مغلیہ سلطنت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مغلیہ سلطنت
شاہانِ مغل
1526–1858

Flag of the Mughal Empire

پرچم

مغلیہ حدود 1526–1707
دارالحکومت آگرہ ، فتح پور سیکری ، دہلی
زبانیں فارسی (آغاز میں چغتائی ترک بھی; آخر میں اردو بھی)
حکومت بادشاہت ، وحدانی ریاست
مع وفاقی نظام
شاہان مغل
 - 1526–1530 بابر
 - 1530–1539, 1555–1556 ہمایوں
 - 1556–1605 اکبر
 - 1605–1627 جہانگیر
 - 1628–1658 شاہجہاں
 - 1658–1707 اورنگزیب
تاریخی دور ابتدائی عہدِ جدید
 - جنگ پانی پت 1526ء 21 اپریل 1526
 - جنگ آزادی ہند 1857ء 20 جون 1858
رقبہ
 - 1700 3,200,000 مربع کلومیٹر (1,235,527 مربع میل)
آبادی
 - 1700 تخمینہ 150,000,000 
     کثافت 46.9 /مربع کلومیٹر  (121.4 /مربع میل)
جانشین
پیشرو
تیموری سلطنت
سلطنت دہلی
خاندان سوری
عادل شاہی سلطنت
دکنی سلطنتیں
مراٹھا سلطنت
درانی سلطنت
سکھ سلطنت
کمپنی بہادر
برطانوی راج
سلطنت حیدرآباد
موجودہ ممالک Flag of Afghanistan.svg افغانستان
Flag of Bangladesh.svg بنگلہ دیش
Flag of India.svg بھارت
Flag of Pakistan.svg پاکستان
Population source:[1]
Warning: Value not specified for "common_name"|- style="font-size: 85%;" Warning: Value specified for "continent" does not comply


مغلیہ سلطنت 1526ء سے 1857ء تک برصغیر پر حکومت کرنے والی ایک مسلم سلطنت تھی جس کی بنیاد ظہیر الدین بابر نے 1526ء میں پہلی جنگ پانی پت میں دہلی سلطنت کے آخری سلطان ابراہیم لودھی کو شکست دے کر رکھی تھی۔ مغلیہ سلطنت اپنے عروج میں تقریباً پورے برصغیر پر حکومت کرتی تھی، یعنی موجودہ دور کے افغانستان، پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش کے ممالک پر مشتمل خطے پر انکا دور دورہ تھا-


پس منظر[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

ابتدائی تاریخ[ترمیم]

سلطنتِ مغلیہ کا بانی ظہیر الدین بابر تھا، جو تیمور خاندان کا ایک سردار تھا۔ ہندوستان سے پہلے وہ کابل کا حاکم تھا۔ 1526ء کو سلطنتِ دہلی کے حاکم ابراہیم لودھی کے خلاف مشہورِ زمانہ پانی پت جنگ میں بابر نے اپنی فوج سے دس گُنا طاقتور افواج سے جنگ لڑی اور انہیں مغلوب کر دیا۔ یوں ایک نئی سلطنت کا آغاز ہوا۔ اس وقت شمالی ہند میں مختلف آزاد حکومتیں رائج تھیں۔ علاوہ ازیں وہ آپس میں معرکہ آرا تھے۔

فتوحات اور توسیع کا دور[ترمیم]

1526ء میں دہلی اور آگرہ کی فتح کے بعد صرف چند ماہ میں بابر کے سب سے بڑے بیٹے ہمایوں نے ابراہیم لودھی کی تمام سلطنت کو زیر کر لیا۔ 1527ء میں میواڑ کے حاکم سنگرام نے اجمیر اور مالوہ کو اپنی عملداری میں لے رکھا تھا۔
Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

عروج[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

فن و ثقافت[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

مذہب[ترمیم]

یہ بات واضح ہے کہ مغل سلطنت کا سرکاری مزہب اسلام تھا تاہم اکبراعظم کے دور میں کچھ عرصے تک اکبر کا ایجاد کردہ مذہب (دین الٰہی ) رائج کرنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن اس کا عوام پر کوئی اثر نہ پڑا اور وہ بہت جلد ہی ختم ہوگیا۔باقی تمام شہنشاہوں کے دور میں اسلام ہی سرکاری مذہب تھا اور مغل شہنشاہان اسلام کے بہت پابند ہوا کرتے تھے۔ان میں اورنگزیب عالمگیر جن کو مسلمانوں کا ہیرو بھی کہا جاتا ہے ،وہ اسلام کے پیروی کے لحاظ سے جانے جاتے ہے۔انہوں نے نہ صرف اسلامی قوانین رائج کی بلکہ اس دور کے مسلمانوں پر جو باطل اثرات ہندوں اور دیگروں سے پڑے تھے ان کے خاتمے میں بھی بھرپور کردار ادا کیا۔

