معرکہ کورے گاؤں

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
معرکہ کورے گاؤں
بسلسلہ تیسری انگریزی-مرہٹہ جنگ
Bhima Koregaon Victory Pillar.jpg

بھیما کورے گاؤں میں فتح یابی کا ستون
تاریخ1 جنوری 1818ء
مقامکورے گاؤں بھیما (حال مہاراشٹر، بھارت)
18°38′44″N 074°03′33″E / 18.64556°N 74.05917°E / 18.64556; 74.05917متناسقات: 18°38′44″N 074°03′33″E / 18.64556°N 74.05917°E / 18.64556; 74.05917
نتیجہ برطانوی فوج کی فتح اور مراٹھا فوج کی پسپائی
محارب
British East India Company flag.svg برطانوی ایسٹ انڈیا کمپنی Flag of the Maratha Empire.svg مراٹھا سلطنت کے پیشوا
کمانڈر اور رہنما
Captain Francis F. Staunton پیشوا باجی راؤ دوم
باپو گوکھلے
اپا دیسائی
Trimbakji Dengle
شریک یونٹیں
2nd Battalion of the 1st Regiment of Bombay Native Infantry
Madras Artillery
عرب، Gosains اور مراٹھا
طاقت
834, including around 500 infantry, around 300 cavalry and 24 artillery
2 6-pounder cannons
28000, including 20,000 cavalry and 8000 infantry
(around 2,000 participated in the battle supported by 2 cannons)
ہلاکتیں اور نقصانات
275 افراد قتل، زخمی یا لاپتہ 500–600 افراد قتل یا زخمی (برطانوی تخمینہ)
[1]
کورے گاؤں بھیما is located in بھارت
کورے گاؤں بھیما
کورے گاؤں بھیما
بھارت میں کورے گاؤں کا محل وقوع

معرکہ کورے گاؤں یکم جنوری 1818ء کو پونہ میں واقع کورے گاؤں بھیما میں بھیما ندی کے پاس جنوب مشرقی پونے میں انگریزوں اور پیشوا کے درمیان میں پیش آیا۔ انگریزوں کے 500 سپاہی جس میں 450 مہار (اچھوت) تھے اور پیشوا باجی راؤ دوم کے 28000 فوجی تھے۔ محض 500 مہار فوجیوں نے پیشوا کی طاقتور فوج کو شکست دی۔ فوجیوں کو ان کی بہادری اور جرات پر اعزاز دیا گیا۔

برطانوی ریزیڈینٹ کی سرکاری رپورٹ میں فوجیوں کے نظم و ضبط اور ان کی ہمت و ثابت قدمی کی تعریف کی گئی۔ یہ جنگ انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے۔ پہلے انگریزوں کی ایک چھوٹی سی ٹکڑی نے پیشوا کو شکست دی جس نے پیشوا سلطنت کا خاتمہ کرنے میں مدد کی۔ دوسرے اچھوت مہاروں کو اپنی بہادری دکھانے اور ذات پات کی پابندی کو توڑنے کا موقع ملا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. نقص حوالہ: ٹیگ <ref>‎ درست نہیں ہے؛ Gazetteer1885 نامی حوالہ کے لیے کوئی مواد درج نہیں کیا گیا۔ (مزید معلومات کے لیے معاونت صفحہ دیکھیے)۔
  2. http://www.epw.in/special-articles/contesting-power-contesting-memories.html