معین الدین احمد ندوی
| معین الدین احمد ندوی | |
|---|---|
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 1903ء رودولی، ضلع بارہ بنکی، متحدہ صوبہ جات آگرہ و اودھ، برطانوی ہند |
| تاریخ وفات | 13 دسمبر 1974ء (70–71 سال) |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | دار العلوم ندوۃ العلماء |
| پیشہ | مورخ |
| درستی - ترمیم | |
معین الدین احمد ندوی (1903ء – 13 دسمبر 1974ء) بیسویں صدی کے ایک ہندوستانی عالم دین، مؤرخ اور مصنف تھے۔ وہ اعظم گڑھ میں دار المصنفین شبلی اکیڈمی کے صدر رہے اور تاریخ، ادب اور ترجمہ کے میدان میں متعدد علمی خدمات انجام دیں۔
سوانح
[ترمیم]معین الدین احمد ندوی 1903ء میں قصبہ رودولی، ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے نانا شاہ شرف الدین کی نگرانی میں حاصل کی۔ بعد ازاں فرنگی محل، لکھنؤ کے دار العلوم نظامیہ میں تعلیم حاصل کی، پھر دار العلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا۔ ان کے اساتذہ میں سلیمان ندوی نمایاں تھے، جن سے انھوں نے تاریخ نگاری اور فنِ تحریر کی تربیت حاصل کی۔[1]
1924ء میں فراغت کے بعد وہ سلیمان ندوی کی دعوت پر دار المصنفین شبلی اکیڈمی سے وابستہ ہوئے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اسی ادارے میں تدریس، تحقیق اور تصنیف و تالیف میں گزاری۔ 1946ء میں سلیمان ندوی کے بھوپال منتقل ہونے کے بعد دار المصنفین اور اس کے مجلے معارف کی انتظامی ذمہ داری معین الدین احمد ندوی کے سپرد کی گئی۔ 1950ء میں سلیمان ندوی کے پاکستان ہجرت کر جانے کے بعد 1951ء میں وہ دار المصنفین کے سربراہ مقرر ہوئے اور وفات تک اس منصب پر فائز رہے۔ دار المصنفین کے علاوہ وہ متعدد تعلیمی اور ادبی اداروں سے بھی وابستہ رہے، جن میں لکھنؤ اردو اکیڈمی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شامل ہیں۔[1] ان کا انتقال 13 دسمبر 1974ء کو ہوا۔[2]
قلمی خدمات
[ترمیم]معین الدین احمد ندوی نے اسلامی تاریخ، سیرت اور ادب کے موضوعات پر اردو میں کثرت سے کتابیں لکھیں۔ ان کی اہم کتابوں میں چار جلدوں پر مشتمل تاریخ الاسلام شامل ہے، جو ندوۃ العلماء اور دیگر تعلیمی اداروں کے نصاب میں بھی شامل رہی۔ انھوں نے اپنے استاد سید سلیمان ندوی کی سوانح حیاتِ سلیمان بھی لکھی۔ اس کے علاوہ المہاجرین کی پہلی جلد، سیرت الصحابہ کی چھٹی اور ساتویں جلدیں، تابعین، دینِ رحمت اور اسلام و عربی تمدن (کرد علی کی الإسلام والحضارة العربیة کا مختصر اردو ترجمہ) بھی ان کی نمایاں تصانیف میں شامل ہیں۔ انھوں نے عبد القدوس گنگوہی کی کتاب انوار العیون فی اسرار المکنون کا بھی اردو ترجمہ کیا، جس میں عبد الحق رودولوی کی زندگی اور اقوال کا بیان ہے۔ اسی طرح عرب کی موجودہ حکومتیں بھی مرتب کی۔ کتابوں کے علاوہ انھوں نے دار المصنفین شبلی اکیڈمی کے مجلہ معارف میں متعدد علمی و ادبی مضامین لکھے اور مختلف علمی اجتماعات میں مقالات پیش کیے، جن میں سے منتخب مضامین بعد میں ادبی نقوش کے عنوان سے شائع ہوئے۔[1]
کتابیات
