مطیع الرحمان نظامی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مطیع الرحمان نظامی
Motiur Rahman Nizami (1943–2016).jpg
امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش
دفتر سنبھالا
2000ء
پیشرو غلام اعظم
وزیر زراعت
عہدہ سنبھالا
10 اکتوبر 2001ء – 22 مئی 2003ء
وزیر صنعت
عہدہ سنبھالا
22 مئی 2003ء – 28 اکتوبر 2006ء
Member of Parliament
for پبنا-1
عہدہ سنبھالا
1 اکتوبر 2001ء – 28 اکتوبر 2006ء
پیشرو ابو سید
جانشین شمس الحق
اکثریت 135,982 (57.68%)
عہدہ سنبھالا
27 فروری 1991ء – 16 فروری 1996ء
جانشین ابوسید
اکثریت 55,707 (36.85%)
ذاتی تفصیلات
پیدائش پبنا، بنگلہ دیش
سیاسی جماعت جماعت اسلامی بنگلہ دیش
شریک حیات شمس النہار نظامی
مادر علمی جامعہ ڈھاکہ
پیشہ سیاستدان
مذہب اسلام

مطیع اللہ نظامی ایک بنگلہ دیشی سیاستدان اور بنگلہ دیش کی سب سے بڑی مذہبی جماعت جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر تھے۔ 29 اکتوبر 2014ء ، ان کو انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی اور 11 مئی 2016 کو انہیں پھانسی دے دی گئی، ان پر الزام یہ تھا کہ انھوں نے جنگ آزادی بنگلہ دیش میں البدر تنظیم، جس نے جنگ کے دوران پاکستان کی حمایت میں کئی بنگالیوں کا قتل کیا تھا، کے سربراہ کا کردارادا کیا۔ بنگلہ دیش کی وزیراعظم حسینہ واجد نے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے2010ء میں ایک ٹریبونل تشکیل دیا تھا جس کے فیصلوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے اب تک 4 بڑے سیاستدانوں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کے ٹرائل کی حمایت کی۔تاہم نومبر 2011ء میں انسانی حقوق کے نگرانوں نے حکومت بنگلہ دیش پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اس کیس میں شفافیت نہیں نیز گواہان اور وکلاء کو بھی ہراساں کیا گیا ہے۔[1][2][3]

پھانسی[ترمیم]

حکومت بنگلہ دیش کی توثیق کے بعد، 10 مئی، 2016ء کو سنٹرل جیل ڈھاکہ میں مطیع الرحمان نظامی کو پھانسی دے دی گئی۔ [4]

رد عمل[ترمیم]

Flag of Pakistan.svg پاکستان: پاکستان نے مطیع الرحمان کی پھانسی کی شدید مذمت کی ہے اور اپنے بیان میں پاکستانی دفترخارجہ نے کہا ہےکہ" پاکستان کو مطیع الرحمان کی پھانسی پر تشویش ہے۔ان کو دسمبر 1971ء سے پہلے جرم کرنے کے الزام میں سزا دی گئی ہے۔مطیع الرحمان کو صرف اس لیے پھانسی دی گئی کہ انہوں نے اس وقت پاکستان کے آئین و قانون کو تھامے رکھا"۔[5]

Flag of Turkey.svg ترکی:ترکی نے پھانسی کی شدید مذمت کی ہے ۔[6] اور بنگلہ دیش سے احتجاجاََ اپنے سفیر کو واپس بلایا ۔[7]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]