مغل ثقافت بھی سارا اسلام پر مشتمل تھا۔


جنوبی ایشیا کی تاریخ
Flag of Bhutan.svg Flag of Maldives.svg Flag of Pakistan.svg Flag of India.svg Flag of Bangladesh.svg Flag of Sri Lanka.svg Flag of Nepal.svg
پتھر کا دور 70,000–7000 قبل مسیح
مہر گڑھ کی ثقافت 7000–3300 قبل مسیح
وادئ سندھ کی تہذیب 3300–1700 قبل مسیح
ہڑپہ کی ثقافت 1700–1300 قبل مسیح
ویدی تہذیب 1500–500 قبل مسیح
- دور آہن کی سلطنتیں - 1200–700 قبل مسیح
مہاجنپداس 700–300 قبل مسیح
سلطنت مگدھا 684–26 قبل مسیح
- سلطنت موریہ - 321–184 قبل مسیح
وسطی سلطنتیں 230 قبل مسیح –1279 بعد مسیح
- سلطنت ستاواہنا - 230 قبل مسیح –199 بعد مسیح
- سلطنت کوشنا - 60–240
- سلطنت گپتا - 240–550
- سلطنت چولا - 848–1279
اسلامی سلطنتیں 1210–1596
- سلطنت دہلی - 1206–1526
- دکن کی سلطنتیں - 1490–1596
سلطنت ہوئشالا 1040–1346
سلطنت وجے نگر 1336–1565
مغل دور 1526–1707
مراٹھا سلطنت 1674–1818
برطانوی راج 1757–1947
تقسیم ہند 1947 تاحال
قومی تواریخ
بھارت - پاکستان - بنگلہ دیش
سری لنکا - نیپال - بھوٹان - مالدیپ

زبانیں[ترمیم]

چغتائی ترکی[ترمیم]

چغتائی ترکی مغل سلطنت کے بانی ظہیر الدین محمد بابر کی مادری زبان قرار دی جاتی ہے۔ اس زبان میں مغل سلطنت کے دفتری امور تو سرانجام نہیں دئے جاتے تھے اور نہ ہی سلطنت کے لئے اہمیت رکھتی تھی تاہم بابر اس میں شعر و شاعری لکھتے تھے۔

فارسی[ترمیم]

فارسی کو مغل سلطنت میں دفتری اور رسمی زبان تھی لیکن جب اردو زبان وجود میں آئی تو اردو دفتری زبان بنی۔

اردو[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

اقتصادی و معاشی حالات[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

سائنس و صنعتیات[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

سفارتکاری و خارجی تعلقات[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

زوال[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

جانشینی کی جنگیں[ترمیم]

