مصعب بن عمیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
مصعب بن عمیر
(عربی میں: مصعب بن عمير ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 585ء  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مکہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 625ء (39–40 سال)[1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جبل احد  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
زوجہ حمنہ بنت جحش  ویکی ڈیٹا پر (P26) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
والدہ فاطمہ عامریہ  ویکی ڈیٹا پر (P25) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ واعظ  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوۂ بدر،  غزوہ احد  ویکی ڈیٹا پر (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مصعب بن عمیر (پیدائش: 27 ق۔ھ/ 596ء— وفات: 15 شوال / 30 مارچ 625ء) غزوہ بدر میں شامل صحابی رسول تھے۔ آپ ہجرت مدینہ سے 42 سال قبل مکہ کے انتہائی امیر گھرانے میں پیدا ہوئے ، والد اوائل عمری میں ہی فوت ہو گئے والدہ ’خناس بنت مالک ‘ نے اپنے نور نظر کو بڑے ناز و نعم سے پالا ،یہاں تک اپنا لباس خاص طور پر ملک شام سے تیار کرواتے اور حضرمی جوتا جو اس زمانے کے امرا خاص تقریبات میں استعمال کرتے ، آپ کے روز مرہ کے استعمال میں ہوتا ایسی اعلیٰ خوشبو استعمال فرماتے کہ مکہ مکرمہ میں ویسی خوشبو خال خال ہی کوئی استعمال کرتا ، صفہ میں رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دست اقدس پر اسلام قبول کیا لیکن حالات کے پیش نظر آپ نے اپنے اسلام لانے کو پوشیدہ رکھا ،چھپ چھپ کر بارگاہ رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں حاضری ہوتے ، ایک دن عثمان بن طلحہ نے صفہ جاتے دیکھ لیا ان کے بتانے پر آپ کی والدہ نے آپ کو گھر میں قید کر دیا ، موقع پا کر حبشہ کی طرف ہجرت کرنے والوں کے ساتھ ہو لیے ، مگر دل ہمیشہ سوئے محبوب متوجہ رہتا ،ازیں سبب جوں ہی مکہ مقدسہ کے حالات کی بہتری کی خبر سنی تو واپس آگئے ، اس دوران مدینہ منورہ سے کچھ لوگ یہاں آکر اسلام قبول کر چکے تھے اہل مدینہ کی خواہش پر بیعت عقبہ اولیٰ کے موقع پر آپ کو اسلام کا ’’سفیر و مدرس اول‘‘ بنا کر مدینہ منورہ روانہ فرمایا، آپ نے وہاں حضرت اسعد بن زرارہ کے ہاں رہائش اختیار فرمائی ، صرف ایک سال کے قلیل عرصہ میں اگلے سال یعنی بیعت عقبہ ثانیہ کے موقع پر بارگاہ رسالت مآب میں اپنی سالانہ رپورٹ پیش کی تو اس وقت آپ کی ترغیب پر 75 لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے تھے ، مدینہ منورہ کے نامور اور طاقتور ترین قبیلہ اوس ، اس کی اہم ترین شاخوں اور ان کے سرداروں نے آپ کی ترغیب پر اسلام قبول کیا، جن میں حضرت سعد بن معاذ اور حضرت اسید بن حضیر رضی اللہ عنہما بھی ہیں۔ جب آپ مکہ مکرمہ پہنچے تو ام مصعب کو آپ کی آمد کی خبر ہوئی تو اس نے پیغام بھیجا ، اے فرزند!کیا تو ایسے شہر میں آئے گا جس میں مَیں موجود ہوں اور تو پہلے مجھ سے ملنے نہ آئے ، آپ نے فرمایا کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پہلے کسی سے ملنے نہیں جائوں گا ، اسی لیے ایک موقع پر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انھیں غربت کی حالت میں دیکھا تو فرمایا یہ وہ شخص ہے جس کو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت نے تمام دنیا سے بے نیاز کر دیا ہے ،تین ماہ یہاں گزارنے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہجرت سے 11 روز قبل پھر عازم مدینہ منورہ ہوئے اور دربار نبوت سے حکم موصول ہونے پر حضرت سعد بن خثیمہ رضی اللہ عنہ کے مکان میں نماز جمعہ کی بنا ڈالی اور نماز سے قبل خطبہ ارشاد فرمایا اور جمعہ کے بعد ایک بکری ذبح کرکے ضیافت کا اہتمام کیا۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی مدینہ تشریف آوری کے بعد مواخات مدینہ میں سیدنا ابو ایوب خالد بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کو سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا انصاری بھائی اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ان کا مہاجر بھائی بنایا گیا۔ اس مواخاۃ کا آپ نے اس قدر پاس رکھا کہ جنگ بدر میں آپ کے حقیقی بھائی زرارہ بن عمیر جو مشرکین مکہ کی طرف سے جنگ کا حصہ تھے ، مسلمانوں کی قید میں آگئے اور مال غنیمت کے طور پر ایک انصاری حضرت ابویُسر رضی اللہ عنہ کے حصہ میں آئے انھوں نے زرارہ بن عمیر کو رسی سے قابو کر رکھا تھا ، سیدنا مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ کا وہاں سے گذر ہوا تو آپ نے اس انصاری سے فرمایا، اسے قابو کر لو اس کی ماں بہت دولت والی ہے شاید فدیہ دے کر چھڑا لے ، اس پر آپ کے بھائی نے کہا کہ آپ اپنے حقیقی بھائی کے متعلق یہ کہہ رہے ہیں آپ نے فرمایا کہ میرا بھائی تو نہیں ، یہ انصاری میرا بھائی ہے ۔ آپ کا نکاح حضرت حمنہ بنت جحش رضی اللہ عنہا سے ہوا، جنگ بدر اور جنگ احد میں آپ شریک ہوئے اور مہاجرین کی طرف سے عَلَم برداری کا فریضہ بھی سر انجام دیا ، جنگ احد میں علم تھا مے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا خوب دفاع کیا۔ دوران جنگ ابن قمیۂ لیثی نعرہ مارتے ہوئے بڑھا اور کہا: مجھے محمد کا پتا بتاؤ، اگر وہ بچ گئے تو میں نہ بچ پاؤں گا۔ حضرت مصعب رضی اللہ عنہ نے اس کا راستہ روکا۔ اس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے شبہ میں ان کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا۔انھوں نے پرچم بائیں ہاتھ میں لے لیا اس نے بایاں ہاتھ کاٹا تو آپ نے عَلَم ْ بازوؤں میں لے کر سینے سے چمٹا لیا۔اس نے تیرسے تیسرا وار کیا تو آپ گر پڑے اور اس کے ہاتھوں دفاع رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں جام شہادت نوش کیا۔آپ کی شہادت پر یہ افواہ اڑائی گئی کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہید ہو گئے ، کیوں کہ آپ جسامت اور شکل مبارک میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے مشابہ تھے ، اختتام جنگ پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت مصعب رضی اللہ عنہ کی میت مقدسہ پر تشریف لائے اور فرمایا اہل ایمان میں کچھ لوگ وہ ہیں جنھوں نے اپنے رب کے ساتھ کیے ہوئے وعدے کو پورا کر دکھایا ،تلاوت فرمائی اور پھر حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ سے مخاطب ہو کر فرمایا ، میں نے تم کو مکہ میں اس حالت میں دیکھا کہ تجھ سے زیادہ حسین اور خوش لباس کوئی نہ تھا مگر آج دیکھتا ہوں کہ تمھارے بال الجھے ہوئے ہیں اور جسم پر صرف ایک چادر ہے ، اللہ کا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گواہی دیتا ہے کہ تم لوگ قیامت کے دن بارگاہ خداوندی میں حاضر رہو گے ۔ [2]

