معاذ بن حارث عفراء

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

معاذ بن حارث عفراء صحابی جو غزوہ بدر میں شامل اور ابو جہل کو قتل کرنے والے بھائیوں سے ایک ہیں

نام ونسب[ترمیم]

معاذ نام، سلسلۂ نسب یہ ہے ،معاذ بن حارث بن رفاعہ بن حارث بن سواد بن مالک بن غنم بن مالک بن نجار بن ثعلبہ بن عمرو بن خزرج ،والدہ کا نام عفراء بنت خویلد بن ثعلبہ بن عبید بن ثعلبہ بن غنم بن مالک بن نجار تھا۔

اسلام[ترمیم]

بیعت عقبہ سے قبل مکہ جاکر مسلمان ہوئے،5 آدمی اس سفر میں ان کے ہمراہ تھے،ان چھ آدمیوں کے ناموں میں اختلاف ہے [1]

مواخاۃ[ترمیم]

ہجرت کے بعد معمر بن حارث ان کے اسلامی بھائی بنائے گئے۔

غزوات[ترمیم]

بدر میں شریک تھے،جب شیبہ، عتبہ اور ولید بن عقبہ نے مبارز طلبی کی تو سب سے پہلے یہی تینوں بھائی (معاذ، معوذ ،عوف) تیغ بکف میدان میں نکلے تھے ؛لیکن آنحضرتﷺ نے ان کو واپس بلالیا اور حمزہ وغیرہ کو مقابلہ کے لئے بھیجا۔ لیکن ولولۂ جہاد کب دب سکتا تھا، عبدالرحمن بن عوف ایک صف میں کھڑے تھے،ان کے داہنے بائیں دونوں بھائی آکر کھڑے ہوگئے وہ ان کو پہچانتے نہ تھے اس بناء پر اپنے گرد دونوجوانوں کو دیکھ کر خوف زدہ ہوئے،اتنے میں ایک نے آہستہ سے کہا چچا! ابو جہل کہاں ہے؟ انہوں نے کہا برادر زادے !کیا کروگے؟ کہا میں نے سنا ہے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کو گالی دیتا ہے،اس بناء پر خدا سے عہد کرچکا ہوں کہ اس کو ضرور مارونگا ،پھر اسی دھن میں اپنی جان بھی قربان کردونگا ،دوسرے نے بھی اس قسم کی گفتگو کی ، عبدالرحمن نہایت متعجب ہوئے اور اشارہ سے بتایا کہ دیکھو ابوجہل وہ گشت لگارہا ہے، اتنا سن کر وہ دونوں باز کی طرح جھپٹے اورابوجہل کو قتل کرڈالا ،پھر آنحضرتﷺ کو خوشخبری سنائی ،پوچھا کس نے قتل کیا،دونوں نے جواب دیا ہم نے ،فرمایا تلوار دکھاؤ؛چنانچہ دونوں کی تلواروں میں خون کا اثر موجود تھا۔[2] صحیح مسلم میں ان دونوں کا نام معاذ بن عمرو بن جموح اور معاذ بن عفراء مذکور ہے، لیکن صحیح بخاری میں ابنائے عفراء ہے جس سے صرف معاذ اوران کے بھائی کا مارنا ثابت ہوتا ہے۔

وفات[ترمیم]

بعضوں کے نزدیک تو اسی زخم سے فوت ہوگئے بعض روایتوں میں ہے کہ عثمان غنی کے زمانہ میں وفات پائی، [3] حب رسول کا بہترین ثبوت بدر میں ابو جہل کا قتل ہے،اس میں انہوں نے جانبازی کی جو اعلیٰ مثال پیش کی وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے نہایت حیرت انگیز ہے،فرائض کی بجا آوری میں اہتمام تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فتح الباری:7/172
  2. بخاری:2/568،ومسلم:2/68،69
  3. الإصابة في تمييز الصحابة۔المؤلف: أبو الفضل أحمد بن علي بن محمد بن أحمد بن حجر العسقلاني الناشر: دار الكتب العلمية - بيروت