معاہدہ کارلوفچہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
امن معاہدۂ کارلوفچہ
Treaty of Karlowitz.jpg
معاہدہ کی سرکاری دستاویز
سیاق و سباق1683–1697 کی ترکی کی جنگ عظیم
مسودہ16 نومبر 1698
دستخط26 جنوری 1699ء (1699ء-01-26)
مقامکارلوفچہ کا فوجی محاذ, سلطنت ہیبسبرگ (موجودہ سرمسکی کارلووجی , سربیا)
دستخط کنندگان
فریق
زبانیں

معاہدۂ کارلوفچہ یا معاہدۂ کارلوفجہ پر 26 جنوری 1699 کو سیرمسکی کارلوسی میں (اب جدید سربیا) میں ہوا، جس کے نتیجے میں 1683–1697 کی عظیم ترکی جنگ کا خاتمہ ہوا جس میں سلطنت عثمانیہ کو مقدس لیگ کے ذریعہ زینٹا کی جنگ میں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ [1] اس نے وسطی یورپ کے بیشتر حصوں میں عثمانی کنٹرول کے خاتمے کی نشان دہی کی ہے ، صدیوں کی توسیع کے بعد ان کا پہلا بڑا علاقائی نقصان ہوا اور اس نے ہیبسبرگ بادشاہت کو اس خطے میں غالب اقتدار کے طور پر قائم کیا۔

سیاق و سباق[ترمیم]

سلطنت عثمانیہ اور 1684 کی ہولی لیگ ، جس میں رومی سلطنت ، پولش – لتھوانیائی دولت مشترکہ ، جمہوریہ وینس اور پطرس اعظم (زار روس ) شامل تھے [2] ، کے مابین دو ماہ کی گفت و شنیدکے بعد 26 جنوری 1699 کو ایک معاہدے پر دستخط ہوئے۔

جو جس کے قبضے میں ہے(uti possidetis) کی بنیاد پر ، اس معاہدے کے تحت جس طاقت نے جتنا علاقہ ہتھیایا تھا اس پر اس کے قبضے کو قانونی حیثیت دے دی گئی۔ ہیبسبرگ کو عثمانیوں سے ایالتِ اگیر، ایالتِ وارد، بیشتر بودین ایالت، ایالتِ تمشوار کے شمالی حصے اور بوسنیا ایالت کے کچھ حصے، جو ہنگری ، کروشیا اور سلاوونیا کے بیشتر علاقوں پر مشتمل تھے، ملے۔ پرنسپلوریٹی آف ٹرانسلوینیہ برائے نام آزاد رہا لیکن آسٹریا کے گورنروں کی براہ راست حکمرانی سے مشروط تھا۔ پولستان نے پوڈولیا کو بازیافت کیا ، جس میں کامانچہ کا تباہ شدہ قلعہ بھی شامل تھا۔

وینس نے موریہ (جنوبی یونان کا پیلوپنی جزیرہ نما) اور بیشتر ڈلمٹیا حاصل کیا ، البتہ موریہ کو معاہدہ پاسوروٹوز کے ذریعہ 20 سال کے اندر اندر ترکوں نے دوبارہ حاصل کر لیا۔ کلیسائے مقدس کے بارے میں کوئی معاہدہ نہیں ہوا تھا ، حالانکہ اس پر کارلوفچہ میں تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔ [3]

عثمانیوں نے بلغراد ، بنیات آف تیمیسور (جدید تیمشیوارا ) کے ساتھ ساتھ ولاچیا اور مالدووا پر اقتدار برقرار رکھا۔ روسی زار شاہی کے ساتھ اگلے سال 1700 کے معاہدۂ قسطنطنیہ کے تحت سلطان نے ازوف کا علاقہ پطرس اعظم کے حوالے کر دیا ۔ ( روسی زار شاہی کو پرتھ دریا کی ناکام مہم اور پرتھ معاہدے کے نتیجے میں گیارہ سال بعد یہاں سے واپس جانا پڑا۔)

آسٹریا اور عثمانی سلطنت کے مابین نئی سرحدوں کو وضع کرنے کے لیے کمیشن تشکیل دیے گئے تھے ، جس کے کچھ حصے 1703 تک متنازع رہے تھے۔ ہیبسبرگ کے کمشنر لوگی فرڈینینڈو مارسیلی کی کوششوں کےنتیجے میں کروشیا اور بیخاچ کی سرحدوں پر 1700 کے وسط تک اتفاق ہوا اور ٹیمیسور میں سن 1701 کے اوائل تک ، پہلی بار طبعی خدوخال کے مطابق ایک سرحد کی نشان دہی کی گئی۔

”معاہدۂ کارلوفچہ سے قبل عثمانی سفارت کاری۔۔۔۔۔۔ باہمی تعاون کی بجائے یکطرفہ رہی(یورپ میں کوئی سفیر نہیں بھیجا گیا تھا)۔۔۔۔۔وہ صرف اپنے آپ کو قانون مانتے تھے ”زمین پر واحد قوم“۔معاہدےکے بعد ”بابِ عالی کو مجبور کیا گیا کہ وہ طاقتور حیثیت کی بجائے کمزور فریق کے طور پر گفت و شنید کرے۔“[4]

نقشے اور تصاویر[ترمیم]

A map of the northern Balkans in the late 1560s, showing subdivisions of Ottoman territory
1568–1571 کی سیاسی صورتحال, معاہدے سے پہلے.تمام دکھایا گیا علاقہ سلطنت عثمانیہ کی ایالتوں یا اس کی باجگزار ریاستوں کا ہے. 
A second map, showing a larger area of the northern Balkans in 1683, before the treaty. The northwestern portion is shown as belonging to the Habsburgs, the bulk of the Balkans under the Ottomans, with the far northeastern area being Polish.
1683 میں وسطی یورپ, معاہدے سے پہلے:
      سلطنت ہیبسبرگ
    سلطنت عثمانیہ 
Another map of the northern Balkans, now in 1699 after the treaty. The same area is now mainly possessed by the Habsburg Empire.
1699 میں سیاسی صورتحال , معاہدے کے بعد :
      سلطنت ہیبسبرگ
      سلطنت عثمانیہ 
1686 میں پولش-لیتھوانی دولت مشترکہ , معاہدے سے پہلے 
1699 میں معاہدے کے بعد پولش-لیتھوانی دولت مشترکہ ۔ عثمانیوں کا کھویا ہوا علاقہ نقشے کے نیچے دکھایا گیا ہے۔ 
(کلیسائے امن), جہاں پر معاہدہ کارلوفچہ پر بحث کی گئی۔ 

 

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Nolan 2008.
  2. Robert Bideleux, Ian Jeffries, A History of Eastern Europe: Crisis and Change, Routledge, New York, 1998, p. 86. آئی ایس بی این 0-415-16111-8
  3. János Nepomuk Jozsef Mailáth (gróf) (1848). Geschichte der europäischen Staaten (Geschichte des östreichischen Kaiserstaates, Band 4) [History of the European States (History of the Austrian Empire, volume 4)]. Hamburg: F. Perthes. صفحات 262–63. 
  4. Lord Kinross Ottoman centuries

اہم نکات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]