نام و نسب[ترمیم]

مصعب نام، ابو محمد کنیت، والد کا نام عمیر اور والدہ کا نام حناس بنت مالک تھا، پورا سلسلہ نسب یہ ہے: مصعب بن عمیر بن ہاشم بن عبد مناف بن عبد الدار بن قصی القرشی۔[3] [4]

ابتدائی حالات[ترمیم]

حضرت مصعب ؓ مکہ کے ایک نہایت حسین و خوشرو نوجوان تھے، ان کے والدین ان سے نہایت شدید محبت رکھتے تھے، خصوصا ًان کی والدہ حناس بنت مالک نے مالدار ہونے کی وجہ سے اپنے لخت جگر کو نہایت ناز و نعمت سے پالا تھا، چنانچہ وہ عمدہ سے عمدہ پوشاک اور لطیف سے لطیف خوشبو جو اس زمانہ میں میسر آسکتی تھی استعمال فرماتے تھے،آنحضرت کبھی ان کا تذکرہ کرتے تو فرماتے "مکہ میں مصعب بن عمیر ؓ سے زیادہ کوئی حسین ،خوش پوشاک اور پروردہ نعمت نہیں ہے". [5]

اسلام[ترمیم]

خدائے پاک نے حسن ظاہری، سلامتِ ذوق اورطبع لطیف کے ساتھ آئینہ دل کو بھی نہایت شفاف بنایا تھا، صرف ایک عکس کی دیر تھی کہ توحید کے دلربا خط وخال نے شرک سے متنفر کر دیا اور آستانہ ٔنبوت پر حاضر ہوکر اس کے شیدایوں میں داخل ہو گئے، یہ وہ زمانہ تھا کہ آنحضرت ارقم بن ابی ارقم ؓ کے مکان میں پناہ گزین تھے اور مسلمانوں پر مکہ کی سر زمین تنگ ہو رہی تھی، اس پر حضرت مصعب ؓ نے ایک عرصہ تک اپنے اسلام کو پوشیدہ رکھا اور چھپ چھپ کر آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوتے رہے،لیکن ایک روز اتفاقا عثمان بن طلحہ ؓ نے نماز پڑھتے دیکھ لیا اور ان کی ماں اور خاندان والوں کو خبر کر دی، انھوں نے سنا تو محبت نفرت سے مبدل ہو گئی اور مجرم توحید کے لیے شرک کی عدالت نے قید تنہائی کا فیصلہ سنایا۔ [6] [7]

ہجرت حبشہ[ترمیم]

حضرت مصعب بن عمیر ؓ ایک عرصہ تک قید کے مصائب برداشت کرتے رہے، لیکن زندان خانہ کی تلخ زندگی نے بالآخر ترک وطن پر مجبور کر دیا اور متلاشیانِ امن وسکون کے ساتھ سر زمین حبش کی راہ لی، اس ناز پروردہ نوجوان کو اب نہ تو نرم و نازک کپڑوں کی حاجت تھی ،نہ نشاط افزا عطریات کا شوق اور نہ دنیاوی عیش و تنعم کی فکر تھی، صرف جلوۂ توحید کے ایک نظارہ نے تمام فانی سازو سامان سے بے نیاز کر دیا، غرض ایک مدت کے بعد حبش سے پھر مکہ واپس آئے ، ہجرت کے مصائب سے رنگ وروپ باقی نہ رہا تھا، توخود ان کی ماں کو اپنے نورِ نظر کی پریشان حالی پر رحم آ گیا اور مظالم کے اعادہ سے باز آگئی۔ [8]

تعلیم دین و اشاعتِ اسلام[ترمیم]