مغلوں میں جانشینی کا کوئی قانون نہیں تھا ایک بادشاہ کے مرنے کے بعد اس کے بیٹوں اور رشتہ داروں کے درمیان جنگ چھڑ جاتی جو شہزادہ اپنے حریفوں کو شکست دے دیتا وہ تخت مغلیہ کا وارث بن جاتابابر کو اپنے ماموں اور چچا سے لڑنا پڑ ااس کا بھائی جہا نگیر مرزابھی اس کے لئے دردر سر بن گیا ۔بابر کی موت کے بعد اس کا بیٹا ہمایوں سربراہ بنا اسے اپنے بھائیوں کی دشمنی اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔انہوں نے ہر محاذپر اس کے ساتھ دشمنی کی ہمایوں کو افغان سرداروں کی مخالفت کی وجہ سے نقصان اٹھانا پڑامگر اس کے بھائی اسے شکست دے کر تخت دہلی حاصل کرنا چاہتے تھے انہوں نے قدم قدم پر اسے پریشان کیا افغان سردار شیر خان سوری نے اسے شکست دے کر دہلی چھوڑنے پر مجبور کیا ہمایوں دہلی چھوڑ کر لاہور پہنچا افغان فون نے اسے لاہور سے بھی بھگا دیا ہمایوں شکست کھا کر ملتان جاپہنچا ۔کامران مرزا نے ملتان میں قیام کے دوران اس کی خواب گاہ کو توپ سے اڑانے کی کوشش کی۔مگر ہمایوں محفوظ رہا بالآخر وہ سندھ کے راستے ایران جاکر پناہ گزین ہوا ۔پندرہ سال بعد1555ء میں اس نے ایک بار پھر مغل سلطنت حاصل کی مگر ایک سال سے کم عرصہ میں اس کا انتقال ہوگیا ہمایوں کے بعد اکبر بادشاہ بنا کسی نے اکبرکی مخالفت نہیں کی صرف اس کا سوتیلا بھائی مرزا عبدالحکیم سازشی امراء کے بھڑکانے پر فوج لے کر لاہورپر حملہ آور ہو امگر اکبری فوج نے اسے شکست دے کر گرفتار کرلیا اس نے تمام عمر قید میں گذاری۔ اکبر کے بعد اس کا بیٹاجہانگیر تخت نشین ہو ا،اس کے بیٹے خسرو نے جہانگیر کے خلاف بغاوت کردی ۔جہانگیر نے باغی فوج کو شکست دے کر باغیوں کو سرعام پھانسی دی اور شہزادہ خسرو کو اندھاکروادیا اس نے تمام عمر قید میں گذاری۔جہانگیر کے بعد شہزادہ خرم شاہجہان کے لقب سے تخت نشین ہوا اس کی مخالفت اس کے بھائی شہزادہ شہر یار اور شہزادہ دوار بخش نے کی مگر شاہجہان کے وفاداروں نے انہیں شکست دے کر گرفتار کر لیا ۔شہزادے شہریار کو اندھا کردیا گیا جبکہ شہزادہ داور بخش مارا گیا ۔ 1258ء میں شاہجہان کی زندگی میں ہی اس کے بیٹوں (داراشکوہ،اورنگ زیب ،شجاع اور مراد )کے درمیان تخت کے حصول کے لئے خونریز جنگیں ہوئیں جس میں اورنگ زیب کو فتح نصیب ہوئی جب کہ تمام شہزادے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے اورنگ زیب نے اپنے باپ شاہ جہان کو لال قلعے میں نظر بند کردیا اور اپنی بادشاہت کا اعلان کردیا۔ 1707ء میں اورنگ زیب کے انتقال کے بعد ایک بار پھر جانشینی کی جنگ چھڑ گئی `جس میں شہزادہ اعظم ،معظم اور کام بخش نے حصہ لیا شہزادہ معظم کامیاب رہا جبکہ دوسرے شہزادے جنگوں میں مارے گئے۔اورنگ زیب کی وفات کے دس سال بعد کے عرصہ میں سات خون ریز جنگیں ہوئیں جس میں مغل حکومت کا بہت بڑا نقصان ہوا۔لاتعداد جرنیل،سپاہی اور جنگی فنون کے ماہرین مارے گئے ۔جس کی وجہ سے مغل یہ سلطنت کمزور ہوگئی ۔

نوابوں کی بڑھتی طاقت و اثر و رسوخ[ترمیم]

مغل حکومت کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر بہت سے صوبے دار باغی ہوگئے۔ انہوں نے مرکز کی اطاعت سے انکار کردیا۔ بنگال کے صوبے دار علی وردی خان نے بنگال کے حکمران ہونے کا اعلان کر دیا۔ مرکزی حکومت میں اتنی ہمت نہ تھی اس کو سزا دی جاتی۔ حیدرآباد دکن کا صوبہ نظام الملک کے زیرحکومت تھا۔ اس نے بغاوت کرکے خود کو وہاں کا حاکم قرار دیا۔ مرکز نے اس کے خلاف بھی کوئی کارروائی نہ کی۔ پنجاب میں سکھ اور درانی حکومت کر رہے تھے۔ روہیل کھنڈ کی ریاست روہیلہ سرداروں کے ماتحت تھی۔بعض علاقوں میں مرہٹے چھائے ہوئے تھے۔ سلطنت مغلیہ سمٹ کر دہلی کے گردونواح تک رہ گئی تھی۔ کوئی ایسا مضبوط حکمران نہ تھا جو ان باغیوں کی سرکوبی کرکے یہ علاقے دوبارہ مرکز کا حصہ بناتا۔

مراٹھا شورش[ترمیم]

