معین الدین عقیل

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
معین الدین عقیل
معین الدین عقیل

معلومات شخصیت
پیدائش 25 جون 1946 (73 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ادگیر، ریاست حیدرآباد، برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
رہائش گلستان جوہر
کراچی  ویکی ڈیٹا پر رہائش (P551) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ کراچی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تعلیمی اسناد پی ایچ ڈی، ڈاکٹر آف لیٹرز  ویکی ڈیٹا پر تعلیمی اسناد (P512) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ڈاکٹری مشیر ابواللیث صدیقی  ویکی ڈیٹا پر ڈاکٹورل مشیر (P184) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ادبی تنقید نگار، استاد جامعہ، محقق، ماہرِ لسانیات  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو، انگریزی، جاپانی، فارسی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل اردو ادب، ادبی تنقید، تحقیق، تحریک پاکستان، جنگ آزادی ہند 1857ء، تاریخ ادب، مابعد نوآبادیاتی ادب، جنوبی ایشیاء میں مسلم قوم پرستی، لسانيات  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ملازمت بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی، جامعہ کراچی، ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز، کیوٹو یونیورسٹی، اوساکا یونیورسٹی، دائتو بنکا یونیورسٹی، اورینٹل یونیورسٹی نیپلز  ویکی ڈیٹا پر نوکری (P108) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
JPN Kyokujitsu-sho blank BAR.svg آرڈر آف دی رائزنگ سن  ویکی ڈیٹا پر وصول کردہ اعزازات (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

ڈاکٹر معین الدین عقیل (پیدائش: 25 جون، 1946ء) پاکستان کے پاکستان سے تعلق رکھنے والے اردو زبان کے نامور نقاد، محقق اور اردو کے پروفیسر ہیں۔انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ اردو کی تدریس میں گزارا اور اٹلی، جاپان اور پاکستان کی مختلف جامعات میں تدریسی خدمات انجام دیں۔ ان کی تصنیف جنگ آزادی میں اردو کا حصہ کافی شہرت رکھتی ہے۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

معین الدین عقیل کے آبا و اجداد کا تعلق مسلم ترکستان سے تھا، جو بہمنی سلاطین کے زمانے میں ہندوستان آئے۔ بیدر بہمنی سلطنت کا دار الحکومت تھا جس کے نواح لونی اور جنواڑا میں کچھ اراضی اس خاندان کو ملی تھی، جو سقوطِ مملکت حیدرآباد تک اس خاندان کی ملکیت رہی۔ اسی جائداد پر ڈاکٹر عقیل کے دادا سید وزیر الدین مسلم کش فسادت میں شہید ہوئے۔ اس وقت ڈاکٹر عقیل کے والد سید ضمیر الدین ریاست حیدرآباد کی سرکاری ملازمت میں تھے اور قریبی تاریخی شہر ادگیر میں تعینات اور مقیم تھے، اس لیے سید ضمیر الدین کا خاندان محفوظ رہا۔ یہیں 25 جون 1946ء کو ڈاکٹر عقیل کی پیدائش ہوئی۔ ادگیر کے دورانِ قیام پانچ سال کی عمر میں ناظرہ قرآن ختم کیا۔ تقسیم ہند کے بعد مسلم کش فسادات میں جب حالات زیادہ خراب ہو گئے تو اس خاندان نے مارچ 1953ء میں اپنی جائداد چھوڑ کر پاکستان ہجرت کی۔[1]

تعلیم[ترمیم]

ڈاکٹر عقیل نے ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی۔ گورنمنٹ ہائی اسکول لانڈھی نمبر 1 سے 1963ء میں میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ 1965ء میں اردو کالج سے انٹرمیڈیٹ، جامعہ کراچی سے 1968ء میں بی اے اور پھر اسی جامعہ سے 1969ء میں ایم اے (اردو) کی ڈگری فرسٹ کلاس فرسٹ پوزیشن میں حاصل کی، جس بنا پر انہیں انجمن ترقی اردو پاکستان بابائے اردو ایوارڈ ملا۔ انہیں ایم اے کی تعلیم کے دوران ہی تحقیق سے دلچسپی پیدا ہوئی اور باقاعدہ تحقیق کا آغاز کیا، تحریکِ پاکستان کا لسانی پس منظرکے عنوان سے تحقیقی مقالہ ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی کی نگرانی میں لکھا۔ ایم اے کی تکمیل کے بعد ڈاکٹر عقیل کی پہلی کتاب تحریک پاکستان اور مولانا مودودی 1971ء میں شائع ہوئی۔[2] 1975ء میں ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی کی زیرِ نگرانی تحریک آزادی میں اردو کا حصہ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ڈاکٹر معین الدین عقیل کی ایک تالیف اردو کی اولین نسوانی خودنوشت: بیتی کہانی اور دیگر اہم تحقیقات کے اعتراف میں جامعہ کراچی نے 2003ء میں ڈی لٹ (ڈاکٹر آف لیٹرز) کی سند تفویض ہوئی، بیتی کہانی ریاست پٹودی کے نواب اکبر علی خان کی صاحب زادی شہریار بانو کی خودنوشت سوانح عمری ہے جسے مصنفہ نے 1885ء میں قلمبند کیا تھا۔ اس خودنوشت کو اردو کی اولین نسوانی خودنوشت ہونے کا درجہ حاصل ہے۔[3]

