مظفر شہ میری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
ڈاکٹر مظفر شہ میری
پیدائش05مئی 1952ء
اننتپور ضلع، آندھرا پردیش، بھارت
رہائشحیدرآباد , آندھرا پردیش
اسمائے دیگرمظفر شہ میری
پیشہادب سے وابستگی، درس و تدریس
وجہِ شہرتشاعری
مذہباسلام

مظفر شہ میری : (پیدائش 05 مئی، 1952) -

پیشہ ورانہ سفر[ترمیم]

  • صدر شعبئہ اردو، جامعہ حیدآباد کے فرائض انجام دئے ۔[1]
  • عبد الحق اردویونیورسٹی، کرنول، آندھرا پردیش، بھارت کے پہلے شیخ الجامعہ کی حیثیت سے جائزہ سنبھالا۔[2]

ادبی سفر[ترمیم]

مظفر شہ میری کے دلچسپ شعبہ جات میں، دکنیات، علم عروض خاص ہیں۔

تصانیف، تالیفات اور شاعری[ترمیم]

تصانیف
  • حفیظ جالندھری : فن اور شخصیت۔ 1978
  • اردو غزل کا استعاراتی نظام۔ 1994
  • نقش و نظر۔ 1998
  • کاوش فکر ۔2009
تالیفات
  • سخن وران ویلور۔ 1987
  • زخم ز خم زندگی۔ 1994
  • نذر جاوید۔ 1996
  • اردو زبان اور ادب ۔2004

شاعری

  • کہکشاں۔ 1994
  • پیاس۔ 2009

سیمنار اور مقالے[ترمیم]

مظفر شہ میری اب تک تقریباً 50 مقالے ریاستی، قومی اور بین الاقوامی سطح پر پیش کرچکے ہیں۔ اہم سیمینارس کا ذکر ذیل پر دیکھیں۔

  • عالمی کانفرینس، تہران، ایران - 2004
  • تامل ناڈو میں دکنی زبان - بین الاقوامی سیمینار - لندن - جولائی 2009

تدریس اردو بذریعے ابلاغ[ترمیم]

ای ٹی وی اردو کے ذریعے اردو کی تدریس کا ایک پروجیکٹ انہوں نے انجام دیا۔ یہ پروگرام مشترکہ طور پر آندھرا پردیش اردو اکیڈمی اور راموجی فلم سٹی کے زیر اہتمام رہا۔ اس ٹی وی پر درسی پروگرام کے 76 ایپیسوڈ تھے، جو کافی مقبول ہوئے۔ اس پروگرام کو تقریباً 52 ممالک کے ناظرین نے دیکھا۔ ان تمام ایپیسوڈس کو یوٹیوب پر بھی دیکھا جاسکتا ہے، مثلاً 70 ایپیسوڈ یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

ابلاغ میں مظفر شہمیری[ترمیم]

نجی زندگی[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]