مطلوب وڑائچ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مطلوب احمد وڑائچ
ادبی تحریک پاکستان میں جمہوری تحریک اور آمریت کی مخالفت، پیپلز پارٹی اور طاہر القادری سے وابستگی
نمایاں کام سینئر کالم نگار نوائے وقت، صدر مدیر روزنامہ پیپلز، لاہور، سیاسی و فوجی تجزیہ نگار، مصنف اور شاعر

مطلوب احمد وڑائچ روزنامہ نوائے وقت میں گلوبل ولیج کے نام سے کالم لکھنے اور سیاسی اور ادبی فعالیت کی وجہ سے شہرت رکھتے ہیں۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

مطلوب کی پیدائش ایک زراعت پیشہ خاندان میں مترانوالی جیسے چھوٹی سی آبادی میں سیالکوٹ کی ڈسکہ تحصیل میں ہوئی۔ وہ ڈسکہ میں کالج کی تعلیم کے بعد سویٹزرلینڈ منتقل ہوئے جہاں انہوں نے ہوٹل کی نظامت میں ڈگری حاصل کی۔ وہ اسلامی جمعیت طلبہ کے صدر منتخب ہوئے اور بعد پیپلز اسٹوڈنٹ فیڈریشن جیسی سیاسی طلبہ نتظیموں سے جڑے رہے۔[1]

ابتدائی کیریئر[ترمیم]

سویٹزرلینڈ میں اپنے قیام کے دوران میں آئی آئی ایس اینٹی نارکاٹیکس ڈپارٹمنٹ (مخالف منشیات محکمہ) کے خصوصی ایجنٹ رہے۔ وہ سویٹزرلینڈ ہی سے پیپلز پارٹی کے جلاوطن صدر اور پی پی پی کے یورپی معاملوں کے صدر بنے رہے۔[1]

پاکستان میں باز آمد[ترمیم]

جنرل محمد ضیاء الحق کی موت کے بعد وہ پاکستان لوٹے اور آصف علی زرداری اور بے نظیر بھٹو کی حمایت کی وجہ سے کچھ وقت قید و بند میں گزارے۔ 2000ء میں وہ پی پی پی وفاقی کونسل کے رکن بنے۔ بعد کے سالوں میں وہ ڈاکٹر طاہر القادری کے سیاسی معتمد بنے۔[1]

موجودہ طور پر وہ پنجاب نیشنل پارٹی آف پاکستان کے بانی صدر نشین، سیاسی اور فوجی تجزیہ نگار ہیں۔ حالانکہ ان کی زیادہ شہرت کے کالم نگار کے طور پر ہے۔[1]

تخلیقات[ترمیم]

  1. صدیوں کا بیٹا
  2. جلا وطن لیڈر
  3. افکار سحر
  4. سہروردی سے وردی تک
  5. حقیقت رومی
  6. ایڈیسن
  7. گرینڈ ایجنڈا اور پاکستان
  8. پاکستان اور اس کی کمیاب خارجہ پالیسی
  9. مشرق اور مغرب کے ملاپ
  10. دی گریٹ تھری
  11. ٹوینٹی ڈیکٹیٹرس آف 20تھ سینچری
  12. جینے کا فن
  13. بے نظیر بھٹو کے آخری 72 دن
  14. طالبان اور عالمی امن
  15. طالبان – دی گلوبل تھریٹ[1]

صحافت[ترمیم]

مطلوب اردو روزنامہ ”پیپلز” کے مدیر ہیں۔ وہ نوائے وقت کے لیے کالم لکھتے ہیں۔[1]

سیاسی خیالات[ترمیم]

وہ ایک کٹر پاکستانی ہیں اور یہ سمجھتے ہیں بھارت، یہودی اور مسیحی ایران اور سعودی عرب کے بیچ تنازع پیدا کر رہے ہیں۔وہ ویکی لیکس کے انکشافات کو اسی کا حصہ مانتے ہیں۔[2]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]