اس اثناء میں خورشید اسلام کی ضیا پاش شعاعیں کوہِ فاران کی چوٹیوں سے گذر کر وادیِ یثرب تک پہنچ چکی تھیں اور مدینہ منورہ کے ایک معزز طبقہ نے اسلام قبول کر لیا تھا انھوں نے دربارِ نبوت میں درخواست بھیجی کہ ہماری تعلیم و تلقین پر کسی کو مامور فرمایا جائے، حضرت سرورِ کائنات کی نگاہِ جوہر شناس نے اس خدمت کے لیے حضرت مصعب بن عمیر ؓ کو منتخب کیا اور چند زریں نصائح کے بعد مدینہ منورہ کی طرف روانہ فرمایا۔ [9] حضرت مصعب ؓ مدینہ پہنچ کر حضرت اسعد بن زرارہ ؓ کے مکان پر فروکش ہوئے اور گھر گھر پھر کر تعلیم قرآن واشاعتِ اسلام کی خدمت انجام دینے لگے، اس طرح رفتہ رفتہ جب کلمہ گویوں کی ایک جماعت پیدا ہو گئی تو نماز وتلاوت قرآن کے لیے کبھی حضرت اسعد بن زرارہ ؓ کے مکان پر اور کبھی بنی ظفر کے گھر میں چند مسلمانوں کو تعلیم دے رہے تھے کہ قبیلہ عبدالاشہل کے سردار (حضرت) سعد بن معاذ ؓ نے اپنے رفیق ( حضرت ) اُسید بن حضیر ؓ سے کہا اس داعیِ اسلام کو اپنے محلہ سے نکال دو، جو یہاں آکر ہمارے ضعیف الاعتقاد اشخاص کو گمراہ کرتا ہے، اگر اسعد (میزبان حضرت مصعب ؓ) سے مجھ کو رشتہ داری کا تعلق نہ ہوتا تو میں تم کو اس کی تکلیف نہ دیتا، یہ سنکر حضرت اسید بن حضیر ؓ نے نیزہ اُٹھایا اور حضرت مصعب بن عمیر ؓ و اسعد بن زرارہ ؓ کے پاس آکر خشم آلود لہجہ میں کہا، تمھیں یہاں کس نے بلایا ہے کہ ضعیف رائے والوں کو گمراہ کرو؟ اگر تم کو اپنی جانیں عزیز ہیں تو بہتر یہ ہے کہ ابھی یہاں سے چلے جاؤ، حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے نرمی سے جواب دیا، بیٹھ کر ہماری باتیں سنو، اگر پسند آئے قبول کرو ورنہ ہم خود چلے جائیں گے، حضرت اسید بن حضیر ؓ نیزہ گاڑ کر بیٹھ گئے اور غور سے سننے لگے، حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے چند آیات کریمہ تلاوت کر کے اس خوبی کے ساتھ عقائد و محاسن اسلام بیان فرمائے کہ تھوڑی ہی دیر میں حضرت اسید بن حضیر ؓ کا دل نورِ ایمان سے چمک اُٹھا اور بیتاب ہوکر بولے، کیسا اچھا مذہب ہے کیسی بہتر ہدایت ہے ، اس مذہب میں داخل ہونے کا کیا طریقہ ہے، حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے فرمایا پہلے نہا دھو کر پاک کپڑے پہنو، پھر صدق دل سے لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کا اقرار کرو ،انھوں نے فوراً اس ہدایت کی تعمیل کی اور کلمہ پڑھ کر کہا، میرے بعد ایک اور شخص ہے جس کو ایمان پر لانا ہوگا، اگر وہ اس دائرہ میں داخل ہو گیا تو تمام قبیلہ عبدالاشہل اس کی پیروی کرے گا، میں ابھی اس کو آپ کے پاس بھیجتا ہوں۔ حضرت اسید بن حضیر ؓ غیظ وغضب کے عوض عشق ومحبت کا سودا خرید کر اپنے قبیلہ میں واپس آئے تو حضرت سعد بن معاذ ؓ نے دور ہی سے دیکھ کر فرمایا، خدا کی قسم اس شخص کی حالت میں ضرور کچھ انقلاب ہو گیا ہے اورجب قریب آئے تو پوچھا کہو کیا کرآئے؟ بولے، خدا کی قسم وہ دونوں ذرا بھی خوفزدہ نہ ہوئے، میں نے ان کو منع کیا تو وہ بولے کہ ہم وہی کریں گے جو تم پسند کرو گے، لیکن مجھ سے بیان کیا گیا ہے کہ بنی حارثہ اس وجہ سے اسعد بن زراہ ؓ کو قتل کرنے نکلے ہیں کہ وہ تمھارا خالہ زاد بھائی ہے؛ تاکہ اس طرح تمھاری تذلیل ہو، چونکہ قبیلہ بنی حارثہ اور بنو عبدالاشہل میں دیرینہ عداوت تھی، اس لیے حضرت اسید بن حضیر ؓ کا افسوں کار گر ہو گیا، حضرت سعد بن معاذ ؓ جوشِ غضب سے اُٹھ کھڑے ہوئے اور تخالف مذہبی کے باوجود اسعد ؓکی مدد کے لیے دوڑے ، لیکن جب یہاں پہنچ کر بالکل سکون و اطمینان دیکھا تو سمجھ گئے کہ اسید نے ان دونوں سے بالمشافہ گفتگو کرنے کے لیے محض اشتعال دلایا ہے، غرض نسبی ترحم فوراً مذہبی تعصب سے مبدل ہو گیا اور خشم گین لہجہ میں بولے ابو امامہ خدا کی قسم اگر رشتہ داری کا پاس نہ ہوتا تو میں تمھارے ساتھ نہایت سختی کے ساتھ پیش آتا تمھیں کیونکر ہمارے محلہ میں علانیہ ایسے عقائد پھیلانے کی ہمت ہوئی جس کو ہم سخت ناپسند کرتے ہیں، حضرت مصعب ؓ نے نرمی سے جواب دیا کہ پہلے ہماری باتیں سنو، اگر پسند آئیں تو قبول کرو ورنہ ہم خود تم سے کنارہ کش ہوجائیں گے، حضرت سعد ؓ نے اس کو منظور کر لیا، تو انھوں نے ان کے سامنے بھی اس خوبی سے اسلام کا نقشہ پیش کیا کہ حضرت سعد بن معاذ ؓ کا چہر ہ نورِ ایمان سے چمک اُٹھا، اسی وقت مسلمان ہوئے اور جوش میں بھرے ہوئے اپنے قبیلہ والوں کے پاس آئے اور ببانگ بلند سوال کیا، اے بنی اشہل بتاؤ میں تمھارا کون ہوں؟ انھوں نے کہا تم ہمارے سردار اور ہم سب سے زیادہ عاقل اور عالی نسب ہو، بولے خدا کی قسم تمھارے مردوں اور تمھاری عورتوں سے گفتگو کرنا مجھ پر حرام ہے جب تک تم خدا اوراس کے رسول پر ایمان نہ لاؤ۔ اس طرح عبدالاشہل کا تمام قبیلہ حضرت سعد بن معاذ ؓ کے اثر سے اسلام کا حلقہ بگوش ہو گیا۔ [10] حضرت مصعب بن عمیر ؓ ایک عرصہ تک حضرت اسعد بن زرارہ ؓ کے مہمان رہے ؛لیکن جب بنی نجار نے ان پر تشدد شروع کیا تو حضرت سعد بن معاذ ؓ کے مکان پر اُٹھ آئے اور یہیں سے اسلام کی روشنی پھیلاتے رہے، یہاں تک کہ خطمہ، وائل اور واقف کے چند مکانات کے سوا عوالی اور مدینہ کے تمام گھر روشن ہو گئے۔ [11] [12][13]

