مطلق الجاسر
| ||||
|---|---|---|---|---|
| (عربی میں: مُطْلَق جَاسِر مُطْلَق فَارِس الْجَاسِر) | ||||
| معلومات شخصیت | ||||
| پیدائشی نام | مطلق جاسر مطلق فارس الجاسر | |||
| قومیت | کویت | |||
| مذہب | اسلام | |||
| فرقہ | حنبلی | |||
| عملی زندگی | ||||
| الكنية | أبو عبد الله | |||
| تعليم | حاصل على شهادة الماجستير في الشريعة الإسلامية برسالة بعنوان: "صكوك الإجارة وحكمها في الفقه الإسلامي" وحاصل على شهادة الدكتوراه بعنوان: "نظرية تغير الفتوى وتطبيقاتها في فقه الصيرفة الإسلامية" | |||
| استاد | سعد الشثري، محمد المختار الشنقيطي، عبد الله بن عبد العزيز العقيل | |||
| پیشہ | دعوہ ، مصنف ، استاذ جامعہ | |||
| پیشہ ورانہ زبان | عربی | |||
| وجۂ شہرت | المناظرات بين الإسلام والعَلمانية والرد على الشبهات | |||
| ویب سائٹ | ||||
| ویب سائٹ | باضابطہ ویب سائٹ | |||
| درستی - ترمیم | ||||
مطلق الجاسر (پیدائش 1403ھ / 1983ء ) ایک کویتی اسلامی محقق، مفکر، مبلغ اور خطیب تھے ۔ وہ سیاستِ شرعیہ اور فقہِ مقارن میں دلچسپی رکھتے ہیں، نیز لبرل ازم اور سیکولر ازم کا رد کرنے اور اسلام کے دفاع میں شبہات کے جوابات دینے میں سرگرم ہیں۔ ان کی کئی تصنیفات، تحقیقی مقالات، علمی تحقیقات اور مطبوعہ کتب موجود ہیں۔[1]
حالات زندگی
[ترمیم]ابو عبد اللہ، مطلق بن جاسر بن مطلق بن فارس الجاسر 2 رمضان 1403ھ (13 جون 1983ء) کو پیدا ہوئے۔ ان کا تعلق عنزہ قبیلے کی شاخ العضدان من الجلال من الصقور سے ہے۔
- تعلیمی سفر:
2005: کلیۂ شریعت، جامعہ کویت سے بیچلر آف شریعت (امتیازی نمبروں اور آنرز کے ساتھ)۔ 2008: جامعہ قاہرہ سے ماسٹرز آف شریعت (امتیازی نمبروں کے ساتھ)، مقالہ: "صکوك الإجارة وأحكامها في الفقه الإسلامي، دراسة مقارنة بالاقتصاد الإسلامي"۔ 2014: جامعہ یرموک سے اسلامی معیشت میں ڈاکٹریٹ، مقالہ: "نظرية تغير الفتوى وتطبيقاتها في فقه الصيرفة الإسلامية"۔
- عملی خدمات:
جامعہ کویت کے کلیۂ شریعت و اسلامی علوم میں فقہِ مقارن اور سیاستِ شرعیہ کے شعبے میں تدریسی رکن۔ 2005 - 2010: کویت فنانس بینک میں شرعی نگران کے طور پر خدمات انجام دیں۔ 2018 - 2022: جامعہ کویت میں کلیۂ شریعت و اسلامی علوم کے اسسٹنٹ ڈین برائے طلبہ امور۔ وزارتِ اوقاف و امورِ اسلامی میں امام و خطیب۔[2]
اساتذہ
[ترمیم]انھوں نے جامعہ کی رسمی تعلیم کے علاوہ کئی جید علما سے بھی علمی استفادہ کیا، جن میں شامل ہیں:
- شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز بن عقیل (سعودیہ)
- شیخ عبد اللہ بن صالح الفوزان (سعودیہ)
- شیخ عدنان بن سالم النہام (کویت)
- شیخ خالد بن علی المشیقح (سعودیہ)
- شیخ محمد المختار بن محمد الأمین الشنقیطی (سعودیہ)
- شیخ عبد اللہ بن محمد الأمین الشنقیطی (سعودیہ)
- شیخ محمد بن عبد الرحمن آل اسماعیل (سعودیہ)
- شیخ خالد بن مطلق الحربی (کویت)
- شیخ سعد بن ناصر الشثری (سعودیہ)
- شیخ ولید بن عبد اللہ المنیّس (کویت)
- شیخ حسنین محمود حسنین (مصر)
- شیخ حسین بن عبد اللہ العلی (شام)[2]
اجازات
[ترمیم]- انھوں نے مختلف ممالک کے جید علما سے اجازات حاصل کیں، جن میں شامل ہیں:
- شیخ عبد الوکیل بن عبد الحق الہاشمی (بھارت)
