مطیع الرحمان نظامی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مطیع الرحمان نظامی
(بنگالی میں: মতিউর রহমান নিজামী خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
امیر جماعت اسلامی بنگلہ دیش
آغاز منصب
2000ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png غلام اعظم
برسر منصب Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
وزیر زراعت
مدت منصب
10 اکتوبر 2001ء – 22 مئی 2003ء
وزیر صنعت
مدت منصب
22 مئی 2003ء – 28 اکتوبر 2006ء
مدت منصب
1 اکتوبر 2001ء – 28 اکتوبر 2006ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png ابو سید
شمس الحق Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ووٹ 135,982 (57.68%)
مدت منصب
27 فروری 1991ء – 16 فروری 1996ء
Fleche-defaut-droite-gris-32.png  
ابوسید Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
ووٹ 55,707 (36.85%)
معلومات شخصیت
پیدائش 31 مارچ 1943  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
سانتھیا ذیلی ضلع  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 11 مئی 2016 (73 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ڈھاکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات پھانسی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Bangladesh.svg بنگلہ دیش
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
جماعت جماعت اسلامی بنگلہ دیش  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ ڈھاکہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان بنگلہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
الزام
جرم اسلحہ کی اسمگلنگ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں جرم (P1399) ویکی ڈیٹا پر

مطیع اللہ نظامی ایک بنگلہ دیشی سیاست دان اور بنگلہ دیش کی سب سے بڑی مذہبی جماعت جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے امیر تھے۔ 29 اکتوبر 2014ء، ان کو انہیں سزائے موت سنائی گئی تھی اور 11 مئی 2016 کو انہیں پھانسی دے دی گئی، ان پر الزام یہ تھا کہ انھوں نے جنگ آزادی بنگلہ دیش میں البدر تنظیم، جس نے جنگ کے دوران پاکستان کی حمایت میں کئی بنگالیوں کا قتل کیا تھا، کے سربراہ کا کردارادا کیا۔ بنگلہ دیش کی وزیر اعظم حسینہ واجد نے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے2010ء میں ایک ٹریبونل تشکیل دیا تھا جس کے فیصلوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے اب تک 4 بڑے سیاست دانوں کو سزائے موت دی جا چکی ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں نے ان کے ٹرائل کی حمایت کی۔ تاہم نومبر 2011ء میں انسانی حقوق کے نگرانوں نے حکومت بنگلہ دیش پر کڑی تنقید کی اور کہا کہ اس کیس میں شفافیت نہیں نیز گواہان اور وکلا کو بھی ہراساں کیا گیا ہے۔[1][2][3]

پھانسی[ترمیم]

حکومت بنگلہ دیش کی توثیق کے بعد، 10 مئی، 2016ء کو سنٹرل جیل ڈھاکہ میں مطیع الرحمان نظامی کو پھانسی دے دی گئی۔[4]

رد عمل[ترمیم]

Flag of Pakistan.svg پاکستان: پاکستان نے مطیع الرحمان کی پھانسی کی شدید مذمت کی ہے اور اپنے بیان میں پاکستانی دفترخارجہ نے کہا ہے کہ" پاکستان کو مطیع الرحمان کی پھانسی پر تشویش ہے۔ ان کو دسمبر 1971ء سے پہلے جرم کرنے کے الزام میں سزا دی گئی ہے۔ مطیع الرحمان کو صرف اس لیے پھانسی دی گئی کہ انہوں نے اس وقت پاکستان کے آئین و قانون کو تھامے رکھا"۔[5]

Flag of Turkey.svg ترکی:ترکی نے پھانسی کی شدید مذمت کی ہے ۔[6] اور بنگلہ دیش سے احتجاجاََ اپنے سفیر کو واپس بلایا ۔[7]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]