مدینہ میں جمعہ قائم کرنا[ترمیم]

مدینہ منورہ میں جب کلمہ گویوں کی ایک معتدبہ جماعت پیدا ہو گئی ،تو حضرت مصعب بن عمیر ؓ نے دربارِ نبوت سے اجازت حاصل کرکے حضرت سعد بن خثیمہ ؓ کے مکان میں جماعت کے ساتھ نماز جمعہ کی بنا ڈالی، پہلے کھڑے ہو کر ایک نہایت مؤثر خطبہ دیا، پھر خشوع وخضوع کے ساتھ نماز پڑھائی اور بعد نماز حاضرین کی ضیافت کے لیے ایک بکری ذبح کی گئی،اس طرح وہ شعار اسلامی جو عبادت الہی کے علاوہ ہفتہ میں ایک دفعہ برادرانِ اسلام کو باہم بغل گیر ہونے کا موقع دیتا ہے، خاص حضرت مصعب بن عمیر ؓ کی تحریک سے قائم کیا گیا۔ [14]

بیعت عقبہ ثانیہ[ترمیم]

عقبہ کی پہلی بیعت میں صرف بارہ انصار شریک تھے؛لیکن حضرت مصعب ؓ نے ایک ہی سال میں تمام اہل یثرب کو اسلام کا فدائی بنا دیا، چنانچہ دوسرے سال تہتر 73 اکابر داعیان کی پر عظمت جماعت اپنی قوم کی طرف سے تجدید بیعت اور رسول اللہ کو مدینہ میں مدعو کرنے کے لیے روانہ ہوئی، ان کے معلم دین حضرت مصعب بن عمیر ؓ بھی ساتھ تھے، انھوں نے مکہ پہنچتے ہی سب سے پہلے آستانہ نبوت پر حاضر ہو کر اپنی حیرت انگیز کامیابی کی مفصل داستان عرض کی، آنحضرت نے نہایت دلچسپی کے ساتھ تمام واقعات سنے اور ان کی محنت و جانفشانی سے بے حد محظوظ ہوئے۔ [15]

حضرت مصعب بن عمیر ؓ کی ماں نے بیٹے کے آنے کی خبر سنی تو کہلا بھیجا ،اے نافرمان فرزند کیا تو ایسے شہر میں آئے گا جس میں ، "میں" موجود ہوں اور تو پہلے مجھ سے ملنے نہ آئے، انھوں نے جواب دیا، میں رسول خدا سے پہلے کسی سے ملنے نہیں جاؤں گا، حضرت مصعب بن عمیر ؓ جب رسولِ خدا سے شرفِ ملاقات حاصل کر چکے تو اپنی ماں کے پاس آئے، اس نے کہا میں سمجھتی ہوں کہ تو اب تک ہمارے مذہب سے برگشتہ ہے بولے میں رسول اللہ کے دین برحق اور اس اسلام کا پیرو ہوں جس کو خدا نے خود اپنے لیے اور اپنے رسول کے لیے پسند کیا ہے، ماں نے کہا کیا تم اس مصیبت کو بھول گئے جو تم کو ایک دفعہ سرزمین حبش میں برداشت کرنی پڑی اور اب یثرب میں سہنا پڑتی ہے؟ افسوس دونوں دفعہ تم نے غمخواری کا کچھ شکریہ ادا نہ کیا، حضرت مصعب بن عمیر ؓ سمجھ گئے کہ شاید پھر مجھ کو قید کرنے کی فکر میں ہے چلا کر بولے، کیا تو جبراً کسی کو اس کے مذہب سے پھیر سکتی ہے؟ اگر تیرا منشا ہے کہ پھر مجھ کو قید کر دے تو پہلا شخص جو میری طرف بڑھے گا اس کو یقینا قتل کر ڈالوں گا، ماں نے یہ تیور دیکھے تو کہا، بس تو میرے سامنے سے چلا جا اور یہ کہہ کر رونے لگی، حضرت مصعب بن عمیر ؓ اس کیفیت سے متاثر ہوئے اور کہنے لگے اے ماں !میں تجھے خیر خواہی ومحبت سے مشورہ دیتا ہوں کہ تو گواہی دے کہ خدا ایک ہے اور محمد اس کے بندہ اور رسول برحق ہیں، اس نے کہا چمکتے ہوئے تاروں کی قسم ! میں اس مذہب میں داخل ہوکر اپنے آپ کو احمق نہ بناؤں گی جا میں تجھ سے اور تیری باتوں سے ہاتھ دھوتی ہوں اور اپنے مذہب سے وابستہ رہوں گی۔ [16] [17]

ہجرت مدینہ[ترمیم]

حضرت مصعب ؓ نے مکہ آنے کے بعد ذی الحجہ محرم اور صفر کے مہینے آنحضرت ہی کی خدمت میں بسر کیے، اورپہلی ربیع الاول کو سرورِ کائنات ﷺ سے بارہ دن پہلے مستقل طور پر ہجرت کر کے مدینہ کی راہ لی۔ [18]

غزوات[ترمیم]

سے حق و باطل میں خونریز معرکوں کا سلسلہ شروع ہوا ، حضرت مصعب بن عمیر ؓ میدان فصاحت کی طرح عرصہ وغا میں بھی نمایاں رہے ، غزوۂ بدر میں جماعتِ مہاجرین کا سب سے بڑا علم ان کے ہاتھ میں تھا ، غزوۂ اُحد میں بھی علمبرداری کا تمغائے شرف ان ہی کو ملا۔ [19]

شہادت[ترمیم]

اس جنگ میں ایک اتفاقی غلطی نے جب فتح و شکست کا پانسا پلٹ دیا اور فاتح مسلمان ناگہانی طور سے مغلوب ہو کر منتشر ہو گئے تو اس وقت بھی یہ علمبردار اسلام یکہ و تنہا مشرکین کے نرغہ میں ثابت قدم رہا ، کیونکہ لوائے توحید کو پیچھے کی طرف جنبش دینا اس فدائی ملت کے لیے سخت عار تھا، غرض اسی حالت میں مشرکین کے شہسوار ابن قمیہ نے بڑھ کر تلوار کا وار کیا جس سے داہنا ہاتھ شہید ہو گیا،لیکن بائیں ہاتھ نے فوراً علم کو پکڑ لیا، اس وقت ان کی زبان پر یہ آیت جاری تھی: وَمَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ [20] اور محمد صرف رسول ہیں، ان سے پہلے بھی بہت سے رسول گذر چکے ہیں۔ ابن قمیہ نے دوسرا وار کیا تو بایاں ہاتھ بھی قلم تھا، لیکن اس دفعہ دونوں بازوؤں نے حلقہ کر کے علم کو سینہ سے چمٹا لیا، اس نے جھنجھلا کر تلوار پھینک دی اور زور سے نیزہ تاک کر مارا کہ اس کی انی ٹوٹ کر سینہ میں رہ گئی اور اسلام کا سچا فدائی اسی آیت کا اعادہ کرتے ہوئے فرشِ خاک پر دائمی راحت کی نیند سو رہا تھا ، لیکن اسلامی پھر یرا سرنگوں ہونے کے لیے نہیں آیا تھا، ان کے بھائی ابوالروم بن عمیر ؓ نے بڑھ کر اس کو سنبھالا اور آخر وقت تک شجاعانہ مدافعت کرتے رہے۔ [21] [13][22]

