معارف القرآن (عثمانی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(معارف القرآن سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search

’’معارف القرآن‘‘ میں مفتی محمد شفیع عثمانی کی اردو تفسیر قرآن ہے۔ اس میں مفتی صاحب نے اپنے طور پر کوئی ترجمہ نہیں کیا، بلکہ مولانا محمود الحسن کا ترجمہ ہی اختیار کیا ہے۔ ان کے نزدیک ترجمہ تفسیر سے زیادہ نازک معاملہ ہے اور چونکہ سلف کا ترجمہ موجود ہے، اس لیے اس کی ضرورت نہیں کہ کوئی نیا ترجمہ کیا جائے۔ تفسیر میں انھوں نے سب سے پہلے لغت کے مسائل پر توجہ دی ہے، پھر خلاصۂ تفسیر کے تحت مختصراً قرآن کی تفسیر بیان کر دی ہے۔[1]

معارف القرآن کی چند خصوصیات[ترمیم]

مصنف موصوف کے پیش نظر یہ تھا کہ عوام جو علمی اصلاحات سے واقف اور دقیق مضامین کے متحمل نہیں ہیں وہ بھی قرآن کریم کو اپنے حوصلے کے مطابق سمجھ سکیں، اس لیے تفسیر کو لکھتے ہوئے اس کی پوری رعایت کی گئی ہے کہ فنی اصطلاحات، دقیق بحثیں اور غیر معروف ومشکل الفاظ سے گریز کیا جائے، تفسیر میں سلف صالحین کی تفسیروں پر اعتماد کیا گیا ہے اور بے سندباتوں سے احتراز کیا گیا ہے؛ چنانچہ جگہ بہ جگہ صحابہ وتابعین کے تفسیری اقوال اور متقدمین کی تفسیری کتب سے استفادہ کرکے ان کا حوالہ بھی دیا گیا ہے۔ لطائف ومعارف کے ضمن میں متاخرین میں سے مستند مفسرین کے مضامین بھی لیے گئے ہیں، خصوصاً ایسے مضامین جو اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ کی عظمت ومحبت کو بڑھاتے ہوں اور ان کی وجہ سے اعمال صالحہ انجام دینے کی تحریک ہوتی ہو، متن قرآن کے ترجمہ میں حکیم الامت اشرف علی تھانوی اور شیخ الہند کے ترجموں پر اعتماد کیا گیا ہے، ترجمہ کے بعد مکمل تفسیر وتشریح سے پہلے خلاصہ تفسیر لکھ دیا گیا ہے جو اشرف علی تھانویؒ کی تفسیر بیان القرآن سے ماخوذ ہے، اسے آیات پر مختصر نوٹ کہا جاسکتا ہے کہ اگر کوئی مشغول آدمی اتنا ہی دیکھ لے تو فہم قرآن کے لیے ایک حد تک کافی ہو جائے، آخر میں آیات مندرجہ سے متعلق احکام ومسائل لکھے گئے ہیں، اس میں اس کا التزام کیا گیا ہے کہ صرف وہ احکام ومسائل لیے جائیں جو کسی نہ کسی طرح الفاظ قرآن کے تحت آتے ہوں، احکام ومسائل کا بڑا حصہ تفسیر قرطبی، احکام القرآن للجصاص، احکام القرآن لابن العربی، تفسیرات احمدیہ، تفسیرمحیط، روح المعانی، روح البیان اور بیان القرآن وغیرہ سے لیا گیا ہے، جن کے حوالہ جات بھی مذکور ہیں، تاہم نئے عہد کے بعض نئے مسائل کا بھی ذکر ہے، قرآن وحدیث اور مجتہدین کرام کے اُصول کو پیش نظر رکھا گیا ہے اور جس طرح مسائل واحکام میں متقدمین نے اپنے اپنے عہد کے فرقوں اور اس زمانہ کے مسائل کو اہمیت دی ہے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Barr-e-Sagheer Mein Mutal'a Quran - Javed Ahmad Ghamidi
  2. معارف القرآن جلد اول مفتی محمد شفیع مکتبہ معارف القرآن کراچی