معاہدۂ کوتاہیہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سلطنت عثمانیہ اور والئ مصر محمد علی پاشا کے درمیان طے پانے والا ایک معاہدہ، جو برطانیہ اور فرانس کی کوششوں سے 1833ء میں کوتاہیہ کے مقام پر طے پایا۔ اس معاہدے کی رو سے مصر و کریٹ کے علاوہ بیت المقدس، طرابلس، حلب، دمشق اور اطنہ کی حکومتیں محمد علی کو دے دی گئیں۔ یہ تمام علاقے سلطان سلیم اول کے عہد میں عثمانی سلطنت میں شامل ہوئے تھے۔

پس منظر[ترمیم]

محمد علی ایک انتہائی باصلاحیت شخص تھا جو اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ایک معمولی زمیندار سے مصر کی ولایت کے عہدے تک پہنچا۔ اس نے مصر میں مملوکوں کے اثرات کا خاتمہ کر کے جو کارنامہ انجام دیا اس سے سلطان بہت زیادہ متاثر ہوا اور محمد علی کی انہی قابلیتوں کو یونان میں اٹھنے والی بغاوت کے خاتمے کے لیے استعمال کیا۔ سلطان نے یونانی بغاوت کے خاتمے کی ذمہ داری سونپنے کے ساتھ وعدہ کیا کہ وہ محمد علی کی خواہش کے مطابق اسے شام، دمشق، طرابلس اور کریٹ کے علاقوں کی گورنری دے گا۔ محمد علی نے یونان میں بغاوت کا خاتمہ تو کر دیا لیکن جنگ یونان کا نتیجہ سلطنت عثمانیہ کے حق میں نہ رہا جس پر محمد علی نے وعدے کے برخلاف صرف کریٹ کا علاقہ محمد علی کو دینا منظور کیا جس نے محمد علی کو سلطان کی وعدہ خلافی کا احساس دلایا تاہم وہ مصلحتاً خاموش رہا لیکن اس کی ناگواری بغاوت کا اعلان تھی۔ 1831ء میں اس نے پیش آنے والے ایک واقعے نے اس کی راہ ہموار کر دی اور اس کے بیٹے ابراہیم پاشا کی زیر قیادت مصری افواج نے پورے دمشق پر قبضہ کر لیا۔ شام کی فتوحات سے مصریوں کا حوصلہ بلند ہوا اور وہ پے در پے فتوحات حاصل کرتی ہوئیں وسط اناطولیہ تک کا علاقہ فتح کرتی چلی گئیں اور ان فتوحات سے قسطنطنیہ بھی خطرے میں پڑ گیا۔

معاہدہ[ترمیم]

اس صورت حال میں عثمانی سلطان محمود ثانی نے برطانیہ سے مدد طلب کی لیکن اس نے انکار کر دیا۔ روس جو پہلے ہی اس موقع کا منتظر تھا، نے مدد کی پیشکش کی کیونکہ قسطنطنیہ پر قبضے کے پرانے خواب کی تعبیر کے لیے قسطنطنیہ کا آل محمد علی کی بجائے آل عثمان جیسے کمزور خاندان کے ہاتھ میں ہونا ضروری تھا۔ دوسری جانب روس اور سلطنت عثمانیہ کے درمیان طے پانے والے معاہدوں سے روس کو ملنے والے فوائد بھی خطرے میں پڑ گئے تھے۔ ابتدا میں تو سلطان نے روسی پیشکش قبول نہ کی لیکن بعد ازآں بادل نخواستہ اسے قبول کر لیا۔ جب روسی بحری بیڑا اور فوج قسطنطنیہ پہنچی تو برطانیہ اور فرانس کو بھی تشویش لاحق ہو گئی اور انہوں نے محمود ثانی اور محمد علی پر صلح کے لیے دباؤ ڈالا۔ برطانیہ اور فرانس کی کوششوں نے 1833ء میں سلطان اور محمد علی کے درمیان کوتاہیہ کے مقام پر ایک معاہدہ ہوا جس کی رو سے مصر و کریٹ کے علاوہ بیت المقدس، طرابلس، حلب، دمشق اور اطنہ کی حکومتیں محمد علی کو دے دی گئیں۔ سلطان محمود کو روسی فوجوں کو قسطنطنیہ سے ہٹانے کے لیے اسے روس کے ساتھ بھی معاہدہ کرنا پڑا لہٰذا 1833ء میں ہی سلطنت عثمانیہ اور روس کے درمیان معاہدہ خونکار اسکیلسی طے پایا جس کے مطابق روس کو درہ دانیال اور باسفورس سے گذرنے کی مخصوص رعایت حاصل ہو گئی اور درہ دانیال کو دوسرے ملکوں کے جنگی جہازوں کے لیے بند کر دیا گیا۔