- شیخ ثناء اللہ بن عیسیٰ خان المدنی (پاکستان)
- شیخ عبد اللہ بن عبد العزیز بن عقیل (سعودیہ)
- شیخ محمد فوزی فیض اللہ (شام)
- شیخ شعیب الارنوؤط (شام)
- شیخ محمد امین سراج (ترکی)
- شیخ محمد بن اسماعیل العمرانی (مفتی یمن)
- شیخ عبد اللہ بن حمود التویجری (سعودیہ)
- شیخ عبد الرحمن بن عبدالحي الکتانی (مراکش)
- شیخ محمد اسرائیل الندوی (بھارت)
- شیخ محمود العتوم الجرشی (اردن)
- ڈاکٹر بشار عواد معروف (عراق)
- شیخ محمود شکور مرير المياديني (شام)
- شیخ مشعان بن زاید الحارثی (سعودیہ)
- شیخ احمد بن ابی بکر الحبشی (سعودیہ)
- شیخ محمد مطیع الحافظ (شام)
- شیخ عبد اللہ بن صالح العبید (سعودیہ)
- شیخ مصطفی بن احمد القدیمی (یمن)
- شیخ نظام یعقوبی (بحرین)
- شیخ محمد بن ناصر العجمی (کویت)
- شیخ ظہیر الدین الاثری الرحمانی (بھارت)[3]
اور دیگر کئی علما کرام۔
خدمتِ غیث
[ترمیم]مطلق الجاسر نے "غیث" نامی خدمت متعارف کروائی، جو مرکز بینات کے تحت چلتی ہے۔ اس کا مقصد اسلام کے خلاف شبہات کا خفیہ اور علمی انداز میں جواب دینا ہے۔ اس خدمت میں محققین کی ایک ٹیم کام کرتی ہے، جس کی نگرانی وہ خود کرتے ہیں۔ سائل کو یہ سہولت حاصل ہے کہ وہ براہِ راست مکالمے (لائیو سیشن) کی درخواست بھی کر سکتا ہے۔[4]
تصنیفات
[ترمیم]- . "نظریۂ تغییر الفتویٰ و تطبیقاتہا في فقہ الصیرفۃ الإسلامیہ" یہ ان کا ڈاکٹریٹ کا تحقیقی مقالہ ہے، جو 2017ء میں شائع ہوا۔
- . "المداخل إلى المعاملات المالية الإسلامية المعاصرة" پہلی اشاعت: 2009ء، بیت التمويل الكويتي۔
- . "فصول مختصرة في فقه المعاملات المالية المعاصرة" مشترکہ تصنیف: ڈاکٹر عدنان الملا کے ساتھ۔پہلی اشاعت: 2013ء۔
- . "النقود والمصارف في الشريعة الإسلامية" اسلامی شریعت میں مالیاتی نظام اور بینکاری پر تحقیق۔
- . "سنن مہجورہ" پہلی اشاعت: 2005ء، دار غراس للنشر والتوزيع، کویت۔دوسری اشاعت: 2010ء، دار الجديد النافع للنشر والتوزيع، کویت۔ انگریزی ترجمہ بھی کیا گیا۔
- . "کیف یکون الدعاء مستجاباً؟" نظر ثانی و تقریظ: شیخ ابو بکر جابر الجزائری (مدرس، مسجد نبوی)۔ پہلی اشاعت: 2006ء، سلسلہ العلامتین، کویت۔ دوسری اشاعت: 2008ء، دار غراس، کویت۔ اردو میں بھی ترجمہ کیا گیا۔
- . "زاد المسلم من العلم النافع" پہلی اشاعت: 2014ء، دار الجديد النافع، کویت۔
- . "الحاشیہ الحنبلیہ علی الورقات لإمام الحرمین" متعدد بار شائع ہو چکی ہے۔
- . "تِریاق" پہلی اشاعت: 2020ء۔[5]
بیرونی روابط
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "الموقع الرسمي لمطلق الجاسر"۔ موقع مطلق الجاسر۔ 7 جون 2023۔ 2023-06-05 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ^ ا ب "موقع المستنصرية التعليمية"۔ موقع المستنصرية۔ 8 جون 2023۔ 2023-03-26 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ "موقع التبراة"۔ 28 جون 2023۔ 2019-10-02 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- ↑ "إطلاق خدمة «غيث» التابعة لمركز بينات للرد على الشبهات"۔ مركز حصين للأبحاث والدراسات۔ 21 دسمبر 2024
- ↑ "موقع الشيخ مطلق الجاسر مؤلفاته"۔ موقع مطلق الجاسر۔ 12 ستمبر 2023۔ 2023-05-29 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا


