مندرجات کا رخ کریں

معین الدین احمد ندوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(معین الدین ندوی سے رجوع مکرر)
معین الدین احمد ندوی

معلومات شخصیت
پیدائش 1903ء
رودولی، ضلع بارہ بنکی، متحدہ صوبہ جات آگرہ و اودھ، برطانوی ہند
تاریخ وفات 13 دسمبر 1974ء(1974-12-13) (70–71 سال)
عملی زندگی
مادر علمی دار العلوم ندوۃ العلماء
پیشہ مورخ   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
باب ادب

معین الدین احمد ندوی (1903ء – 13 دسمبر 1974ء) بیسویں صدی کے ایک ہندوستانی عالم دین، مؤرخ اور مصنف تھے۔ وہ اعظم گڑھ میں دار المصنفین شبلی اکیڈمی کے صدر رہے اور تاریخ، ادب اور ترجمہ کے میدان میں متعدد علمی خدمات انجام دیں۔

سوانح

[ترمیم]

معین الدین احمد ندوی 1903ء میں قصبہ رودولی، ضلع بارہ بنکی میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے نانا شاہ شرف الدین کی نگرانی میں حاصل کی۔ بعد ازاں فرنگی محل، لکھنؤ کے دار العلوم نظامیہ میں تعلیم حاصل کی، پھر دار العلوم ندوۃ العلماء میں داخلہ لیا۔ ان کے اساتذہ میں سلیمان ندوی نمایاں تھے، جن سے انھوں نے تاریخ نگاری اور فنِ تحریر کی تربیت حاصل کی۔[1]

1924ء میں فراغت کے بعد وہ سلیمان ندوی کی دعوت پر دار المصنفین شبلی اکیڈمی سے وابستہ ہوئے۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی اسی ادارے میں تدریس، تحقیق اور تصنیف و تالیف میں گزاری۔ 1946ء میں سلیمان ندوی کے بھوپال منتقل ہونے کے بعد دار المصنفین اور اس کے مجلے معارف کی انتظامی ذمہ داری معین الدین احمد ندوی کے سپرد کی گئی۔ 1950ء میں سلیمان ندوی کے پاکستان ہجرت کر جانے کے بعد 1951ء میں وہ دار المصنفین کے سربراہ مقرر ہوئے اور وفات تک اس منصب پر فائز رہے۔ دار المصنفین کے علاوہ وہ متعدد تعلیمی اور ادبی اداروں سے بھی وابستہ رہے، جن میں لکھنؤ اردو اکیڈمی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی شامل ہیں۔[1] ان کا انتقال 13 دسمبر 1974ء کو ہوا۔[2]

قلمی خدمات

[ترمیم]

معین الدین احمد ندوی نے اسلامی تاریخ، سیرت اور ادب کے موضوعات پر اردو میں کثرت سے کتابیں لکھیں۔ ان کی اہم کتابوں میں چار جلدوں پر مشتمل تاریخ الاسلام شامل ہے، جو ندوۃ العلماء اور دیگر تعلیمی اداروں کے نصاب میں بھی شامل رہی۔ انھوں نے اپنے استاد سید سلیمان ندوی کی سوانح حیاتِ سلیمان بھی لکھی۔ اس کے علاوہ المہاجرین کی پہلی جلد، سیرت الصحابہ کی چھٹی اور ساتویں جلدیں، تابعین، دینِ رحمت اور اسلام و عربی تمدن (کرد علی کی الإسلام والحضارة العربیة کا مختصر اردو ترجمہ) بھی ان کی نمایاں تصانیف میں شامل ہیں۔ انھوں نے عبد القدوس گنگوہی کی کتاب انوار العیون فی اسرار المکنون کا بھی اردو ترجمہ کیا، جس میں عبد الحق رودولوی کی زندگی اور اقوال کا بیان ہے۔ اسی طرح عرب کی موجودہ حکومتیں بھی مرتب کی۔ کتابوں کے علاوہ انھوں نے دار المصنفین شبلی اکیڈمی کے مجلہ معارف میں متعدد علمی و ادبی مضامین لکھے اور مختلف علمی اجتماعات میں مقالات پیش کیے، جن میں سے منتخب مضامین بعد میں ادبی نقوش کے عنوان سے شائع ہوئے۔[1]

کتابیات

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. 1 2 3 مبین احمد نظامی ندوی (2021)۔ "الشاه معين الدين أحمد الندوي: حياته و أعماله"۔ الرائد (بزبان عربی)۔ ج 63 شمارہ 1–2: 20۔ ISSN:2393-8277
  2. محمد سہیل شفیق (جون 2013)۔ وفیات معارف۔ گلشن اقبال، کراچی: قرطاس۔ ص 323۔ ISBN:978-969-9640-02-5