تجہیز و تکفین[ترمیم]

لڑائی کے خاتمہ پر آنحضرت حضرت مصعب بن عمیر ؓ کی لاش کے قریب کھڑے ہوئے اور یہ آیت تلاوت فرمائی۔ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ رِجَالٌ صَدَقُوا مَا عَاهَدُوا اللَّهَ عَلَيْهِ [23] مومنین میں سے چند آدمی ایسے ہیں جنھوں نے خدا سے جو کچھ عہد کیا تھا اس کو سچا کر دیکھایا۔ پھر لاش سے مخاطب ہوکر فرمایا "میں نے تم کو مکہ مکرمہ میں دیکھا تھا جہاں تمھارے جیسا حسین و خوش پوشاک کوئی نہ تھا، لیکن آج دیکھتا ہوں کہ تمھارے بال اُلجھے ہوئے ہیں اور جسم پر صرف ایک چادر ہے" پھر ارشاد ہوا بیشک خدا کا رسول گواہی دیتا ہے کہ تم لوگ قیامت کے دن بارگاہِ خداوندی میں حاضر رہو گے اس کے بعد غازیانِ دین کو حکم ہوا کشتگانِ راہ خدا کی آخری زیارت کرکے سلام بھیجیں اور فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ روزِ قیامت تک جو کوئی ان پر سلام بھیجے گا وہ اس کا جواب دیں گے۔ [24] اس زمانہ میں غربت وافلاس کے باعث شہیدانِ ملت کو کفن تک نصیب نہ ہوا، حضرت مصعب بن عمیر ؓ کی لاش پر صرف ایک چادر تھی جس سے سرچھپا یا جاتا تو پاؤں برہنہ ہوجاتے اور پاؤں چھپائے جاتے تو سر کھل جاتے، بالآخر چادر سے چہر ہ چھپایا گیا، پاؤں پراذخر کی گھاس ڈالی گئی،[25] اور ان کے بھائی حضرت ابوالروم بن عمیر ؓ نے حضرت عامر بن ربیعہ ؓ اور حضرت سویط بن سعد ؓ کی مدد سے سپردِ خاک کیا، انا للہ وانا الیہ راجعون [26] [4][13][27]

فضل و کمال[ترمیم]

حضرت مصعب بن عمیر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نہایت ذہین، طباع اور خوش بیان تھے ، یثرب(مدینہ) میں جس سرعت کے ساتھ اسلام پھیلا اس سے ان کے ان اوصاف کا اندازہ ہو سکتا ہے ، قرآن شریف جس قدر نازل ہو چکا تھا۔ اس کے حافظ تھے ، مدینہ میں نماز جمعہ کی ابتدا ان ہی کی تحریک سے ہوئی اور یہی سب سے پہلے امام مقرر ہوئے۔ [28] [29]

اخلاق[ترمیم]

اخلاقی پایہ نہایت بلند تھا، ظلم کے مکتب نے مزاج میں صرف متانت ہی پیدا نہ کی تھی ؛بلکہ مصائب برداشت کرنے کا خوگر بنا دیا تھا۔ خصوصا ملک حبش کی صحرانوردیوں نے جفا کشی، استقلال و استقامت کے نہایت زرین اسباق دیے تھے اور اچھی طرح سکھا دیا تھا کہ دشمنوں میں رہ کر کس طرح اپنا مقصد حاصل کیا جا سکتا ہے، یہی وجہ ہے کہ رسول خدا نے نو مسلموں کی تعلیم و تربیت اور اشاعتِ اسلام جیسے اہم خدمات پر ان کو مامور فرمایا تھا۔ مزاج قدرۃ نہایت لطافت پسند تھا، اسلام قبول کرنے سے پہلے عمدہ سے عمدہ پوشاک اور بہتر سے بہتر عطریات استعمال فرماتے،حضرمی جوتا جو اس زمانہ میں صرف امرا کے لیے مخصوص تھا وہ ان کے روز مرہ کے کام میں آتا ، غرض ان کے وقت کا اکثر حصہ آرائش ،زیبائش اور زلفِ مشکیں کے سنوارنے میں بسر ہوتا تھا، لیکن جب اسلام لائے تو شرابِ توحید نے کچھ ایسا مست کر دیا کہ تمام تکلفات بھول گئے ،ایک روز دربارِ نبوت میں اس شان سے حاضر ہوئے کہ جسم پر ستر پوشی کے لیے صرف ایک کھال کا ٹکڑا تھا جس میں جا بجا سے پیوند لگے ہوئے تھے، صحابہ کرام ؓ نے دیکھا تو سب نے عبرت سے گردنیں جھکالیں، آنحضرت نے فرمایا، الحمد للہ اب دنیا اور تمام اہل دنیا کی حالت بدل جانا چاہیے، یہ وہ نوجوان ہے جس سے زیادہ مکہ میں کوئی ناز پروردہ نہ تھا لیکن نیکو کاری کی رغبت اور خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت نے اس کو تمام چیزوں سے بے نیاز کر دیا۔ [30] [31]

حلیہ[ترمیم]

حلیہ یہ تھا ، قدمیانہ ، چہرہ حسین نرم و نازک اور زلفیں نہایت خوبصورت تھیں۔ [32]

اہل و عیال[ترمیم]

حضرت مصعب بن عمیر ؓ کی بیوی کا نام حمنہ بنت جحش تھا۔ جس سے زینب نامی ایک لڑکی یاد گار چھوڑی ۔ [33]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. عنوان : Мусаб ибн Умайр
  2. ( مآخذ:اسد الغابہ،استیعاب ،مستدرک ،سیرۃ صحابہ)
  3. (اسدالغابہ،تذکرہ مصعب بن عمیرؓ)
  4. ^ ا ب سير أعلام النبلاء» الصحابة رضوان الله عليهم» مصعب بن عمير آرکائیو شدہ 2017-09-07 بذریعہ وے بیک مشین
  5. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث:82)
  6. (اسد الغابہ تذکرہ مصعب بن عمیر ؓ)
  7. الطبقات الكبرى لابن سعد - مصعب بن عمير (1) آرکائیو شدہ 2016-12-20 بذریعہ وے بیک مشین
  8. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث: 82)
  9. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث :3)
  10. (سیرت ابن ہشام جلد 1 :139، وخلاصہ الوفاء :61)
  11. (سیرت ابن ہشام جلد 1 :139، وخلاصہ الوفاء :61)
  12. الإصابة في تمييز الصحابة - «» مصعب بن عمير آرکائیو شدہ 2016-12-20 بذریعہ وے بیک مشین
  13. ^ ا ب پ أسد الغابة في معرفة الصحابة - مصعب بن عمير آرکائیو شدہ 2016-12-20 بذریعہ وے بیک مشین
  14. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث : 83)
  15. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث :83)
  16. (طبقات ابن سعد قسم اول جزء ثالث :183)
  17. الطبقات الكبرى لابن سعد - مصعب بن عمير (2) آرکائیو شدہ 2016-12-20 بذریعہ وے بیک مشین
  18. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث :84)
  19. الطبقات الكبرى لابن سعد - مصعب بن عمير (3) آرکائیو شدہ 2016-12-20 بذریعہ وے بیک مشین
  20. (آل عمران:144)
  21. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث :85)
  22. الطبقات الكبرى لابن سعد - مصعب بن عمير (4) آرکائیو شدہ 2016-12-20 بذریعہ وے بیک مشین
  23. (الاحزاب:23)
  24. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث :85)
  25. (بخاری باب غزوۂ احد :578)
  26. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث :86)
  27. الطبقات الكبرى لابن سعد - مصعب بن عمير (6) آرکائیو شدہ 2016-12-20 بذریعہ وے بیک مشین
  28. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث :86)
  29. حلية الأولياء لأبي نعيم، مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ الدَّارِيُّ، رقم الحديث: 333 آرکائیو شدہ 2017-11-15 بذریعہ وے بیک مشین
  30. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث : 82)
  31. حلية الأولياء لأبي نعيم، مُصْعَبُ بْنُ عُمَيْرٍ الدَّارِيُّ، رقم الحديث: 335 آرکائیو شدہ 2017-11-15 بذریعہ وے بیک مشین
  32. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث : 86)
  33. (طبقات ابن سعد قسم اول جز ثالث : 81)