیسی فلمیں بنائیں۔ فلم ’ہیلووین‘ 1978 میں ریلیز کی گئی اور اس نے خوفناک فلموں میں بے مثال نام پیدا کیا۔ اب تک اس سلسلے کی کئی فلمیں ریلیز ہو چکی ہیں، جن میں آخری 2000ء میں نمائش کے لیے پیش کی گئی۔

دی میسج اسلام کے ابتدائی ایام کے بارے میں بنائی گئی تھی۔ اسے 1976 میں ریلیز کیا گیا۔ اس میں اینتھونی کوئن نے پیغمبرِ اسلام کے چچا کا کردار ادا کیا تھا۔العقاد کے لیے اس فلم کی شوٹنگ ایک بہت بڑا چیلنج تھا، اس میں دیکھنے والوں کو نہ ہی مرکزی کردار کو دیکھنا تھا اور نہ ہی اس کی آواز سننا تھی، کیونکہ اسلام میں نبی کی تصویر بنانا منع ہے۔

انہوں نے 1981 میں فلم لائن آف دی ڈیزرٹ کی ہدایت کاری کی۔ اس فلم میں انتھونی کوئن نے نو آبادیاتی قبضے کے خلاف لڑنے والے لیبیا کے حریت رہنما عمر مختار کا کردار ادا کیا تھا۔وہ 1980 کے عشرے کے وسط میں بننے والی فلموں ’فری رائڈ‘ اور ’اپوائنٹمنٹ وِد فِئیر‘ کے بھی پروڈیوسر رہے۔

اردن کے ایک ہوٹل میں قیام پزیر تھے جہاں دھماکوں میں زخمی ہوئے اور اپنی بیٹی سمیت زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔ ان دنوں وہ ایک فلم بنانے کی کوششوں میں تھے جس میں فلسطینیوں پر یہودی ظلم و ستم کو دنیا پر آشکار کیا جائے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb140738301 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. جی این ڈی- آئی ڈی: http://d-nb.info/gnd/13056964X — اخذ شدہ بتاریخ: 14 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  3. http://www.alertnet.org/thenews/newsdesk/L11566410.htm
  4. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 28 اپریل 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو