مصعب بن عمیر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مصعب بن عمیر
(عربی میں: مصعب بن عميرخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائشی نام مصعب بن عمیر
پیدائش 42 ق۔ھ
مکہ
وفات
احد، مدینہ منورہ
کنیت ابو عبد اللہ
زوجہ حمنہ بنت جحش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
نسب العبدری القرشی
پیشہ واعظ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں غزوہ بدر
غزوہ احد

مصعب بن عمیر غزوہ بدر میں شامل صحابی رسول تھے۔

  • مصعب بن عمیر، قریشی عبدری ہیں ،آپ کا تعلق قریش کی شاخ بنو عبدالدر سے تھا۔ اجلہ اور فضلاء صحابہ میں سے ہیں انہوں نے آنحضرت ﷺ کے دار ارقم میں آنے سے پہلے مکہ میں اسلام قبول کیا تھا اور اول ہجرت حبشہ کرنے والوں کے ساتھ حبشہ کو ہجرت کی ، پھر جنگ بدر میں شریک ہوئے ، آنحضرت ﷺ نے ان کو عقبہ ثانیہ کے بعد مکہ سے تبلیغ اسلام کے لیے مدینہ بھیجا گیااور وہاں اہل مدینہ کو قرآن کی تعلیم دینے اور دین سکھانے کی خدمت ان کے سپرد فرمائی تھی ، ہجرت نبوی سے قبل مدینہ میں جس نے سب سے پہلے جمعہ پڑھا وہ مصعب بن عمیر ہیں ۔ زمانہ جاہلیت میں مصعب بن عمیر بڑے عیش و آرام کی زندگی گزارتے تھے ، اعلیٰ لباس زیب تن کرتے تھے ، مگر جب مسلمان ہوگئے تو زہد اختیار کیا اور دنیا کی ہر عیش و آرام اور ہر راحت سے دست کش ہوگئے حدیث میں آیا ہے کہ ایک دن مصعب بن عمیر اس حال میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے کہ (جسم پر ایک کملی تھی اور ) کمر پر بکرے کے چمڑے کا تسمہ بندھا ہوا تھا ۔ آنحضرت ﷺ نے ان کو دیکھ کر حاضرین مجلس سے فرمایا کہ اس شخص کو دیکھو جس کا قلب اللہ تعالیٰ نے نور ایمان سے جگمگا رکھا ہے ۔ میں نے اس شخص کو مکہ میں اس حال میں دیکھا کہ اس کے ماں باپ اس کو اعلی سے اعلی چیزیں کھلاتے پلاتے تھے اور میں نے اس کے جسم پر ایسا جوڑا دیکھا ہے جو دو سو درہم میں خریدا گیا تھا ، مگر اب اللہ اور اللہ کے رسول ﷺ کی محبت نے اس کو اس حالت میں پہنچا دیا ہے جو تم دیکھ رہے ہو ، بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مصعب بن عمیر کو عقبہ اولی کے بعد مدینہ بھیجا تھا ، وہاں یہ اسلام کی دعوت لے کر انصار کے گھر گھر جاتے ، ان کو تبلیغ کرتے اور ان کو مسلمان بنانے کی پوری پوری جدوجہد کرتے چنانچہ ان کی اسی جدوجہد کے نتیجہ میں ایک ایک اور دو دو کرکے لوگ مسلمان ہوتے رہے ، یہاں تک کہ مدینہ میں اسلام کا نور پھیل گیا اور اہل مدینہ کی بڑی تعداد دائرہ اسلام میں داخل ہوگئی ، تب انہوں نے مدینہ میں جمعہ قائم کرنے اور مسلمانان مدینہ کو نماز جمعہ پڑھانے کی اجازت آنحضرت ﷺ سے منگوائی ، اس کے بعد مصعب بن عمیر ستر آدمیوں کی وہ جماعت لے کر مکہ آئے جو عقبہ ثانیہ کے موقع پر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی تھی قرآن کریم کی یہ آیت : (مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ رِجَالٌ صَدَقُوْا مَا عَاهَدُوا اللّٰهَ عَلَيْهِ) 33۔ الاحزاب : 23) انہی مصعب بن عمیر کی شان میں نازل ہوئی ۔
  • آپ غزوہ بدر اور غزوہ احد دونوں میں اسلامی فوج کے علمبردار بھی تھے اور میدان احد میں رتبہ شہادت پر سرفراز ہوئے۔
  • مصعب بن عمیر نے مدینہ میں تبلیغ کی جس سے قبیلے کے قبیلے اسلام میں داخل ہونے شروع ہوئے،مدینہ میں قبیلۂ اوس کی شاخوں میں قبیلۂ بنو عبدالاشہل اورقبیلہ بنو ظفر بہت مشہور وطاقتور تھے،سعد بن معاذ قبیلہ بنو عبدالاشہل کے سردار ہونے کے علاوہ تمام قبائل کے سردارِ اعظم تھا۔ اسید بن حضیر قبیلہ بنو ظفر کے سردار تھے، اسعد بن زرارہ جن کے مکان پر مصعب بن عمیرمقیم تھے،سعدبن معاذ کے خالہ زاد بھائی تھے۔ یہ ان کی وجہ سے اسلام میں داخل ہوئے۔

حوالہ جات[ترمیم]