مرہٹے جنوبی ہند سے تعلق رکھتے تھے، مذہب کے لحاظ سے ہندو تھے، متعصب اور متشدد تھے۔ ان کی سرکوبی کے لئے اورنگ زیب کو کئی سال خرچ کرنا پڑے۔ ان کا سردار سیوا جی ایک عام سردار سے زیادہ نہ تھا، مگر اس نے مقامی حکمرانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھا کر کئی شہروں اور قلعوں پر قبضہ کر لیا اور اپنی حکومت کو مضبوط کیا۔

سکھ شورش[ترمیم]

شہنشاہ اورنگ زیب کی وفات (1707ء)کے بعد مغل شہزادے تخت کے حصول کے لئے جنگوں میں الجھ گئے۔ اس دوران سکھ سرداروں نے اپنی عسکری طاقت کو مضبوط کرلیا۔ انہوں نے بہادر شاہ اول کے دور میں مغل حکومت کے خلاف چھاپہ مار کاروائیاں شروع کر دیں۔ انہیں ایک متشدد، ظالم اور مسلم دشمن قائد مل گیا، جس کا نام بندہ بیراگی تھا، جو تاریخ کے اوراق میں بابا بندہ کے نام سے مشہور ہوا۔ اس نے پنجاب کے علاقوں جالندھر،گورداس پور، فیروزپور، پٹھان کوٹ کو تباہ و برباد کیا اور قتل وغارت کی انتہا کر دی۔ اس کے ظلم کا نشانہ مسلمان بنتے تھے۔ اس نے مسلمان عورتوں، بچوں، بوڑھوں کو وسیع پیمانے پر موت کے گھاٹ اتارا۔ اس کےظلم کی داستانیں دہلی دربار تک پہنچ گئیں۔ اس پر بادشاہ نے اس کے خلاف شاہی فوجیں روانہ کیں۔ شاہی فوج کی کارروائیوں پر یہ لوگ جنگلوں میں چھپ جاتے اور موقع ملتے ہی چھاپہ مار کارروائیوں سے شاہی فوج کو نقصان پہنچاتے۔ یہ فتنہ 1718ء میں فرخ سیر کے دور میں ختم ہوا، جب بندہ بیراگی مارا گیا، مگر سکھ فتنہ کا مکمل خاتمہ نہ ہوسکا۔

پنجاب کے گورنر میر معین الملک عرف میر منو نے سکھوں کے اس فتنہ کے تدراک کی کوششیں کیں۔ وہ قصور میں سکھوں کے خلاف جنگ لڑنے کے لئے گیا، سکھ اس کی آمد کی خبر سن کر بوکھلا گئے۔ جنگ کے بعد وہ اپنی گھوڑی پر سواری کا لطف اٹھا رہا تھا کہ گھوڑی بے قابو ہوگئی۔ میر معین نے اسے قابو کرنے کی کوشش کی، مگر ناکامی ہوئی۔ اس حادثہ میں میر معین مارا گیا۔ بعض لوگوں نے اسے سازش قرار دیا، مگر حقائق سامنے نہ آسکے۔

اس کی موت کےبعد اس کی بیوی مغلانی بیگم نے اپنے تین سالہ نابالغ بیٹے کی سر پرستی کی اور پنجاب کی حکمران بن گئی۔ یہ دور سازشوں کا دور تھا، ہر شخص حاکم پنجاب بننے کے خواب دیکھ رہاتھا۔ اس دوران احمد شاہ درانی نے پنجاب پر حملے کئے تاکہ سکھوں کا زور توڑا جائے، مگر سکھ سردار جونہی اس کی آمد کی خبر سنتے جنگلوں اور اپنے محفوظ مقامات پر چھپ جاتے۔ مگر جونہی شاہی فوج واپس ہوتیں سکھ ایک بار پھر کاروائیاں شروع کردیتے۔ احمد شاہ درانی نے اپنے بیٹے تیمور شاہ کو حاکم پنجاب مقرر کیا اور مغلانی بیگم کو جاگیر دے کر حکومتی امورسے دستبردار کردیا۔

اس دوران مرہٹے اور سکھ متحد ہوگئے۔ انہوں نے مل کر ایسا بھرپور حملہ کیا کہ افغان سپاہ کے پاؤں اکھڑ گئے، انہوں نے بھاگ کر اپنی جانیں بچائیں اور دریائے سندھ پارکرکے دم لیا۔ پنجاب کے صوبے دار آدینہ بیگ نے ان کا بھر پور مقابلہ کیا۔ لاتعداد سکھ اس کا مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے۔ چنانچہ سکھوں نے رات کے اندھیرے میں اس کی رہائش گاہ پر شب خون مارا، جس سے آدینہ بیگ جاں بحق ہوگیا۔

