مندرجات کا رخ کریں

معاون بحری جہاز

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
جرمن بحریہ کا آئل ٹینکر

معاون بحری جہاز (Auxiliary ship) کسی بھی ملک کی بحریہ کا وہ خاموش دستہ ہوتے ہیں جو براہِ راست جنگ میں حصہ لینے کی بجائے لڑاکا بحری بیڑے کو لاجسٹک، تکنیکی اور طبی مدد فراہم کرتے ہیں۔[1] ان جہازوں کے بغیر کوئی بھی جدید بحریہ سمندر میں زیادہ دیر تک آپریشن جاری نہیں رکھ سکتی، کیونکہ جنگی جہازوں (جیسے ڈِسٹرائرز یا فریگیٹس) میں ایندھن اور رسد ذخیرہ کرنے کی گنجائش محدود ہوتی ہے۔[2][3]

ان جہازوں کی کئی اقسام ہیں جن میں آئل ٹینکر (تیل فراہم کرنے والے جہاز)، ٹرانسپورٹ بحری جہاز، بحری ہسپتال اور مرمتی جہاز شامل ہیں۔ ان کا بنیادی کام سمندر کے بیچوں بیچ متحرک رہتے ہوئے جنگی جہازوں کو ایندھن، گولہ بارود، خوراک اور تازہ پانی فراہم کرنا ہے تاکہ انھیں بار بار بندرگاہ پر واپس نہ آنا پڑے۔ اس عمل کو 'انڈر وے ریپلینشمنٹ' (Underway Replenishment) کہا جاتا ہے، جس میں دو جہاز ایک ساتھ چلتے ہوئے پائپوں اور تاروں کے ذریعے سامان منتقل کرتے ہیں۔

معاون جہاز عام طور پر سائز میں بڑے ہوتے ہیں لیکن ان کی رفتار جنگی جہازوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہے۔ ان پر دفاع کے لیے بہت کم یا صرف ہلکے ہتھیار نصب ہوتے ہیں، اسی لیے جنگی حالات میں ان کی حفاظت کے لیے لڑاکا جہازوں کا ساتھ ہونا ضروری ہوتا ہے۔ پاکستان نیوی میں پی این ایس معاون اور پی این ایس نصر جیسے جہاز اسی زمرے میں آتے ہیں جو سمندری حدود کی حفاظت کے دوران بیڑے کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

جدید دور میں یہ جہاز قدرتی آفات کے دوران انسانی ہمدردی کی بنیاد پر امداد پہنچانے (انسانی امداد) کے لیے بھی استعمال کیے جاتے ہیں۔ ان میں ہیلی کاپٹر لینڈنگ پیڈز اور جدید آپریشن تھیٹرز کی سہولت بھی موجود ہوتی ہے، جس کی بدولت یہ سمندر میں ایک تیرتے ہوئے اڈے کے طور پر کام کرتے ہیں۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. Cutler and Cutler, p.16
  2. Ship Abbreviations and Symbolsnavy.mil
  3. Morris, p.192