مظہر محمود شیرانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مظہر محمود شیرانی
معلومات شخصیت
پیدائش 9 اکتوبر 1935 (85 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ناگور، ریاست جودھ پور  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی اسلامیہ کالج لاہور
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور
اورینٹل کالج لاہور  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد پی ایچ ڈی  ویکی ڈیٹا پر تعلیمی اسناد (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈاکٹری مشیر وحید قریشی  ویکی ڈیٹا پر ڈاکٹورل مشیر (P184) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ محقق، پروفیسر، سوانح نگار  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

پروفیسر ڈاکٹر مظہر محمود شیرانی (پیدائش: 9 اکتوبر 1935ء) پاکستان کے نامور محقق، خاکہ نگار، ماہر تعلیم اور فارسی کے پروفیسر ہیں۔ اردو کے معروف محقق پروفیسر حافظ محمود خان شیرانی کے پوتے اور نامور رومانوی شاعر اختر شیرانی کے بیٹے ہیں۔ اس وقت گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے بحیثیت ریسرچ سپروائزر وابستہ ہیں۔

حالات زندگی[ترمیم]

مظہر محمود شیرانی 9 اکتوبر 1935ء کو شیرانی آباد، ضلع ناگور، ریاست جودھ پور میں اپنے ننھیال میں پیدا ہوئے۔ اردو کے مشہور و معروف محقق حافظ محمو دخان شیرانی کے پوتے ہیں اور اردو کے نامور شاعر اختر شیرانی کے بیٹے ہیں۔ اردو کی محبت، شعر و سخن اور تحقیق کا ذوق ورثے انہیں میں ملا ہے۔ انہوں 1952ء میں میٹرک گورنمنٹ ہائی اسکول شیخوپورہ سے جبکہ ایف اے اور بی اے بالترتیب 1954ء اور 1956ء میں اسلامیہ کالج لاہور سے پاس کیے۔ 1958ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے (تاریخ) اور 1960ء میں اورینٹل کالج لاہور سے ایم اے (فارسی) کی ڈگریاں حاصل کیں۔ 1960ء میں محکمہ تعلیم سے منسلک ہوئے اور ڈگری کالج مظفر گڑھ میں فارسی کے لیکچرار کی حیثیت سے عملی زندگی کا آغاز کیا۔ تین سال کے بعد انٹر کالج شیخوپورہ میں تبادلہ ہو گیا جہاں 1966ء تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ 1966ء سے 1969ء تک ڈگری کالج شیخوپورہ میں پڑھاتے رہے۔ ستمبر 1969ء سے 1970ء تک گورنمنٹ کالج لاہور میں بھی تدریسی خدمات انجام دیں۔ جنوری 1970ء میں ڈگری کالج شیخوپورہ میں واپس آ گئے اور ملازمت کا بقیہ حصہ یہیں بسر کیا، 8 اکتوبر 1995ء میں ایسوسی ایٹ پروفیسر و صدر شعبہ فارسی سبکدوش ہو گئے۔[1]

اکتوبر 2003ء سے اب تک گورنمنٹ کالج لاہور سے بحیثیت ریسرچ سپروائزر وابستہ ہیں۔ 1987ء میں مظہر محمود نے ڈاکٹر وحید قریشی کی زیرِ نگرانی اپنے دادا حافظ محمود خان شیرانی کی علمی و ادبی خدمات پر مقالہ لکھ کر اردو میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل۔ ان کا یہ مقالہ ایک تحقیقی شاہکار ہے اور تحقیق کرنے والوں کے لیے ایک معیار کی حیثیت رکھتا ہے۔ انہوں نے اپنے دادا کے مقالات کو تلاش کر کے دس جلدوں میں مرتب کیا ہے جنہیں مجلس ترقی ادب لاہور نے شائع کیا ہے۔ انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد خاکہ نگاری کی طرف بھی توجہ دی اور چار مجموعے بعنوان کہاں گئے وہ لوگ، کہاں سے لاؤں انہیں، جانے کہاں بکھر گئے اور بے نشانوں کا نشاں کے نام سے لکھے اور شائع کیے ہیں۔ ان کی مرتبہ کتب اس کے علاوہ جبکہ تحقیقی مقالات کی تعداد پچاس سے زائد ہے۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب ڈاکٹر محمد منیر احمد سلیچ،ادبی مشاہیر کے خطوط، قلم فاؤنڈیشن انٹرنیشنل لاہور، 2019ء، ص 259