ملازمت[ترمیم]

ڈاکٹر معین الدین عقیل نے 1967ء میں کراچی میں امریکی سفارت خانے میں اردو پڑھانے سے تدریس کے پیشے کا آغاز کیا۔ 1970ء میں پاکستان شپ اونر کالج کراچی سے وابستہ ہو گئے۔ 14 سال تک اسی کالج میں لیکچرار رہے۔ 1984ء میں جامعہ کراچی کے وائس چانسلر ڈاکٹر جمیل جالبی اور صدر شعبہ اردو جامعہ کراچی ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی خواہش اور کوششوں سے انہوں وہ جامعہ کراچی سے منسلک ہو گئے، 2001ء میں اسی جامعہ میں شعبہ اردو کے پروفیسر کا مقرر ہوئے۔ 1968ء میں انہیں اورینٹل یونیورسٹی نیپلز، اٹلی سے ملازمت کی پیش کش ہوئی، یوں دو سال تک ڈاکٹر عقیل اس یونیورسٹی کے ایشین اسٹڈیز کے شعبے سے وابستہ رہے۔[4] اس دوران یورپ کی متعدد اہم جامعات کو دیکھ، وہاں کے کتب خانوں سے استفادہ کیا، اسکالرز سے ملے، توسیعی خطبات دیے اور سیمیناروں میں شرکت کی۔ 1993ء میں ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز جاپان سے اردو کی تدریس کی پیش کش ہوئی، جہاں انہوں نے 2000ء تک تدریسی خدمات انجام دیں۔ اسی دوران جاپان کی دائتو بنکا یونیورسٹی سائیتاما سے منسلک ہو گئے۔ جاپان کی ان دونوں یونیورسٹیوں میں پاکستان اسٹڈیز اور جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کی تاریخ و ثقافت کے موضوعات پر پڑھاتے رہے اور اسکالرز کی تحقیقات میں معاونت بھی کرتے رہے۔ انہوں نے ٹوکیو میں جاپانی وزارت خارجہ کے لینگویج اسکول میں بھی پڑھایا۔ 2007ء میں اوساکا یونیورسٹی اور 2008ء میں کیوتو یونیورسٹی میں گریجویٹ اسکول آف ایشین افریقن ایریا اسٹڈیز سے بحیثیت ریسرچ فیلو وابستگی رہی۔ اس طرح تقریباً دس برس تک انہوں نے بیرونِ ممالک یونیورسٹیوں میں تدریسی خدمات انجام دیتے رہے۔ چار سال جامعہ کراچی کے صدر شعبہ اردو رہے، یہیں سے 2006ء میں سبکدوش ہوئے۔ اس کے بعد بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد سے منسلک ہوئے۔یہاں چیئرمین شعبہ اردو اور ڈین فیکلٹی آف لینگویجز اینڈ لٹریچر کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔[5]

انہوں نے نہ صرف اردو کی تعلیم و تدریس اور تحقیق میں نمایاں کارکردگی کا مظاہرہ کیا بلکہ عالمی سطح پر اردو کو روشناس کروانے کے لیے اپنے کتب خانہ کا 80 فیصد یعنی 27 ہزار کتابیں 2012ء میں جاپان کی کیوتو یونی ورسٹی کو ہدیہ کر دیں جو اب وہاں ایک وقیع کتب خانے کے ایک گوشہ میں عقیل کلیکشنکے نام سے موجود ہیں۔[6]

تدریسی و انتظامی تجربہ[ترمیم]

بیرونِ ملک[ترمیم]

