معاہدہ لوزان

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
معاہدہ لوزان
لوزان کے مقام پر ترکی سے ہونے والا امن معاہدہ
Accord relatif à la restitution réciproque des internés civils et à l'échange des prisonniers de guerre, signé à Lausanne
{{{image_alt}}}
معاہدہ لوزان کے مطابق ترکی کی سرحدیں
دستخط 24 جولائی 1923ء
مقام لوزان، سویٹزر لینڈ
موثر 6 اگست 1924ء
شرط Following ratification by ترکی and any three of the سلطنت برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جاپان، the treaty would come into force for those "high contracting parties" and thereafter for each additional signatory upon deposit of ratification
دستخط کنندگان
فریق
تحویل دار فرانسیسی جمہوریہ
زبان فرانسیسی
معاہدہ لوزان at Wikisource

معاہدہ لوزان 24 جولائی 1923ء کو سوئٹزرلینڈ کے شہر لوزان میں جنگ عظیم اول کے اتحادیوں اور ترکی کے درمیان طے پایا۔ معاہدے کے تحت یونان، بلغاریہ اور ترکی کی سرحدیں متعین کی گئیں اور قبرص، عراق اور شام پر ترکی کا دعویٰ ختم کرکے آخر الذکر دونوں ممالک کی سرحدوں کا تعین کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت جمہوریہ ترکی کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا۔

معاہدے کی وجوہات[ترمیم]

مصطفیٰ کمال پاشا (بعد ازاں اتاترک) کی زیر قیادت ترک افواج کی جانب سے یونانی افواج کو اناطولیہ سے نکال باہر کرنے کے بعد نئی ترک جمہوریہ نے معاہدہ سیورے کو مسترد کردیا۔ 20 اکتوبر 1922ء کو امن کانفرنس کا دوبارہ آغاز ہوا اور طویل بحث و مباحثے کے بعد کانفرنس ایک مرتبہ پھر 4 فروری 1923ء کو ترکی کی مخالفت کے باعث متاثر ہوئی۔ 23 اپریل کو دوبارہ آغاز اور مصطفیٰ کمال کی حکومت کے شدید احتجاج کے بعد 24 جولائی کو 8 ماہ کے طویل مذاکرات کے نتیجے میں معاہدے پر دستخط ہوئے۔

معاہدے کی شرائط[ترمیم]

اس معاہدے کی رو سے خلافت عثمانیہ ختم کردی گئی تھی اور ترکی نے تینوں براعظموں میں موجود خلافت کے اثاثوں اور املاک سے بھی دستبرداری اختیار کر لی تھی ’’معاہدہ لوزان‘‘ 100سال پر محیط تھا جو دراصل ترک عوام اور مسلمانوں کے خلاف مغرب کا ایک ایسا پھندا تھا جس نے ترکی کو ہاتھوں پائوں باندھ کر چاروں شانے چت کر دیا۔2023میں یہ معاہدہ اپنی مدت پوری کر کے غیر مؤثر ہو جائے گا معاہدہ لوزان جنگ عظیم اول کی فاتح قوتوں کے درمیان طے پایا تھا ۔اس وقت صورت حال یہ تھی کہ فاتح قوتیں ترکی کے بڑے حصوں پر قابض ہو چکی تھیں۔ ان قوتوں میں سے برطانیہ نے وہ خطرناک اور ظالمانہ شرائط معاہدہ لوزان میں شامل کروائی تھیں جن کی رو سے ترکی کے ہاتھ پائوں باندھ دئیے گئےتھےاور ترکی اگلے سو برس تک اس معاہدہ پر عملدرآمد کا پابند قرار پایا تھا

  1. معاہدہ لوزان کی رو سے خلافت عثمانیہ ختم اور سلطان کو ان کے خاندان سمیت ترکی سے جلاوطن کردیا گیا تھا
  2. خلافت کی تمام مملوکات ضبط کرلی گئی تھیں جن میں سلطان کی ذاتی املاک بھی شامل تھیں
  3. ترکی کو ایک سیکولر سٹیٹ قرار دیتے ہوئے دین اسلام اورخلافت سے اس کے تعلق پر قدغن لگا دی گئی اوراسکا باقاعدہ اعلان کر دیا گیا
  4. ترکی پٹرول کے لئے نہ اپنی سرزمین پر اور نہ ہی کہیں اور ڈرلنگ کرسکے گا اور اپنی ضرورت کا سارا پٹرو ل امپورٹ کرنے کا پابند ہو گا
  5. باسفورس عالمی سمندر شمار ہوگا اور ترکی یہاں سے گذرنے والے کسی بحری جہاز سے کسی قسم کا کوئی ٹیکس وصول نہیں کر سکے گا (واضح رہے کہ باسفورس کی سمندری کھاڑی بحر اسود، بحر مرمرہ اور بحر متوسط کا لنک ہے اوراس کی اہمیت کا اندازا اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ عالمی تجارت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے والی نہر سویز کے ہم پلہ قرار دی جاتی ہے)

مذاکرات اور نتائج[ترمیم]

ترکی کی جانب سے عصمت انونو مذاکرات کاروں کے سربراہ تھے اور الفتھیریوس وینزیلوس ان کے یونانی ہم منصب تھے۔ معاہدے کے تحت ترک جمہوریہ کی آزادی تسلیم کی گئی لیکن ترکی میں یونانی اقلیت اور یونان میں ترک مسلم اقلیت کو حقوق عطا کرنے کا بھی مطالبہ کیا گیا۔ ترکی میں آباد دو لاکھ 70ہزار یونانی اور یونان کے علاقے مغربی تھریس کے 86 ہزار مسلمان معاہدے کے بعد مذکورہ ممالک کو ہجرت کرگئے۔ معاہدے کی شق 14 کے تحت امبروس اور تیندوس کے جزائر کو خصوصی انتظامی اختیارات دیئے گئے جس حق کو 17 فروری 1926ء کو ترک حکومت نے ختم کردیا۔ جمہوریہ ترکی نے سلطنت عثمانیہ کے جانشیں کی حیثیت سے قبرص کو سلطنت برطانیہ کے دامن میں ڈالتے ہوئے انگریزی قبضہ تسلیم کیا۔ صوبہ موصل کی قسمت کا فیصلہ جمعیت الاقوام (لیگ آف نیشنز) کی صوابدید پر چھوڑ دیا گیا۔

آرمینیائی انقلابی فیڈریشن اور آرمینیا کی کئی سیاسی جماعتوں نے اس معاہدے کو تسلیم نہیں کیا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]

معاہدے کا متن