مغفور احمد اعجازی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مغفور احمد اعجازی
ڈاکٹر مغفور احمد اعجازی

معلومات شخصیت
پیدائش 3 مارچ 1900(1900-03-03)
مظفرپور  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 26 ستمبر 1966(1966-90-26) (عمر  66 سال)
مظفرپور  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
قومیت بھارتی
جماعت انڈین نیشنل کانگریس  ویکی ڈیٹا پر سیاسی جماعت کی رکنیت (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ سیاسی اور سماجی کارکن

مغفوراحمد اعجازی (1900ء – 1966ء) بہار سے تعلق رکھنے والے بھارتی سیاست دان تھے۔ اعجازی 3 مارچ 1900ء کو ضلع مظفرپور کے بلاک سکرا کے گاؤں دلیولی میں پیدا ہوئے[1]۔ ان کے والد مولوی حفیظ الدین حسین اور دادا حاجی امام بخش زمیندار تھے۔ ان کی والدہ کا نام محفوظ النساء تھا۔ ان کے نانا ریاست حسین سمیتری کے مشہور وکیل تھے۔[2]

ابتدائی تعلیم[ترمیم]

اعجازی نے سب سے پہلے مذہبی تعلیم کے لیے مدرسہ امدادیہ اور پھر نارتھ بروکی زلااسکول میں داخلہ لیا لیکن ان کو وہاں سے رولا ایکٹ کے مقابل آنے پر نکال دیا گیا۔ انہوں نے پوسا ہائیاسکول سے میٹرک کا امتحان پاس کیا اور بی این کالج پٹنہ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے داخل ہوئے۔[3]

نکاح[ترمیم]

اعجازی کی شادی اپنے ماموں مولوی عبد القاسم کی بیٹی عزیز الفاطمہ سے ہوئی۔[3] ان کی شادی میں کھڈی کا رواج چلا جس کے بعد دولہا دلہن کے لیے ہاتھ پر بنے کھڈی کے کپڑے پہننے کا رواج بن گیا۔

نکاح کے بعد انہوں نے آزادی کی جدوجہد کے لیے عوامی اجلاس میں شمولیت اختیار کی۔

تحریک جنگ آزادی[ترمیم]

اعجازی نے تعلیم کو خیر باد کہا اور 1921ء میں مہاتما گاندھی کے ساتھ عدم تعاون کی تحریک میں حصہ لیا۔[3] آزادی کی تحریک کے تمام واقعات میں فعال حصہ لینے کے بعد انہوں نے انگریزی لباس اور مضامین کا مقاطعہ کر دیا۔ اپنی انفرادی حیثیت میں سیتا گڑھ میں سائمن کمیشن اور حزب اختلاف کی مخالفت کی۔

انہوں نے رضاکاروں، رامیان مینڈلی، چرکھا سمیتی اور قانون نجات وغیرہ منظم کر کے برطانوی راج کے خلاف عوام کو متحرک کیا اور موٹھیا تحریک کے ذریعے آزادی جدوجہد کے لیے فنڈ جمع کیا۔ موٹھیا کا مطلب ہے ہر کھانے کی تیاری سے پہلے آزادی کے فنڈ کے لیے مٹھی کھانا الگ کرنا۔

اعجازی کے دائرہ کار میں شمالی بہار تھا۔ وہاں ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا۔ انہوں نے اپنی بہن سے موٹھیا کا مطالبہ کیا۔ ان کی بہن کے انکار پر انہوں نے کھانا تو ایک طرف، پانی پینے سے بھی منع کر دیا یہاں تک کہ ان کی بہن نے موٹھیا کے لیے فنڈ نکال کر دیا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ وہ اپنے اصول کے کتنے پکے تھے۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Mohammad Sajjad۔ "Maghfur Aijazi: A freedom-fighter and a builder of Indian democracy"۔ TwoCircles.net۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 5 مارچ 2015۔
  2. مغفور احمد اعجازی، مجاہد آزادی اور ہندوستانی جمہوریت کے معمار
  3. ^ ا ب پ مغفور احمد اعجازی – قومی آواز