[ترمیم]- یاسمین عثمانی (2014)۔ شاہ معین الدین احمد ندوی کی علمی و ادبی خدمات (Phd thesis)۔ انڈیا: شعبۂ اردو، ممبئی یونیورسٹی۔ ص 1۔ hdl:10603/660390
- مرزا ندیم بیگ اعظمی (2009)۔ شاہ معین الدین احمد ندوی: حیات اور کارنامے (پی ایچ ڈی thesis)۔ انڈیا: شعبۂ اردو، ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی۔ ص 1۔ hdl:10603/179501
- عمری سید وصی اللہ بختیاری (2023)۔ "دبستان شبلی کے گل سرسبد شاہ معین الدین احمد ندوی کی ادبی خدمات"۔ قومی زبان۔ ج 8 شمارہ 5: 12–17۔ DOI:10.5281/zenodo.10357644۔ ISSN:2321-4627
- ابو الحسن علی حسنی ندوی (2000)۔ آدم شیخ (مرتب)۔ مولانا شاہ معین الدین احمد ندوی۔ ممبئی: انجمن اسلام اردو ریسرچ انسٹی ٹیوٹ۔ ص 1
- محمد الیاس الاعظمی (2007)۔ شاہ معین الدین احمد ندوی۔: حیات و خدمات۔ کراچی: ادبی دائرہ۔ ص 32
- محمد الیاس الاعظمی (2002)۔ دار المصنفین کی تاریخی خدمات۔ پٹنہ: خدا بخش لائبریری۔ ص 247–260
- زینب رقیہ (2014)۔ دار المصنفین کی ادبی تصانیف کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ (پی ایچ ڈی thesis)۔ انڈیا: شعبہ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ ص 83–92۔ 2016-12-14 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- نغمہ پروین (2016)۔ سیرت نگاری میں دار المصنفین اعظم گڑھ کی خدمات: ایک تحقیقی جائزہ۔ India: کلیہ دینیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ ص 65–71۔ 2019-05-08 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
- نظام الدین (2015). دار المصنفین شبلی اکیڈمی کا ایتہاسک ادھیان 1914 سے 1947 (PhD thesis) (بزبان ہندی). انڈیا: شعبہ تاریخ، ویر بہادر سنگھ پوروانچل یونیورسٹی. pp. 103–105. Archived from the original on 2025-09-24.
- خورشید نعمانی (2003)۔ دار المصنفین کی تاریخ اور علمی خدمات۔ انڈیا: دار المصنفین شبلی اکیڈمی۔ ص 84–88
- کلیم صفات اصلاحی (2014)۔ دار المصنفین کے سو سال۔ India: المصنفین شبلی اکیڈمی۔ ص 81–86۔ ISBN:978-93-82201-29-8
- عبید الرحمن (2017)۔ مساهمة دار العلوم ندوة العلماءِ في نشر نشر اللغة العربية و الأدب الإسلامي و و دورها في مجلس الصحافة و العلم (PhD thesis) (بزبان عربی)۔ انڈیا: کلکتہ یونیورسٹی۔ ص 270–273۔ hdl:10603/314806۔ 2023-06-16 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2026-06-30
- غضنفر علی خان (2001). Nadvat-al-Ulama: a centre of islamic learning [ندوۃ العلماء: اسلامی تعلیم کا مرکز] (PhD thesis) (بزبان انگریزی). انڈیا: شعبہ اسلامیات، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی. p. 133–134. hdl:10603/49833.
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 مبین احمد نظامی ندوی (2021)۔ "الشاه معين الدين أحمد الندوي: حياته و أعماله"۔ الرائد (بزبان عربی)۔ ج 63 شمارہ 1–2: 20۔ ISSN:2393-8277
- ↑ محمد سہیل شفیق (جون 2013)۔ وفیات معارف۔ گلشن اقبال، کراچی: قرطاس۔ ص 323۔ ISBN:978-969-9640-02-5