  • وزیٹنگ لیکچرر،اورینٹل یونیورسٹی نیپلز، اٹلی (اکتوبر 1986ء - ستمبر 1987ء)
  • وزیٹنگ پروفیسر، ٹوکیو یونیورسٹی آف فارن اسٹڈیز، جاپان (اپریل 1993ء - مارچ 2000ء )
  • وزیٹنگ پروفیسر، دائتو بنکا یونیورسٹی، سائیتاما، جاپان (اپریل 1993ء - مارچ 2000ء )
  • وزیٹنگ پروفیسر / فیلو، ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ورلڈ لینگویجز، اوساکا یونیورسٹی، جاپان (اکتوبر 2007ء - مارچ 2008ء )
  • وزیٹنگ فیلو، دائتو بنکا یونیورسٹی، سائیتاما، جاپان (جولائی - ستمبر 2008ء )
  • وزیٹنگ پروفیسر / فیلو، گریجویٹ اسکول آف ایشین افریقن ایریا اسٹڈیز، کیوتو یونیورسٹی، جاپان (جولائی 2008ء - اکتوبر 2008ء )
  • استاد اردو زبان،امریکی کونصلیٹ جنرل، کراچی (1969ء - 1972ء)
  • اگزامنر،انٹرنیشنل بیکالوریٹ آرگنائزیشن، کارڈف، مملکت متحدہ (ستمبر 2000ء - مئی 2008ء)

اندرونِ ملک[ترمیم]

  • پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر، اسٹنٹ، پروفیسر اور لیکچرر، شعبہ اردو، جامعہ کراچی (اکتوبر 1970ء - جون 2006ء )
  • ڈائریکٹر، شعبہ تصنیف، تالیف و ترجمہ، جامعہ کراچی (فروری 2002ء - جولائی 2003ء )
  • رکن، مجلس اعلیٰ تعلیم و تحقیق، جامعہ کراچی (فروری 2002ء - فروری 2005ء)
  • ڈائریکٹر، ایوننگ پروگرام، جامعہ کراچی (جولائی 2003ء - جنوری 2004ء )
  • ڈائریکٹر، اسٹوڈنٹس گائڈنس، کونسلنگ اینڈ پلیسمنٹ بیورو، جامعہ کراچی (دسمبر 2003ء - فروری 2004ء )
  • پروفیسر / چیئرمین، شعبہ اردو، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (اکتوبر 2008ء - فروری 2010 )
  • پروفیسر / ڈین، فیکلٹی آف لینگویجز اینڈ لٹریچر، بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی اسلام آباد (مارچ 2010ء - اکتوبر 2010 )

شادی اور اولاد[ترمیم]

فروری 1978ء میں ڈاکٹر معین الدین عقیل کی شادی ریڈیو پاکستان کے سابق اسٹیشن ڈائریکٹر اور بہادر یار جنگ کے خاص شاگرد اور غالب کے فارسی خطوط کے مترجم محمد عمر مہاجر کی دختر فریسہ عقیل سے ہوئی۔ رمیشہ نوین عقیل ان کی اکلوتی اولاد ہیں جن کی پیدائش 6 نومبر 1988ء میں ہوئی۔[7]

اعزازات[ترمیم]

  • 2013ء - آرڈر آف رائزنگ سن Flag of Japan.svg جاپان (جاپان کا اعلیٰ ترین اعزاز سول ایوارڈ[8]
  • 1984ء - بیسٹ ٹیچر - Flag of Pakistan.svg پاکستان (علامہ اقبال اوپن یونی ورسٹی اسلام آباد کی جانب سے دیا گیا)
  • 1969ء - بابائے اردو ایوارڈ - Flag of Pakistan.svg پاکستان (انجمن ترقی اردو پاکستان کی جانب سے وصول کیا)

تصانیف و تالیفات[ترمیم]

