معرکہ تروپورمبیام

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
معرکہ تروپورمبیام
تاریخ879
مقامتروپورمبیام
نتیجہ
  • پلو اور ان کے اتحادیوں کی فتح
  • پانڈئے کی شکست
محارب
Pallavas, مغربی گنگ خاندان, Medieval Cholas پانڈیہ شاہی سلسلہ
کمانڈر اور رہنما
Aparajita, Prithvipati I, Aditya I, Vijayalaya Chola? Varagunavarman II, Nripatunga
طاقت
نامعلوم نامعلوم
ہلاکتیں اور نقصانات
پرتھوی پتی اول

معرکہ تروپورمبیام (انگریزی: Battle of Thirupurambiyam) سنہ 879ء میں پانڈیہ بادشاہ وارگن ورمان دوم، پَلَّو، مغربی گنگ خاندان اور قرون وسطیٰ کی چول سلطنت کے درمیان موجودہ کمباکونم مقام کے قریب پیش آیا تھا۔ پانڈیہ اور وارگن دوم کو اس معرکہ میں شکست ہوئی اور نتیجتاً تخت اقتدار سے معزول ہوئے۔ اس جنگ کے بعد پانڈیہ اور پلو اقتدار کا سورج غروب اور کال بہرا عہد حکومت سے صدیوں کی تاریک گمنامی کے سحر سے چول سلطنت کا خورشید اقتدار دوبارہ طلوع ہوا۔ لہذا جنوبی ہند کی تاریخ میں اس معرکے کو ایک نقطہ انقلاب بھی سمجھا جاتا ہے۔

اسباب[ترمیم]

نویں صدی عیسوی کے آغاز میں پلو سلطنت جو تین صدیوں سے جنوبی ہند کے بیشتر علاقوں پر حاکم تھی کمزور ہونے لگی۔ پلو حکومت کی اس کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے پانڈیہ بادشاہ ورگن ورمان نے پلو بادشاہ اپرجیت کو اپنا مطیع بنانے کی کوشش شروع کر دی۔ اسی اثنا میں چول بادشاہ وجے لایا اور ان کے فرزند آدتیہ چول اول بھی جو اس وقت پلو سلطنت کے جاگیردار تھے پانڈیہ کی مدد کو پہنچ گئے۔ علاوہ ازیں اپرجیت کو مغربی گنگ خاندان کے بادشاہ پرتھوی پتی اول کی حمایت بھی حاصل ہو گئی۔ واضح رہے کہ وجے لایا چول کی اس جنگ میں شرکت اب تک موضوع بحث ہے کیونکہ یہ کہا جاتا ہے کہ اس معرکہ سے تقریباً نو برس قبل ان کی وفات سنہ 870ء میں ہو چکی تھی۔

واقعات و حوادث[ترمیم]

سنہ 879ء میں تنجاؤر ضلع میں واقع تروپورمبیام یا شری پورم بیام کے مقام پر پلو سلطنت، مغربی گنگ خاندان اور چول کی افواج اکٹھا ہوئیں۔ پرتھوی پتی دوم کے عہد کی تختیوں سے معلوم ہوتا ہے کہ پرتھوی پتی اول گھمسان کی جنگ کے بعد مارے گئے اور ان کی اتحادی افواج لاشوں کا ڈھیر لگانے کے بعد بمشکل تمام فتح حاصل کر سکیں۔

نتیجہ[ترمیم]

اس معرکہ کے نتیجہ میں پانڈئے زوال کا شکار ہوئے اور دو صدیوں تک ابھر نہ سکے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  • Sastri، K. A. Nilakanta (2000) [1935]. The Cōlas. Madras: مدراس یونیورسٹی. صفحہ 110.