معاہدہ بارل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

| معاہدہ بارل 20 ستمبر 1956 پاکستان اور آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کے ساتھ آزاد کشمیر کے سدوزئی عرف (سدھن) قبائل کی صلح ترک بغاوت سے ہوا اسے سدھن معاہدہ بارل کہتے ہیں

         == پس منظر ==

| یکم جنوری 1949 معاہدہ جنگ بندی کے بعد پاکستان اور صدر آزاد کشمیر سردار محمد ابراہیم خان کے درمیان اختلافات شروع ہوئے سردار ابراھیم نے معاہدہ جنگ بندی سے انکار کر دیا تھا سردار صاحب چاہتے تھے کشمیر کی آزادی تک جنگ بندی نہ ہو مگر پاکستان حکمران صدر آزاد کشمیر کی کسی بات پر کوئی توجہ دیے بغیر بھارت سے معاہدہ جنگ بندی کر لیا اس کے بعد معاہدہ کراچی صدر آزاد کشمیر کی مرضی کے خلاف نے سردار ابراھیم اور حکومت پاکستان کے درمیان مزید اختلافات پیدا کر دیے جس کے باعث حکومت پاکستان نے سردار ابراھیم کو 21 مئی 1950 کو صدارت آزاد کشمیر سے معطل کر دیا

| سردار محمد ابراہیم خان کا رد عمل

سردار ابراھیم نے پاکستانی حکومت کے اس غیر جمہوری اقدام پر آزاد کشمیر میں جمہوریت کی تحریک شروع کر دی جو بل آخر مسلح بغاوت میں تبدیل ہو گئی جس کے بعد آزاد کشمیر حکومت مفلوج ہو کر راہ گئی سردار ابراھیم کے قبیلے کے لوگوں نے آزاد کشمیر سے تمام پولیس چوکیاں ختم کر دی جس کے بعد سردار ابراھیم خان نے ملوٹ آزاد کشمیر کے مقام پر اپنی حکومت کا اعلان کر دیا

| پی سی پاک سرچ آپریشن

آزاد کشمیر میں سدوزئیوں کی اس بغاوت پر حکومت پاکستان کو فوجی آپریشن کرنا پڑا جو پاک فوج کی تاریخ کا سب سے پہلا آپریشن تھا اس آپریشن کا نام پی سی پاک سرچ آپریشن رکھا کر بریگیڈئیر رضا خان کو ایک بریگیڈ فوج دے کر پی سی پاک سرچ آپریشن شروع کیا

| پی سی پاک سرچ آپریشن کا جانی نقصان

پی سی پاک سرچ آپریشن میں 600 سو سدوزئی مارے گئے 2000 زخمی اور 3000 ہزار گرفتار ہوئے، پاک فوج کے 400 سو فوجی شہید 1000 ہزار سے زیادہ زخمی اور 220 اغواء ہوئے جن میں جنرل اے ایم جی عثمانی بھی شامل تھے جنرل عثمانی یکم جنوری 1972 بنگلہ دیش کے پہلے چیف آف آرمی سٹاف بھی بنے جنہیں بعد باغی قیدیوں کے بدلے چھوڑ دیا گیا تھا

| سردار ابراھیم سے مذاکرات

سردار ابراھیم اور حکومت پاکستان کے درمیان 4 اپریل 1952 کو مذاکرات ہوئے جس کے بعد 10 سدوزئی گرپوں نے ہتھیار ڈال کر حکومت پاکستان سے صلح صفائی کر لی مگر سدھنوتی بارل کے پانچ سدوزئی گروپ جن کی کمان غازی شیر دل خان کر رہے تھے انھوں نے 1950 سے 20 ستمبر 1956 تک نہ ہھتیار ڈالے نہ ہی کسی صلح پر آمادہ ہوئے

| معاہدہ بارل 20 ستمبر 1956

سدھنوتی وادی بارل کے سدوزئی عرف سدھن قبائل کے آخری باغی رہنما غازی شیر دل خان کے بمعہ 2000 سدوزئی باغیوں کا حکومت پاکستان اور آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر کے ساتھ اس وقت کے صدر آزاد کشمیر سردار محمد عبدالقیوم خان اور وزیر امور کشمیر پاکستان مشتاق احمد گورمانی و دیگر حکومتی اکابرین کے درمیان 20 ستمبر 1956 بمقام وادی بارل ہوا جس کے بعد باغیوں نے ہتھیار ڈال دیے معاہدہ بارل میں طہ پایا | 1 سدوزئی اپنی پرانی تمام رنجیشوں کو جو جانے انجانے میں ہوئی انھیں بھولا کر اپنے مادرے وطن کے وفادار اور مددگار رہے گے | 2 حکومت پاکستان جن کے گھروں پر بمباری ہوئی انھیں مالی معاونت دے گی یہ معاہدہ صدر آزاد کشمیر سردار محمد عبدالقیوم خان صاحب کی ذاتی کوشش و لگن سے ممکن پایا وادی بارل کے سدوزئیوں اور صدر آزاد کشمیر سردار عبدالقیوم کے درمیان کافی کرابت و دوستانہ تعلقات جہاد کشمیر 1947 کے زمانے کے تھے جس کا ذکر انھوں نے اپنی کتاب مقدمہ کشمیر میں بھی لکھا ہے حالانکہ حکومت پاکستان و آزاد کشمیر حکومت کی جانب سے پی سی پاک سرچ آپریشن پر کوئی کتاب لکھنے یا کسی اخبارات میں کوئی مضمون یا کسی ٹی وی چینل پروگرام میں متعلقہ عنوانات سے پروگرام کرنے پر سخت ترین پابندی عائد ہے


            حوالہ جات

CausesEdit[ترمیم]

Edit

Snedden, Christopher (2013). Kashmir: The Unwritten History. India: Harper Collins Publishers. ISBN 978-9350298978.

Snedden, Christopher. Kashmir - The Untold Story. HarperCollins India. pp. 120, 121, 122. ISBN 9789350298985.

Marxism, In Defence of. "Kashmir's Ordeal - Chapter Six". Retrieved 2016-09-25.

Behera, Navnita Chadha (2007). Demystifying Kashmir. Brookings Institution Press. ISBN 978-0815708605.

https://ur.m.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_1950%D8%A1#%D8%AC%D9%88%D9%86

https://ur.m.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_1952%D8%A1

https://ur.m.wikipedia.org/wiki/%D9%BE%D8%A7%DA%A9%D8%B3%D8%AA%D8%A7%D9%86_%D9%85%DB%8C%DA%BA_1956%D8%A1