اب سکھوں کا راستہ روکنے ولاکوئی نہ تھا اور مغل شہنشاہ بالکل بے بس تھے۔ لاہور شہر کے عوام تین سکھ سرادروں (لہنا سنگھ، چڑت سنگھ اور گوجر سنگھ) کے درمیان ظلم وستم کا نشانہ بنتے رہے اور ان کا کوئی پرسان حال نہ تھا۔

حملہ نادر شاہ[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

نوابوں کی خود مختاری[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

ایسٹ انڈیا کمپنی کا عروج[ترمیم]

24ستمبر1599ء میں برطانیہ کے تاجروں نے مل کر ایک تجارتی کمپنی کی بنیاد رکھی جس کو ایسٹ انڈیا کمپنی کا نام دیا گیا ۔ملکہ برطانیہ(ملکہ الزابیتھ) کی طرف سے اسے ہندوستان اور دیگر ایشیائی ممالک میں تجارت کرنے کی اجازت دی گئی۔ 1612ء میں کمپنی کے سربراہوں نے فیصلہ کیا کہ تجارت کا دائرہ کار ہندوستان تک وسیع کیاجائے اس سلسلہ میں انہوں نے ملکہ برطانیہ سے گذارش کی کہ برطانوی سفیر کے ذریعے مغل بادشاہ جہانگیر سے تجارت کے لئے اجازت دلوائی جائے۔چنانچہ حکومت برطانیہ نے سر تھامس رو کو مغل بادشاہ کے پاس روانہ کیااس خط میں شہنشاہ ہندوستان سلیم الدین محمد جہانگیر سے گذارش کی گئی وہ برطانوی تاجروں کو سورت اور دیگر شہروں میں تجارت کی اجازت دی جائے انہیں رہائش گاہوں،گودام خانے تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے اور اپنے سامان تجارت کی حفاظت کے لئے پہرے دار اور اسلحہ رکھنے کی اجازت دی جائے ۔شہنشاہ جہانگیر نے خط کے جواب میں یہ لکھوایا کہ میں نے اپنے تمام صوبائی حکمرانوں کو حکم نامہ جاری کردیا ہے کہ برطانوی تاجروں کو ہندوستان میں اشیاء کی خرید وفروخت ،نقل وحرکت اور رہائش کی مکمل آزادی حاصل ہے ۔اس نے مزید یہ بھی کہا کہ برطانوی تاجر شاہی محلات کے لئے اشیاء لا سکتے ہیں۔ اسلحہ رکھنے کی فی الحال انہیں اجازت نہیں دی گئی مگر پہرے داروں کی شکل میں برطانوی تاجروں نے تربیت یافتہ سپاہ تیار کرلی۔ انہوں نے مختصر وقت میں گوا،چٹا گانگ ،بمبئی میں اپنے تجارتی ٹھکانے بنا لئے ۔انہوں نے پرتگالی ،ڈچ،سپینی تجارتی کمپنیوں نے جہازوں پر حملے کئے تاکہ ان کی طاقت کو توڑا جائے اس طرح انہوں نے سورت،مدراس،کلکتہ میں اپنی طاقت مستحکم کر لی۔انہوں نے فورٹ ولیم،فورٹ سینٹ جارج اور بمبئی کا قلعہ آباد کئے انہوں نے مقامی آبادی کے لوگوں کو اپنا ملازم رکھا مقامی آبادی کے لوگ ان کے اخلاق اور دیانت داری کے قائل ہوگئے۔

روھیلہ بغاوت[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

آغاز برطانوی راج[ترمیم]


Wiki letter w.svg مضمون کا یہ قطعہ ابھی نامکمل ہے۔آپ اس میں اضافہ کرکے مزید بہتر بنا سکتے ہیں۔

فہرست حکمران مغلیہ سلطنت[ترمیم]

اس عنوان کے لئے مزید پڑھیں، فہرست حکمران مغلیہ سلطنت

فہرست ملکہ و بیگمات مغلیہ سلطنت[ترمیم]

اس عنوان کے لئے مزید پڑھیں، فہرست ملکہ و بیگمات مغلیہ سلطنت


  1. ^ Richards، John F. (March 26, 1993). Johnson، Gordon; Bayly، C. A.. eds. The Mughal Empire. The New Cambridge history of India: 1.5. I. The Mughals and their Contemporaries. Cambridge: Cambridge University Press. pp. 1, 190. doi:10.2277/0521251192. ISBN 978-0521251198.