معین احسن جذبی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

معین احسن جذبی اترپردیش کے اعظم گڑھ ضلع میں مبارکپور میں1912 میں پیدا ہوئے۔ مالی بدحالی اور سوتیلی ماں کی بدسلوکی کی وجہ سے وہ بچپن سے اداس رہا کرتے تھے۔ اپنی نجی زندگی سے نظر ہٹاکر انہوں نے اردو شاعری کے لیے اس کے مشہور شخصیتوں کے کام کا مطالعہ کیا۔ انہوں نے ابتدائی عمر سے ان کے اپنے شاعری لکھنے شروع کر دیا۔ 17 سال کی عمر میں انہوں نے ایک دل کو چھو جانے والی نظم لکھی تھی جس کا عنوان تھا "فطرت ایک مفلس کی کی نظر میں" ۔

تعلیم[ترمیم]

انہوں نے 1929 ء میں ان کے ہائی اسکول کی پڑھائی پوری کی تھی۔ پھر انٹرمیڈیٹ سینٹ جان کالج، آگرہ سے کیا تھا۔ یہیں ان کی وہ ملاقات مجاز سے ہوئ تھی جو آسمان کی بلندیوں کو چھونے جا ریاتھا اور بن گیا مگر وائے رے حیات! اس کی داستان کی اختصارپزیری کی زودنویسی میں لگی ہوئ تھی۔ پھر جذبی نے دہلی کے اینگلو عربی کالج شمولیت اختیار کر لی اور یہیں سے بی اے مکمل کیا۔ 1941 میں انہوں نے علی گڑھ کا رخ کیا اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے ایم اے کیا .

ملازمت کا آغاز[ترمیم]

1945 میں جذبی کا علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے اردو ڈپارٹمنٹ میں لیکچرر کے طور پر مقرر ہوئے تھے۔ تدریسی پیشے کے لوازم کے تحت انہوں سے پی ایچ ڈی حاصل کی۔ 1956 میں مولانا حالی کی زندگی کے اوپر تحقیقی مقالہ لکھا تھا۔ ملازمت کے استحکام کے ساتھ ہی ان کی زندگی میں شاعری کے لیے بھی خاصا وقت نکلنے لگا۔

ذاتی زندگی کے مکارم اخلاق[ترمیم]

ذاتی زندگی میں یہ ان کی عالی ظرفی ہی کا نتیجہ ہے کہ انہوں نے اپنی سوتیلی ماں کی اچھی دیکھ بھال کی تھی جس کا خود کا رویہ ان کے لیے اچھا نہیں تھا۔

ترقی پسند مصنفین کے زمرہ سے وابستگی[ترمیم]

جذبی نے اردو ترقی پسند مصنفین تحریک کے ساتھ خود کو منسلک کیا گیا تھا۔ ان کی شاعری "فروزاں"، "سخن مختصر" اور "گداز شب" کے عنوانات کے تحت چھپتی تھی۔ جذبی کی کلّیات کو ساہتیہ اکادمی کی جانب سے بعد از مرگ شائع کیا گیا تھا۔

وفات[ترمیم]

فروری 2005 میں جذبی کا انتقال ہو گیا۔[1]

حوالہ جات[ترمیم]