  • تحریکِ پاکستان اور مولانا مودودی، کراچی، 1971ء
  • تحریکِ آزادی میں اردو کا حصہ، انجمن ترقی اردو پاکستان، 1976ء (اشاعتِ ثانی مجلس ترقی ادب لاہور، 2008ء)
  • اقبال اور کلامِ اقبال (بہ اشتراک مرزا ظفر الحسن، مشفق خواجہادارۂ یادگار غالب، کراچی، 1977ء
  • اشاریہ کلام فیض، ادارۂ یادگار غالب، کراچی، 1977ء
  • ایک نادر سفرنامہ (دکن کے اہم مقامات کے احوال و کوائف)، مکتبہ اسلوب، کراچی، 1982ء
  • دکن اور ایران (سلطنت بہمنیہ اور ایران کے علمی و تمدنی روابط) ، شمیم بک ایجنسی، کراچی، 1983ء
  • کلامِ نیرنگ، مکتبہ اسلوب، کراچی، 1983ء
  • مسلمانوں کی جدوجہد آزادی، مکتبہ تعمیر انسانیت، لاہور، 1984ء
  • اقبال اور جدید دنیائے اسلام، مکتبہ تعمیر انسانیت، لاہور، 1986ء
  • ڈاکٹر اشتیاق حسین قریشی (کتابیات)، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، 1987ء
  • پاکستان میں اُردو تحقیق : موضوعات اور معیار، انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی، 1987ء
  • منتخبات اخبار اُردو، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد ، 1988ء
  • منتخبات اُردو نامہ (جلد اول)، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد ، 1988ء
  • دکن کا عہدِ اسلامی (بہ اشتراک عمر خالدی)، مجلس تاریخ دکن، کراچی، 1993ء
  • مدح و قدح دکن (بہ اشتراک عمر خالدی)، مجلس تاریخ دکن، کراچی، 1993ء
  • پاکستان میں اُردو ادب: محرکات و رجحانات کا تشکیلی دور، ابو الکلام آزاد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پاکستان، کراچی، 1995ء
  • کلامِ رنجور عظیم آبادی،خدا بخش اورئینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ، 1996ء
  • Iqbal, from Finite to Infinite: Evolution of the Concept of Islamic Nationalism in British India,1996
  • نادراتِ ادب، الوقار پبلیکیشنز، لاہور، 1997ء
  • پاکستانی غزل: تشکیلی دور کے رویے اور رجحانات، ابو الکلام آزاد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پاکستان، کراچی، 1997ء
  • امیر خسرو: فرد اور تاریخ، ابو الکلام آزاد ریسرچ انسٹی ٹیوٹ پاکستان، کراچی، 1997ء
  • جہاتِ جہد آزادی، الوقار پبلیکیشنز، لاہور، 1998ء
  • بیاضِ رنجور عظیم آبادی،خدا بخش اورئینٹل پبلک لائبریری، پٹنہ، 1998ء
  • سقوطِ حیدرآباد (بہ اشتراک عمر خالدی)، دار الاشاعت کل ہند مجلس تعمیرِ ملت،حیدرآباد دکن، 1998ء
  • پاکستانی زبان و ادب: مسائل و مناظر، الوقار پبلی کیشنز، لاہور، 1999ء
  • کلماتِ آبدار، بہادر یار جنگ اکادمی، کراچی، 1999ء
  • فتح نامہ ٹیپو سلطان، الوقار پبلی کیشنز، لاہور، 1999ء
  • Resurgence of Muslim Separatism in British India, 2001
  • تذکرہ علمائے سیتاپور، فضلی سنز کراچی، 2006ء
  • بیتی کہانی (اُردو کی اولین نسوانی خودنوشت اور تاریخ پاٹودی کا بنیادی مآخذ)، القمر انٹرپرائزز، لاہور، 2006ء
  • انتخابِ کلام داغ، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2008ء
  • انتخابِ کلام خواجہ میر درد، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2008ء
  • رسمیاتِ مقالہ نگاری، پاکستان اسٹڈی سینٹر، جامعہ کراچی، 2009ء
  • انتخابِ کلام حسرت، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2009ء
  • انتخابِ کلام غلام بھیک نیرنگ، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2010ء
  • معیاری اردو قاعد، مقتدرہ قومی زبان، اسلام آباد، 2010ء
  • میرا اردو قاعد، شیخ شوکت علی اینڈ سنز، کراچی، 2010ء
  • مشرقِ تاباں: جاپان میں اسلام، پاکستان اور اردو ادب کا مطالعہ، پورب اکیڈمی، اسلام آباد، 2010ء
  • Source Material in Modern South Asian Languages, Iqbal Academy, Lahore, 2010
  • رفت و بود (ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی کی خودنوشت کی تدوین)، ادارۂ یادگار غالب، کراچی، 2011ء
  • چمنِ اردو، شیخ شوکت علی اینڈ سنز، کراچی، 2011ء
  • سیر الاقطاب (تدوین)، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2011ء
  • سفرنامہ مخدوم جہانیاں جہاں گشت (تدوین)، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2011ء
  • تاریخچہ چاپ ہائے فارسی در شبہ قارہ (فارسی سے ترجمہ ڈاکٹر عارف نوشاہی)، آئینہ میراث، تہران، 2012ء
  • میرا کتب خانہ: نوعیت، انفرادیت اور مستقبل، بزمِ تخلیقِ ادب، کراچی، 2012ء
  • انتخابِ کلام تاثیر، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2012ء
  • انتخابِ کلام رنجور عظیم آبادی، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2012ء
  • انتخابِ کلام نادر کاکوروی، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2013ء
  • انتخابِ کلام امیر مینائی، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2013ء
  • نادراتِ غالب لائبریری، مغربی پاکستان اردو اکیڈمی، لاہور، 2014ء
  • نو آبادیاتی عہد میں مسلمانانِ جنوبی ایشیا کے افکارِ سیاسی کی تشکیلِ جدید، اسلامی ریسرچ اکیڈمی، کراچی، 2014ء
  • جنوبی ایشیا میں طباعت کا آغاز و ارتقا، شعبہ ابلاغِ عامہ، جامعہ کراچی، 2014ء
  • انتخابِ کلام خوشی محمد ناظر، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2014ء
  • اُردو تحقیق (صورت حال اور تقاضے)، القمر انٹرپرئزز،2014ء، اشاعت دوم
  • تاریخِ ادبیاتِ اردو (تدوین)، پاکستان اسٹڈی سینٹر، جامعہ کراچی، 2015ء
  • اردو کے نادر سفرنامے، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، 2015ء
  • مسلم ہندوستان: تاریخ، تہذیب اور ادب، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، 2015ء
  • جنوبی ایشیا کی تاریخ نویسی: نوعیت، روایت اور معیار، نشریات، لاہور، 2015ء
  • کلکتہ میں اردو کے نادر ذخائر، انجمن ترقی اردو، نئی دہلی، 2016ء (اشاعتِ ثانی مجلس ترقی ادب لاہور)
  • حیات و فکر اقبال کے نئے گوشے، نشریات، لاہور، 2016ء
  • افکارِ سیاسی کی تشکیلِ جدید: سید احمد خاں اور اقبال، مکتبہ تعمیرِ انسانیت، لاہور، 2017
  • اسبابِ بغاوتِ ہند (تدوین)، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2017ء
  • انتخابِ کلام تلوک چند محروم، اوکسفرڈ یونیورسٹی پریس، کراچی، 2017ء
  • انتخابِ کلام نواب محمد مصطفٰی خاں شیفتہ، اوکسفرڈ یونیوسٹی پریس، کراچی، 2017ء
  • اختر و اقبال: تضمین بر کلام اقبال (تدوین)، دار النعمان، لاہور، 2017ء
  • جامعہ کراچی کے شعبہ اردو کا المیہ، لائبریری پروموشن بیورو،کراچی، 2017ء
  • نظریہ پاکستان اور قائد اعظم: مقاصد، جدوجہد اور حاصلات، مکتبہ تعمیرِ انسانیت، لاہور، 2019ء

بیرونی روابط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. رخسانہ فیض، مطالعاتِ تاریخ و ادب: ڈاکٹر معین الدین عقیل کی منفرد تصنیفی خدمات، رنگِ ادب پبلی کیشنز کراچی، 2019ء، ص 20
  2. مطالعاتِ تاریخ و ادب: ڈاکٹر معین الدین عقیل کی منفرد تصنیفی خدمات، ص 22
  3. مطالعاتِ تاریخ و ادب: ڈاکٹر معین الدین عقیل کی منفرد تصنیفی خدمات، ص 23
  4. مطالعاتِ تاریخ و ادب: ڈاکٹر معین الدین عقیل کی منفرد تصنیفی خدمات، ص 26
  5. مطالعاتِ تاریخ و ادب: ڈاکٹر معین الدین عقیل کی منفرد تصنیفی خدمات، ص 27
  6. پروفیسر ڈاکٹرمعین الدین عقیل کا کتب خانہ : جو آپ نے جاپان منتقل کر دیا، ڈاکٹر نسرین شگفتہ، ہماری ویب ڈاٹ کام، پاکستان
  7. مطالعاتِ تاریخ و ادب: ڈاکٹر معین الدین عقیل کی منفرد تصنیفی خدمات، ص 24
  8. ڈاکٹرمعین الدین عقیل، اسلامک ریسرچ اکیڈمی کراچی آفیشل ویب